عدلیہ،انتظامیہ اور پولیس کی حوصلہ شکنی تشویشناک
جاویدجمال الدین
ملک میں ٹی وی مباحثوں اور سوشل میڈیا پر ’کینگرو عدالتیں‘ہمارے ملک کو پیچھے کی طرف لے جا رہی ہیں۔” مذکورہ جملہ کسی عام شہری یالیڈر کا نہیں ہے،بلکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمناکا ہے،جنہوں نے جھاڑکھنڈ کے دارلحکومت رانچی میں ایک جلسہ میں اپنے ایک خطبہ کے دوران اس امر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے،اُن کے رویے کو متعصبانہ”، غلط معلومات” اور "مخصوص ایجنڈے پر مبنی” قرار دیااور سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔
عدلیہ کے سابقہ کئی فیصلوں کی وجہ سے عدلیہ پر بھی اعتماد ڈگمگانے لگاتھا،لیکن حال میں عدالت عالیہ اور دوسری عدالتوں کے سخت ترین فیصلوں پر ایک متعصب گروہ تلملا اٹھا ہے ،خصوصی طورپر اس ماہ کے شروع میں بی جے پی کی ایک متنازع سابق ترجمان نوپور شرما کے پیغمبر اسلام کے بارے میں دیئے گئے نازیبا تبصروں پر شدید ردعمل کے بعد ان ریمارکس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، نوپورشرما کے قابل گرفت اور متازع بیان پرملک بھر میں شدید ردعمل ظاہر ہوا اور اقلیتی فرقے میں بے چینی پھیل گئی تھی اور بیرون ملک بھی مسلمانوں نے ناراضگی ظاہر کی بلکہ سفارتی سطح پر بھی ہندوستان کو”بیک فٹ”پر جانا پڑاتھا،اس متنازع بیان کے بارے میں سپریم کورٹ نے سخت لب ولہجہ کااظہار کرتے ہوئے اپنے تبصرے میں واضح طور پرکہا تھا کہ اس بیان نے ملک بھر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دی تھی،بلکہ اودے پور راجستھان میں کنہیا لال کا قتل بھی اس کانتیجہ ہے،رمنا کابیان اسی پس منظر میں دیاگیا ہے۔
نوپور کے خلاف عدالتی ریمارکس نے جیسے سنگھ پریوار اور اس کے حامیوں کے تن بدن میں آگ لگادی اور بی جےپی کے درپردہ حامیوں نے،جوکہ آئی ٹی سیل کے تحت کام کرتے ہیں جیسے ایک محاذ کھول کررکھ دیا،ججوں کے خلاف سوشل میڈیا پر ٹھوس مہم چلائی جا رہی ہے۔ جسٹس رمنا نے یہ بھی وضاحت کردی کہ جج فوری طور پر ردعمل ظاہر نہیں کر سکتے،اور اُن کی وقتِی چپی کو عدلیہ کی کمزوری یا بے بسی نہ سمجھیں۔اس سے اُن کادرد جھلکتانظرآ رہاہے۔
ظاہر ہے کہ نئے میڈیا ٹولز میں بہت زیادہ وسعت دینے کی صلاحیت ہے لیکن وہ صحیح اور غلط، اچھے اور برے اور اصلی اور جعلی میں تمیز کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں،میڈیا ٹرائل مقدمات کا فیصلہ کرنے میں رہنما عنصر نہیں ہو سکتا۔ ہم میڈیا کو کینگرو کورٹ چلاتے ہوئے دیکھتے ہیں، بعض اوقات مسائل پر تجربہ کار ججوں کو بھی فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔انصاف کی فراہمی سے متعلق مسائل پر غلط معلومات اور ایجنڈے پر مبنی بحثیں جمہوریت کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔
یہ حقیقت بھی ہے کہ میڈیا کے ذریعے پھیلائے جانے والے جانبدارانہ خیالات جمہوریت کو کمزور اور نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمل سے انصاف کی فراہمی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
جسٹس رمنا کی باتوں سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ہر کسی کو اپنی اپنی ذمہ داری کااحساس ہے،لیکن الیکٹرانک میڈیا اپنی ذمہ داری سے تجاوز کرتے ہوئے،ملک کی جمہوریت کو دو قدم پیچھے لے جا رہا ہے۔
جہاں تک پرنٹ میڈیا کا سوال ہے اب بھی ایک خاص حد تک اُس میں احتساب ہے، جبکہ الیکٹرانک میڈیا کا احتساب صفر ہے کیونکہ یہ جو دکھاتا ہے وہ ہوا میں غائب ہو جاتا ہے۔ اور سوشل میڈیا کاتو برا حال ہے۔
جسٹس رمنا کی نصیحتوں سے اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ میڈیا کو خود کو منظم کرنے کی تاکید کرتے ہوئے، انہوں نے ہدایت دی کہ میڈیا کے لیے یہ سب سے بہتر ہوگا کہ وہ خود کو قابو میں کرے اور اپنے بول اور انداز کی پیمائش کرے۔تاکہ اُن کی ذمہ داری سے ملک اور قوم میں اعتماد پیدا کرے ۔
در اصل چیف جسٹس رمنا اگست کے آواخر میں سبکدوش ہونے والے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بے باکی سے اپنی بات پیش کرنا شروع کر دیا ہے ،فی الحال اُن کے روبرو دو مقدمات ایسے بھی ہیں،جن کے بارے فیصلے مرکز کی مودی حکومت پرراست انداز ہوسکتے ہیں ۔پہلا پیگاس جاسوسی معاملہ ہے،جس میں الزام عائد کیاگیا ہے کہ اس کااستعمال اعلی افسران اور لیڈران کی جاسوسی کے لیے گیاہے جبکہ ایک اور اہم معاملہ مہاراشٹر میں شیو سینا اور باغی شیوسینکوں کے درمیان سیاسی برتری کی لڑائی ہے۔ریاست میں بی جے پی نے ایک منصوبے کے تحت شیوسینا میں بغاوت کرواکر مہاراشٹر وکاس اگھاڑی کی حکومت کو گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کے جانبدارانہ رویہ کی مدد سے گرا دیا اور گزشتہ تین ہفتوں سے صرف وزیراعلی ایکناتھ شندے اورنائب وزیراعلی دیویندر فڈنویس کی دورکنی کابینہ حکومت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہے،اور الیکٹرانک میڈیا کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔سنہیں جمہوریت کا مذاق اڑتا ہوا نظر نہیں آرہاہے۔
خیراگر جسٹس رمنا کی سربراہی والی بینچ نے ان دونوں مقدمات پر غیر جانبدارانہ فیصلہ سنادیا تو ان فیصلوں کاراست اثر مودی حکومت پر پڑے گا،اور جسٹس رمنا کے حالیہ بیانات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ جسٹس گوگوئی نہیں بننا چاہتے ہیں ،گوگوئی نے ایک متنازع مقدمہ میں ہر چیز کااعتراف کرتے ہوئے یکطرفہ فیصلہ سنایا تھا اور سبکدوشی کے ایک مہینے بعد راجیہ سبھا کی رکنیت بطور تحفہ حاصل کرلی تھی،جس سے عام آدمی کاعدلیہ پر اعتماد ڈگمگاسا گیا تھا،ویسے گزشتہ سات آٹھ برسوں میں نظر آرہا ہے کہ حکومت نے پہلے بیوکریسی پر ہاتھ ڈالا اور پھر محکمہ پولیس میں گھس پیٹھ کرکے اسے قابو میں لے لیا اور اب عدلیہ کو ’’ٹارگیٹ‘‘کیا گیا ہے،مقصد اپنی برتری ثابت کروانا ہے ۔ہمیشہ عدلیہ پر عوام کا سب سے زیادہ اعتمادرہا ہے۔ان بیانات سے عوام کا اعتماد بحال ہوگااور ان محکوموں کی جوحوصلہ شکنی کی گئی ہے وہ بھی دور ہونے کا امکان ہے ۔
javedjamaluddin@ggmail.com
9867647741
Comments are closed.