عصر حاضر میں صحافیوں کا کردار اور فضلاء مدارس کی ذمہ داریاں!
ڈاکٹر آصف لئیق ندوی
عربی لیکچرار مولاناآزادنیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد
زبان و قلم اور عقل و دماغ قدرت کی عطا کردہ نعمتوں میں سے بڑی نعمت وامانت ہیں،جنکی صحیح پرورش و پرداخت سے انسانوں کو دیگر مخلوقات پرامتیاز و فوقیت حاصل ہوتی ہے، اگر یہی چیزیں تخریبی کردار کی حامل ہوجائیں اور بجائے تعمیری کردار پیش کرنے کے جھوٹی خبریں اور حقائق وشواہد کوتوڑ مروڑ کر یا مسخ کر کے پیش کیا جانے لگے، زبان وقلم سے صداقت، امانت اور شجاعت کے بجائے برائی، بے حیائی اورخیانت کا کام لیا جانے لگے تو ایسے انسانوں کا شمار انسانیت کی فہرست میں نہیں ہوسکتا خواہ وہ کتنا ہی بڑا صحافی یااینکر کیوں نہ ہو کیونکہ ا س نے وسیع تر قومی اور انسانی مفاد ات کونہایت گھٹیا اور رزیل مفاد ات کی خاطر پامال کرنے اور اخلاقی انارکی اور طبقاتی کشمکش کو فروغ دینے کے جرم کا ارتکاب کیا ہے ، صحافت اورانسانیت کی خیرخواہی کے اصولوں کو توڑا ہے ، اجتماعی اقدار کو روند ا ہے،اسلئے اب اسکا شمار اشرف کے بجائے اسفل اور انسانوں کے بجائے جانوروں میں ہوگا، خواہ وہ ہیئت وماھیئت کے اعتبار سے چلتا پھرتا انسان یاجرنلزم کیوں نہ نظر آئے!! تخریب کاروں کا شمار قوم وملک اور سماج ومعاشرہ میں ناسور و کلنک کی فہرست میں ہوگا! تاریخ انسانی ایسے بزدلوں اور ضمیرفروشوں کو کبھی معاف نہیں کرسکتی! جس کے پاس نہ تو انسانیت کے تئیں کوئی ہمدردی ہے! اور نہ اسکی صحیح رہنمائی ونمائندگی کا کوئی جذبہ ودرد۔۔۔ جس نے چند کوڑیوں میں اپنی غیرت و حمیت اور زبان وضمیر کو فروخت کرڈالاہے!! ایسے ضمیر فروشوں سےقوم وملک کا ہمیشہ نقصان ہوا ہے، صحافت جمہوریت کا چوتھا ستون ہے۔ باقی تین ستون عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ ہیں۔ یہ چاروں ستون کسی بھی جمہوری ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ستون کو اگر کمزور کیا جائے تو جمہوریت کی عمارت کھڑی نہیں رہ سکتی ۔ جسطرح جمہوری اقدار کی برقراری میں صحافت کا اہم رول ہوتا ہے۔ اسی طرح کامل انسان بننے کےلئے افکار و خیالات اوراحساسات و جذبات کاصالح ہونالازمی شیٔ ہے ، ورنہ وہ معاشرہ میں بیمار شخص اور بیمارصحافی کہلانے سے زیادہ کچھ مستحق رکھتا۔
کیونکہ زبان وادب اور فصاحت و بلاغت کے جوہر سے متصف ہوجانا انکی افضلیت اوربرتری ہونے کے لئے کافی نہیں ، جب ان کی باتوں اور خبروں سے محبت واخوت نہ پھیلے، حکمت و شرافت نہ ٹپکے، انسانیت کیلئے اگر وہ نفع بخش نہ بن سکے تو کم ازکم ضرر رساں نہ ثابت ہو، اسی کے ساتھ وہ اپنے خالق ومالک کو بھی پہچانے اور اس کا ہر حکم بجالائے، زمین میں فساد وبگاڑ کا راستہ ہموار نہ کرے، ایسے لوگوں کو ہمدرد انسانیت، خیرخواہ قوم وملک اور صحافت و ذرائع ابلاغ کا سچا پیامبراورنامورصحافی سے موسوم کریں گے ۔ سماج و معاشرہ کومختلف برائیوں اور خامیوں سے نجات دلانے ، انسانیت کی صحیح رہنمائی کرنے اور خالق ومخلوق کا رشتہ مضبوط بنانے کے لئے عظیم الشان ذمہ داریوں کیساتھ مختلف وقتوں میں بے شمار انبیاء اور رسولوں کا سلسلہ جاری کیا گیا اور آسمانی کتابوں کے ذریعےخالق ومخلوق کے درمیان ابلاغ و ترسیل کاخدائی نظام قائم کیاگیا تاکہ انسانیت کو صحیح رہنمائی حاصل ہو، قوم و ملک کومعاشی ،اخلاقی اور ایمانی ترقی حاصل ہو ، تمام انبیاء نے اپنا اپنا فریضہ ادا کردیا، وحی کے ذریعے ابلاغ وترسیل کا یہ ربانی سلسلہ بھی نبی آخر الزماں پر مکمل کردیا گیا، خدا کا احسان ہے کہ بہترین وخوشگوار زندگی گزارنے کے واسطے وہ تمام ضروری چیزیں ہمارے درمیان اب تک بعینہ موجود ہیں، صرف نبی کی ذات وشخصیت روپوش ہے،نبی خاتم کی مکمل سیرت، صحابہ اور اولیاء کے نقوش ، حق پرست علما وصلحا کا صالح کردار، قرآن جیسا دستور حیات، حضور کے تمام ارشادات وفرمودات بعینہ دستیاب ہیں غرض کی مخلوقات کی بھلائی وکامیابی کی وہ تمام چیزیں بشمول اقدار و اخلاق موجود ہیں مگر انسانوں کو انکے ہاتھوں کے کرتوتوں، مظالم وجرائم اور ان کی جہالت وسفاہت نے ان کو انسانیت کے اسباق پڑھ کر نصیحت حاصل کرنے سے روک رکھا ہے، قرآن کا فرمان بالکل درست ہے: جسکا مفہوم ہے "بیشک ہم نے آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر امانت پیش کی تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس امانت کو اٹھالیا، بیشک وہ زیادتی کرنے والا، بڑا نادان ہے”۔ آج ہمارے عمل اور رویے سے اس بڑی امانت کیساتھ جو خیانت ہورہی ہے۔وہ اسی کردار کی ایک تصویر ہے جو صحافت اورذرائع ابلاغ کے ذریعے یہاں وہاں پیش کی جارہی ہے۔
انسان کے جسم میں دو چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے اس کی شناخت اور پہچان ہوتی ہے، پہلی چیز اس کی زبان دوسرا اس کا دل ہے، باقی تو وہ گوشت پوست کا مجموعہ ہے، اسی بات کو جاہلی دور کے بڑے شاعر زھیر بن ابی سلمی نے یوں بتایا ہے۔لِسَانُ الفَتَى نِصْفٌ وَنِصْفٌ فُؤَادُهُ۔۔۔۔۔فَلَمْ يَبْقَ إَلا صُورَةُ اللَّحْمِ وَالدَّمِ۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ کسی انسان کی صحیح پہچان اسکے ساتھ دوستی یا اسکی زبان وبیان، اس کی فکر و نظر اور اسکے دل و دماغ کے ذریعے غلط یا صحیح ترجمانی سے ہوتی ہے، صحافت ، پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا،ویب میڈیا، سائبر میڈیا، سوشل میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ وترسیل کے تمام طریقے اسی زبان ودل کی ترجمانی، حقائق کی تصویر کشی یا دل میں بغض، حسد، کینہ رکھ کر زبان ومنہ سے منافقت ظاہر کرنے کا یہ ترقی یافتہ آلہ یاجدیدسافٹ ویئر ہے، حالانکہ قدیم زمانے میں یہی کام قدرتی اور فطری طریقوں پر قائم تھا اور درست طریقے سے انجام پارہا تھا کبھی تابوت سکینہ اور اسمیں بندتما م انبیاء کرام اور انکے مکانات کی قدرتی تصویریں،تختیاں اور اس صندوق کے بابرکت نظارے کے ذریعے ہوتا تھا، ہدایت و رہنمائی کے واسطے آسمانی صحیفوں اور کتابوں کا انبیاء پر نزول ہوتا رہا، جس میں دنیائے انسانیت کیلئے سماجی، ملی، اخلاقی، ایمانی، انسانی اور اجتماعی رہنمائی و بھلائی کا پورا نظام رہتا تھا جس میں کسی مکر وفریب کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی تھی۔مگر آج تمام ترقیوں کے باوجود صحافت و ابلاغ کا پورانظام قابل تشویش بنتا جارہا ہے۔
ذرائع ابلاغ وترسیل کا یہ سلسلہ کبھی خطوط نویسی کے ذریعے رائج رہا تو کبھی پیغام رسانی کے کاموں میں جانوروں اور پرندوں سے بھی مدد لی گئی، غرض کہ ابلاغ وترسیل کا نظام کسی نہ کسی شکل وصورت میں پہلےزمانے میں بھی موجود تھا جو بالکل خالص اور پاک و صاف تھا، مگر اب اسکا دائرہ جتنا وسیع ہوا ہے اتنا ہی اسمیں فساد وبگاڑ اورگراوٹ وملاوٹ پیدا ہوگئی ہے، سوشل میڈیا کی کنجیاں تو ہماشما کے ہاتھوں میں ہے، جو جہاں سے چاھے ہر طرح کی چیزوں، افواہوں اور جھوٹی خبروں کو بنا سوچے سمجھے فارورڈ کرسکتا ہے اور صحافت کے اصول کا پاس ولحاظ رکھے بغیر اس کی دھجیاں اڑا سکتا ہے، قوم وملک کیلئے مسائل ومشکلات کا دروازہ کھول سکتا ہے، اربابِ اقتدار وعدلیہ کیلئے اب یہ مسئلہ بڑاسردرد بن گیا ہے، جس پر مکمل کنٹرول کرپانا مشکل طلب امر بنتا جارہا ہے، تمام ترقیاتی اقدامات کے باوجود اس میدان میں بھی جو سیاسی و سماجی اور اخلاقی و معاشرتی گراوٹ آئی ہے! جس کی کوئی حد نہیں!
بہت تشویشناک بات ہے کہ انسانی فلاح و بہبود اور عدل و انصاف کے نظام کو فروغ وترویج دینے اور حقائق و شواہد کی روشنی میں قوم و ملک کی صحیح رہنمائی کرنے اور حقیقت وسچائی سے واقف کرانے والےصحافتی اور ترسیلی اداروں کو سیاسی شعبدہ بازوں، فرقہ پرستوں اور ملک دشمن عناصر نے اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے معمولی پیسوں میں خرید لیا ہے۔جمہوریت کے اس اہم ستون کو بھی اب گھن کھانے لگا ہے ،جس کا مشن و دعوت ملک میں امن و امان کو بحال رکھنا، انتشار و افتراق سے قوم وملک کو بچانا، یکجہتی و یگانگت، اخوت و مودت اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ دینا تھا اب اسکی بنیادیں ہل کر رہ گئی ہیں اور اینکروں، صحافیوں اور رپورٹروں کا کردار مشکوک بن رہ گیا ہے،اسی لئے اب اسکو گودی میڈیا یا لیپ ڈاگ میڈیا کا لیبل لگا دیا گیا ہے، صحافت ومیڈیا کے میدان میں پیسوں کے بل بوتے اور ارباب اقتدار کی خواہش و مرضی پر یہ ساری بے اصولیوں اور بے اعتدالیوں کا ارتکاب کیا جارہا ہے، جس کیوجہ سے ملک میں امن وامان، اتحادواتفاق عدل وانصاف اور انسانی اقدار کا توازن بگڑ کر رہ گیا ہے اور نفرت وعداوت کی فضا سے ملک کو بڑا خطرہ لاحق ہوگیا ہے، جیسی نیت ویسی برکت کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی آسمان کو چھونے لگی ہے! اقتصادی و معاشی بدحالی اور بے روزگاری روز بروز بڑھتی جارہی ہے! پیٹ اور پیسوں کے خاطر میڈیا اور اینکروں کا رول اتنی خطرناک حد تک پہنچ گیا ہے! اور نفرت و عداوت کی ہوا نے صدیوں سے قائم اخوت ومودت کی فضا کو اسقدر مکدر کر دیا ہے کہ مسلمانوں کے سارے کارنامے نظروں سے اوجھل ہوکر رہ گئے ہیں، ان کےمذہب و شعائر کا احترام بھی باقی نہیں بچا ہے، روز بروز ان کی حقوق تلفیاں بڑھتی جارہی ہیں، ان کی جان، مال اور عزت و آبرو کو نیلام کرنا اب کوئی مشکل کام نہیں رہ گیا ہے، ظالموں اور بدخواہوں کی مدد و اعانت کی جارہی ہے، حقائق و شواہد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف ملک میں جو پروپیگنڈے اور سازشیں اور حربے اختیار کیے جارہے ہیں، وہ زرد اور بکاؤ صحافت، اسکی گرما گرم ڈبیٹ اور اسمیں شریک زرخرید غلاموں اور صحافیوں کا منافقانہ اور متعصبانہ کردار نہیں تو اور کیا ہے؟!
اب تو مسلم حکمرانوں کے نام پر الزام تراشی اور بہتان طرازی کے ذریعے مسلم قوم کو ٹارگٹ کرنا اور ان سے لوگوں کو بدظن وبدگمان بنانا، ان کی بڑھتی آبادی سے ڈر اور خوف پیدا کروانا، اور ان کے خلاف نفرت و عداوت کی فضا کو قائم کروانا ہے تاکہ اس طرح سے فرقہ پرستوں کو انکے مفادات حاصل ہوسکیں، تخریبی کاموں میں انکو کامیابی مل سکے، ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کیا جا سکے، یکساں سول کوڈ کا نفاذ عمل میں آسکے اور مسلمانوں کو دہرے معیار کے شہری کی فہرست میں شامل کیا جاسکے۔مسلم مخالف تمام کاموں میں زرد صحافت کا کردار پوشیدہ ہے، اسی لیے بات بات میں مسلمانوں کو تو گرفتار کیا جارہا ہے، ان کے خلاف تمام دفعات کا نفاذ تو ہورہا ہے مگر کوئی مسلمانوں کے مقتدر و معزز شخصیت کے خلاف نازیبا اور گستاخانہ بیان دے تو ہزار مطالبے اور دستوری احتجاج کے باوجود اصل مجرم کی گرفتاری عمل میں نہ آسکے، ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والوں بے گناہوں پر گولیاں برسائی جائیں! فورا ان کی گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں! بلڈوزر سے ان کے گھروں کو ڈھا دیا جائے! جانبدارانہ ظلم و زیادتی کی ایسی انتہا کر دی جائے! کہ سپریم کورٹ کا اگر کوئی فاضل جج ملک میں ہورہے مظالم کاجائزہ یا نوٹ لے یا اپناحقیقت پسندانہ بیان جاری کرے تو ان کے خلاف بھی میڈیا میں ہرزہ سرائی شروع ہوجائے!نپور شرما کا مسلمانوں کی مقتدر شخصیت اور نبی آخر الزمان کی شان میں گستاخانہ بیان کیوجہ سے اندرون و بیرون ملک میں جو حالات پیدا ہوئےاور اس سلسلے میں میڈیا، مقننہ اور انتظامیہ کا جو کردار اور رول رہا ،سب قابل غوروفکر ہے۔
اندازہ لگائیے !کہ ہمارا ملک کہاں پہنچ گیا ہے کہ فاضل جج کو بھی حق بات پیش کرنے کیوجہ سے بیجا تنقیدوں اور اہانت آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، تو مظلوم و نہتھے مسلمانوں اور ان کے بہی خواہوں کے ساتھ کیا معاملہ ہوتا ہوگا!! ایسے متعصبانہ رویے اور ظالمانہ سلوک وبرتاؤ کا ماحول آخر کیسے اور کیوں کر پیدا ہوا؟! یہ سب میڈیا کی غلط بیانی اور غلط ترجمانی کا نتیجہ ہے، اگر زبان و قلم اور ذہن و دماغ کو ان خطوط ونقوش پر ڈھالا نہیں گیا! جن کا مطالبہ اچھی صحافت و میڈیاکا کردار کرتا ہے، انبیاء کی سیرت، آسمانی کتابوں کا نزول کرتا ہے، صحابہ، اولیاء اور علماء و صلحاء کی عملی زندگی کا نمونہ کرتا ہے، جمہوری ملک کاآئین و دستور کرتا ہے۔۔۔آج ملک میں صحافت ومیڈیا اپنے ان اہم مقاصد سے ہٹتا نظر آرہا ہے، جو ایک اچھے صحافی ورپورٹرکے کردار کی شناخت ہوتی ہے، درست خبریں بہم پہونچانا،عوام کی سیاسی تربیت کرنااو رانسانیت کی اجتماعی و اخلاقی رہنمائی کرنا ،قارئین کے ذوقِ سلیم اور اخلاق کو نکھارنا اور عام لوگوں کی تفریح طبع کے لئے مواد فراہم کرنا ہی ایک صحافی کا بہترین کردار ہوتا ہے ، آج بھی عوام وخواص میں وہی صحافی واخبارات زیادہ مقبول ومعروف ہیں جنکی باتوں میں زیادہ سچائی، جن کی رپورٹنگ میں حقائق کی صحیح تصویرکشی ہے،جو معاشرہ و سماج کواپنے اعتمادمیں لیتے ہوئے صحیح خبریں بہم پہنچاتے ہیں،کیونکہ اس عمل میں عام لوگوں کی اچھی تربیت بھی ہوتی ہے اور بری تربیت بھی ، ان کا ذوق بلندوبالا بھی ہوسکتا ہے یا پست ورذیل بھی۔ ان کا اخلاق سنوارا بھی جاسکتا ہے یا بگاڑابھی،اخبارات جس سیاست داں کا امیج چاہیں بناسکتے ہیں اور جس کا امیج چاہیں بگاڑسکتے ہیں۔مگر اخبارات کا بنیادی کام اپنے قارئین کو درست اطلاع بہم پہونچانا اور پوری دنیا کے احوال سے انہیں باخبر رکھنا ہے، دنیاکے جس حصے میں بھی کوئی واقعات ظہور پذیر ہورہے ہیں۔ کیا تبدیلیاں پیش آرہی ہیں اور مختلف شعبوں میں کیا ترقیات ہورہی ہیں یہ سب معلومات بہتر طور پربہتر اخبارات کے ذریعہ ہی لوگوں تک پہونچتی ہیں۔
موجودہ دور میں مسلمانوں کے لئے بڑے بڑے چیلنجز ہیں ، مسلمان تعلیم میں بھی کافی پیچھے ہیں اسی طرح صحافت کے میدان میں بھی انکا کردار صفرکے برابر ہے، مسلمانوں کے پاس اپنا کوئی معقول ’’میڈیا ہاؤس‘‘بھی نہیں ہے، یہ المیہ صرف کسی ایک مخصوص خطے، علاقے یا ملک تک ہی محدود نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کی یہی صورت حال ہے، ہاں! چند اخبارات یا ٹی وی چینلز ہیں، جسے ہم آٹے میں نمک کے برابر بھی تسلیم نہیں کرسکتے۔ اسی طرح مسلمانوں کے پاس قابل اعتماد اور باشعور صحافیوں کی ایک ایسی کوئی ٹیم بھی نہیں ہے، جن کی آواز مغرب سے مشرق اور شمال سے جنوب تک مؤثر انداز میں سنی جاسکے۔ جو صاحب اس میدان میں ہیں، ان میں سے اکثر کے لیے یہ صحافت کوئی مشن اور خدمت نہیں!بلکہ محض ایک پیشہ بنا ہوا ہے۔ اگر کوئی صحافی اپنے سماج اور قوم و ملت کے مفاد میں بھی کوئی مسئلہ اٹھانا چاہتا ہے تو ان کو میڈیا ہاؤس کی پالیسیاں خاموش کردیتی ہیں۔جیسا کہ ابھی محمد زبیراور دیگر نوجوانوں کیساتھ پیش آرہا ہے۔
یہ ہماری بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ علمائے کرام اور دینی مدارس کےفضلاء جو انبیاء کے سچے وارث اور پکے امین ہیں، جن کے کاندھوں پر انسانیت کی فلاح و بہبود اور خیرخواہی کی ذمہ داریاں عائد ہیں، جن کے وجود کا بنیادی مقصد ہی انسانیت کی خیرخواہی اور جبر و استبداد کے پنجے سے آزاد کراناہے، عدل و انصاف کی فضا قائم کرناہے، سماج ومعاشرے کو امن و امان کا گہوارہ بنانا ہے، وہ فضلاء قوم وملک میں صحافت کیلئے صحیح ترجمانی سے قاصر ہیں۔ دینی مدارس کے طلباء وفضلاء کو سمجھنا چاہیے کہ اس دور میں مسلما نوں کیلئے سب سے بڑا چیلنج بگڑتامیڈیا ہے،انسانیت کی بدقسمتی یہ ہے کہ میڈیا کا مؤثر ترین اور طاقتور ہتھیار ان لوگوں کے پاس ہے، جن کے پاس نہ ہی انسانیت کی تکلیف وغم میں تڑپنے والا دل ارجمند ہے، نہ انسانیت کی فلاح و بہبودی اور تعمیر وترقی کا کوئی منصوبہ وپلاننگ۔ میڈیا کی اس طاقت کوتعمیر ملت کے بجائے تخریب کاری ، اخلاق وکردار سنوارنے کے بجائے بے حیائی وبد اخلاقی اورانسانوں کی رہنمائی کے بجائے انہیں راہ حق سے بھٹکانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
ایسے میں دینی مدارس کے فضلاء کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ قوم و ملت کی خدمت کے جذبے کے ساتھ اگر وہ میڈیا کو بطور پیشہ اختیار کرتے ہیں تو اس کے بہت سارے فوائد ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہوگا کہ پریشان حال انسانیت کو سچے اور دیانت دار افراد مل جائیں گے جوبااخلاق و باکردار ہونگے۔ دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ دعوت و تبلیغ کا ایک وسیع میدان ہوگا جہاں لسان قوم میں دین کا پیغام پہنچانے کا بھرپور موقع ملے گا۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ زہریلی میڈیا کے ذریعہ برادران وطن اور مسلمانوں کے درمیان جو خلیج پیدا کی گئی ہے،اس کو پاٹا جاسکتا ہے۔ تیسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ دینی مدارس کے فارغین کا جو سب سے بڑا مسئلہ معاش کا ہے، وہ ان کی صلاحیت کے حساب سے اچھےاکتساب کا موقع بھی میسر آجائے گا۔ نیک جذبے اور خلوص نیت کے ساتھ اس پیشے کو اختیار کیا جائے تو انسانیت کی بہت بڑی خدمت ہوگی اور رزق میں کشادگی کے بھی ذرائع کھل جائیں گے۔
دینی مدارس کے فضلاءاپنے شوق، دلچسپی اور قابلیت کے حساب سے صحافت کے مختلف میدان میں قدم رکھ سکتے ہیں۔ اگر کسی فاضل وفعال نوجوان طالب علم کے پاس لکھنے کی صلاحیت ہے اوروہ اچھے مقالات ومضامین، شعر و شاعری اورواقعات و کہانیاں لکھ سکتا ہے تو اس کے لئے پرنٹ میڈیا کا میدان بہت وسیع وعریض ہے۔ اخبارات کے مختلف کالموں میں لکھ سکتا ہے، سیاسی و مذہبی، علمی وادبی، تجارتی و سائنسی، فنون لطیفہ و فیشن اورکھیل کود وغیرہ میں اپنی قسمت آزمائی کرسکتا ہے۔ مذہبی رجحان کے اخبارات و رسائل بہت ہیں،ان میں مذہبی و ثقافتی مضامین،اسلامی تاریخ، دینی مسائل،بچوں کے ادب میں اسلامی کہانیاں اور خواتین سے متعلق مضامین، مستند اور دلکش طرز تحریر میں پیش کرسکتا ہے ، اسی طرح عربی صحافت سے استفادہ کرتے ہوئے کسی بھی طرح کے مضامین مختلف زبانوں میں ترجمے کرکے اپنی انفرادیت قائم کرسکتا ہے،اس سلسلے میں اگر طالبان علوم نبوت کا شعور واحساس بیدار نہ ہوا اور اس فتنے کا مقابلہ کرنے کیلئے وہ تیار نہیں ہوئے اور سماجی و سیاسی، اخلاقی و ایمانی اور انسانی و اجتماعی بیڑہ نہ اٹھایا تو ملک میں عنقریب ایک بڑا فساد برپا ہوجائے گا۔۔۔لاقدر اللہ لذالک۔۔ اللہ ہماری مدد فرمائے۔
Comments are closed.