غم بھی ایک راحت منزل کا نشاں ہوتا ہے

(پہلی قسط)

مفتی محمد قمرالزماں ندوی

انسانی زندگی مشکلات و مسائل آلام و مصائب،رنج و الم زحمت و اذیت اور درد و غم کی ایک مسلسل داستان ہے، یہاں خوشی و مسرت کیساتھ رنج و تکلیف بھی ہے، فرحت و شادمانی کے ساتھ تکلیف و مصائب بھی ہے۔ انسان زندگی کے جس مرحلہ میں اور جس منزل میں بھی ہو غم کا بادل اس پر سایہ فگن رہتا ہے، غربت و ناداری اور مفلسی و قلاشی ہی میں نہیں، بلکہ امارت و حکومت سیادت و قیادت،دولت و راحت سہولت اور مسرت کے ظاہری نقشوں میں بھی غم کہیں نہ کہیں چھپا رہتا ہے، اس سے نجات مشکل ہے، دیکھا جائے تو زندگی اور غم در اصل ایک شئی کے دو رخ ہیں،، چچا غالب کہتے ہیں،،

قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

غالب ایک دوسرے موقع پر اپنے ایک شعر میں کہتے ہیں کہ کسی انسان کو کبھی غم سے نجات نہیں مل سکتی، کیوں کہ ہر انسان صاحب دل ہے اور غم دل کیساتھ ہے، یعنی دل کی فطرت یہ ہے کہ وہ جویائے غم ہے، لہذا جب تک انسان کے سینہ میں دل ہے، انسان غم سے بچ نہیں سکتا، خواہ غم عشق ہو یا غم روز گار۔ (متاعِ قلم)

غم اگر چہ جاں گسل ہے، پہ بچیں کہاں کہ دل ہے
غم عشق گر نہ ہوتا غم روز گار ہوتا

چچا غالب نے غم کی حقیقت کو متعدد اشعار میں بیان کیا ہے، ایک جگہ غم کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

غم ہستی کا اسد، کس سے ہو جز مرگ علاج
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے، سحر ہونے تک

غالب کے اس شعر کی تشریح کرتے ہوئے پروفیسر سلیم چشتی لکھتے ہیں،،
،، انسانی زندگی رنج و الم زحمت و اذیت اور درد و غم کی ایک مسلسل داستان ہے، اس دکھ اور مصیبت غم ہستی کا علاج کسی سے نہیں ہوسکتا، کیونکہ زندگی نام ہی ہے دکھ کا، بلکہ دکھوں کے ایک طویل سلسلہ کا، یہ سلسلہ تو صرف موت ہی سے ختم ہوسکتا ہے، دیکھ لو! شمع کی زندگی جلنے کے تسلسل کا نام ہے، اس لیے وہ سحر ہونے تک یعنی تادم وفات بہر صورت جلتی رہتی ہے، ہر رنگ کا ٹکڑا بہت دلکش اور معنی خیز ہے، مطلب یہ کہ جس طرح شمع خواہ محفل خوباں میں ہو یا گور غریباں پر، ہر حالت میں جلتی رہتی ہے، اور جب تک ختم نہیں ہوجاتی اس کے جلنے میں کمی نہیں ہوتی، اسی طرح انسان خواہ وہ سرمایہ دار ہو یا مزدور، شاہ ہو یا گدا، جب تک زندہ ہے، غم ہستی میں گرفتار ہے، ہر وقت کسی نہ کسی پریشانی یا دکھ میں مبتلا ہے،، ( شرح دیوان غالب بحوالہ متاعِ قلم ۳۶۰) ..
اردو کے قدیم شعراء کے یہاں غم کی حقیقت اور اس کے صحیح مفہوم کے تعلق سے بہت سے اشعار ملتے ہیں، یہاں کچھ شعراء کے اشعار جو غم کی حقیقت سے متعلق ہیں، ہم ذکر کرتے ہیں۔ کوئی ضروری نہیں ہے کہ ان کے تمام اشعار سے اتفاق ہی کیا جائے، کیوں ہم مسلمان مکلف ہیں کہ خوشی و غم کے تعلق سے اسلام کی جو واضح تعلیم ہے ہم اس پر عمل پیرا ہوں اور رنج و راحت کا جو فلسفہ اور حقیقت اسلام نے ہمیں سمجھایا ہے، ہم اس پر ایمان اور یقین رکھیں۔ سب سے پہلے ہم یہاں غم کے تعلق سے مختلف شعراء کے اشعار پیش کرتے ہیں پھر اخیر میں اس بارے میں شریعت کی رہنمائی کیا ہے؟ ذکر کریں گے۔۔
جگر کہتے ہیں

اس سے بڑھ کر دوست کوئی دوسرا ہوتا نہیں
سب جدا ہوجائے لیکن غم جدا ہوتا نہیں

آگے جگر مرحوم یہ بھی کہتے ہیں

بے فائدہ الم نہیں، بے کار غم نہیں
توفیق دے خدا تو یہ نعمت بھی کم نہیں

جگر کی سوچ اور خیال غم کے بارے میں یہ بھی ہے

دل گیا رونق حیات گئی
غم گیا ساری کائنات گئی

جگر کی اس بات اور فکر پر سر دھنئے وہ کہتے ہیں

دونوں جہاں تو اپنی جگہ پر ہیں برقرار
کیا چیز تھی کہ جس کو مرا دل بنا دیا

جگر کی اس بات پر غور کیجئے

غم میسر ہے تو اس کو غم کونین بنا
دل حسیں ہے تو محبت بھی حسیں پیدا کر

جگر ہی یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ

قیمت غم حیات کی تو دام دام لے
یعنی بہار ہو کہ خزاں سب سے کام لے

کسی نے تو یہ بھی کہا ہے کہ

غم کامل ہی اصلی زندگی ہے
مسرت تو حیات عارضی ہے
نظر مغموم ہے، لب پر ہنسی ہے
اسی کا نام شاید زندگی ہے

غم کی تشریح میں فانی کے اس لافانی شعر کو سنئے وہ کہتے ہیں

غم بھی گذشتنی ہے، خوشی بھی گزشتنی
کر غم کو اختیار کہ گزرے تو غم نہ ہو

فانی بدایونی دوسری جگہ کہتے ہیں

جئے جانے کی تہمت کس سے اٹھتی کس طرح اٹھتی
ترے غم نے بچائی زندگی کی آبرو برسوں

فراق گورکھپوری غم کے بارے میں کہتے ہیں

یوں ہی فراق نے عمر بسر کی
یا غم جاناں یا غم دوراں!

اصغر گونڈوی کا احساس غم کے بارے میں کچھ اس طرح ہے

آلام روز گار کو آساں بنا دیا
جو غم ہوا اسے غم جاناں بنا دیا

اصغر کے اس تاثر کو بھی ملاحظہ کریں

چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے
اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہوجائے

مشہور شاعر شکیل بدایونی کہتے ہیں

میری زندگی پہ نہ مسکرا، مجھے زندگی کا الم نہیں
جسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیں

اثر صہبائی کی بات پر آپ بھی اتفاق کریں گے

خدا کی دین ہے، جس کو نصیب ہوجائے
ہر اک دل کو غم جاوداں نہیں ملتا

(جاری)

Comments are closed.