ٹوڈی کا مدرسہ، میوات میں مستقبل کی دانش گاہ

 

تحریر: مفتی محمد تعریف سلیم ندوی

 

میوات سے اردو روزنامہ راشٹریہ سہارا کے نامہ نگار ماسٹر خالد حسین کی تحریک پر ہمارا چار رکنی قافلہ گوہرِ میوات شیخ الحدیث مولانا راشد میل کھیڑلا کی دعوت پر ٹوڑی کے مدرسہ بمقام ابراہیم باس پہنچا، ابھی دہلی ممبئی شاہراہ کا تعمیری کام جاری ہے، سو یہیں (ایک راستہ سیدھا مدرسہ کو نکال رکھا ہے، جو جلد بند ہو جائے گا چونکہ تعمیراتی کام اب تکمیلی مراحل میں ہے) سے مدرسہ کو گھوم گئے۔

مدرسہ پہاڑ کے دامن میں ہے، سنگ لاخ وادی اور مٹی کے ٹیلوں سے مدرسہ گھرا ہوا ہے، بارش کی پھوار سے موسم خوشگوار ہو چکا تھا، پہاڑ سبز لباس میں ملبوس اور زمین کے تودے رنگ برنگے موسمی پھولوں سے مالا تھے، مدرسہ میں چند کمروں پر مشتمل قدیم عمارت ہے اور ایک چھ سو سالہ لودھی آرکیٹیکٹ کے طرز پر بنی قدیم مسجد ہے. تھوڑے فاصلہ پر ایک تین سو سالہ پرانی مسجد ہے جس کا آرکیٹیکچر بھی مغلئی طرز تعمیر کے مشابہ نہیں، بلکہ وہ بغیر ستون و گنبد کے بنی ہوئی عمدہ چھوٹی مسجد ہے، جس میں آواز بازگشت کرتی ہے. اور دو منزلہ عمارت اسکول کے لیے تیار کی گئی ہے.

ہمارے پہنچتے ہی میزبان محترم مولانا راشد میل کھیڑلا پہلے ہی موجود ملے، اور ہمیں ٹوڈی کے متعلق کچھ معلومات فراہم کی، افادہ عام کے خاطر وہ بھی درج کئے دیتا ہوں.

سائیں لال داس جادو نسل دولوت ٹوڈی میؤ تھے، میؤ قوم کے بڑے سائیں گزرے ہیں، آپ کے نام پر لال داسی دھرم کی بنیاد رکھی گئی، والد کا نام چاند خاں اور والدہ کا نام صمدہ تھا، آپ الور ریاست کے گاؤں دھولی دھوپ سن ولادت ١٠٢٠ھ مطابق 1597ء ہے، عبادت و ریاضت یہاور زہد و تقشف میں زندگی بسر کی،ان کے تعلق سے بہت سی کرامتیں لوگوں میں مشہور ہیں، وہ انسانی دھرم کے قائل تھے، ان کا مذہب و تعلیمات کبیرداس اور گرونانک جی کے دھرم سے کافی مماثلت رکھتی ہے روایت مشہور ہے

_ "دونوں دن سے گئے لال داس کے ساد”

لال داس کے پیروؤں کو ساد کہا جاتا ہے، انہوں نے میوات میں ابراہیم باس ،شیر پور، باندھولی جیسے مقامات پر اپنی مذہبی یادگار چھوڑی ہیں، وہ مندر و مسجد کو جوڑ کر بناتے اور ساتھ میں ایک بھیٹک بناتے، سائیں صاحب کا مزار دھولی دوب میں واقع ہے، (از: تاریخ میؤ کھشتری ص: 394)

اب جگہ مسجد بند اور مندر آباد ہے، نیز ہمارے پڑاؤ پر پہاڑ کے اوپر ان کی تعمیر کردہ عمارت ہو بہو موجود ہے جس میں ایک جانب مسجد تو دوسری سمت مندر کے نشانات نمایاں ہیں، اسے ساد کی بیٹھک کہا جاتا ہے سن 2003 کے قریب مقامی لوگوں نے اسے نماز کے ذریعہ آباد کرنا چاہا تو انتظامیہ نے فوری روک لگا دی اور عرصہ تک فوج کی ٹکڑی تعینات رہی۔

بہر کیف باریابی پر پانی پیا اور مولانا راشد صاحب نے بذات خود ہمیں اپنے ساتھ لیا اور مدرسہ کی چھبیس ایکڑ زمین کا دورہ کرایا، پہلے مسجد میں داخل ہوئے تین گنبدوں والی بغیر منارے والی یہ مسجد بابری کی یاد دلاتی ہے،مسجد میں ٹھنڈک تھی اور طلبہ قیلولہ کر رہے تھے، فی الوقت پچاس سے زائد طلبہ حفظ و ناظرہ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور مولانا کے داماد مفتی مبارک گلالتہ بحیثیتِ ناظم ذمہ داری نبھا رہے ہیں،جو شریف، نیک طبیعت اور خوش مزاج نوجوان ہیں۔ پھر مدرسہ کی نئی تعمیر شدہ دو منزلہ عمارت کا معائنہ کیا، سامنے پھیلا وسیع و عریض احاطہ پنچایت کا ہے جسے گاؤں والوں نے مشورہ سے مدرسہ کے لیے دے دیا ہے۔

ٹیلوں کو کاٹ کاٹ کر ہموار کر دیا ہے، اس بلڈنگ کے سامنے گلبرگ کے طرز پر زینہ دار پارک بنائی گئی ہے، پھر دوسرے کونے پر واقع گونج دار مسجد پہنچے، جس کی مرمت کرائی ہے اور مسجد کا نام مولانا قاسم مرحوم کے نام پر مسجد رکھا گیا ہے، مولانا نے بتایا کہ یہ مسجد زیر زمین بنائی جانے والی تعمیر کے بر خلاف سیدھے سطح زمین پر رکھی گئی ہے، بعد ازاں مولانا نے زیر تعمیر بنات کے عصری ادارے کا وزٹ کرایا، اسکول کو دیکھ کر مجھے تعجب ہوا چونکہ اچانک یہ تعمیر کیسے نمودار ہو گئی، کچھ ماہ قبل اس کا نام و نشان نہیں تھا، مولانا نے اس کی دلچسپ روداد بیان کی کہ جب مسکان کا معاملہ پیش آیا تو اسی دن بے سرو سامانی کے عالم میں قادر مطلق پر توکل کرتے ہوئے ہم نے سنگ بنیاد رکھ دی اور راہیں بھی کھل رہی ہیں،یہاں سے نکل کر ہم مدرسہ کے نئے مہمان خانہ کے ارد گرد کئی ایکڑ پر پھیلے باغ میں داخل ہو گئے، جس میں انار، موسمی، چیکو، نیمبو، آم وغیرہ متنوع اقسام کے پھلوں کو دیکھا اور سر دست موسمی توڑ لی گئی، جن سے پرلطف ظہرانہ کے بعد لذت کام و دہن کا سامان ہو گیا، مدرسہ اب میل کھیڑلا کے مہتمم مولانا راشد میل کھیڑلا کی تحویل میں ہے جو ایک بہترین منتظم اور اعلیٰ منصوبہ ساز ہیں، امید ہے اس وسیع و عریض زمین کی آبیاری و افزائش میں کوئی بھی دقیقہ بچا نہیں رکھیں گے اور یہ ادارہ مستقبل میں میوات کا عصری و دینی میل کھیڑلا ثابت ہوگا۔

Comments are closed.