جشن جمہوریہ، ریختہ فاؤنڈیشن اور جشن بہار کے مشاعروں میں
حرف نیم کش
کیا کوئی شاعر نئے لب و لہجے کے ایسے خوبصورت شعر سنا سکتا ہے جودبئی کے جشنِ جاوید اختر میں سنائے گئے
عظیم اختر
موبائل:09810439067
اردو اخبارات اور رسائل میں دہلی اردو اکادمی اور دنیا میں اردو شعر و ادب کے نومولود محافظ کے طورپر شہرت پا جانے والے ریختہ فاؤنڈیشن اور جشنِ بہار وغیرہ جیسی تنظیموں کی طرف سے منعقد کیے جانے والے قومی اور بین الاقوامی جیسے ہائی فائی مشاعروں کی چھپی ہوئی روداد پڑھ کر ممکن ہے عام اُردو والے ان تنظیموں کی خدماتِ جلیلہ پر ایمان لے آتے ہوں لیکن ہمیں نہ جانے کیوں چھوٹے بڑے شہروں میں خود رو گھاس کی طرح اُگنے والے مالز(Malls) یاد آجاتے ہیں جہاں چھوٹی چھوٹی کمپنیوں کا معیار اور کوالٹی کو ترستا ہوا مال بھی خوبصورت اور دیدہ زیب پیکنگ میں مہنگے داموں میں بکتا ہے۔ یہی حال اُردو شعر و ادب کو فروغ دینے اور داد ستائش سے جھولیاںبھرنے والی ان سرکاری اور غیرسرکاری تنظیموںکا ہے جن کے ہائی فائی مشاعروںمیں منتظمین کے حسنِ انتخاب اور شعرفہمی و سخن شناسی کے وصف سے محروم اور اردو کے حروف تہجی سے نابلد سامعین گاؤں گوٹ کے میلوں میں آلہا اُودل کی کتھا سننے والوںکی طرح اپنی نشستوں پر اچھل اچھل کر داد دیتے ہیں۔اس وقت ہمارے سامنے عالمی سطح پر سب سے زیادہ متحرک اور فعال کہی اور سمجھی جانے والی اور اردو شعرو ادب کے فروغ و تحفظ کا بوجھ اٹھانے والی دہلی اردو اکادمی کے ہر سال قومی سطح پر منعقد کیے جانے والے مشاعرۂ جشنِ جمہوریت کی چھپی ہوئی رپورٹ موجود ہے جس میں مشاعرہ جشنِ جمہوریت کی مختصر تاریخ بیان کرتے ہوئے شریکِ مشاعرہ شعرائے کرام کے منتخبہ اشعار بھی پیش کیے گئے ہیں۔یہاں ہم اپنے قارئین کی معلومات میں اضافہ کر دیں کہ اچھے اور خوبصورت شعر کی نشان دہی، سخن فہمی کے خداداد وصف کے بغیر ممکن نہیں چونکہ سخن فہمی اور سخن شناسی کا وصف فی زمانہ نیل کنٹھ ہو چکا ہے ۔اس لیے ان ہائی فائی قسم کے قومی اور بین الاقوامی مشاعروں کے منتظمین ،مشاعرہ سے قبل مدعو شعرائے کرام سے ایک سادہ کاغذ پر مشاعرے میں پڑھنے والی غزل کا ایک ایک منتخبہ شعر لکھوا لیتے ہیں اور مشاعرے کے بعد سرکاری دفاتر کے بابوؤں کی طرح رپورٹ تیار کرتے ہوئے شعراء حضرات کے خود کے منتخب کردہ اشعار قارئین کی نذر
کر دیتے ہیں تاکہ رپورٹ پڑھنے والے خود اندازہ لگائیں کہ اردو شاعری فکر کی کن بلندیوںکو چھو رہی ہے۔اس رپورٹ میں قارئین کی ضیافتِ طبع کے لیے صرف وہی اشعار پیش کیے گئے ہیں جو شریکِ مشاعرہ شاعروں اور شاعرات نے از خود منتخب کیے تھے۔شعر و ادب سے غیر معمولی دلچسپی رکھنے کے باوجود ہم شہرِ میر ؔو غالب ؔکے اس قسم کے ہائی فائی مشاعروں میں معیار اور فکر کو دہائی دیتی ہوئی شاعری، شاعرانہ ترنم کو ترستا ہوا ترنم اور مانگے کے اُجالے کے سہارے شاعری کا کیوسک چلانے والی لپ اسٹک اور پاوڈر سے لت پت متشاعرات کا کلامِ بلاغت نظام سننے اور ان کی جلوہ آرائیاں دیکھنے کے لیے مشاعروں میں نہیں جاتے بس ایسے مشاعروں کی ٹی وی رپورٹس دیکھ کر ہی اپنے شعری و ادبی ذوق کی تسکین کا سامان فراہم کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ دہلی اردو اکادمی کے اس ہائی فائی اور قومی مشاعرے کی ٹی وی رپورٹ میں جب ہم نے سامعین کو کرسیوںپر کھڑے ہو کر ہوا میں کوٹ لہراتے اور شعروں پر سر دھنتے ہوئے دیکھا تو کانوں میں صرف یہی صدا گونجنے لگی کہ کہاں پہ جا کے یہ قافلۂ انحطاط ٹھہرے گا۔ لیکن جب دہلی اردو اکادمی کے مجلہ ایوانِ اردو میں مشاعرے میں پسند کیے جانے والے اشعار کے نام پر مشاعروں کی کامیابی کے ضامن سمجھے جانے والے شعرائے کرام کے اشعار نظروں سے گزرے تو یقین ہو گیا کہ ایسی شاعری پر تو سامعین ہوا میں کوٹ ہی لہرائیںگے اور سیٹوں پر بیٹھے بیٹھے بھانگڑا ہی کریںگے۔
ہمیں یقین ہے کہ اس تحریر کو پڑھنے اور شعر و ادب کا صاف ستھرا ذوق رکھنے والے قارئین ہماری اس رائے سے اتفاق کریںگے کہ جس بے چارے کی کل کائنات ہی چونی ہو وہ جیب سے اٹھنی کیسے نکال سکتا ہے۔ ذرا اندازہ لگائیے کہ ملک کے اس مقتدر مشاعرے میںمشاعروں کی دنیا کی عزت و آبرو سمجھے جانے والے شاعروں اور شاعرات نے کیسے کیسے پست اور غیر معیاری شعر سنائے جس کے لیے اگر ادب کے نوبل پرائز کی بھی سفارش کی جائے تو کم ہے۔ ذرا سوچیے کہ اگر میرؔ و غالبؔ، ذوقؔ و سوداؔ اور داغؔ و اقبالؔ جیسے شاعر زندہ ہو کر اس دنیا میں دوبارہ آجائیں اور ایسے ہی کسی ہائی فائی مشاعرے میں ایسے اشعار سنیں تو ان پر کیا گزر ے گی:
سینے سے لپٹتے ہی پلٹ جانے کی کوشش
لہروں کو کناروں پہ بھروسہ نہیں لگتا
(وسیمؔبریلوی)
بہت خراب ہے ماحول اس زمانے کا
نکلنا گھر سے تو ماںباپ کی دعا لے کر
(منظرؔبھوپالی)
ایک آنسو کورے کاغذ پہ گرا
اور ادھورا خدا مکمل ہو گیا
(راجیشؔریڈی)
بیٹیاں اس طرح گھر سنبھالے ہوئے ہیں
چھت کو جیسے درو دیوار سنبھالے ہوئے ہیں
(نسیمؔنکہت)
وہ اس شہرت کی منزل تک بآسانی نہیں پہنچا
اسے اس راہ پر سو بار ٹھکرایا گیا ہوگا
(خورشیدؔحیدر)
جانے کتنے دیے جلائے ہیں
تب کہیں روشنی میں آئے ہیں
(ہاشمؔفیروزآبادی)
لاکھوں صدمے ڈھیروں غم
پھر بھی نہیں ہیں آنکھیں نم
(عزمؔشاکری)
مجھے دیکھنا کس سے میرا شہر ہوگا روشن
وہ مکاں جلا رہے ہیں میں دیے جلا رہی ہوں
(شبینہؔادیب)
بیٹا کالا ہو چاہے گورا ہو
ماں کی نظروں میں لال ہوتا ہے
(سندرؔمالیگانوی)
اتنا ترسایا ہے شادی کی تمنا نے مجھے
اب ہر شخص مجھے اپنا سسر لگتا ہے
(سجادجھنجھٹؔ)
جو پھول ہم نے بھیجے تھے خط کے جواب میں
اب بھی مہک رہے ہیں ہماری کتاب میں
(صباؔبلرامپوری)
لفظ کاغذ پہ سجائیںگے سجانے والے
سوچنا چھوڑ دے اردو کو مٹانے والے
اے اناؔ کون مٹا سکتا ہے تہذیبِ غزل
جب تک زندہ ہیں غالبؔ کے گھرانے والے
(اناؔدہلوی)
وسیم بریلوی آج کے غیر معیاری شاعروں کے مقبول ترین شاعر ہیں۔ اردو زبان و ادب کی تہذیب اور شعر فہمی کے وصف سے محروم اور گائیکی کے شوقین سامعین ان کے مائک پر آتے ہی داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے لگتے ہیں۔ زبان و بیان کی باریکیوں سے ناواقف سامعین بے چارے کیا جانیں کہ اردو میں بھروسہ لگتا نہیں بلکہ بھروسہ کیا جاتا ہے یا بھروسہ اٹھتا ہے، موصوف نے زبان و بیان کی باریکیوںاور محاوروں سے ناواقف سامعین کو ’’’’ لہروں کو کناروں پر بھروسہ نہیں لگتا‘‘ کہہ کر ٹہلا دیا۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر آج مشاعروں کو زبان داں، شعر فہم اور سخن شناس سامعین میسر آجائیں تو بہت سے شاعروں کے چولھے ٹھنڈے ہو جائیںگے۔ اس پس منظر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ منظر بھوپالی کا شعر سطحی اور بھرتی کی شاعری کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ اسی طرح نسیم نکہت کا شعر شعریت سے خالی ایک بے معنی شعر ہے اوروہ صرف ترنم کے سہارے ہی داد حاصل کرتی ہیں اور محترمہ انا ؔ دہلوی کی طرح ترنم ہی ان کی شاعری ہے۔ ہاشم فیروز آبادی کے شعر کو جشن جمہوریت کے مشاعرے کا سب سے زیادہ بے معنی اور لچر شعر کہا جائے تو شاید مبالغہ نہیں ہوگا۔ یہی حال راجیش ریڈی، خورشید حیدر، عزم شاکری، شبینہ ادیب ، سندر مالیگانوی، سجاد جھنجھٹ، صبا بلرامپوری اور انا دہلوی کے شعروںکا ہے جن میں محدّب شیشے سے بھی فکر و معیار تلاش نہیں کیا جا سکتا۔یہی نہیں کسی بھی ادبی و نیم ادبی جریدے کا مدیر ایسی غزلوں اور ایسے شعروں کو اپنے یہاں شاملِ اشاعت کر کے ادبی دنیا میں اپنی رسوائی اور جگ ہنسائی کا سامان فراہم نہیں کر سکتا۔ اسی لیے مشاعروں کی منڈی کے ایسے کامیاب شاعروں کا کلام اردو کے ادبی،نیم ادبی جرائد میںبھولے بھٹکے سے بھی نظر نہیں آتا۔
نوک پلک درست کر کے اچھا اور خوبصورت شعر کہنے والے گمنام شاعروں کو اسٹیج کی دنیا تک پہنچانا اور شعر و ادب کے باذوق سامعین کو ان کی شاعری سے متعارف کرانا بھی شعر و ادب کی ایک بڑی اور خاموش خدمت ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ اس قسم کے ہائی فائی مشاعرے منعقد کرنے والے منتظمین یا تو صرف اپنے فرائضِ منصبی انجام دے رہے ہیں یا پھر سخن فہمی اور سخن شناسی سے بذاتِ خود محروم ا ردو کی نام نہاد خدمت کے نام پر مشاعروں کی عوامی مقبولیت کو بھرپور انداز سے کیش(Cash)کر کے نہ صرف کھا کما رہے ہیں بلکہ اردو دنیا میں مسیحائے اُردو اور محسنِ شاعری جیسے القابات سے بھی نواز دیے گئے ہیں۔وسیم بریلوی نے تو خوش نودی میں دہلی کے ایسے ہی ہائی فائی اور عالمی مشاعرے منعقد کرنے والی خاتون کے سرپر ’’ اردو دنیا کی خاتونِ اول‘‘ کا تاج سجا دیا جبکہ دیو ناگری رسم الخط کے توسط سے اردو شاعری کی شوقین وہ خاتون اردو رسم الخط لکھنے پڑھنے کے معاملے میں آج بھی دوسروں کی محتاج ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے مشاعرے باز شاعروں نے خوشامد اور چاپلوسی سے اور اردو شعر و ادب سے معمولی سی دلچسپی رکھنے اور کارپوریٹ گھرانوں کے عطیات کے بل پر ہائی فائی مشاعرے منعقد کرنے والے خالص کاروباری منتظمینِ مشاعرہ کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے جس کی وجہ سے اعلیٰ درجے کے ان مشاعروں میں شاعری سینہ کوبی کرتی ہوئی نظر آتی ہے اور گلے باز شاعروں اور شاعرات کا سکہ چلتا ہے۔
ہمارے یہاں کے ایسے قومی اور بین الاقوامی مشاعروں میں غیر مترنم اور اوریجنل شاعر و شاعرات کا گزر ممکن نہیں، لیکن حیرت اور استعجاب کا مقام ہے کہ یو اے ای کے اہم اور قابلِ ذکر شہروں کے مشاعروں میں صاحبِ نظر اور باذوق سامعین کے سامنے مشاعرہ باز شاعروں کے چراغ نہیں جلتے بلکہ ان گوشہ نشیں اور مشاعروں کے حوالے سے غیر معروف شاعروں کے رنگ برنگے چراغ جلتے ہیںجو تخلیقی سطح پر اپنی شناخت اور پہچان رکھتے ہیں اور جن کے شعر حواس پر چھا جانے اور سماعتوں کو اپنی بھرپور گرفت میں رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہمیں یو اے ای کے کچھ اہم شہروں میں ہندوستان و پاکستان کے ایسے گوشہ نشیں اور غیر معروف شعرا کے چیدہ چیدہ اشعار سننے کو ملے جن کو سن کر ہم صرف یہی سوچتے رہے کہ کیا ہمارے ملک بالخصوص دہلی کے قومی اور بین الاقوامی کہے جانے والے مشاعروں میںبھی کبھی ایسے تیکھے لب و لہجے کے خوبصورت شعر پڑھے جا سکتے ہیں:
کماں سے تیر چلا اور صبا نے چپکے سے
ہلا کے شاخ پرندے کو ہوشیار کیا
(نیلوفرؔافضل)
سوچا یہ تھا وقت ملا تو ٹوٹی چیزیں جوڑیںگے
اب کونے میں ڈھیر لگا ہے،باقی کمرہ خالی ہے
(ذوالفقارعادلؔ)
دیواریںچھوٹی ہوتی تھیں لیکن پردہ ہوتا تھا
تالے کی ایجاد سے پہلے صرف بھروسہ ہوتا تھا
جب تک ماتھا چوم کے رخصت کرنے والی زندہ تھی
دروازے کے باہر تک بھی منہ میں لقمہ ہوتا تھا
(اظہرؔفروغ)
میں نے چاہا تھا زخم بھر جائیں
زخم ہی زخم بھر گئے مجھ میں
(عمارؔاقبال)
جاتے ہوئے کمرے کی کسی چیز کو چھو دے
میں یاد کروںگا کہ ترے ہاتھ لگے تھے
(دانشؔنقوی)
ہاتھ تھام کر کوئی جب گلے لگاتا ہے
صرف رنج رہتا ہے، رنجشیں نہیں رہتیں
(انجیلؔصحیفہ)
یہ بولنے کا وقت تھا اور تیری خاموشی
میرے خلاف تیری گواہی سے کم نہیں (کاشفؔحسین،غیر)
ایک عمر تک میں اس کی ضرورت بنا رہا
پھر یوں ہوا کہ اس کی ضرورت بدل گئی
اس نے پوچھا کون؟ فہمی کون؟
اور میں سیڑھیوں سے اتر آیا
(شوکتؔفہمی)
کشادہ راستے، خوش لوگ، نیک دل حاکم
میاں وہ شہر کہاں ہے؟ جہاں کی بات ہے یہ
(احمدؔسلمان)
تخت پر بیٹھنے کے قابل تھے
جوتیوںمیں بٹھا دیے گئے ہیں
دو چار ہی ثواب کے حامل کیے تھے کام
اور وہ بھی ایک شخص کی غیبت میں لگ گئے
کیا حفاظت ہو خالی کمرے کی
کون نخرے اٹھائے چابی کے
(علیؔزبیری)
میں تو یوں چپ ہوں کہ اندر سے بہت خالی ہوں
اور یہ لوگ پراسر سمجھتے ہیں مجھے
(شاہدذکیؔ)
خواب میں توڑتا رہتا ہوں انا کی زنجیر
آنکھ کھلتی ہے تو دیوار نکل آتی ہے
(معیدؔرشیدی)
ہم کو رکھتا ہے کوئی اور بدن پر اپنے
خود کو ڈھکتے ہیں کسی اور کی پوشاک سے ہم
جی میں آتا ہے کوئی آگ لگا دے آکر
جا بجا اُگنے لگے ہیں خس و خاشاک سے ہم
(ابھیشیکؔشکلا)
اب کے تو اس نے ہی بلایا تھا پھر بھی
دروازے سے لوٹ آئے بے دھیانی میں
(دیبلؔکمار)
مرے وطن کا یہی مسئلہ رہا عاصمؔ
وہاںدماغ کم ہے اور سر زیادہ ہے
(عاصمؔواسطی)
کسی کے ماتھے پہ تھوڑی لکھا ہے کون سچا ہے، کون چھوٹا
خدا کے بندے پرکھ تو لیتے کسی کو عرضِ ہنر سے پہلے
دستکیں دے رہا ہے کچھ دن سے
ہم سے کیا کام پڑ گیا دل کو
(سبحانؔاحمد)
دیتا نہیںتھا چھاؤں مگر رکھ لیا گیا
ایندھن بنے گا بوڑھا شجر رکھ لیا گیا
اس قافلے کو خدشۂ قحط الرجال تھا
مجھ کو بطورِ زادِ سفر رکھ لیا گیا
آنکھوں میں عمر بھر مسافت سمیٹ کر
گھر جا رہا ہوں مجھ کو اگر رکھ لیا گیا
مجھ کو تھما دیا گیا قسمت کا فیصلہ
اور مری محنتوں کا ثمر رکھ لیا گیا
(شوکتؔفہمی)
تجھے پتہ ہے صدائیں آتی ہیں مجھ کو شب بھر
تو جس جگہ پر جدا ہوا تھا اسی طرف سے
کشتی جلا دی اپنی کہ واپس نہ جا سکیں
رخصت ہوئے وہاں سے تو دل بھی بڑا کیا
پھر لوگ ہم کو روند کر آگے نکل گئے
اپنی طرف سے ہم نے جو رستہ کھلا کیا
اک دلاسا تو دے نہیں سکتے
تذکرہ زخم کی سلائی کا
(فیصلؔمحمود)
شاخ سایہ اُدھیڑتی تھی مرا
اک کرن تھی کہ بن رہی تھی مجھے
(احمدؔسلمان)
سمندر مشتعل ہو کر رہیںگے
کہ اصلی آگ تو پانی میں گم ہے
(اعجازؔشاہین)
میں بھی خوش ہوں مرے شعلے میں تماشا تو ہوا
روشنی دیکھ کے مجھ میں اُتر آیا ہے کوئی
یہ خواب دیکھنے والوںکا قافلہ ہے سو میں
اس غبار میں چپ چاپ چلتا جاتا ہوں
(شاہینؔعباس)
وہ اک چراغ جو آیا ہے مرے حصے میں
وہ جل رہا ہے کسی دوسرے ستارے میں
(آصفؔ رشید اسجد)
یہ تو نے کیسی اذیت میں ڈال رکھا ہے
کہ تیرے ساتھ بھی، تیرے لیے ترستے ہیں
(سبحانؔاسد)
میرے گھر میں نہ ہوگی روشنی کیا
نہیں آؤگے اس جانب کبھی کیا
خود اس کا رنگ پیچھا کر رہے ہیں
کہیں دیکھی ہے ایسی سادگی کیا
(سوپینلؔ تیواری)
ورنہ سقراط مر گیا ہوتا
اس پیالے میں زہر تھا ہی نہیں
کیا خوب انا ہے کہ کشکول توڑ کر
اب تک کھڑے ہوئے ہیں وہیں ہاتھ جوڑ کر
مر ہی نہ جاتے ضبطِ فغاں سے کہیں یہ شہر
سینے سے اس کے آہ نکالو جھنجھوڑ کر
( لیاقت علی عاصم)
گرد میری اڑ رہی ہے چاند تاروںمیں کبھی
طرز اس نے پائی سب خاکساروں سے الگ
(شاداب الفت)
میرے سینے سے ذرا کان لگا کر دیکھو
سانس چلتی ہے کہ زنجیر زنی ہوتی ہے
(عباسؔتابش)
اس شخص سے روز مل رہا ہوں
وہ شخص جو اجنبی ہے مجھ میں
(حمادؔنیازی)
اس زمینی حقیقت سے آنکھیں تو یقیناً چرائی جا سکتی ہیں اور مسلسل چرائی جا رہی ہیں لیکن انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آج اردو بھارت کی عام سماجی، معاشی اور تدریسی زندگی میں حاشیے پر پہنچ چکی ہے اور تیزی سے ایک بولی کا روپ اختیارکر رہی ہے، لیکن مشاعرہ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے جس سے بھرپور فائدہ اٹھانے اورEncashکرنے کے لیے تجارت پیشہ ذہنوں نے اردو شعر و ادب کے نام نہاد محافظ کا چولہ اوڑھ کر قومی،بین الاقوامی سطح کے ایسے مشاعروں کی طرح ڈالی ہے جس میں شعر فہمی اور شعر سخنی کے وصف سے محروم سامعین نما بھیڑ کی پسند پر کھرا اترنے کے لیے سطحی اور غیر معیاری شاعری کرنے اور مائک پر آکر سامعین کو رجھانے کے لیے ہاؤبھاؤ اور ناز و ادا دکھانے والے شاعروں اور نام نہاد شاعرات کو ہی مدعوکیا جاتا ہے تاکہ مشاعرہ کامیاب رہے اور اردو کے نام پر کھانے کمانے کا سلسلہ جاری و ساری رہے۔ خالص تجارتی اور کھانے کمانے کے نقطۂ نگاہ سے منعقد کیے جانے والے ان قومی اور بین الاقوامی قسم کے مشاعروں کے نام نہاد خدامِ اُردو عام طورپر ان گوشہ نشیں اور غیر معروف شاعروں کو اسٹیج پر پہنچانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے جو ہزار گوشہ نشیں اور غیر معروف سہی لیکن تخلیقی سطح پر اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔آج کے یہی غیرمعروف اور گوشہ نشیں شاعر کل کی شاعری کے معتبر حوالے ہوںگے۔
قلندر صفت ،گوشہ نشیں اور شہرت و پبلسٹی سے بے نیاز غیر معروف شاعروں تک اور ان کو ادبی دنیا میں متعارف کرانے کا ادبی فریضہ تو اردو دنیا کے نامور نقاد اور محقق حضرات بھی انجام نہیں دیتے چہ جائیکہ مشاعروں کے منتظمین سے امید رکھی جائے کہ وہ ایسے شاعروں کو پروموٹ کرنے کے لیے سامعین کی سماعتوں کے حوالے کر دیں، یہ ایک خداداد جذبہ ہے جو شعر و ادب کے انہی متوالوں کے یہاں موجزن رہتا ہے جو نہ صرف شعر پرست ہو بلکہ اپنی شعر فہمی اور سخن شناسی پر غیر معمولی اعتماد رکھتا ہے۔
اردو دنیا میں اپنے منفرد لب ولہجے کے لیے مشہور پاکستانی شاعر ناصر کاظمی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جب کوئی اچھا اور ذہن کو متاثر کرنے والا شعر سنتے تو پورے لاہور کی گلیوں، کوچوں میں سخن شناس اور شعر فہم لوگوں کے دروازوں پر دستک دے کر شعر سنایا کرتے تھے، ہم نے ناصر کاظمی کو تو نہیں ہاں آج سے بیس بائیس سال پہلے دہلی میں نووارد طارق فیضی کو ضرور دیکھا جو ہر دوسرے تیسرے دن ٹیلی فون پر کسی گمنام اور غیرمعروف شاعر کا خوبصورت سا شعر سنا کر ناصر کاظمی کی سنت کو تازہ کر دیتا یا غیر معروف شاعروں کو اپنے گھر مدعو کر کے خوبصورت شعری نشست سجاتا۔ہم نے بہت سے غیرمعروف اور گمنام شاعروں کو طارق فیضی کی ایسی ہی گھریلو نشستوں میں سنا اور طارق فیضی کے حسنِ انتخاب پر داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔ طارق سے مسلسل ملاقاتوں کے بعد اندازہ ہوا کہ کہ گرچہ یہ شخص بذاتِ خود شاعر ہے نہ ادیب لیکن شعر فہمی اور سخن شناسی کی غیرمعمولی صلاحیتوں کا مالک ہے اور صرف ایک دو شعر کی خوشبو سے شاعر کا تعاقب کرتا ہے اور پھر اپنی سخن فہمی، سخن شناسی پر اعتماد کرتے ہوئے گمنامی کی ردا اوڑھے ہوئے اور سہمے ہوئے شاعروں کو عالمی سطح کے مشاعروں کے اسٹیج پر پہنچا دیتا ہے جہاں ہزاروں سماعتیں پہلے شعر کے پہلے مصرعے سے یہ باور کرا دیتی ہیں کہ یہاںفقط شاعری ہی سنی جائے گی اور صرف انہی شعروں پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جائیںگے جو نہ صرف ذہن پر چھا جائیںبلکہ بہت دنوں تک کانوں میں گونجتے رہیں۔
دنیا بھر میں شعرو سخن کو درست معنی میں زندگی بخشتی اس ادبی تحریک کی روح،جس کی تجسیم طارق فیضی نے کی جبکہ اس تحریک کی بڑھتی ہوئی مقبولیت میں جاوید اختر صاحب کا نمایاں کردار ہے۔
ہم نے مذکورہ بالا تحریر میں ہندوستان اور پاکستان میں مشاعروں کے حوالے سے ان غیر معروف اور گمنام شاعروں کے خوبصورت شعر نقل کیے ہیں جن کو طارق فیضی نے جشنِ جاوید اختر اور اپنے دبئی کے ان مشاعروں کو جو انہوں نے منعقد کیے ہیں اس میں شامل ہونے والے شاعروں کو اعلیٰ سطح کے مشاعروں کے اسٹیج پر پہنچا کر دبئی، دوحہ قطر اور بحرین جیسے دیارِ غیر کے باذوق اور شعر فہم حلقوں میں کھلبلی مچا دی اور وہ نقوش مرتب کیے ہیں جو نہ جانے کب تک یادوںمیں جھلملاتے رہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ دیارِ غیر میںطارق فیضی کی ان کاوشوں کو یقینا پسند کیا جائے گا لیکن کیا ہمارے ملک بالخصوص دہلی ایسے شہر میں قومی اور عالمی سطح پر منعقد کیے جانے والے مشاعروں میں سامعین صرف غیر معیاری اور سطحی شاعری ہی سنتے رہیںگے اور متشاعرات کے ناز و انداز ہی دیکھتے رہیںگے۔؟؟
٭٭٭
Comments are closed.