جب اسلام کی حیرت ناک نشاۃِ ثانیہ ہوگی

 

 

تحریر: مفتی محمد صابر حسین ندوی

(استاذ: جامعہ ضیاءالعلوم، کنڈلور، کرناٹک)

 

 

آپ نے اکثر ایک حدیث سنی ہوگی، پڑھی ہوگی اور اہل علم نے اس کی شروحات بھی چھانی ہوں گی، یہ بے حد متداول حدیث ہے، ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:بدآ الإسلام غریبا وسیعود غریبا، فطوبی للغرباء – – – جس کا سادہ سا مفہوم یہی بیان کیا جاتا ہے کہ جس طرح اسلام کی شروعات ہوئی تھی؛ یعنی مکہ مکرمہ کے اندر جس کسمپرسی میں اسلام اٹھا تھا، چند اصحاب اور آزمائشوں کے ساتھ پیغام الہی کا پرچم بلند کیا گیا تھا، قرب قیامت بھی اسلام کو اسی بیگانگی سے گزرنا پڑے گا، عام طور پر اسے علامت قیامت کے ذیل میں بیان کیا جاتا ہے، مقررین اسے ذکر کرتے ہوئے اکثر مایوس کرتے ہیں، حاضرین و سامعین میں احساس کمتری پیدا کرتے ہیں، اسلام اور مسلمانوں کو بے چارگی سے دوچار رہنے اور اس میں تسلسل کا بیانیہ پیش کر کے طبیعت نڈھال کر دیتے ہیں، حالات کے تناظر یہ باتیں چونکہ مبنی برحقیقت معلوم ہوتی ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں کی زبوں حالی کا یہ دور اب نہیں رکے گا، عروج اب خواب ہوگئے، بیداری، انقلاب اور جدید اٹھان کی امیدیں منقطع ہوگئیں، اور اب بَس قیامت کا انتظار ہے، چنانچہ یہ مقررین مذکورہ حدیث کے تناظر میں ایک عجیب سا احساس پیدا کر دیتے ہیں جس سے اسلام اور مسلمانوں کے تئیں خدشات کے سوا کچھ نہیں بچتا، مگر اس حدیث کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جو بشارت، خوش خبری اور اھتزاز و فرحت سے بھرا ہوا ہے، جس میں مسلمانوں کےلئے حوصلہ اور ہمت کی باتیں ہیں، دیگر احادیث سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ قرب قیامت مسلمان عہد زریں میں ہوں گے، یقیناً آزمائشوں کی بھٹی میں تپا کر اور انہیں مصائب کے دو پاٹ میں پیس کر آگے بڑھایا گیا ہوگا؛ لیکن ایک دور آئے گا جب انہیں کھلے آسمان تلے کلمہ لاالہ کے سایے میں رہنے اور اسلام کی شان و شوکت کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملے گا، اس سلسلہ مذکورہ حدیث پر ڈاکٹر خورشید انور ندوی ندظلہ نے ٢٦/جون ٢٠٢٢ء نے بڑی جامع گفتگو کی ہے، مولانا رقم طراز ہیں:

… سیعود غریبا…

بدآ الإسلام غریبا وسیعود غریبا، فطوبی للغرباء.

”عودۃ یا رجعت آکر جانا اور جاکر آنا دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے…حدیث نبوی کے اس ٹکڑے کا عام طور سے اجنبی طریقے سے واپسی کا کیا جاتا ہے…اردو واعظوں کی سنیں تو وہ غریب کا ترجمہ فقیر و مسکین بھی کرڈالتے ہیں…جو بڑا لاچار اور مسکین ترجمہ ہے اور عربی نہ جاننے کی وجہ سے بڑا جچتا بھی ہے…اسلام اور مسلمانوں کی جس زبوں حالی کو ہم نے صدیوں سے دیکھا ہے اس صورت احوال نے لاچاری، مسکنت، پسماندگی، پسپائی، اور زبوں حالی کو احوال واقعی بنا ڈالا ہے…لیکن غور سے یہ فرمان نبوی پڑھا جائے تو یہ بشارتوں کی کان اور نویلی نویدوں کی دکان ہے…جس کا ہر لفظ و پس لفظ رجائیت اور توانائی سے بھرپور ہے…بس ترجمہ ذرا یوں کرلیجیے: اسلام تحیر کے ساتھ آیا…(مابعد زوال) دوبارہ اسی حیرتناکی کے ساتھ پھر لوٹتا رہے گا…فطوبی للغرباء کے جملے نے صحابہ کرام کو بھی تھوڑی دیر تک عالم تحیر میں رکھا اور وہ ذات رسالت مآب سے سائل ہوئے کہ یہ "غرباء” کون ہیں آپ نے فرمایا کہ "ریفارمز کرنے والے” یا ” طریق نبوت کا احیاء کرنے والے” تھوڑی ترجمہ کی توضیح کے ساتھ ” اسلام کی حیرتناک نشأۃ ثانیہ کے کردار یا حیران کن رجعت کے شریک کار… موجودہ حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو اسلام کی حیران کن واپسی کے امکانات سے عالم امکان کا افق در افق اٹا پڑا ہے…یہ واپسی دو راستوں سے ہوسکتی ہے…ایک مسلمانوں کی نئی طاقت کے ظہور کے ذریعہ اور دوسری اسلام کی قبولیت اور تیز رفتار اشاعت کے ذریعہ…انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک سیاسی مردنی کے خاتمے اور طاقتور معاشی لابی کے ابھرنے کے قوی امکانات موجود ہیں… ہندوستان جیسی بڑی معاشی طاقت اور اشیائے صرف کی بڑی منڈی خوردنی تیل کی درآمد میں انڈونیشیا پر انحصار کرتی ہے…یہ انحصار بڑھ رہا ہے گھٹ نہیں رہا…ملیشیا نے بیرونی قرضے سے نجات اور شرح بیروزگاری کو صفر رکھنے میں کارنامہ دکھایا ہے…پاکستان اپنی جی پولیٹیکل پوزیشن، اسٹراتیجک محل وقوع، ایٹمی پاور شپ، اور نوجوان ورک فورس کی بدولت ایک نہایت باصلاحیت ملک ہے…بنگلہ دیش میں گوکہ بہ چند وجوہ اسلام پسند آزمائش کا شکار ہیں لیکن وہاں بنگلہ نیشنلزم کے ساتھ اسلام کی آمیزش ہے اور قوم دین پسند ہے… أفغانستان ایک گیٹ وے ہے…اور پرامن حالات میں اس کے معاشی امکانات نہایت حوصلہ افزا ہیں…ایران کی صلاحیتوں کا لوہا اس کے دشمن بھی مانتے ہیں… بیچ کے عربان الزيوت کو چھوڑ کر آگے بڑھ جائیں تو افریقی ممالک میں انقلابی سیاسی تبدیلیوں اور دہائیوں سے کرم خوردہ انتظامی ڈھانچوں کے ڈھیر ہونے کے باوجود کوئی ملک ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوا اور اپنی سرحدی باڑ بچانے میں ہر ملک کامیاب رہا جو معاشی، سماجی اور سیاسی بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی کی علامت ہے… مصر کے علاوہ ہر ملک بہتری کی طرف مائل ہے اور تقریباً سبھی ملکوں میں سیاسی باز آبادکاری شروع ہوچکی ہے…جس کو گھر درست ہونا کہہ سکتے ہیں… یہ دیر سویر مفاہمتی عمل معاشی ترقی، ملکی سیاسی استحکام کی خشت اول ہے…ترکی ایک صارف ملک نہیں رہا، آس پاس کے تمام یورپی ملکوں کو برآمد کنندہ ہے، اور اس کے ساحلی علاقے دنیا کی سب سے جدید اور نہایت معیاری انرجی ہب ہیں۔

اسی طرح اشاعت اسلام کے نئے امکانات بھی کچھ کم نہیں…امریکہ میں اسلام پر مطالعہ بڑھ رہا…لیکن وہاں کی مصیبت افریقی اور ایشیائی مسلمان مہاجرین ہیں جو تہذیبی انضمام کی زد ہیں جس کی آخری شکل ارتداد ہے…یہی صورت حال مغربی یورپ اور کم و بیش برطانیہ کی ہے…جہاں تک ہندوستان جیسے کثیر آبادی والے ملک کی بات ہے تو یہاں مسلمان بظاہر آزمائش کا شکار ہیں لیکن اسلام کی اشاعت کے امکانات بھی کسی طرح کم نہیں…ہندو توا کا بے رونق ایجنڈہ جلد یا بدیر اپنی کشش چھوڑ دے گا، نفرت پر صرف افراتفری اگتی ہے جو ملکی ترقی سماجی ہم آہنگی، یہاں تک کہ قومی سلامتی کے لئے نہایت سنگین نتائج کی حامل ہوسکتی ہے…ہندوستان میں سماجی برابری میں سب سے بڑی رکاوٹ نیچ اونچ کا تسلیم شدہ مذہبی تصور ہے…جس کو درآمدی غاصب طبقہ نے مذہبی اجارہ داری اور مطلق العنانی کے لئے استعمال کیا ہے…یہ راز نچلے طبقے کے نئے مصلحین اچھی طرح جانتے ہیں…یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے دوررس سماجی تبدیلی کے لئے تبدیلی مذہب کا ہی سہارا لیا تھا…لیکن وہ اس مذہب کے دائرے سے باہر نکل پانے کی جرأت نہیں کرسکے جو ان کو وسیع تر آزادی دلاسکتی تھی…اپنے لاکھوں ہم نواؤں کے ساتھ وہ اسی چکر ویو میں پھنسے رہ گئے…اگر وہ مذہب اسلام کو اپناتے تو سماجی اور مذہبی مساوات کا ایک نیا تجربہ کرتے اور ہندوستان ساری دنیا میں برابری کی ایک مثال قائم کرچکا ہوتا…ڈاکٹر امبیڈکر کے اس ناکام تجربہ کے ہندوستان کے پسماندہ طبقات کے لئے اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا…ڈاکٹر امبیڈکر کی سوچ صحیح تھی، متبادل کا انتخاب غلط تھا…شاید ان کا ذہن اسلام کی تاریخ کا یہ سب سے روشن باب مس کرگیا…ہندوستان میں دیر یا سویر اسلام کی تیز رفتار اشاعت کی کونپل طبقاتی نابرابری کی متعین مٹی سے نکلے گی…ہندو توا کی قوتوں کا تعلیمی اجارہ داری کا خواب گلوبل ولیج کے پھیلاؤ کے آگے تار عنکبوت کی طرح بکھر جائے گا…چین ایک بڑی طاقت ہے لیکن سماجی جبر اور سیاسی ارتکاز قوت کا نظریہ کب ڈھہہ جائے کہا نہیں جاسکتا…روس کے حیرتناک زوال کے مشاہدہ کے بعد کوئی پیش گوئی ممکن نہیں رہی… سیعود غریبا کے بعد فطوبی للغرباء، ایک نوید ہے، ایک بشارت ہے، اور ظاہر ہے یہ زوال کے لئے نہیں ہوا کرتی بلکہ مبہوت کردینے والے عروج اور حیرت میں ڈال دینے والی واپسی کے لئے ہی ہوسکتی…اجنبی لوگ مستحق تبریک نہیں ہوا کرتے بلکہ حیران کن پیش قدمی کے کاروان کے ساتھی اور تبدیلی کے نئے نقیب ہوا کرتے ہیں۔“

Comments are closed.