صبر اور برداشت اشتعال سے بہتر ہے
الطاف جمیل شاہ
مناسب الفاظ اور بہتر روئے کا فقدان دن بہ دن بڑھ رہا ہے نتیجہ ہماری نسل نو ایک ایسی دلدل میں دھنس رہی ہے جس کا اختتام بہت دور تک نظر نہیں آرہا ہے اور یوں ایک پوری نسل اسی دلدل کی نذر ہورہی ہے
ہم نے برداشت کرنا اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چھوڑ دیا ہے جو ایک بہترین اور قابل قدر وصف ہے خاص کر تب جب آپ داعی ہوں اور دعوت دین کا طریقہ کار کیا ہے اس سلسلے میں لازمی تعلیمات اسلام نے دے رکھی ہیں
ہندوستان میں دارالعلوم دیوبند ایک مکتبہ فکر ہے جو اہل سنت کا ایک عظیم ادارہ ہے جس کی خدمات کا انکار کرنا آسمان کے ہونے کا انکار جیسا ہے کیوں کہ ہر ذی شعور اس سے واقف ہے کہ آسمان اک سائبان ہے اور ایسے ہی ہر تعلیم یافتہ جسے ماضی کی تاریخ کا ہلکا پھلکا علم بھی ہو وہ بخوبی جانتا ہے کہ دارالعلوم دیوبند ایک ایسا علمی ادارہ ہے جس نے تب شمع روشن کی جب چہار سو اندھیرا چھایا ہوا تھا پھر تعلیم ہو کہ میدان عمل ہو اس علمی مینارے کے پاسبان ہر جگہ محو جدوجہد دیکھائی دئے یہ وہ علم کا گہوارہ ہے جہاں سے پر فتنہ کی سرکوبی کی گئی وہ لادینیت ہو کہ انکار نبوت یا منکرین حدیث کا فتنہ ہر فتنہ کا مقابلہ اس دانشگاہ کے علماء نے کیا اس کا طرہ امتیاز رہا ہے کہ ہر قسم کی افراط و تفریط سے الگ تھلگ محو سفر رہا اس ادارے نے جہاں مولانا یعقوب گنگوہی جیسا عاشق رسول دیکھا وہیں عظیم فقہی عالم مولانا رشید گنگوہی جیسا صاحب علم بھی دیکھا یہیں نانوتوی جیسا مرد حر بھی تھا تو مولانا محمود مدنی جیسا عظیم قائد بھی دیکھا مولانا اصغر میاں جیسا سادگی پسند عالم اور علامہ کشمیری جیسا جبال العلم بھی دیکھا اسی دانشگاہ نے شیخ تھانوی جیسا فقہی و مفسر بھی دیکھا تو عامر عثمانی جیسا صاحب ادب بھی پیدا کیا اس دانشگاہ نے وہ ہیرے پیدا کئے جنہوں نے علم کے افق پر کمند ڈال کر افق کو روشن کیا ایسے ہی دوسری طرف سید مودودی نے اس وقت لادینیت سیکولرازم سوشلزم کے خلاف قلم کو حرکت دی تو اس فرسودہ تہذیب کے تار و پور بکھیر کر دئے تحریک اسلامی کے نام سے ایسے عظیم لوگ تیار ہوئے جو ہر فن کے ماہر تھے یہ راتوں کے عابد تہجد میں سجدہ ریز اور دن کی روشنی کے خوبصورت اور مہذب معاشرے کی تشکیل کے کارکن وہیں بریلی سے شیخ احمد رضا بریلوی نے عشق و محبت کی شمع کو کچھ اس انداز سے روشن کیا کہ علماء و طلباء کی اک کثیر تعداد حب نبوی کے جذبہ سے سرشار زندگیوں سے منور ہوگئے اسی زمانہ کے آس پاس علماء اہل الحدیث نے اپنی خدمات سرانجام دینے کے لئے رات دن محنت کی اور اک کثیر تعداد کو علم حدیث کی روشنی سے آشناء کرکے مینارے ھدایت کی آغوش میں لے آئے
یہ نغمہ گل ہر سو بلند ہو رہے تھے مختلف فتنے اٹھے اور یہ تمام مکاتب فکر ہر فتنے کے سامنے ڈھٹ گئے اور ہر فتنے کو اٹھنے سے قبل ہی زمین بوس کردیا طلبہ بخوبی جانتے ہیں کہ ان علماء کے کیا کیا کار ہائے نمایاں ہیں جن سے انکار ممکن ہی نہیں
ہر مکتب فکر کے پاس ایسے علماء کی کثیر تعداد ہوا کرتی تھی جو انتہائی حساس شائستہ مزاج اور پاکیزہ اخلاقی اقدار سے مزین ہوا کرتے تھے ان سبھی اکابرین کی کے کئی واقعات مختلف کتب کے صفحات پر بکھرے ہوئے ہیں جو اس بات کو ممکن بنانے کے لئے کافی ہیں کہ ہم سب ایمان اللہ رسول قرآن سنت کے سائے میں ایک ہیں خواہ ہمارے افکار و نظریات کتنے بھی مختلف ہوں پھر بھی ہم ان مندرجہ بالا عقائد میں ایک ہیں یوں ہمارا ماضی روشن رہا اور علمی کے وہ کارہائے نمایاں انجام دئے گئے جن پر رشک کرنا بجا ہے اور زیب دیتا ہے باطل بھی ان بزرگوں کے سامنے سرنگوں ہوا کرتا تھا لرزتا تھا زمانہ ان درویش صفت اسلاف سے ہمیں ان اسلاف پر فخر ہے جنہوں نے برصغیر میں اسلامی تعلیمات کی آبیاری کی خواہ وہ بریلوی اہل حدیث یا دیوبند کے اکابرین تھے یہ ان کا احسان ہے کہ انہوں نے اپنے آرام پر قوم و ملت کی خدمت کو ترجیح دی جس کا ثمر ہر جگہ دیکھا جاسکتا ہے نگاہ عقیدت سے گر نگاہ پر فریب ہو تو چمکتا سورج بھی نظر نہیں آتا
پھر یوں ہوا کہ ہم جدا ہوئے
کئی سال تک مختلف گمنام مصنفین اور معروف شخصیات نے پھر اپنے اپنے ہم خیال کی تائید و نظریات کی ترویج کے لئے کوششیں کچھ اس انداز سے پیش کیں کہ علم سسکنے لگا فقاہت تڑپنے لگی تہذیب اخلاق شائستگی تڑپنے لگی زیر قلم اور اس سب کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم بکھرتے گئے تقسیم در تقسیم کی وہ کہانیاں بنتی گی کہ تقسیم لفظ بھی تقسیم ہو ہو کر کم پڑنے لگا اب وہ علماء جو قوم و ملت کے ماتھے کا جومر ہوا کرتے تھے جن کی شان بے نیازی اور پاکیزہ مزاجی ان کا طرہ امتیاز ہوا کرتی تھی وہ بدزبانی اور بد اخلاقی کے وہ کارنامے انجام دینے لگیے کہ جاہل بھی انگشت بدنداں رہ گیا اب القابات کی بھر مار کے نیچے وہ اخلاقی اقدار ڈوبنے لگے اب درویشی نے عیاری کا لبادہ اوڑھنا شروع کردیا شعور کی جگہ فریب نے لی علم و دانش کی جگہ ہرزہ سرائی نے لی وہ جو محبت اخوت ہمدردی انسانیت کے اسباق تھے وہ جہالت ضد انانیت کے نیچے دبنے لگئے اصلاح معاشرے کی جگہ افکار کی آبیاری شروع ہوئی ہائے یوں ہم نے اپنی نسل نو کو اس دلدل میں دھکیل دیا جہاں سے اب صرف مسلکی تعصب افکار کا تصادم خیالات کی بیہودہ تعبیرات کو ہی اصل اسلام بتایا جارہا ہے اور اک ہو کا سا ماحول بنتا جارہا ہے
ذرا سی توجہ
مساجد میں اب ایسے اصحاب کو مبلغ بتایا جاتا ہے جو مخالف کی برائی کرنے میں اس کی عزت کو نیلام کرنے میں کافی ماہر ہو جیسے کہ
ہمارے مبلغ حضرات کے الفاظ
ارے او چرسی مولوی۔ او نشے باز۔ او بدبخت مولوی۔ او حرام خور۔ اور چور بدمعاش۔ وہ سب غلیظ الفاظ اپنے مخالف کے لئے اب استعمال کئے جاتے ہیں برسر مجمع تبلیغ کے دوران کہ جن الفاظ کو بازاری الفاظ کہا جائے تو شاید بازاری زبان کی توہین ہو ایسے الفاظ کوئی شائستہ مزاج شخصیت سننے کا بھی روا دار نہیں ہوسکتا کجا انہیں ادا کرے اب اس پر مزید ستم یہ کہ سوشل میڈیا پر ہمارے داعی جو اپنے اپنے حلقے میں کافی مقبول ہوتے ہیں وہ بھی ان سوشل میڈیا سائٹس پر کچھ اسی انداز سے اپنی بھڑاس نکال لیتے ہیں جوں ہی کوئی موقع ہاتھ آجائے جیسے کہ
کل کے واقعے کے بعد ہر مکتب کے خود ساختہ داعی نوجوان اور کئی بزرگ چہرے بھی اب اپنی بھڑاس علماء دیوبند کو برا بھلا کہہ کر نکال رہے ہیں ہر کوئی اس آگ میں تیل ہی ڈالنے کی سعی کر رہا ہے اور کوشش کر رہا ہے کہ یہ آگ بجھنے نہ پائے ہم اس طریقہ کار جو اس مبلغ نے اختیار کیا ہرگز تائید نہیں کرتے غلطی ہے پر اب جو ہم سب اس پر اظہار خیال کر رہے ہیں وہ بھی کوئی شائستہ مزاج کا عکاس نہیں ہے ہم بھی اپنی حدود و قیود سے نکل کر ہرزہ سرائی ہی کر رہے ہیں یہ ایک لا علاج اور سخت قسم کی بیماری ہے اور اس کے جراثیم اس قدر زہریلے کہ کسی نہ کسی صورت میں ہماری عقل کو متاثر ہر ہی لیتے ہیں اور اس کا ہم کسی نہ کسی صورت میں اظہار بھی کر دیتے ہیں
اللہ بچائے
کیا خیال ہے اس پڑھے لکھے نوجوان طبقے کے بارے میں ہمارے ان متشدد داعیان دین کا جو ان کا وطیرہ دیکھ کر اور ان کی اخلاقیات سے عاری طرز عمل سے اب آہستہ آہستہ اس قدر علماء کرام سے بدظن ہورہا ہے کہ وہ اب بنیادی اسلامی تعلیمات سے بھی دور ہوتا جارہا ہے انہیں گن آتی ہے اس طرز دعوت سے جو ہم نے اختیار کیا ہوا ہے اور وہ ان مبلغین سے کافی متاثر ہوتے جارہے ہیں جو گرچہ اسلامی تعلیمات کو جدید بنانے کے چکر میں انہیں اسلام کے بجائے الحاد و دہریت کی ہی اور کیوں نہ لے جائیں نوجوان طبقہ ان کی شگفتہ مزاجی کا گرویدہ ہے اور ہم ہیں کہ واعظ پر واعظ کئے جارہے ہیں پر نوجوان نسل ہماری بات سننے کو بھی آمادہ نہیں کیا اس طرف توجہ دینے کی کوئی زحمت فرمائے گا یہ اسی مزاجی کی تلخی کا ثمر تو نہیں جو اب ہم نے متعارف کیا ہوا ہے
کاش کوئی اس مرض کی بروقت دوا کرتا پر ایسا ممکن ہی نہیں کہ ہم اس سلسلے سے نکل سکیں پر میں اپنے ان پڑھے لکھے عزیز نوجوانوں سے ملتمس ہوں کہ اس بدترین صورت سے نکلنے کے لئے آپ ہمارے لئے قابل قبول ہیں گر آپ پوری قوت سے اس بدی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے طالب ہیں تو اس ہرزہ سرائی کا کسی بھی صورت میں حصہ نہ بنیں نہ ہی انہیں کسی قسم کی نصیحت کریں بس اپنے حلقے احباب کو اس سے دوری بنائے رکھنے کے لئے کوشش کریں تو نتیجہ بہتر نکل سکتا ہے باتیں ہزار ہیں پر کہنے کے لئے پر ہر بات میں ہی عرض کروں تو آپ بھی کیا سوچیں گئے
چلتے چلتے (یاد رکھیں)
صبر اور برداشت کا مادہ خوب پیدا کریں خود میں اور مزاج میں نرمی شائستگی اور بہتر اخلاق کے ساتھ سامعین کے سامنے نیکی اور پاکیزہ تعلیمات کو پیش کریں بازو لہرانے کے بجائے انتہائی دل سوزی سے اپیل کے انداز میں اسلام کا پیغام پیش کریں محبت اخوت ہمدردی کے ساتھ پیش آئیں تو یقین کریں کے فضل رب کے سہارے نتائج بہترین سے بھی بہترین آئیں گئے ترش روئی بدزبانی اور غیر اخلاقی گفتگو سے ہی نہیں بلکہ ایسے مزاج کے حامل افراد سے ممکن حد تک دوری بنائے رکھیں یہی مقصود بھی ہے اپنی شخصیت کو سنواریں اخلاقی اقدار کی پاسداری کریں تو آپ کو لاحقوں کے بوجھ تلے دب جانے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوگی
بس یاد رکھیں عزت لاحقوں میں نہیں بلکہ اللہ کے دست اختیار میں ہے اسی کے بن کر عزت کی لذت سے مستفید ہوں
بس تم سلامت رہو
شادماں رہو
فی امان اللہ
الطاف جمیل شاہ
Comments are closed.