ولی اللّہی علوم کے مترجم، طابع اور ناشر حضرت مولانا محمد احسن صدیقی نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ

مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی
مایۂ ناز محدث علامہ شیخ محسن بن یحییٰ ترہتی اور ان کی نادرۂ روزگار تصنیف ” الیانع الجنی فی اسانید الشیخ عبد الغنی” کے تعارف و تجزیہ پر مشتمل ایک کتاب اس عاجز کے زیر ترتیب ہے… علامہ ترہتی کے احوال و آثار کے سلسلے میں تاریخ وسوانح کی زیادہ تر کتابیں خاموش ہیں… بعض کتابوں میں کچھ ہے بھی تو صرف اشارات ہیں.. تنکوں کو جوڑ کر آشیانہ بنانا انتہائی صبر آزما مرحلہ ہے..لیکن اللہ کی مدد شامل حال ہوئی تو مشکل کام بھی آسان ہے۔
لیس علی اللہ بالمستنکر
ان یجمع العالم فی واحد .
انھیں تنکوں کی جستجو میں یہ بات سامنے آئی کہ "الیانع الجنی فی اسانید الشیخ عبد الغنی” کا سب سے پہلا ایڈیشن مولانا محمد احسن صدیقی کے زیر اہتمام ان کے مطبع صدیقی بریلی سے 1870 /1287 میں شائع ہوا… اس ایڈیشن کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مولانا احسن صدیقی نے اس کتاب کو علامہ عبد الجلیل برادہ مدنی کی تقریظ سے بھی آراستہ کیا ہے اور اس کتاب کے خاتمۃ الطبع کے ضمن میں شاندار قطعہ بھی پیش کیا ہے، جس سے تاریخ طباعت کی بھی عکاسی ہوتی ہے اور مصنف اور کتاب کی عظمت بھی مترشح ہوتی ہے… مولانا احسن صدیقی نے اخیر میں شیخ عبد الغنی مجددی کے روحانی سلسلہ پر مشتمل عربی نظم کو بھی شائع کیا ہے… مطبع صدیقی کی اسی اشاعت کو بنیاد بنا کر حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی علیہ الرحمہ نے 1920 میں اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کیا…. دوران تحقیق بار بار مولانا احسن صدیقی کے احوال کی جستجو کا داعیہ پیدا ہوا.یہ سوال بھی بار بار ذہن میں آرہا تھا کہ ترہت (خضرچک بیگوسرائے) سے تعلق رکھنے والی شخصیت کی کتاب کی پہلی اشاعت بریلی سے ہونے کا کیا مطلب؟ … اس سلسلے میں جب تحقیق کی گئی تو نہ صرف یہ کہ سارے عقدے حل ہوگئے بلکہ حضرت صدیقی کے احوال و آثار کے مطالعہ سے ان کی عظمت وبزرگی کا بھی احساس ہوا،اور یہ اندازہ بھی ہوا کہ :
ایں خانہ ہمہ آفتاب است
نیز یہ بھی کہ :
ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی.
دوران مطالعہ ہی یہ عزم کرلیا کہ مولانا احسن صدیقی کے تعلق سے ایک مضمون لکھنا موصوف کے لیے بہترین خراج عقیدت ہوگا. تاکہ نسل نو اپنے اسلاف کے کارناموں سے واقف ہوکر انھیں اپنے لیے مشعل راہ بنا سکے. مولانا احسن صدیقی کی سوانح و خدمات سے متعلق ذیل کے سطور قارئین کی نذر کرتے ہوئے بے انتہا مسرت ہورہی ہے.
مغربی یوپی میں واقع قصبہ نانوتہ کا صدیقی خانوادہ اپنے افراد کی علمیت، تقوی وطہارت، بزرگی وصلاح، متنوع دینی وعلمی خدمات اور علوم کتاب وسنت کی اشاعت کی بنیاد پر ممتاز شناخت اور عالمی شہرت رکھتا ہے… بانی دار العلوم دیوبند حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی، بانی مظاہر علوم مولانا مظہر نانوتوی اور استاذ الکل مولانا مملوک علی نانوتوی کے ذریعے اس بستی اور اس خانوادے کی شہرت چہار دانگ عالم میں پھیلی ہوئی ہے … اسی خانوادہ کے ایک گل سرسبد مولانا محمد احسن صدیقی نانوتوی بھی ہیں. انیسویں صدی عیسوی کے مشاہیر علماء میں ہیں… موصوف مولانا مظہر صدیقی نانوتوی اور مولانا منیر صدیقی نانوتوی مہتمم دارالعلوم دیوبند کے حقیقی بھائی ہیں… مگر افسوس کے دوسرے اکابر علماء کی طرح ان کے حالات معروف نہیں ہیں؛ بلکہ بڑی حد تک پردہ گمنامی میں ہیں ۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ ان کی چند کتابیں ’’ احسن القواعد ، رسالہ دین“ اور مفید الطالبین وغیرہ علماء کے مابین کافی مشہور ہیں۔
مولانا محمد احسن نانوتوی بریلی کا لج میں عربی و فارسی کے پروفیسر تھے۔ انہوں نے بریلی میں تصنیف و تالیف کا ایک مفید سلسلہ شروع کیاتھا. روہیل کھنڈ کے مرکز بریلی میں اپنا مطبع صدیقی قائم کر کے علوم اسلامیہ کی بڑی گرانقدر خدمات انجام دی۔
خاص طور سے حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کی حجۃ اللہ البالغہ اورازالۃ الخفاء جیسی معرکۃ الآراء کتابیں طبع وشائع کر کے علوم ولی اللہی تک اہل علم کی رسائی کو آسان بنا دیا۔
مولانا محمد احسن نانوتوی کا شمار گذشتہ صدی کے نامور اور با کمال علماء میں ہے . ان کی علمی خدمات سے عوام وخواص نے کافی فائدہ اٹھایا ہے۔ انھوں نے جہاں ایک طرف حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کی حجۃ اللہ البالغہ اور ازالۃ الخفاء جیسی بے نظیر کتابوں کو؛ جواب تک قلمی صورت میں پڑی ہوئی تھیں اپنے مطبع صدیقی بریلی سے طبع کر کے شائع کیا ۔ وہیں دوسری طرف احیاء العلوم، حصن حصین اور در مختار جیسی بیش بہا اور گرانقدر کتابوں کا ترجمہ کرکے تصوف وفقہ کی دولت کو عام کیا۔اتنے عظیم کارنامے انجام دینے کے باوجود تواضع و انکساری و اخفاء کا رنگ آپ پر غالب تھا.. جس کا اندازہ اس تحریر سے ہوتا ہے؛ جو آپ نے حصن حصین کے ترجمہ اور تصحیح کا کام مکمل کر نے کے بعد اس کے مقدمے میں لکھا :’’میری اس تصحیح اور ترمیم کو لوگ یہ سمجھیں کہ میں نے مترجم کو اصلاح دی ہے، تو چھوٹا منہ اور بڑی بات کے قبیل سے ہے؛ بلکہ یوں تصور کرنا چاہیئے کہ ” پدر نتواند پسر تمام کند“ کیونکہ جس خاندان سے مترجم کو فیض حاصل ہوا اسی خاندان کا یہ فقیر زلہ ربا ہے، میری سند اس کتاب کی یہ ہے کہ مجھ کو اس کی اجازت تین شخصیات سے حاصل ہوئی. اول: مولانا احمد علی صاحب سہارنپور. دوم: مرشدی شاه عبدالغنی صاحب مجد دی سوم مولوی سبحان بخش شکار پوری ۔ ان تینوں حضرات کو ا جازت یگا نۂ آفاق مولانا محمداسحاق دہلوی سے حاصل ہے ۔
(خیرمتین ترجمہ حصن حصین ترجمہ مولانا محمد احسن مقدمه 1892 )
مولوی محمدحسین مراد آبادی مؤلف انوارالعارفین مولانا محمد احسن کو ان الفاظ
سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں:
مولوی محمداحسن حافظ قرآن، واعظ خوش بیان، عالم فروع واصول، دانندۂ باریکی و دلائل معقول، و مدرس علم معانی و کلام، و درس کننده بفصاحت وبلاغت تمام، مفسر کلام اللہ و محدث حدیث رسول، و جامع جمیع علوم ، مترجم احیاء العلوم ومتصف با خلاق حسن ہستند” …( انوارالعارفین امیرحسین مراد آبادی ص:506)
دہلی اسلامی تہذیب وتمدن کا مرکز :
یہ وہ زمانہ تھا کہ قلعہ دہلی آباد تھا آخری مغل بادشاہ ابوظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ زینت تخت و تاج تھے۔ ہر فن کے علما و فضلا، ادباء وشعرا و دلی میں موجو د تھے، غرض مسلم تہذیب وثقافت کی شمع فروزاں تھی ، مولانامحمداحسن نے اسی دہلی میں تحصیل علم کی۔ اور تعلیمی مراحل کی تکمیل بھی کی.. مولانا محمد احسن نے ابتدائی تعلیم نانوتہ میں حاصل کی اور وہیں حفظ قرآن کی تکمیل .
مرکز علم و علماء دہلی میں کسب فیض :
کسی بھی شخصیت کی کما حقہ نشوونما کے لیے علمی فضا اور ممتاز علماء کی سرپرستی لازمی ہوتی ہے، اور یہ علمی ماحول نانوتہ میں نہیں بلکہ دارالسلطنت دہلی میں میسر تھا چنانچہ مولانا صدیقی حضرت مولانا مملوک علی کے پاس دہلی پہنچے اور دہلی کالج میں تعلیم حاصل کی. ان کے علاوہ اس وقت کے دیگر ممتاز علماء مولانا احمد علی محدث سہارنپوری، شاہ عبدالغنی مجددی اور مولوی سبحان بخش شکار پوری وغیرہ سے بھی تحصیل فیض کی. یہ تمام حضرات حکیم الامت حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے خاندان کے فیض یافتہ تھے اور ان حضرات کا مسلک بھی وہی تھا۔ مولانا محمد احسن کو بھی اسی خاندان سے علمی فیض حاصل ہوا…
خاص طور پر علم حدیث اور روحانی کمالات کی تحصیل حضرت شاہ عبدالغنی مجددی (المتوفی1296 ) سے کی.
شاہ عبد الغنی مجددی شاہ محمد اسحاق دہلوی کے شاگرد تھے نہایت متقی و پرہیز گار اور تمام اوصاف و کمالات میں اپنے پیش رو خانوادہ مجددیہ کے صحیح معنوں میں جانشین اور انتہائی خدا رسیدہ بزرگ عالم تھے. نقشبندی سلسلہ کے مشہور شیخ اور خانقاہ حضرت مرزا مظہر جان جانان کے مسند نشین بنے..
شیخ عبد الغنی مجددی کی جامعیت اور کشش کی وجہ سے مولانا محمد احسن انھیں سے بیعت بھی ہوگئے ۔
حضرت شاہ عبدالغنی مجددی کی اسانید ،الیانع الجنی میں شامل ہیں.
الیانع الجنی فی اسانید الشیخ عبدالغنی از محمد محسن مطبوع مطبع صدیقی بریلی( سن1287/1870)
مولانا محمد احسن نانوتوی نے شاہ عبدالغنی د ہلوی کی ایک سند شیخ محمد عابد سندھی کے ذریعہ سے بھی اپنی قلمی بیاض میں نقل کی ہے جس کو یہاں پیش کیا جاتا ہے:عن الشيخ المقدس القطب الرباني المولنا عبدالغني عن الشيخ محمدعابد السندی عن امام المحدثين وخاتم المجتهدین الشیخ صالح بن محمد العمری.
روہیل کھنڈ کے مرکز بریلی میں :
مولانا احسن صدیقی نے عملی زندگی کا آغاز بنارس کالج میں تدریس سے کیا لیکن یہ دورانیہ بہت مختصر رہا بہت جلد آپ کا تبادلہ بریلی ہوگیا..شمالی ہند میں دوآبہ کا علاقہ ایک زمانے سے علم وفضل کا گہوارہ رہا ہے بریلی اس زمانے میں علم و علماء کا مرکز تھا..اسے بعض اہل تاریخ نے رشک دہلی بھی قرار دیا ہے. (ہندوستان کی قدیم اسلامی درسگاہیں. از ابوالحسنات ندوی ص 34)
تام جھام میں روہیل کھنڈ ریاست کے آثار ابھی باقی تھے.
موصوف کا بنارس سے بریلی تبادلہ جمادی الاول ۱٢٦۷ھ مطابق مارچ ١٧٥١ میں ہوا، چنانچہ موصوف بنارس سے بریلی پہنچے. پہلے بریلی کا لج میں شعبہ فارسی کے صدر مقرر ہوئے. پھر جب عربی کا اجراء ہوا تو دونوں شعبوں کی صدارت انھیں کو تفویض ہوئی جیسا کہ احسن القواعد کی تقریظ سے معلوم ہوتا ہے.
اس زمانہ میں بریلی میں بیرونی علماء کا خاص اجتماع تھا. مولانا مملوک علی کے تلامذہ اور مولانا محمد احسن کے احباب و ہم وطن حضرات میں کئی اشخاص بریلی میں مقیم تھے ۔ خود مولانامحمد احسن کے چھوٹے بھائی مولوی منیر بھی بریلی کا لج میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے ۔
شیخ الہند مولانا محمودالحسن کے والد مولانا ذوالفقارعلی دیوبندی بھی بریلی کالج میں پر وفیسر تھے. مولانا ذوالفقار کا بریلی میں کئی سال قیام رہا. یہ فخر سرزمین بریلی ( روہیل کھنڈ) کو حاصل ہے کہ 1851 میں شیخ الہند مولانامحمودالحسن بریلی میں پید ا ہوۓ۔
بلادٌ بهاحلّ الزمانُ تمائمی
واولُ ارضٍ مسَّ جلدی ترابُها
ترجمہ :وہ ایسا خطہ ارض ہے جس نے میرے تمام حصہ جسم کو اتارا
اوروہ پہلی زمین ہےکہ جس کی خاک کو میری جلد نے مس کیا)
مولانا یعقوب نانوتوی بھی بریلی میں ڈپٹی انسپکٹر مدارس رہے. علامہ شبیر احمد عثمانی کے والد مولانا فضل الرحمن دیوبندی بھی بریلی میں ڈپٹی انسپکٹر مدارس تھے۔
جنگ آزادی یا جہاد آزادی :
انقلاب 1857 کے تین چار مہینے کے بعد انگریزوں کے مظالم اور نا عاقبت اندیشی نے مسلمانوں کو مشتعل کردیا تھا… تھانہ بھون میں حضرت حاجی امداداللہ مہاجرمکی، حافظ محمد ضامن ،مولانا شیخ محمد تھانوی، مولانا محمد مظہر نانو توی، مولانامحمد منیرنانوتوی، مولانا رشیداحمد گنگوہی، مولانامحمد قاسم نانوتوی اور قاضی عنایت علی وغیرہ نے مجلس مشاورت منعقد کی. اس مجلس میں مولانا محمد احسن بھی شریک ہوئے۔ مولانا شیخ محمد تھانوی نے
جہاد کے خلاف رائے دی اور فرمایا : جب قاضی عنایت علی عام جنگ کے دوران خاموش رہے
اور حاضرین مجلس میں سے بھی اس وقت کسی نے اس کو جہاد سمجھ کر اس میں حصہ نہیں لیا تواس وقت جب کہ انتقام کا جذبہ کارفرما ہے اس لڑائی کو جہاد کیسے کہا جا سکتاہے ،مولانا اشرف علی تھانوی نے بھی یہی رائے ظاہر کی ہے , نیت کا حال تو خدا ہی جانتا ہے، بظاہر تو اس کو جہاد کادرجہ نہیں دیا جا سکتا (تحقیق وحدۃ الوجود والشہود)
بعض روایات میں ہے کہ مسلمانوں کی کمزوری اور بے سرو سامانی کو عدم جہاد کا سبب قرار دیا گیا ہے.
مولانا محمد احسن نے مولانا شیخ محمد تھانوی کی تائید کی. اس پر مولانا محمد احسن کے بڑے بھائی مولانا محمد مظہر صاحب نانوتوی نے ان کو ڈانٹا آخر فیصلہ جہاد کے حق میں ہوا، مولانا محمداحسن نانوتہ آگئے.
تھانہ بھون کی مجلس مشاورت کے بعد ان حضرات نے حضرت حاجی امداداللہ صاحب کو امیر جہاد مقرر کر کے انگریزوں سے شاملی میں جہاد کیا. حافظ محمدضامن، مولانا رشیداحمد گنگوہی، مولانا محمد قاسم نانوتوی اورمولانا محمدمنیر نانوتوی نے خوب داد شجاعت دی، میدان شاملی میں حافظ محمد ضامن صاحب نے درجہ شہادت پایا، مجاہدین سخت مقابلہ کے بعد واپس آگئے۔
(سوانح قاسمی جلد دوم ص۱۲۳ – ۱۲۵)
سفر حج اور شیخ عبد الغنی اور حاجی امداد اللہ سے ملاقات :
مولانا محمد احسن ۵ا دسمبر 1866 کو بریلی سے حج کے لئے روانہ ہوئے، پانچ مہینے اس مقدس سفر میں لگے.
فریضہ حج ادا کرنے کے بعد مدینہ منورہ میں روضہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری دی.
اس سفر میں مولانامحمداحسن اپنے شیخ طریقت اور مرشد حضرت شاہ عبدالغنی مجددی اور حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے خاص طور سے ملے. حضرت حاجی صاحب نے اپنے ایک مکتوب بنام مولانا رشید احمد گنگوہی وغیرہ میں مولانامحمداحسن کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ اول محمداحسن ان کے رسالہ ضیاء القلوب کو چھاپنا چاہتے ہیں۔
مولانا محمد احسن صدیقی ۱۳ مئی 1867کو بریلی واپس پہنچے. اسی سفر میں شیخ عبد الغنی مجددی نے مولانا احسن صدیقی کو سلسلہ نقشبندیہ کی اجازت وخلافت سے بھی سرفراز فرمایا. (انوار العارفین ص 507)
مطبع صدیقی بریلی کا قیام :
انگریزی حکومت کے قیام اور مغربی علوم وفنون کی اشاعت کے ساتھ برصغیر پاک و ہند میں پریس بھی قائم ہوئے اور جلد ہی ملک میں پریسوں کا ایک جال پھیل گیا۔ بریلی روہیل کھنڈ میں سب سے پہلا مطبع ۱۸۲۶ء میں قائم ہوا.
انقلاب 1857 کے بعد مولانا محمد احسن نے بریلی میں مطبع صدیقی قائم کیا. مولاناکی بیاض سے ایسا اندازہ ہوتا ہے کر مطبع صدیقی کاقیام ستمبر 1262 سے قبل ہوا تھا۔ یہ مطبع مولانامحمداحسن اور ان کے بھائی مولوی محمد منیر کی شرکت میں تھا؛ مطبع کے مہتمم مولوی محمد منیر تھے.
مطبع صدیقی بریلی کی مطبوعات پر مولوی محمد منیر ہی کا نام بطور مہتمم چھپتاتھا. مولانا محمد احسن کا قیام خواجہ قطب بریلی میں تھا اور اسی محلہ میں مطبع صدیقی بھی تھا ۔ مطبع میں دو دستی مشینیں تھیں. جس مکان میں مطبع تھا وہ ایک مدت تک ” چھاپہ خانہ والا مکان“مشہور رہا ہے۔ شروع میں یہ مطبع بازار درزی چوک میں قائم ہوا تھا۔ مطبع صدیقی بریلی میں مستقل کا تب منشی مسھولال بریلوی تھے۔ انہوں نے ازالۃ الخفاء عن خلافة الخلفاء وغیرہ کی کتابت کی ہے ۔

مطبع صدیقی ولی اللہی اکیڈمی تھی:
مولا محمداحسن کے مطبع صدیقی کا مقصد صرف تجارت کتب نہ تھا بلکہ دراصل یہ ولی اللہی اکیڈ می تھی اس مطبع سے ولی الہی حکمت و فلسفہ کی خوب نشر واشاعت ہوئی۔حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کی اکثر معرکہ الآراء تصنیفات حجۃ اللہ البالغہ اورازالۃ الخفا عن خلافۃ الخلفاء وغیرہ طبع وشائع ہوئیں.
حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کی تصانیف کے علاوہ بہت سا مذہبی ، علمی اور تاریخی لٹریچر مطبع صدیقی سے طبع و شائع ہوا ۔ مطبع صدیقی بریلی میں جو کتاب چھپتی تھی۔ اس پر حسب ضرورت مولانا محمد احسن حاشیہ لکھتے تھے اور اس کی تصحیح فرماتے تھے ، اس طرح کتاب کی افادیت بڑھ جاتی تھی ، مطبع صدیقی بریلی مولانا محمد احسن کے قیام بریلی تک جاری رہا۔
یہ مطبع کم و بیش سولہ(16) سال رہا اور اس عرصہ میں اس مطبع نے علوم اسلامیہ کی ترویج واشاعت میں بڑا کام کیا. مطبع صدیقی بریلی کی شاخ کے طور پر مطبع مجتبائی دہلی نے بھی علوم اسلامیہ کی بڑی خدمت انجام دی کیونکہ مطبع مجتبائی دہلی مولانا محمد احسن کے ربیب مولوی عبدالاحد نے قائم کیا تھا۔

الیانع الجنی کی پہلی اشاعت :
یوں تو مطبع صدیقی بریلی سے بہت سی قیمتی کتابیں شائع ہوئیں،مولانا محمد احسن کی کوششوں سے بہت سی نایاب کتابیں مطبع صدیقی سے طبع ہوکر ہی اہل علم کی آنکھوں کے لیے کحل الجواہر بن سکیں… جو اہم ترین کتابیں مطبع صدیقی سے شائع ہوئیں ان میں "الیانع الجنی فی اسانیدا لشیخ عبدالغنی” خاص طور پر قابل ذکر ہے…
مولانا محمد احسن صدیقی کی کوششوں سے اس مایہ ناز کتاب کی اشاعت پہلی مرتبہ انہیں کے مطبع سے ہوئی….
اس عاجز کا خیال ہے کہ مولانا احسن صدیقی نے دسمبر 1867 میں حجاز مقدس کا سفر کیا.. اس سفر میں پانچ مہینے صرف ہوئے.. اس سفر میں آپ نے اپنے مرشد واستاذ شیخ عبد الغنی مجددی سے بھی ملاقات کی… غالب گمان ہے کہ کہ اسی سفر میں آپ نے شیخ عبد الغنی کے جانثار شاگرد علامہ شیخ محسن بن یحییٰ ترہتی سے بھی ملاقات کی ہوگی اور ان سے اپنے شیخ کی اسانید پر مشتمل کتاب الیانع الجنی کا مسودہ بھی حاصل کیا ہوگا… اس لیے کہ محض دوسال بعد 1287 /1870 میں مطبع صدیقی سے اس کی اشاعت عمل میں آئی.
مولانا احسن نانوتوی کے تذکرہ نگار محمد ایوب قادری ایم اے. اپنی کتاب مولانا محمد احسن مطبوعہ روہیل کھنڈ لٹریری سوسائٹی لیاقت آباد کراچی میں تحریر کرتے ہیں :
"الیانع الجنی فی اسانید الشیخ عبد الغنی محمد محسن بہاری ترہتی کی تصنیف ہے. حضرت شاہ عبد الغنی مجددی دہلوی کی اسانید کو اس رسالہ میں جمع کیاگیاہے ۔ شاہ عبدالغنی رح ان کے والد شاه ابوسعید مجددی رح ، شاه عبدالعزیز اور شاہ ولی اللہ کے مختصر حالات بھی شامل ہیں. آخر میں نقشبند یہ سلسلہ کا ایک منظوم شجرہ ہے ۔ مطبع صدیقی بریلی سے
1287 /1870
میں طبع ہوئی ہے. مولانامحمد احسن نے قطعہ تاریخ لکھا ہے۔
تالله احسن تحفۃ من محسن
اکرم به من لوزی متقن
اتممتهاطبعا وقلت تيمنا
اعنى لعام الطبع عن عبد الغنی

الیانع الجنی بانی دارالعلوم دیوبند کی خدمت میں :
جناب محمد ایوب قادری ایم اے لکھتے ہیں کہ :
مفتی محمد شفیع دیوبندی (کراچی) کے پاس اس کتاب کا وہ تاریخی نسخہ محفوظ ہے، جو مولانامحمداحسن نانوتوی نے مولوی محمد قاسم نانوتوی کو اپنی تحریر کے ساتھ بھیجا تھا؛ چنانچہ اس نسخہ پر لکھا ہے ۔
مولوی محمد قاسم صاحب“
مفتی محمد شفیع نے الیانع الجنی کوکشف الاستارعن رجال معانی الآثار کےحاشیہ پر بھی طبع کر دیا ہے. کشف الاستار کا یہ نسخہ جید برقی پریس دہلی میں 1920 /1349 میں چھپاہے۔ یعنی مطبع صدیقی کی اشاعت کے پچاس سال بعد… بعد ازاں
1360 /1941 میں مفتی شفیع نے ایک مختصر سارسالہ بطور تتمہ الیانع الجنی مصطفائی پریس مظفر نگر سے طبع کرا کر دارالاشاعت دیوبند سے شائع کیا. جس کا نام الاز دیادالسنى على اليانع الجنی المسمى الدر المنضود فی اسانید شیخ الہند محمود ہے.
الازدیاد کادوسرا اڈیشن بھی حال میں کراچی سے شائع ہواہے۔” (تذکرہ مولانا احسن نانوتوی
ص 74)
2021 میں جدید انداز میں عالمی معیار کے مطابق یہ کتاب دارالبشائر الاسلامیہ بیروت لبنان سے اشاعت پذیر ہوئی.
مذکورہ بالا کتابوں کے علاوہ مزید جو کتابیں مطبع صدیقی بریلی سے اشاعت پذیر ہوئیں ان میں ذیل کی کتب خاص طور پر قابل ذکر ہیں.
سراج السالکیین ترجمہ منہاج العابدین از امام غزالی. () خلعۃ الہنود جواب تحفۃ الاسلام، از سید حسین شاہ بخاری بت شکن () خفی علائی، از زین اسماعیل جرجانی، طب () سوط الجبار علی متن الکفار.. از مولانا محمد علی بچھرایونی، رد عیسائیت () ریاض الحسنات عربی سے اردو، سیرت () عقائد نظامیہ، نظام العقائد. شاہ فخر الدین دہلوی () الشفاء بتعریف حقوق المصطفی، قاضی عیاض مالکی () ہدیہ اسنی ترجمہ ہدایت الاعمی، تصوف، رد بدعات () انتصار الحق مع معیار الحق () انوار العارفین ،تذکرہ اولیاء () ارشاد محمدی از مولانا شیخ محمد تھانوی. مسترشد سید احمد شہید () تحذیر الناس عن انکار اثر ابن عباس. از حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی.. یہ مشہور عالم رسالہ ایک استفتاء کا جواب ہے، مستفتی خود مولانا احسن صدیقی ہیں. () ظفر مبین علی جمیع الشیاطین، رد عیسائیت. () رفاہ المسلمین ترجمہ مسائل اربعین از مسند ہند شاہ محمد اسحاق محدث دہلوی () تحفۃ العجم فی فقہ الامام الاعظم ترجمہ کنز الدقائق.
مذکورہ اہم ترین کتابوں کے علاوہ مطبع صدیقی سے ایک مستقل اخبار بھی نکلتا تھا. جس کا نام تھا "احسن الاخبار بریلی اس کے مالک و ایڈیٹر بھی مولانا احسن صدیقی تھے یہ اخبار ہفت روزہ تھا.

بریلی میں مدرسہ کا قیام :
بریلی میں یوں تو عصری و غیر عصری کئی تعلیم گاہیں تھیں.. لیکن
ان اداروں کے باوجود مسلمانوں کی کوئی مرکزی درسگاہ نہیں تھی اس لئے مولانا احسن نے بریلی کے اکابر و عمائدین کے مشورہ اورمعاونت سے ایک مدرسہ باسم تاریخی ” مصباح التہذیب (، 1872 /1289) میں قائم کیا۔ باشند گان شہر کہنہ (بریلی ) نے اس مدرسہ کے قیام میں خاص طور سے حصہ لیا کہ اس مدرسہ کے پہلے مہتمم مرزا غلام قادر بیگ تھے )
مولانا ظفر الدین بہاری مرحوم نے حیات اعلی حضرت ، سوانح عمری مولانا احمد رضا خان میں مدرسہ مصباح التہذیب بریلی کا بانی ، مولانا احمد رضاخاں بریلوی کے والد مولوی نقی علی خاں کو لکھا ہے، جو صحیح نہیں ہے، تفصیل تنبیہ الجہال(٣٣/٣٤) پر درج ہے۔
بریلی سے ہجرت :
بریلی میں آپ کا سکہ رائج الوقت تھا، شہرت ودبدبہ سب کچھ تھا خدمات کا ایک سلسلہ تھا کہ اچانک نظر بد لگ گئی.
تحذیر الناس عن انکار اثر ابن عباس کی طباعت کے بعد ایک طبقہ نے مولانا محمد احسن کی مسئلہ امکان وامتناع نظیر کو بنیاد بنا کر سخت مخالفت شروع کر دی، جس کی وجہ سے موصوف نے بریلی چھوڑ نے کا فیصلہ کیا بریلی سے اپنے وطن نانوتہ آگئے اور اخیر عمر میں وہیں قیام پذیر ہوگئے. مولانا کے ہمراہ ان کے بھائی مولوی منیر بھی نانوتہ آگئے،
اخیر عمر کے مشاغل :
نانوتہ میں بھی اصلاح وتبلیغ اور تصنیف وتالیف کا کام شروع ہو گیا۔مولانا کے مکان کی عمارت بہت وسیع تھی بہ بنگلہ والی حویلی کے نام سے مشہور تھا۔ اس مکان کے دروازہ کے بیضوی گنبد میں صبح کو درس قرآن وحدیث ہوتا تھا۔ باقی اوقات میں مولانا محمدا حسن تصنیف و تالیف کام کرتے تھے۔ زیادہ تر کام مولوی عبدالاحد کے مطبع مجتبائی کی کتابوں کی تصحیح وغیرہ ہوتا تھا،
اسی زمانہ میں مولانا محمد احسن نے حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے مشہور رسائل انصاف اور عقدالجید کا ترجمہ کشاف اور سلک مروارید کے نام سے کیا. حصن حصین کے ترجمہ کو درست اور بامحاورہ بنایا، قرة العینین فی تفضیل الشیخین فتادی عزیز ی اور جواہر القرآن، اعمال وادعیہ) کی ترتیب و تصیح کی۔ مولانا محمد احسن کی زیر نگرانی ان کے صاحبزادے مولوی فضل الرحمن بھی ترجمہ وغیرہ کا کام کرتے تھے۔ اور انھوں نے انیس الواعظین کا ترجمہ نافع المسلمین کے نام سے کیا.
مولانا محمداحسن کی عمرتقریبا ستر سال ہوئی شروع 1894(1312)میں بیمار ہوۓ علاج کی غرض سے دہلی گئے۔ لیکن افاقہ نہ ہوا ، رمضان ہی سے واپس آئے. راستہ میں مولانا ذوالفقار علی نے دیو بند میں ٹھہرنے پر اصرار کیا۔ مولانا محمدمنیر نانوتوی بحیثیت مہتمم دارالعلوم اس وقت دیوبند میں تھے.
مولانا منیر نے دیوبند میں اپنے بڑے بھائی کی ہر طرح خدمت کی. مگر موت کا وقت متعین ہے. رمضان1312/ 1895 میں مولانامحمداحسن کا انتقال ہوگیا۔ قریب نصف صدی مولانا محمد احسن کی ذات بابرکات سے علم ونسل کی شمع روشن رہی. دارالعلوم دیوبند کے قبرستان میں اس مجسمہ فضل و کمال کا جسد خاکی سپرد خاک کر دیا گیا۔
مولانا سید محبوب رضوی دارالعلوم دیوبند کی ۱۳۲۳ھ کی روداد کے حوالہ سے جناب ایوب رضوی کو لکھتے ہیں:
آپ نے کسی خط میں مولانا احسن نانوتوی کی قبر کے بارے میں دریافت کیا تھا اوریاد آرہاہے کہ اس وقت میں نے جواب بھی دے دیا تھا. بعد میں دارالعلوم کی روداد میں ایک شعر نظر سے گزرا، جس میں صراحت کے ساتھ قبرکی نشان دہی کی گئی ہے۔ آپ کی اطلاع کے لئے یہ شعر لکھ رہا ہوں۔
ہاں! بخسپ آسوده تر ما بین دو یاران خویش قاسم بز مودت ، احسن شائستہ خو
مولانا محمد احسن نانوتوی، قبرستان قاسمی میں آسودہ خواب ہیں. حضرت نانوتوی کے برابرجانب مشرق ایک قبر چھوڑ کر ان کی قبر ہے. در میانی قبر مولانا ذوالفقار علی (والد احد شیخ الہند) کی ہے… مولانا فضل الرحمن( والد ماجد مولانا شبیراحمد عثمانی) نے اس کی نشان دہی فرمائی ہے ۔
(مکتوب مولانا سید محبوب رضوی بنام جناب محمد ایوب قادری مورخه ۲۰ فردی ۱۹٥٩)
مولانا اشرف علی تھانوی نے مولانا محمد احسن کی خبر وصال حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی کو مکہ معظمہ بھیجی. حضرت حاجی صاحب اپنے خط میں لکھتے ہیں: خط آپ کا مورخہ ۲۱ شوال1312/1895 بذریعہ ڈاک موصول ہوا….. مولوی محمد احسن صاحب نانوتوی ….. کے انتقال سے بہت صدمہ ہوا. انا للہ وانا اليه راجعون.
خدا مغفرت نصیب کرے اور پس ماندوں کو صبر عطا فرما دے۔
مکتوبات امدادیہ مرتبہ مولانا اشرف علی تھانوی ص ۱۳ – ۱۴. مطبع احمدی لکھنو ۱۹۱۵ )
مولانا محمدا حسن بڑے ذاکر وشاغل تھے ان کے ذکر اللہ کا یہ عالم تھا کہ کسی وقت یاد الہی سے غافل نہ ہوتے. جب عشاء کی نماز کے بعد مولانا محمد احسن لیٹ جاتے، تو گھر کے لوگ سمجھتے کہ وہ سو رہے ہیں مگر مولانا ذکر الہی میں مشغول ہوتے تھے اور سینہ معارف گنجینہ بناہوا معلوم ہوتا۔ مولانا اکثر شب بیداری کرتے تھے۔
حکیم الاسلام قاری طیب صاحب لکھتے ہیں :چونکہ مولانا مرحوم کی ذات گرامی ہمارے اکابر میں سے ہے. علمی حلقوں پر ان کے احسانات انمٹ ہیں اور بحیثیت مصنف احسن القواعد ومفيد الطالبین وغیرہ علماء وطلباء انہیں جانتے پہچانتے ہیں اور دلوں میں ان کی عظمت رکھتے ہیں . (حاشیہ سوانح قاسمی جلد اول صفحہ 540 )
مولانا احسن صدیقی کے برادر صغیر مولانا محمد منیر صاحب تقریباً دو سال دارالعلوم دیو بند کے مہتمم رہے. ایمانداری و دیانتداری میں جواب نہیں رکھتے تھے. ایک مرتبہ مولانا منیر نانوتوی دارالعلوم دیو بند کی سالانہ رودار چھپوانے کے لئے ڈھائی سو روپے لے کر دہلی تشریف لے گئے. سوء اتفاق وہاں سارے روپے پیسے چوری ہو گئے۔ مولانامحمد منیر نے اس حادثہ کی کسی کو اطلاع نہیں دی.. بلکہ لوٹ کر اپنے گھر نانو تہ آگئے؛ اپنی زمین فروخت کر کے رو پیہ فراہم کیا اور اس سے روداد چھپوا کر لاۓ. کچھ عرصہ کے بعد جب مجلس ارکان شوری کو اس کا علم ہو اتو انہوں نے مولانا رشیداحمد گنگوہی سے اس کے متعلق مسئلہ دریافت کیا. مولانا گنگوہی کا
جواب آیا کہ مہتمم صاحب امین تھے اور روپیہ چونکہ بلا تعدی کے ضائع ہوا اس لئے ان پر تاوان نہیں آسکتا ۔ ارکان مجلس نے مولانا رشید احمد گنگوہی کا فتوی دکھا کر مولانا محمد منیر سے درخواست کی کہ آپ اپنا روپیہ واپس لے لیں؛ لیکن مولانا منیر نے فرمایا کہ فتوے کی بات نہیں ہے اگر خود مولانا رشید احمد صاحب کو یہ واقعہ پیش آتا تو کیا وہ بھی روپیہ لے لیتے؟ چنانچہ اصرار کے باوجود رو پیہ سے انکار کر دیا. اور اخلاص و ایثار کی مثال قائم کی. مولانا محمداحسن کے انتقال کے بعد دارالعلوم کا اہتمام چھوڑ کر نانو تہ واپس آگئے۔
خلاصہ یہ ہے کہ مولانا احسن صدیقی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور دیگر ممتاز علماء کے علوم کے اپنے زمانے میں سب سے بڑے طابع ناشر، شارح اور مترجم تھے…
مولانا کے تراجم کے متعلق مولف مظہر العلام تحریر فرماتے ہی که مولوی محمد احسن نانوتوی ، فرید العصر، وحیدالدهر، مترجم لاثانی ، بیگانه روزگار مشہور ہر دیاروامصار، ایک دفتر عظیم کتب دینیات عربیہ کا ترجمہ نہایت دلچسپ پیرایہ میں تاقیام قیامت آپ سے یادگار رہے گا. (ص 208). ۔
یقیناً آپ کے آثار کبھی مٹنے والے نہیں ہیں…
ہرگز نمیرد آں کہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما.
اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی خدمات کا بہترین بدلہ عطا فرمائے..
(بندہ خالد نیموی قاسمی صدر جمعیۃ علماء بیگوسرائے ورکن انٹرنیشنل یونین فار مسلم اسکالرز دوحہ قطر)

 

Comments are closed.