رشتوں کے انتخاب میں کن باتوں کا خیال رکھیں؟

مولانا بدرالدجیٰ قاسمی
(قاضیٔ شریعت دارالقضاء گوونڈی)
9221743368
ہمارے معاشرے میں اس وقت خاندانوں کے درمیان نزاع اور رشتوں میں تفریق کے معاملات میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے ، اس کے کئی اسباب ہیں ان میں سے سب سے اہم سبب یہ ہےکہ شادی سے قبل رشتوں کے انتخاب میں لڑکے لڑکیا ں یا والدین ظاہری چیزوں پر زیادہ توجہ کرتے ہیں ،لیکن ان کے اخلاق و کردار اور دین داری سے پر بالکل توجہ نہیں دی جاتی جس اثر آگے آنے والی زندگی پر پڑتا ہے۔
سچائی یہ ہے کہ آج لوگ جب اپنے بچوں کی شادیاں کرتے ہیں،تو سب سے پہلے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ برادری کیا ہے؟ پھر کہتے ہیں کی شکل وصورت کیسی ہے؟(فوٹو دکھایا جائے)پھر مال پر نظر جاتی ہے کہ مالی حالت کیسی ہے؟جس لڑکی یا لڑکے کو ہم اپنے بچوں کے لیےپسند کرتے ہیں،اس کی سیرت کیسی ہے؟اس کے اخلاق کیسےہیں؟اس کے گھر والوں کےاخلاق کیسے ہیں؟اس بات کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں ہوتی،بس برادری اپنی ہو،خوبصورت ہو،مالدار ہو،اور دنیوی اعتبار سے تعلیم یافتہ ہو،اتنا ہی کافی ہوتا ہے،اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہیں ہوتی ہے کہ اس میں دین داری ہے یا نہیں، اور ہے تو کس درجے کی ہے، لڑکےمیں شرافت اور چھوٹے بڑے کا ادب واحترام ہے یا نہیں؟لڑکی میں حیا،شرم اور خدمت خلق اور برداشت کا جذبہ ہے یا نہیں؟اسی لیے نکاح ہو نے کے کچھ ہی دن بعد اختلافات شروع ہو جاتے ہیں،گھروں کا سکون غارت ہوجاتاہے،اور وہ رشتہ جو پاکیزہ تھا،عبادت تھا،آپسی تعاون،محبت اور بھائی چارہ کا ذریعہ تھااورزندگی کی آخری سانس تک کے لیے قائم کیا گیا تھا،وہی رشتہ اب دو خاندانوں بلکہ ان کی وجہ سے اور کئی خاندانوں کی آپسی دشمنی کا ذریعہ بن جاتا ہے،پھردونوں طرف کے لوگ پولیس چوکی،کورٹ، کچہری اور دار القضاء کا چکر لگانے پر مجبور ہوتے ہیں۔
لہذا رشتوں کا انتخاب کرتے وقت ان باتوں کا خیال ضرور رکھیں ۔
بیوی کا انتخاب
خوشگوار ازدواجی زندگی گزارنے اور گھر کو جنت کا نمونہ بنانے میں بیوی کا اہم کردار ہوتا ہے ، اگر وہ سنوارنے پر آجائے تو اپنے طور طریقہ اور عادات سے گھر کوجنت کدہ بنادے اور اگر بگاڑنے پر آجائے تو جہنم بنادے۔ حدیث شریف میں بعض صفات کا تذکرہ کیا گیا ہے ،ہمیں چاہیے کہ شریک ِ حیات کا انتخاب کرتے وقت ان باتوں کا خیال رکھیں ۔
دین دارہو
آج لوگ جب رشتے کا انتخاب کرتے ہیں، تو بہت ساری چیزوں کو دیکھتے ہیں، علم و فضل، مال ودولت، معاشرے میں مقام ومرتبہ ، ایک دوسرے کا حسن وجمال اور نہ جانے کن کن چیزوں پر نظر ڈالتے ہیں، مگر رسول اللہ ﷺ نے رشتے کے انتخاب کے سلسلے میں اصل معیار دین داری کو بتایا ہے۔حدیث میں آپ ﷺ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
‘‘عورتوں سے چار وجوہات کی بنا پر شادی کی جاتی ہے، ایک اس کی دولت کو دیکھ کر، دوسرے اس کے خاندان کو دیکھ کر، تیسرے اس کے حسن وجمال کو دیکھ کر اور چوتھے اس کے دین کو دیکھ کر۔ پس تم دین دار عورت کے ساتھ شادی کرکے کامیاب ہوجاؤ۔’’ (ابوداؤد:۲۰۴۷)
لہٰذا رشتہ کرتے وقت سب سے پہلے دیکھنا چاہیے کہ جس سے رشتہ کیا جارہا ہے،وہ دین دار ہے کہ نہیں،اگر وہ دین دار ہے،تواس سے نکاح کرلینا چاہیے۔
محبت کرنے والی ہو
بیوی کی محبت کےدوبول شوہر کے وجود میں کیف وسرورپیداکردیتے ہیں۔اس کے دل کو سروراوردماغ کو سکون پہونچاتے ہیں؛اس لیے اگر بیوی محبت کرنے والی ہوگی زندگی خوشگوار گزرے گی ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
‘‘اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں؛تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی’’۔(سورۂ روم:۲۱)
زیادہ بچوں کی صلاحیت ہو
نکاح کا ایک مقصد انسان کی نسل کو آگے بڑھانا بھی ہے ، اس لیے نبی کریمﷺنے ایسی عورت سے نکاح کرنے کی ترغیب دی ہے،جو بہت زیادہ بچے جننے والی ہو۔
ایک صحابی نےآپ ﷺسے پوچھاکہ:‘‘اے اللہ کےرسول! ایک حسب ونسب اورحسن وجمال والی عورت مجھے بہت پسند ہے ،مگر اس سے اولاد نہیں ہوگی،تو کیامیں اس سےنکاح کرلوں؟’’ آپ نے منع فرمایااورکہا: ‘‘بہت زیادہ محبت کرنے والی اوربہت زیادہ بچہ جننے والی سے نکاح کرو ’’۔(ابوداؤد:٢٠٥٠)
ا س کا اندازہ اس لڑکی کے خاندان کی عورتوں کو دیکھ کر کیا جاسکتا ہے۔
کنواری یا بیوہ
رسول اللہ ﷺ نے کنواری سے نکاح کی ترغیب دی ہے؛ چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ عنہسے آپ ﷺنے پوچھا:
‘‘اے جابر کیاتم نے نکاح کیاہے؟ انھوں نے کہاکہ ہاں ، تو آپ نے پوچھاکہ بیوی کنواری ہے یاشوہر دیدہ،یعنی بیوہ یامطلقہ؟ تو انھوں نے کہاکہ شوہر دیدہ سے۔آپ ﷺ نے کہاکہ کنواری سے کیوں نہیں کیا؟ تاکہ تم اس سے کھیلتے اوروہ تم سے کھیلتی!’’(صحیح بخاری:٥٠۷۹)
مگر رسول اللہ ﷺ نے عملی طور پر بیوہ یا مطلقہ سے نکاح کو ترجیح دی ہے؛بلکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ آپ کی تمام ازواجِ مطہرات (بیویاں) آپ کے نکاح میں آنے سے پہلے بیوہ یا مطلقہ تھیں۔آپ نے اپنی ذات خاص کے لیے گیارہ میں سے دس بیویوں کا انتخاب شوہر دیدہ ہی کا فرمایا اورصحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کی بڑی تعداد نے مطلقہ یا بیوہ عورت سے شادی کی ہے،اس سے معلوم ہواکہ حالات اور موقع کے لحاظ سے کنواری یا بیوہ کا انتخاب ہونا چاہیے،خصوصاً ہمارے ملک ہندوستان میں جہاں غیر مسلموں کے رسم و رواج کی وجہ سے بیواؤں سے نکاح معیوب سمجھاجاتا ہے،اس سنت کو زندہ کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔
فقہاء نے لکھاہےکہ عورت مردسے عمر میں چھوٹی ہو،حسب ونسب مال ودولت میں مر د سے کم تر ہو،جب کہ ادب واخلاق ،تقویٰ اورحسن وجمال میں مردسے بڑھ کرہو۔
(رد المحتار علی درالمختار:٣/۸)
شوہر کاانتخاب
اس وقت لوگوں کا یہ عمومی مزاج بن گیا ہے کہ لوگ رشتہ کرتے وقت صرف یہ دیکھتے ہیں کہ لڑکے کے پاس جائیداد کتنی ہے ؟لڑکے کی تعلیمی لیاقت کیا ہے ؟ تنخواہ کتنی ہے؟حالاں کہ شریعت نے ان میں سے کسی کو بھی معیار نہیں بنایاہے ، اصل معیار لڑکے کی دینداری اور اخلاق ہے یہی وجہ ہےکہ آج ہمارے معاشرہ میں طلاق کا تناسب دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا:
“ اگر تمہاری لڑکی کے لیے کوئی ایسارشتہ آئے،جس کے اخلاق اوردینداری سےتم مطمئن ہو،تو اپنی لڑکی کانکاح کرادو؛ ورنہ زمین میں فتنہ پھیلے گااورفساد برپاہوگا۔’’(سنن ترمذی:١٠۸٥)
نکاح سے پہلے لڑکی یا لڑکے کو دیکھنا
لڑکی کو دیکھنے یا دکھانے کے سلسلے میں ہمارے یہاں بہت بے اعتدالی پائی جاتی ہے۔کچھ لوگ لڑکی کو دکھانا عیب سمجھتے ہیں اورکچھ لوگ پورے خاندان کودکھانے کا انتظام کرتے ہیں، یہ دونو ں باتیں شریعت کے خلاف ہے ۔ جس عورت سے نکاح کا واقعی ارادہ ہو، نکاح سے پہلے لڑکالڑکی دونوں کے لیے ایک نظر دیکھنے کی گنجائش ہے، تاکہ نکاح کے بعد کسی ناگواری کا اندیشہ نہ رہے۔
رسول اللہ ﷺ نے نکاح سے پہلے لڑکی کودیکھنے کی ترغیب دی ہے اور اس کی حکمت بھی بتلائی ہے ۔
حضرت مغیررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے آپ  ﷺ سے عرض کیا کہ میں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا ہے ،تو آپ ﷺ نے پوچھا :کیا تم نے اس کو دیکھا ہے ؟میں نے جواب دیا نہیں ،تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کودیکھ لو ؛کیونکہ یہ تمہارے درمیان محبت باقی رکھنے کے لیے زیادہ مناسب ہے۔(ترمذی : 1087)
(مزید تفصیلات کے لیے دیکھیں :خوشگوار ازدواجی زندگی کے اصول اور اختلاف وتفریق سے بچنے کا طریقہ : ۲۵ تا ۲۸)

Comments are closed.