مجھے یقین ہے پانی یہیں سے نکلے گا، لیکن

کلیم الحفیظ
1947 میں جب ہمارا ملک تقسیم ہوا،اس وقت ہمارے پاس دوہی آپشن تھا،ہم پاکستان کی طرح ایک مذہبی ملک بن جائیں یا ایک جمہوری ملک بن کر دنیا کو اپنی طاقت کا لوہا منوائیں اور دنیا کو یہ بتائیں کہ بھارت نے مذہبی ملک بننے کی جگہ جمہوری ملک کیوں بنناپسند کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے خون میں شروع سے ہی جمہوریت تھی اور اس کی داغ بیل برسوں پہلے 1893 میں سوامی وویکا نند جی نے اپنی شیکاگو اسپیچ میں یہ کہہ کر ڈال دی تھی کہ بھارت نے سبھی مذاہب کے ستائے ہوئے لوگوں کو امان دیا ہے اور یہ اس کی خاصیت ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ جمہوریت اور انسانیت دونوں ہمارے خون کا حصہ ہیں، دکھ اس بات کا ہے کہ کچھ وہ نادان دوست جنہوںنے 52سالوں تک ترنگے کو نہیں اپنایا،وہ ہم سے ہماری شناخت چھینا چاہتے ہیں اور سوامی وویکانند کے ان ارمانوں کا خون کرناچا ہتے ہیں۔ وہ روٹی کی جگہ مذہب کوہم پر تھوپنا چاہتے ہیں۔ کاش وہ سوامی جی کے ان اصولوں کو دوبارہ پڑھتے تو کتنا بہتر ہوگا۔ بہر حال بات ہماری جمہوریت کی ہے تو جو لوگ قانون ساز اسمبلی کی بحث سے واقف ہوں گے وہ اچھی طرح سے اس بات کو جانتے ہوں گے کہ اس وقت بحث کے دوران کئی ساری چیزیں آئین ساز اسمبلی کے سامنے اس سلسلیمیں آئی تھیں کہ ہم اپنے پریمبل کی شروعات کس بات سے طرح کریں۔کئی لوگوں نے مذہبی تجاویز پیش کی تو کچھ نے کچھ، لیکن اتفاق رائے اس بات پر قائم ہوئی کہ ہم اپنے پریمبل کی شروعات ’ہم بھارت کے لوگ‘ یعنی وی دی پیپل آف انڈیا‘ سے کریں گے۔
یقیناً اپنا مذہب سب کو پیارا ہوتا ہے، لیکن اگر اس کی شروعات کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کے کسی مذہبی جملے سے ہوتی تو باقی تمام لوگوں کو اپنے مذہب کی بالادستی نظر نہیں آتی اوروہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتے، اس لئے آج ایوان کی رکنیت کی حلف برداری کے دوران ہمارے ممبران اپنے مذہب کے حساب سیآزاد ہیں اور ان پر کسی طرح کا کوئی جبر نہیں ہے۔ورنہ کافی مشکل ہوتی۔ اس کی ایک عظیم مثال صدر جمہوریہ ہند دروپدی مرمو نے قوم کے نام اپنے پہلے خطاب میں اپنے آدیواسی کلچر ’جے جہار‘ کا مظاہر ہ کیاتو سب نے اس کا استقبا ل کیا،یہ اور بات ہے کہ انہوں نے مولانا آزاد سے لیکر ڈاکٹر ذاکر حسین، اور اشفاق اللہ خان سے لیکر ویر عبدالحمید اور ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام تک کسی بھی مجاہد آزادی یا قوم کیلئے مر مٹنے والی کسی بھی مسلم شخصیت کا نام تک نہیں لیا۔ یہ بات آج ہر طرف بحث کا حصہ بھی ہے اور سماج کے ایک بڑے طبقے میں بے چینی کا احساس بھی ہے، کیونکہ صدر کی تقریرمستقبل میں سرکار کے عزائم کاآئینہ دار ہوتی ہے، ا س لئے یہ اندازہ بہ آسانی لگایا جاسکتا ہیکہ سب کا ساتھ، سب کے پریاس کے ساتھ سب کا وکاس ہوگا یا ایک بڑے طبقہ کا وناش۔ اور عربی زبان پر نظر رکھنے والے یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اکثریت کیلئے سب کے لفظ کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔
بہر حال اس طرح ہم یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ ہمارے ملک کے معماروں نے جمہوریت کا راستہ کیوں چنا تھا اور اس میں انہوں نیکن باریکیوںکو ملحوظ خاطر رکھا تھا۔ کسی بھی جمہوری نظام کے چار ستون ہوتے ہیں اور ان سب میں سب سے اہم ستون میڈیا کا ہوتا ہے۔ کیونکہ مقننہ اور عاملہ کا کام جہاں قانون بنانا اور قانون نافذ کرنا ہے، وہیں عدلیہ اور میڈیا دو ایسے شعبہ ہیں جن کا کام چیک اینڈ بیلنس کو بنانا انصاف کی بالادستی کو قائم کرنا اور انصاف ہورہاہے تو اس کانظر آنا۔کسی بھی جمہوری ملک میں عدلیہ کیساتھ، میڈیا اور اپوزیشن کی اہمیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔جمہوری ملک میں اپوزیشن کی اہمیت کتنی ہیاس کا اندازہ کیرلا کے موجودہ گورنر کے ایک یوٹیوب چینل کو دیئے اس انٹرویوسے لگایا جاسکتا ہیجس میں انہوں نے کہاتھا کہ اپوزیشن کا کام ہیکہ سرکار کو ٹینٹر ہوکس پر رکھے۔ سرکار پر سنگین سے سگین الزام لگائے۔ یہ ضروری نہیں ہیکہ ان الزامات میں صد فیصد سچائی ہو۔ اور سرکار کو یہ با خبر کرتا رہے کہ آپ کے ہر کام پر ہماری نظر ہے اور سرکار کو ہمیشہ چوکنا رکھے۔ بد قسمتی ہے کہ ہمارے ملک میں اپوزیشن پوری طرح سے ختم ہوچکا ہے، یہ کہنا کہ سرکار نے اپوزیشن کو ختم کردیا ہے اس لئے مبنی بر انصاف نہیں ہوگا،کیوںکہ جب راہل گاندھی، سونیا گاندھی، شرد پوار یا لالو یادو کسی بھی اپوزیشن کے بڑے لیڈر پر کسی طرح کی کوئی مشکل آتی ہے تو ان کی پارٹی کے لوگ جس اندازمیں ان کا دفاع کرتے ہیں اس سے یہ اندازہ بہ آسانی لگانا مشکل نہیں ہے کہ کل انقلاب آنے والا ہے، لیکن جب عوام کو مسائل کا سامنا ہوتا ہے اور ان پر مشکلات آتی ہیں تو یہی اپوزیشن اے سی کے کمروں میں دبک جاتا ہے۔
ایسے میںمیڈیا کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوجاتا ہے کہ وہ اپوزیشن کا رول بھی ادا کرے۔ سرکار کے ہر برے کام یا وہ کام جو عوام کے لئے فائدے کا سودا نہیں ہیں،ان کی طرف عوام کی توجہ کراتا رہے۔ دکھ کیا بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں میڈیا کی اکثریت گودی میڈیا کی جگہ روگی میڈیا بن چکی ہے اور ان کو عوام کے مسائل، مشکلات اور مہنگائی نظر ہی نہیں آتی۔اور کیوں نظر آئے گی جب ان کا اپنا پیٹ بھرا ہے تو ان کو اس بات سیکیا مطلب کہ کس کا پیٹ خالی ہے اور کون فاقہ کر رہا ہے۔ ایف اے او کے مطابق ’دی اسٹیٹ آف فوڈ سیکورٹی اینڈ نیوٹریشن ان دی ورلڈ 2020 کی رپورٹ میں اس بات کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت میں14فیصد آبادی غذائی قلت کی شکار ہیاور ممکن ہیکہ یہ تعداد فی الوقت اور بڑھ گئی ہو۔ اب آپ سوچ سکتے ہیں کہ ہمارے ملک میں صورتحال کتنی خطرناک ہوچکی ہے اور 2014 کے بعد غریبی ریکھا کی فہرست میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے اور بھات بھات کہہ کر بچے دم توڑ دے رہے ہیں، لیکن میڈیا کو ہندو مسلم سے کسی طرح کی کوئی فرصت نہیں ہے۔اس لئے میڈیا سے کسی طرح کی توقع فضول ہے، لیکن کہتے ہیں کہ جب تاریکی زیادہ ہو جائے تو اجالا اس کے بعد ضرور نظر آتا ہے، شاید اس لئے قدرت نے سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم تیار کردیا۔ اب ضرورت اس با ت کی ہیکہ اس سے مثبت انداز میں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے اور سرکار کی عوام مخالف پالیسیوں سے لوگو ں کو آگاہ کیا جائے، ہمیں یہ بات اچھی طرح یاد رکھنا ہوگا کہ اگر ہم ابھی نہیں جاگے تو یقین کیجئے یہ سرکار دو وقت کی روٹی کیلئے ہم کو محروم کر دی گی اور پھر ہم اس وقت جو کھانا کھا رہے ہوں گے،ہم میں سے بیشتر لوگ اپنے حقیقی مالک کو بھول کر یہ کہنے کیلئے مجبور ہوں گے،واہ مودی جی واہ!آپ نے دو وقت کی روٹی دے دی یا اگر مودی جی نہ ہوتے تو دو وقت کی روٹی بھی نصیب نہ ہوتی۔
میڈیا کس حد تک بے حس ہوچکی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے عزت مآب چیف جسٹس آف انڈیا میڈیا کے برتائو سے اس قدر نالاں ہوئے کہ انہوں نے کنگارو کورٹ تک کی بات کہہ ڈالی کہ الیکٹرانک میڈیا کنگارو کورٹ چلا رہا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا”میں میڈیا، خاص طور پر الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سے ذمہ داری سے برتاو? کرنے کی تاکید کرتا ہوں۔ آپ اتنے ہی اہم اسٹیک ہولڈر ہیں جتنے کہ ہم ہیں۔ براہ کرم اپنی آواز کی طاقت کا استعمال لوگوں کو تعلیم دینے اور ایک ترقی پسند، خوشحال اور پرامن ہندوستان کی تعمیر کی ہماری اجتماعی کوششوں میں قوم کو توانائی بخشنے کے لیے کریں‘‘۔چیف جسٹس نے اپنی گفتگو میں سوشل میڈیا کا بھی استعمال کیا، اس لئے اب سوشل میڈیا کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے اور سوشل میڈیا والوں کا یہ رونا بھی اب بند ہو جانا چاہئے کہ سرکار ان کو توجہ نہیں دیے رہی ہے، جبکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت ان ان کو اہمیت دے رہی ہے۔
عزت مآب چیف جسٹس نے کہاکہ ’’کافی وقت سے، ہم میڈیا کو کینگارو کورٹ چلاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، بعض اوقات ایسے معاملات پر تجربہ کار ججوں کو بھی فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ انصاف کی فراہمی سے متعلق مسائل پر غلط اور ایجنڈے پر مبنی بحثیں جمہوریت کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔ میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈہ کیے جانے والے متعصبانہ خیالات عوام کو متاثر کر رہے ہیں، جمہوریت کو کمزور کر رہے ہیں اور نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس عمل میں انصاف کی فراہمی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اپنی ذمہ داری سے تجاوز اور خلاف ورزی کرتے ہوئے، آپ ہماری جمہوریت کو دو قدم پیچھے لے جا رہے ہیں، ”۔ محترم چیف جسٹس کے اس ریمارکس کو ہلکے میں لینا ہم سب کی بڑی بھول ہوگی۔
بہتر ہوگا کہ چینلوں پر جانے والے لوگ چینل والوںکو یہ بات یاد دلاتے رہے اور ان کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلاتے رہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں ہماری میڈیا کا بھی مذاق اڑا یا جارہا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ آج ہمارے ملک کی میڈیا کی حالت آئی سی یو سیکم نہیں ہے۔ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کی رپورٹ کیمطابق 150 ویں مقام پر آگئے ہیں۔ اب 180 ممالک میں اگر نیچے سے ہم150 ویں مقام پر ہیں تو ہم کیسے یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ہم دنیا کی سب سے مضبوط ترین جمہوریت ہیں، اور بھارت جمہوری نظام میں دنیا کا قائد ہے۔اسی طرح ہیومن انڈیکس میں ہم 131 ویں پوزیشن پر ہیں۔ ہم کیسے ان اعداد و شمار کو جھٹلا سکتے ہیں۔ ہمارے پاسپورٹ کی حالت بھی بہتر نہیں ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 193 ممالک کی فہرست میں ہمارا 87 واں نمبر ہے۔ کتنا بہتر ہوتا کہ ہم ٹاپ ٹن میں ہوتے یا پہلے پائیدان پر ہوتے۔ اگر سچ میں حب الوطنی ہماری حکومت کا منشور ہے تو یہ نظر بھی آنا چاہئے اور سرکار کی ذمہ داری ہیکہ وہ شہریوں کے مسائل پر تو جہ دے نہ کہ کچھ خاص لوگوں کے مسائل پر فوکس کریاور ان کو امیر سے امیر بنائے اور عوام کو غریب سے غریب۔ اگر ہم پائیدان میں کھڑے آخری شخص کا بھلا کرنیمیں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم دنیا کی قیادت کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ کہنے والے نے سچ کہا ہے۔وطن کی خاک مجھیایڑیاں رگڑنے دے۔ مجھے یقین ہے پانی یہیں سے نکلے گا۔
کلیم الحفیظ
صدر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین دہلی پردیش

Comments are closed.