حفظانِ صحت اہل ایمان کی ذمے داری

 

جمعہ خطبہ: ٢٢ جولائی ۲۰۲۲ء

آل انڈیا امامس کونسل

 

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين، والصلاة و السلام على سيد المرسلين محمد و آله و صحبه أجمعين، أما بعد! فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم، ظهر الفساد في البر والبحر بما كسبت أيدى الناس ليذيقهم بعض الذي عملوا لعلهم يرجعون.

 

معزز سامعین!

 

صحت مند دماغ اور تندرست جسم، بندوں کو عطا کی گئی اللہ تعالی کی عظیم نعمتیں ہیں۔ ایمان کی عظمت کے بعد صحت کو اسلام میں سب سے بڑی نعمت قراردیا گیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اور شدید بارش اکثر جانداروں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ جب ملک میں مانسون کی بیماریاں اور دیگر متعدی بیماریاں پھیلی ہیں تو احتیاطی تدابیراختیار کر نے اور علاج کے طریقے اپنانے کی تلقین کی جاتی ہے۔ کیا آج کل مہلک بیماریاں اور متعدی بیماریاں پھیلی ہوئی ہیں؟ ہمیں اس کا جواب خود ڈھونڈنا ہے۔

 

ہمارے خاندانی بجٹ میں بے شمار طبی اخراجات بھی شامل ہورہے ہیں، جس کی ہم توقع نہیں کرتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق صرف پچھلے دس سالوں میں صحت کے اوپر اخراجات میں پانچ گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ بیماری کے اوپر بڑھتے ہوئے اخراجات غریبوں کے لیے ایک بوجھ بنتے جارہے ہیں۔ ماہرین صحت بتاتے ہیں کہ غریب ترین معاشی طبقوں کے خاندانی بجٹ کا 35 فیصد صحت کی دیکھ بھال پر خرچ ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں جب بے تحاشا اخراجات کے بوجھ تلے دبا انسان پریشان ہے، اسے یہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر یہ سب کیوں اور کیسے ہورہا ہے؟ اللہ تعالی قرآن پاک میں فرماتا ہے: "ظهر الفساد في البر والبحر بما كسبت أيدى الناس ليذيقهم بعض الذي عملوا لعلهم يرجعون“. لوگوں کے اپنے اعمال کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوا ہے، اور یہ اس لیے ہورہا ہے تاکہ اللہ تعالی انسانوں کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے؛ اس سے یقینی طور پر اللہ کی طرف رجوع کریں گے۔

 

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ لوگوں کی بے راہ روی اور صحت کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے ہمارے شعبہ صحت میں بہت زیادہ بحران پیدا ہور ہا ہے۔ World Health Organization (عالمی تنظیم صحت) کے مطابق، 2004 میں مردوں اور عورتوں میں موت کی سب سے بڑی وجہ ہارٹ اٹیک ہے۔ جس کا مشاہدہ ہم رات دن کر رہے ہیں۔

 

جس کی کچھ وجوہات قابل غور ہیں: پہلے سے موجود امراض قلب، پڑیا، تمباکونوشی، ہائی بلڈ پریشر بشمول کولیسٹرول چکنائی کی کچھ اقسام، ذیابیطس، ورزش کی کمی، موٹاپا، گردے کی بیماری، شراب نوشی کی زیادتی، دیگر منشیات کا استعمال اور مستقل تناؤ وغیرہ۔

 

یہ بھی حقیقت ہے کہ ان میں سے زیادہ تر چیزیں انسانوں کی ذاتی سرگرمیوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اس طرح کی بہت سی بیماریوں اور ان کی وجوہات سے ہم واقف ہیں، لیکن کیا یہ واقفیت ان بیماریوں کوختم یا کم کرسکتی ہے؟ آخر ہمیں کرنا کیا ہوگا؟

 

بیداری پیدا کریں:

ایک مومن کی حیثیت سے ہمیں اپنی صحت کے بارے میں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے قول وعمل میں صحت مند رہنے کے بہت سے راز تلاش کر سکتے ہیں۔

 

جسم کے ساتھ ساتھ انسان کی صحت سازی میں دماغ کا اہم کردار ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: "نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس: الصحة والفراغ نعمتیں. دو چیزین ایسی ہیں جن کو اکثر انسان نظرانداز کرتے ہیں: ایک صحت اور دوسرا خالی وقت۔

 

ایک دوسری حدیث میں اس طرح سے دیکھ سکتے ہیں۔ عن أبي بكر رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سلوا الله اليقين والمعافاة، فما أوتي أحد بعد اليقين خيراً من العافية. (احمد، ترمذی) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قول نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالی سے یقین اور عافیت کا سوال کیا کرو، ایمان کے بعد اچھی صحت سے بہتر کوئی چیز نہیں ہوتی۔

 

عربی زبان میں ایک محاورہ ہے: الصحة تاج على رؤوس الأصحاء، لا يعرفه إلا المرضى”. صحت تندرست لوگوں کے سر کا تاج ہے، جس کو مریضوں کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ ہمیں تجربہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی شخص کے محکم ذہن اور مضبوط عقلی صحت ایک اہم عنصر ہے۔

 

صحت کی حفاظت اہل ایمان کی ذمہ داری ہے:

 

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "فان لجسدك عليك حقا، و ان لعينك عليك حقا، و ان لزوجک علیک حقا. (بخاری: ۵۱۹۹)

 

تیرے جسم کا تجھ پر حق ہے، تیری آنکھوں کا تجھ پر حق ہے، تیری بیوی کا تجھ پر حق ہے۔

 

جسمانی صحت کو برقرار رکھنا جسم کے مالک کی ذمہ داری ہے۔ اسلام نے جسمانی صحت کی بقا اوراس کی دیکھ بھال کے لیے چند چیز میں لازم قرار دی ہیں، ان کو یاد رکھیں:

 

(1) کھان پان میں اعتدال اختیار کریں:

”وكلوا واشربوا ولا تسرفوا إنه لا يحب المسرفين.“ (اعراف:۳۱)

 

تم کھاؤ اور پیو، اسراف مت کرو، کیوں کہ اللہ تعالی اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے۔ اللہ تعالی کھانے پینے میں زیادتی سے منع کرتا ہے کیونکہ یہ جسم کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اور اس سے بیماریوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ ما ملأ آدمى وعاء شرا من بطن، فثلث لطعامه، وثلث لشرابه وثلث لنفسه. ( ترمذی، ابن ماجه، احمد ) آدمی اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرتا۔ پس پیٹ کا ایک تہائی حصہ اس کے کھانے کے لیے، ایک تہائی اس کے پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے۔

 

(2) اگر کوئی بیماری لاحق ہو جائے تو اس کا علاج کروائیں:

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”وقال ﷺ تداووا عباداللہ فـإن اللہ خلق الداء.“ (احیاء علوم الدين)

اے اللہ کے بندو! تم اپنی پیاریوں کا علاج کرواؤں، اللہ تعالی نے مرض اور دو دونوں بنائی ہے۔ اپنے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیماریوں کے علاج کے لیے مختلف طریقے استعمال فرمایا کرتے تھے۔ ایک حدیث میں ہے:

"الحمى من قبح جهنم، فابردوها بالماء.“ (بخاری: ۳۲۶۱) بخار جہنم کی گرمی سے ہے، پانی سے اس کو ٹھنڈا کرو۔ تم دشمن کے خلاف جو کر سکتے ہو وہ تیاری کرو۔

 

(3) ورزش کریں:

وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة. (انفال: ۲۰)

"ألا إن القوة الرمي، ألا إن القوة الرمي، ألا إن القوة الرمي“۔ (مسلم: ۱۶۷)

 

رسول اللہﷺ نے فرمایا: سنو، تیراندازی طاقت ہے۔ تیراندازی طاقت ہے۔ تیراندازی طاقت ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہمیں انسانی صحت کے لیے ورزش کی ضرورت کا احساس دلاتا ہے۔ کھیل کود ورزش و دیگر مشقوں کے ذرائع سے جسمانی طور پر فٹ رہنا آج ضروری ہے۔

 

یہاں نیت اس قسم کی اندھی جسمانی دیکھ بھال نہیں ہے جو فرض عبادات یا ذاتی فرائض سے توجہ ہٹائے؛ بلکہ یہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ ذمہ داری کو اس طریقے سے پورا کر نے کا حصہ ہے جوفر داور معاشرے کے لیے فائدہ مند ہو۔ کیا ہم صحت کا خیال رکھتے ہیں۔

 

ہم نے کئی بار یہ واقعہ ایک حدیث میں سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مومنوں کی ماں حضرت عائشہؓ کے ساتھ دوڑ لگائی۔ پہلے مرحلے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا جیت گئی اورکسی اور موقع پر یا سفر کے دوران دونوں ن مقابلہ کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکل گئے۔

دوڑنا، چھلانگ لگانا، چہل قدمی ودیگر کھیلوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔

 

(4) کھانے پینے میں احتیاط برتیں:

قرآن کا ارشاد ہے: ” ويحل لهم الطيبات ويحرم عليهم الخبائث”. (اعراف: ۱۷۵) اسلام بعض کھانے پینے کی چیزوں سے منع کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جسم کے لیے نقصان دہ ہیں۔ مردہ گوشت، شراب اور سور کا گوشت سب انتہائی مصر اور نقصان دہ ہے۔ کیونکہ وہ دماغ اور جسم کو خراب کرتے ہیں صحت کا حساب لیا جائے گا۔ قیامت کے روز اللہ تعالی صحت کا حساب لے گا۔ جس کو حدیث کی روشنی میں اس طرح سے دیکھ سکتے ہیں۔

 

قیامت کے دن سب سے پہلے بندے کا حساب کیا جائےگا کہ کیا میں نے تمہیں جسمانی صحت نہیں دی؟ کیا میں نے تمہیں پینے کے لئے ٹھنڈا پانی نہیں دیا؟ یہ ہوں گے۔ ( ترمذی، ابن حبان اور حکیم)

 

رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔

قال رسول اللہﷺ : "لا تزول قدما عبـد يوم القيامة حتى يسأل عن عمره فيم أفناه وعن علمه فيم فعل فيه وعن ماله من أين اكتسبه وفيم أنفقه وعن جسمه فيم أبلاه.

 

مختصرا انسانی دماغ اور جسم کی طاقت کے لیے ہمیں دائمی صحت کی دیکھ بھال کے معاملے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ ہمیں اس نبی کے اسوہ پر عمل کرنا چا ہیے جس نے صحت کے لیے قیمتی ہدایات دیں اور اس کے لیے دعا کرتے۔ روحانی مشق کے ساتھ ساتھ صحت پر مل کر نے کی کوشش کرنی چاہیے۔

 

آئیے! کچھ عرصہ صحت مند زندگی گزاریں اور اسلامی طریقے سے عظیم خدمات انجام دینے کی تیاری کریں۔ کیوں اسلام انسان کی اخلاقی نشوونما کے ساتھ ساتھ اس کی صحت اور طاقت کو بھی بہت اہمیت دیتا ہے؟ مسلمان کمزور اور اگر نہیں ہونا چاہیے بلکہ صحت مند ، مضبوط اور توانا ہونا چاہیے۔ اللہ تعالی مدد و نصرت کا معاملہ فرمائے۔

Comments are closed.