پُرامن احتجاج کے طریقے

ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین
سابق وائس چیئرمین، بہار انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کونسل

غالب کا ایک مشہور شعر ہے:’یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح۔ کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا‘میں چارہ سازی اور غم گساری کے جذبے سے چند باتیں اربابِ ملت اور عام لوگوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
اس وقت مسلمانانِ ہند پوری طرح نفسیاتی دباؤ میں ہیں اور ان کو نت نئے طریقے سے بھڑکانے اور مشتعل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جمہوری ملکوں میں یہ عام سی بات ہے کہ جب لوگ حکومت یا کسی اور کے فیصلے اور طرز عمل سے ناراض ہوتے ہیں تو سڑکوں پر اتر کر احتجاج بھی کرتے ہیں کبھی کبھی یہ احتجاج اگر ہوجاتا ہے اور توڑ پھوڑ شروع کردیتا ہے،پولیس اس کو روکنے کے لیے آنسو گیس، واٹر کینن، ہوائی فائرنگ اور فائرنگ بھی کرتی ہے جس میں کچھ لوگ زخمی ہوتے ہیںاور کچھ مارے بھی جاتے ہیں۔ لوگوں کی گرفتاریاں بھی ہوتی ہیں۔ دفعہ 144 اور کبھی کبھی کرفیو میں لگائی جاتی ہے۔ عموماً حالات ایک دو دن میں معمول پر آجاتے ہیں پھر قانون کے مطابق آگے کی کارروائی ہوتی ہے۔ عموماً احتجاج، دھرنا پردرشن میں یہی طریقہ اپنایا جاتا ہے۔
مگر جب معاملہ مسلمانوں کا ہو تو تمام مسلمہ ضابطے بدل جاتے ہیں اوران کو ریاست کا شہری نہیں دشمن مان کر سلوک کیا جاتا ہے۔ پھر برٹش عہد میں پولیس کے جو ضابطے تھے اس کو بروئے کار لاکر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے جاتے ہیں اس لیے کہ اس معاملہ میں سول سوسائٹی یا تو خاموش رہتی ہے یا اس کی آواز نہیں سنی جاتی۔ اس سے حکومت کو زبردست سیاسی فائدہ ہوتا ہے۔ عام لوگوں کے اندر مسلمان مخالف جذبات پیدا کرکے ان کو اپنی طرف گول بند کرنے میں مدد ملتی ہے اور میڈیا پوری طرح حکومت کی ترجمان بن کر اس کے ہر فیصلے کو صحیح ثابت کرنے میں جڑ جاتی ہے اور لوگوں کو یہ باور کراتی ہے کہ جن لوگوں کے خلاف یہ کارروائی ہورہی ہے وہ ملک دشمن اور دنگائی ہیں جو دیش کے دشمنوں سے مل کر اس طرح کی حرکت کررہے ہیں۔ اس لیے وہ کسی رحم اور ہمدردی کے مستحق نہیں ہیں۔ عدلیہ کا نظام اتنا دیر طلب، مہنگا اور پیچیدہ ہے کہ جب تک راحت کی خبر آتی ہے مظلوم کی روح پرواز ہوچکی ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں اگر ہمیں حکومت کے فیصلے سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے یا حکومت ہماری شہری حیثیت کو مجروح کرتی ہے اس وقت ہمیں کیا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔
حکومت ہند نے ایسے ایک دو نہیں بلکہ دسیوں باتیں اپنے ایجنڈے میں شامل کررکھی ہیں جو کسی نہ کسی درجہ میں مسلمانوں کی شہری حیثیت، ان کے اختیار اور شناخت کو مجروح کرتی ہے۔ چونکہ اس کو ایوان میں غالب اکثریت حاصل ہے اس لیے وہ بالکل جمہوری عمل کے ذریعے اپنا ڈکٹیٹرانہ قانون نافذ کرسکتی ہے۔ مرکز اور کم وبیش 18ریاستوں میں اس کی سرکار ہے، اس کے خلاف اگر احتجاج ہوتا ہے تو اس کو پوری قوت سے دبانے کا من بناچکی ہے۔ اس کے لیے وہ تمام قانون اور ضابطوں کو بالائے طاق رکھ کر من مانا اقدام کرنے پر آمادہ نظر آتی ہے۔ بلڈوزر حکومت کے ظلم کی ایسی علامت بن چکی ہے جس کی گونج ساری دنیا میں سنائی دے رہی ہے مگر حکومت اپنے رویہ پر نظرثانی کرنے کو تیار نہیںہے۔ اس صورت میں ہم اپنا احتجاج کس طرح درج کریں۔
(۱) پہلی بات یہ ہے کہ اس وقت ہم سڑکوں پر احتجاج کرنے سے گریز کریں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ ہمارے کال پر جمع ہوتے ہیں ان کو ہم پوری طرح سے نہیں جانتے۔ وہ بھیڑ ہمارے کنٹرول میںنہیں ہوتی۔ ممکن ہے اس میں ایسے شرپسند عناصر شامل ہوں جو کسی کے اشارے پر اس احتجاج میں شامل ہوئے ہیں اور کسی خاص مقام پر پہنچ کر یکایک مشتعل ہوکر ایسی حرکت کر بیٹھیںجس سے پوری اسکیم تارپیڈو ہوجائے اور پرشاسن کو اپنی خنّس نکالنے کا موقع مل جائے۔
(۲) دوسری بات یہ ہے کہ کسی احتجاج کا اعلان کرنے سے پہلے بہت اچھی طرح اس کا ہوم ورک کرلینا چاہیے اور تمام پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور کرکے ہی کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔
(۳) جمعہ کے دن تو جلوس نکالا جائے۔ جمعہ عبادت کا دن اسے عبادت تک محدود رکھا جائے۔
(۴) ہمیں حکومت کے کسی فیصلے سے اختلاف ہے تو پہلا کام یہ کیا جائے کہ سماج کے سمجھدار لوگوں کی ایک میٹنگ بلائی جائے اور وہاں اتفاق رائے سے ایک تجویز پاس کی جائے اور ایک میمورنڈم کی شکل میں پرشاسن اور حکومت کو اپنے مطالبات سے آگاہ کیا جائے۔ پریس کانفرنس اور پریس ریلیز کے ذریعہ اپنی بات عوام اور حکومت تک پہنچائی جائے۔
(۵) اگر اس کے بعد بھی حکومت اور مقامی انتظامیہ ان باتوں کی نوٹس نہیں لیتی ہے تو باضابطہ انتظامیہ سے اجازت لے کر ایک خاموش جلوس نکالا جالے جس میں کسی طرح کی نعرے بازی نہ ہو اور جلوس کو پوری طرح ڈسپلن رکھنے کا اہتمام کیا جائے۔
(۶) ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ جس محلہ اور شہر میں رہتے ہیں وہاں کے ہندوؤں اور مسلمانوں پر مشتمل ایک میٹنگ بلائی جائے اور ان کے سامنے اپنا موقف پیش کرکے ان کو اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کی جائے۔
کسی حال میں قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا جائے اور خود کو ہر طرح کے تشدد سے الگ تھلگ رکھا جائے۔ ہمارے لیے یہی وہ حکمت عملی ہے جس کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ خون پھر خون ہے ٹپکے گا توجم جائے گا۔ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے مٹ جاتا ہے۔
Website: abuzarkamaluddin.com
کالم نگار’بھارت میں انسانی حقوق کا تحفظ کیوں اور کیسے؟‘ کے مصنف ہیں۔

 

Comments are closed.