برادران وطن کو خوش کرنے کے لیے مسلمانوں پر ظلم کیا جارہا ہے

سراج الدین ندویؔ
چیرمین ملت اکیڈمی
9897334419
آج وطن عزیز کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔اسی وطن عزیز کی جس کو بنانے اور سنوارنے میں صدیا لگی تھیں ۔جس کے سیاحتی مقامات کو دیکھنے کے لیے دنیا بھرسے لوگ آتے تھے ،جہاں کے ایک خطے کو جنت ارضی کا درجہ حاصل تھا ۔وہی وطن عزیز جس کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا۔جس کا قطب مینار اہل ملک کی رفعت اور بلندی ٔ فکر کا گواہ ہے ،جس کا لال قلعہ وسعت قلبی کا شاہد ہے اور جس کا تاج محل حسن و عشق اور الفت و محبت کی داستان بیان کرتاہے ۔اسی وطن عزیز میں تعصب کی ایسی ہوا چل رہی ہے کہ شہر اور بازار بے رونق ہوگئے ہیں۔ایک خاص تحریک نے اپنے لٹریچر،اپنے اسکول اور کالج کے ذریعے معصوم ذہنوں کو مسموم کردیا ہے ۔جہاں اس تحریک سے وابستہ افراد برسر اقتدار ہیں وہاں بلڈوزر کے ذریعے خون پسینے کی کمائی کو زمین دوز کیا جارہا ہے ۔ملک بھر کے اخبارات،ٹی وی چینلس یہاں تک کہ سوشل میڈیا کی بھی زبان بند کی جارہی ہے۔ایک خاص اقلیت کے خلاف حکومت و اقتدار کی ساری مشینری کو استعمال کیاجارہا ہے ۔
مسلمانوںکے اندر بے ہمتی ،پسپائی اوربزدلی پیدا کی جارہی ہے ،انھیں ڈرایا جارہا ہے ،ان کے عقائد اور شعائر پر حملے کیے جارہے ہیں تاکہ وہ کسی بڑے مشن اور ملک کی سالمیت کے تحفظ کی خاطر کوئی رول ادا نہ کرسکیں۔یہ سو سال پرانی سوچی سمجھی اسکیم ہے ،آج اس میں رنگ بھرا جارہا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسلمان حوصلہ وہمت کھوتے جارہے ہیں ۔حالانکہ انھیں یقین دلایا گیا تھا ’’وَلَا تَہِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (آل عمران139)اور سست نہ ہو اور غم نہ کھاؤ اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔‘‘آج وہی قوم نہایت پست ہمتی کا شکار ہوکر رہ گئی ہے ۔
بی جے پی 2014اور 2019کے لوک سبھا الیکشن کے نتائج سے سمجھ چکی ہے کہ وہ مسلم ووٹوں کے بغیر بھی اکثریت حاصل کرسکتی ہے۔ بلکہ مسلمانوں کے خلاف جس قدر بدزبانی کریں گے اور ان کو ستائیں گے اسی قدر زیادہ ووٹ انھیں حاصل ہوں گے۔یہ وہ صورت حال ہے جس نے بی جے پی کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ وہ غیر مسلموں کو باور کرائے کہ مسلمان ملک کے اور ہندوئوں کے دشمن ہیں ۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ غیر مسلم بھائیوں نے بی جے پی کے دور حکومت میں مختلف مسائل سے دوچار ہونے کے باوجود بھی بی جے پی کو ووٹ کیا۔مہنگائی ،بے روزگاری اورکرپشن،تمام اہل ملک کے مسائل ہیں ۔جی ایس ٹی اور نوٹ بندی صرف مسلمانوں کامسئلہ نہیں ہے۔اسی طرح حجاب،طلاق اور حلالہ سے غیر مسلموں کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔لیکن وہ اسی بات پر خوش ہیں کہ حکومت مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کا کام بخوبی انجام دے رہی ہے۔وہ مسلمانوں کی لنچنگ کررہی ہے،ٹارگیٹ کلنگ کررہی ہے،ان کے مکانوں کو بلڈوز کررہی ہے،ان کے دین پر حملے کررہی ہے ان پر جھوٹے الزامات لگائے جارہے ہیں،انھیں جیلوں میں ٹھونس رہی ہے بلکہ جیل میں موت تک کے گھاٹ اتار رہی ہے ۔یہ واقعات اور حادثات ہمارے اکثر غیر مسلم بھائیوں کو سکون پہنچاتے ہیں۔اس لیے مسلمانوں کے خلاف ظلم و زیادتی میں اضافہ ہورہا ہے۔
یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بلڈوزر ایک شیطانی اور افسانوی حربہ ہے جس کا استعمال مسلمانوں کے خلاف اس لیے کیا جارہا ہے کہ اقتدار محفوظ رہے ۔بلڈوزر کا استعمال گزشتہ چند مہینوں میں اس قدر ہوا کہ اسے دیکھ کر ہی ڈر لگنے لگتا ہے ۔بلڈوزر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنے ہندوستانی دورے میں بلڈوزر کے ساتھ بھی ایک فوٹو کھنچوایا تھا جس کی بڑی تشہیر کی گئی تھی ۔ظاہرہے اتنے بڑے ملک کے وزیر اعظم کو یہ معلوم رہا ہوگا کہ بھارت میںاس کا استعمال مسلمانوں کے خلاف کیا جارہا ہے۔ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بی جے پی کے ظالمانہ رویہ کو اسلام مخالف طاقتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔یہ وہ دھماکہ خیز صورت حال ہے جو ملک کو درپیش ہے ۔ہم جانتے ہیں کہ مسلمان ملک کی بڑی اقلیت ہیں ۔ایک بڑی تعداد کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ کر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔
ان حالات میں ہمارے قائدین ،ہمارے علماء اورہمارے سیاسی رہنمائوں کو بیدار ہوکر اس صورت حال پر غور کرنا چاہئے کہ مسلمانوں کے خلاف ظلم و زیادتی اور نفرت و تعصب میں جو اضافہ ہورہا ہے اس کا کیا حل ہے ۔؟یہ وہ لمحہ ٔ فکریہ ہے جس پر تمام مسلمان دانشوروں کو مل جل کر غورو خوض کرنا چاہئے۔حکومت یہ جانتی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کوئی بھی ظلم کیا جائے گا تو کوئی بھی ان کی حمایت کو نہیں آئے گا ۔حقیقت بھی یہی ہے ۔ملک میں کتنے ہی قیامت خیز حادثات ہوئے ،خونریز فسادات ہوئے ،بابری مسجد انہدام اور گیان واپی پر مقدمہ ہوا،تین طلاق بل پر بات ہوئی ،سڑکوں اور پارکوں میں نماز پڑھنے پر پابندی لگی۔لیکن کسی مسلم ملک نے قابل ذکر احتجاج نہیں کیا ۔نوپور شرماکے بیان پر ان کے احتجاج کی وجہ حضور اکرم ﷺ سے محبت ہے ،نہ کہ ہندوستانی مسلمانوں سے محبت۔حضور کی ذات گرامی پر جب کوئی حرف آئے گا تو وہ ضرور لب کھولیں گے ۔ لیکن حضور کی امت اور ان کی لائی ہوئی شریعت کے ساتھ کچھ بھی حشر ہوگا وہ تماشہ دیکھتے رہیں گے ۔بلکہ وزیر اعظم کو بلا کر عزت دیں گے اور اپنے یہاں کے سب سے بڑے ایوارڈ سے سرفراز کریں گے۔
دنیا نے دیکھا کہ اگنی ویروں نے ہزاروں ٹرینیں جلاکر خاک کردیں،اسٹیشن پھونک دیے ،سرکاری املاک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا،موجودہ حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ،سڑکیں جام کیں ،ریلیاں نکالیں لیکن کسی کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی ،نہ مقدمات لکھے گئے ،نہ جیلوں میں ڈالے گئے ،نہ ان کے مکانوں پر بلڈوزر چلائے گئے ۔اس لیے کہ وہ ان کے اپنی ذات اور دھرم کے تھے۔توہین رسالت کے مجرمین کو بی جے پی نے بظاہر پارٹی سے نکال دیا ہے لیکن وہ قانون کے شکنجے سے کوسوں دور ہیں اور پارٹی کے کارکنان کی محبت اور حمایت انھیں حاصل ہے ۔نوپور شرما کے خلاف سینکڑوں ایف آئی آر ہوئیں ،لیکن وہ آزاد ہیں اور اس معاملے کو اجاگر کرنے والے صحافی محمد زبیر جیل میںپولس کی ضیافت کا لطف لے رہے ہیں۔یہ وہ حالات ہیں جن پر سنجدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
آج ہم اچھے کام کرتے ہیں ،حکومت تک اپنی بات پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ،پرامن احتجاج کرتے ہیں تو اسے بھی دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے ۔پتھر بازی دونوں فریق کرتے ہیں لیکن الزام صرف مسلمانوں پر آتا ہے ۔جب کہ مسلمان امن پسند ہے،اس نے اپنی مسجد پر صبر کیا ،اس نے تین طلاق کے ذریعے شریعت میں مداخلت گوارہ کرلی ،اس نے کشمیر سے دفعہ 370اور 35-Aکو ختم ہوتے دیکھا ،کسی بھی جگہ اس نے اپنے لب نہیں کھولے یہاں تک کہ بات پیغمبر خدا تک پہنچ گئی تو اسے سڑکوں پر آنا پرا ۔اس میں بھی اس نے بھارتی آئین کے اندر رہ کر احتجاج کیا ۔لیکن اسے ہی امن کا قاتل قرار دیا جارہا ہے ۔انصاف پسند برادران وطن اور صحافی مسلسل حکومت کی نیت پر سوال اٹھارہے ہیں ،لکھ رہے ہیں ،ہزار پابندیوں کے باوجود وہ حکومت کو آئین کا پاٹھ یاد دلارہے ہیں لیکن حکومت نے ٹھان لیا ہے کہ وہ جو چاہے گی کرے گی ۔اس صورت حال پر ہمارے قائدین کو باہمی اختلاف بھلا کر ،جماعتی اور مسلکی عصبیتوں سے اوپر اٹھ کر محض ملک کی سالمیت اور خدا کے محبوب ؐکی امت کے تحفظ کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر آنا چاہیے ۔
مضمون نگار ماہنامہ اچھا ساتھی مدیر اور سینکڑوں کتابوں کے مصنف ہیں۔

Comments are closed.