جیل میں بند خالدسیفی کی اہلیہ آپ سے کچھ کہہ رہی ہے

 

تجزیہ خبر: سمیع اللہ خان

خالد سیفی کی اہلیہ نے ویڈیو جاری کرکے امتِ مسلمہ سے یعنی کہ آپ سے، اپیل کی ہےکہ وہ ان کی مدد کریں، ان کے شوہر کی جیل میں طبیعت بگڑ رہی ہے اور وہاں نہ ٹھیک طرح سے کھانا مل رہاہے ناہی علاج کی سہولیات میسر ہیں، ملت کے اس مظلوم کی بیوی کو ملت سے اپیل کرنا پڑرہی ہے، کیا ملت اسے سن سکتی ہے؟ جس ملّت کی خاطر خالد سیفی زندان میں ہے کیا اسے خالد کی خبر ہے؟ جب ملتِ اسلامیہ کے مظلوم اسیروں کے گھرانے ملت کو پکارتے ہوں تب کیا ہم پر کوئی ادنیٰ سی گنجائش بچتی ہے کہ ہم ایسے سنگین مسائل کو چھوڑ کر ایران۔توران کی اور غیرضروری موشگافیوں میں اپنا وقت برباد کریں؟ این آر سی اور شہریت ترمیمی قانون کےخلاف آندولن برپا کرنے کی وجہ سے جتنے بھی نوجوان گرفتار کیے گئے ہیں وہ سب مظلوم اور ہمارے محسنین میں سے ہیں، البتہ ان میں خالد سیفی وہ نام ہے جن کی اپنی ایک حیثیت تھی وہ سماجی شخصیت اور کاروباری حیثیت رکھنے والے مؤقر اشخاص میں شمار ہوتے ہیں، ایک ذمہ دار شہری اور باحیثیت شخص کے لحاظ سے خالد سیفی کا اپنا بڑا ملی نیٹورک تھا، UAH یونائیٹڈ اگینسٹ ہیٹ سے وابستہ تھے، وہ مسلمانوں کے ہر ملّی قضیے میں سب سے پہلی صف میں سرگرم رہے، ماب لنچنگ، آسام میں این آر سی، ہندوستان میں شہریت ترمیمی قانون، گائے کے نام پر ماب لنچنگ سے لیکر قضیہء فلسطین تک وہ متحرک رہے اور بے لوثی سے جدوجہد کرتے رہے، وہ مظلوموں کے لیے ایک بڑا سہارا بن چکے تھےپولیس اور ہندوستانی حکومت اس شخصیت کو مکمل طورپر توڑنا چاہتی ہیں، اور ہر سمت سے کمزور کرنے کے لیے کوشاں ہے، انہیں دہلی فسادات کے الزام میں جیل میں ڈال کر پولیس کے وحشیانہ تشدد اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا، ان کے دونوں پیر تک توڑ دیے گئے تھے، اور آج وہ جیل میں سخت بیماری کے حال میں پڑے ہوئے ہیں، کوئی خبرگیری کرنے والا تک نہیں ہے! _ خالد بھائی میرے بہت اچھے اور قیمتی دوست ہیں جیل جانے سے پہلے سے ہم دوست ہیں ان کے اہلخانہ کو بھی جانتا ہوں، پہلی بار یہ بات لکھ رہا ہوں کہ، جیل جانے کےبعد ان کے گھر جانا ہوا ہے، پہلے کھلکھلانے والے ان کے بچوں کی معصوم سی شکلیں کیسی مرجھائی ہوتی تھیں دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا تھا، چھوٹے چھوٹے بچوں کی ماں، خالد سیفی کی بیوی اپنے ہمدم و ہم ساز کی اپنائیت سے محروم ہے ان کے بچے باپ کی شفقت کو ترستے ہیں، مہمانوں کے نام پر گرچہ بظاہر روایتوں کا مظاہرہ ہوتا تھا لیکن زندگی کی کھنک پہلے جیسی نہیں ہوتی ہے۔ آج یہ خاتون اپنے شوہر کی خاطر انصاف مانگنے سڑک پر آتی ہے تو کبھی بےبسی سے ملت کو پکارتی ہے، کیا آپکو کبھی ان کے درد و کرب کا احساس ہوتاہے؟ ان کا قصور اتنا ہی ہیکہ انہوں نے ہماری آزادی، عزت اور حق کے لیے آواز اٹھائی انہوں نے ہماری دہلیز کی حفاظت کے لیے خود کو پیش کیا، انہوں نے ہم سب کی نسلوں کے لیے غلامی کے سمجھوتے کو قبول نہیں کیا، انہوں نے اپنی قوم کے بہتے ہوئے مظلومانہ خون کو بے غیرتی سے گوارہ نہیں کیا، انہوں نے مودی۔شاہ اور بھاگوت کے ظالمانہ ایمپائر سے سمجھوتہ نہیں کیا، ذرا اکیلے میں سوچیے گا کہ ہم نے بحیثیت ملتِ مسلمان اپنے ان جانبازوں کا کس قدر حق ادا کیا ہے؟ دو سال ہورہےہیں ہندوتوا کا بھوت انہیں سزا پر سزا دیے جارہاہے لیکن انہیں چھڑانے اور ان کی فیملی کو سنبھالنے کے لیے ملت کی اجتماعی طاقت نے کتنے مؤثر اقدامات کیے، خود ہی حساب لگا لیجیے، اب یہ وقت کی پکار ہےکہ ملتِ اسلامیہ خالد سیفی، شرجیل امام، عمر خالد سمیت ہر اُس مسلمان کو سنگھی جیلوں سے آزادی دلانے کے لیے مضبوط لائحہ عمل بنائے جنہیں این۔آر۔سی کی لڑائی لڑنے کی وجہ سے قید کیاگیاہے، بہت دن ہوچکے ہیں، زندگیاں تنگ ہورہی ہیں، ملی قائدین پر ہی نہیں بلکہ سیاسی پارٹیوں کے مسلم نمائندوں پر دباؤ بنایا جائے کہ اب وہ ان جانبازوں کی رہائی کے لیے آگے آئیں، ان جانبازوں کو سرکاری جیلوں میں اور ان کے اہلخانہ کو دنیا کی جیلوں میں برباد ہونے سے بچائیں_

Comments are closed.