ہجری نئے سال کی آمد: خود احتسابی ضروری
خطبہِ جمعہ
منجانب: آل انڈیا امامس کونسل
بابت: 29/07/2022
الحمد لله رب العالمين والعاقبة للمتقين، و الصلاۃ والسلام علیٰ سید المرسلین محمد وعلي
آلہ وصحبہ اجمعین، اما بعد !
فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم الله الرحمان الرحيم
فَمَن یَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَیۡرا یَرَهُۥ وَمَن یَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّة شَرّ یَرَهُۥ
معزز بھائیو!
ایک مسلمان کی حیثیت سے ہم چاند یعنی قمری مہینے کے حساب سے چل رہے ہیں، فی الحال ہجری کا نیا سال یعنی نیوائیر شروع ہونے جارہا ہے۔
عام طور پر ایک ہجری سال میں 354 یا 355 دن ہوتے ہیں۔ اس حساب سے انگریزی کیلنڈر کے مقابلے میں قمری کیلنڈر میں 11، 12 دن کم ہوتے ہیں۔
محرم کے مہینے سے شروع ہونے والا اور ذوالحجہ پر ختم ہونے والا یہ ہجری سال مومنین کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اسلامی کیلنڈر 622 عیسوی میں شروع ہوا۔
حضرت محمد ﷺ اور اصحاب کرام کے مکے سے مدینے ہجرت کی بنیاد پر ہجری سال وجود میں آیا ۔
1444 ء ہجری سال شروع ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کو مدینے تشریف لے گئے 1443 سال گزر چکے ہیں۔
"ہجرت” یہ اسلامی سماج اور تاریخی و تہذیبی اعتبار سے بڑی اہمیت والا واقعہ ہے اور یہ سچ ہے کہ مسلمان اس دن نہ تو خوشی مناتے ہیں اور نہ غم ۔
یو،اے،ای اور سعودی میں اس دن چھٹی ہوتی ہے۔ لیکن اس دن عید کا جشن یا دیگر کوئی پروگرام نہیں رہتا ہے۔ اور یہ اسلام کا کوئی طریقہ بھی نہیں ہے۔
خود کا احتساب کریں:
اسلام کے تمام واقعات اور دیگر احکامات ہجری کیلنڈر پر مبنی ہیں۔
9، 10 محرم، ربیع الاول، رمضان، شوال میں عید، ذوالحجہ میں قربانی کا تہوار، اور حج وغیرہ سب کا حساب ہجری سال کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
یہ وقت اس بات کا جائزہ لینے کا ہے کہ ہماری عبادت کے طریقے اور دوسرے کام کتنے درست اور خالص ہیں۔ ہم سے جولمحات جدا ہو چکے ہیں ہمیں کبھی وہ واپس نہیں مل سکیں گے۔ ہر ایک لمحہ، منٹ ، گھنٹہ، دن ، مہینہ اور سال کا ہم سے جدا ہونا موت سے ہمیں اور نزدیک کر دیتا ہے۔
ہم سے جو سال جدا ہو رہا ہے ہم نے اس میں کیا کیا؟ جو لمحات ہم سے جدا ہوئے ہیں ہم نے میں ان کیا کیا کام انجام دیا؟ ان سوالوں کے جواب کے لیے خود کو تیار رکھنا ہوگا۔
"حاسبوا قبل ان تحاسبوا”
اپنا حساب کر لو اس سے پہلے کہ آپ کا حساب کیا جائے۔
ہمارے لیے غور وفکر کی باتیں:
کیا میں نے اس زندگی میں اللہ کے دیے ہوے اپنے فرائض کو صحیح طریقے سے ادا کیے ہیں؟ نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ ۔
کیا میں نے اپنے خاندان کے تعلق سے اپنا فرض ادا کیا؟ بیوی، بچے، والدین، بھائی بہن وغیرہ ۔۔۔۔۔
کیا میں نے اپنے معاشرے کے تعلق سے اپنا فرض ادا کیا؟ پڑوسی، رشتہ دار، دوست، ساتھی اور دیگر مخلوق… وغیرہ کے حقوق۔
اور وہ چیزیں جو اللہ نے حرام کی ہیں۔ کیا میری طرف سے کوئی خطا سرزد ہوئی ہے؟ دھوکہ، فریب ، چغل خوری ، چوری ، بے ایمانی ، زنا، سود وغیرہ ۔۔۔۔
اس طرح ہمیں اس میدان میں اپنی ناکامیوں کا پتہ لگانے اور اس کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
"فمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ- فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ”
اور جس نے ذرّہ برابر بھی بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا- پھر جس نے ذرّہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا (سورہ الزلالہ:7-8)
نیت کو درست کریں اور اعمال کو بے لوث اور شفاف بنائیں۔ ہمیں خالص اور مضبوط اعمال کی ضرورت ہے۔ عمل نیک نیتی کے بغیر کتنا ہی کیا جائے، بے بے سود و بے اثر ہے۔ حدیث شریف میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ.
بے شک عمل کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ بے شک ہر کسی کو وہی ملتا ہے جس کی وہ نیت کرتا ہے۔ جو دنیا کی خاطر ہجرت کرتا ہے اسے وہ ملتی ہے۔ جو عورت سے نکاح کے لیے ہجرت کرتا ہے تو اس سے نکاح ہوجاتا ہے۔ غرض کہ وہ جس چیز کے لیے بھی چلتا ہے اس کو ملتا ہے۔ (بخاری )
رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کا ایک پس منظر ہے۔
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیروکار صحابہ کرام اپنے ملک میں آزادی، اظہارِ رائے اور صحیح عقیدہ پر چلنے سے محروم کیے جانے لگے تو انھوں نے مکے سے مدینے کی ہجرت کی۔ اس وقت تمام مومنین کی نیت خالص تھی یعنی رسول کی اطاعت اور دین کی حفاظت۔ بس اسی چیز نے انہیں ہجرت پر آمادہ کیا تھا۔
لیکن اس جماعت میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل تھے جن کے اندر مادی خواہشات تھیں۔ ایک نوجوان نے اپنی معشوقہ سے ملنے کے لیے ہجرت کی تھی۔
اوپر کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بات کا جواب دیا جب اس بات کی شکایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کی گئی تھی کہ جس کی نیت جیسی ہوگی اس کو وہی حاصل ہوگا۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ بات کتنی معمولی ہی کیوں نہ ہو نیت اچھی ہونی چاہیے اور خواہ معاملہ کتنا بڑا کیوں نہ ہو نیت اچھی ہونی چاہیے۔
ہم نے یقیناً اس طوائف کا قصہ سنا ہوگا جس نے ایک پیاسے کتنے کو پانی پلایا تھا اور اللہ تعالی نے صرف اس عمل میں اس اچھی نیت وجہ سے اس کی مغفرت فرمادی تھی۔
حضور قلبی، خلوص نیت اور نیک نیتی کے بغیر عمل محض ایک دکھلاوا اور ریا ہے۔ اوریہ محض فضول کام ہو گا جس کا دنیا یا آخرت میں کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔
واقعہ :
جنگ احد میں بہادری سے لڑنے والا جنگجو! اس کی جنگی صلاحیت کو دیکھ کر اس کے بارے میں کچھ صحابہ نے کہا: کتنا بہادر ہے!۔ کتنا پیارا نوجوان ہے۔! اس کو جنت ملنا تو بالکل طے ہے۔ یہ باتیں نبی کریم ﷺ نے سنی تو آپ ﷺ نے فرمایا:
” وہ جہنمی ہے” یہ بات سن کر ایک صحابی کو بڑا تعجب ہوا؛ چنانچہ صحابی نے اس نوجوان کا پیچھا کیا جو جنگ لڑ رہا تھا۔ تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ لڑ رہے اس نوجوان کے جسم پر ایک کٹ کا زخم لگا۔ وہ زخم کی تاب نہ لاسکا اور تلوار کی نوک اپنے پیٹ میں گھونپ کر خودکشی کرلی۔ یہ ماجرا دیکھ کر اس صحابی نے کہا کہ: آپ ﷺ نے جو فرمایا، یقینا وہ سچ ہے۔ اور میں یہ شہادت دیتا ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
"کچھ لوگ، لوگوں کی نظر میں جنت میں لے جانے والے کام کریں گے لیکن وہ جہنمی ہوں گے اور کچھ لوگ، لوگوں کی نظر جہنم میں لے جانے والے کام کریں گے لیکن وہ جنتی ہوں گے”۔ (مسلم)
"إن الرجل ليعمل عمل أهل الجنة فيما يبدو للناس وهو من أهل النار، وإن الرجل ليعمل عمل أهل النار فيما يبدو للناس وهو من أهل الجنة”۔
اللہ تعالیٰ عمل کی نیت اور اس کااخلاص دیکھتا ہے نہ کہ اس عمل کو دیکھتا ہے۔ یہ بات ہمیں قاعدے سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
امتحان میں کامیابی حاصل کرو:
"الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ”.
جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تم لوگوں کو آزماکر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے، اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی- (الملک: 2)
اہل ایمان کی نقل وحرکت اللہ تعالیٰ دیکھتا رہتا ہے اور آزماتا رہتا ہے۔ اور یہ آزمائش سب سے اچھے کام کرنے والوں کو اس کا پھل دینے کے لیے ہے۔
امتحان ہال میں ہر امتحان دینے والے طالب علم کی ذہنی حالت کیسی ہوتی ہے؟ سب سے بہترین طریقے سے امتحان کا پرچہ لکھنے کی فکر رہتی ہے؛ کیوں کہ اس پیپر کو دیکھنے والا، جانچنے والا اور نمبرات دینے والا ایک ٹیچر مقرر ہے؛ اس لیے وہ امتحان میں اچھا لکھے اور اچھے نمبر حاصل کرے، یہی فکر اس کے اوپر سوار رہتی ہے۔
ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کے تعلق سے اسی شعور کو بیدار کرنا ہوگا۔ وہ تنہا رب ہے جو ہمارے ہر عمل کو دیکھتا اور جانچتا ہے۔ ہمیں فکر لگی رہنی چاہیے کہ جب ہمارا رب ہمارا نامہ اعمال دیکھے تو اس میں ہمارے اچھے اعمال اور اچھے نمبرات ہوں۔
اپنے وقت کو صحیح استعمال کریں:
لوگ اچانک مر جاتے ہیں۔ چاہے وہ ہارٹ اٹیک سے ہو، حادثاتی موت ہو یا کسی بیماری سے۔ ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہماری موت کیسے اور کہاں ہو گی۔ اور نہ ہی ہمارے لیے یہ کہنا ممکن ہے کہ اللہ نے ہمیں کتنی زندگی دے رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کتنی مہلت دی جس کو ہم برباد کرتے جارہے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی اس پر غور کیا ہے؟
ہم کتنی کتنی دیر اپنے فون میں لگے رہتے ہیں؟ اور ناجانے بیکار میں ہم کتنا وقت برباد کر دیتے ہیں؟ ذرا غورکریں۔ ہمارے وقت اور ہماری عمر کا حساب ہونے والا ہے۔
تو آئیے! جوں ہی ہماری آنکھوں کے سامنے نئے سال کی نئی کرن زمین پر اپنے جلوہ بکھیرے ہم اپنے حالات اور اپنے خیالات کو بدلیں اور مضبوط فیصلے لیں۔ ساتھ ہی اس بات کا عزم کریں کہ ہم اپنا وقت اور اپنی عمر صرف اور صرف خیر کے کاموں میں خرچ کریں گے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے اور کار خیر میں ہماری مدد ونصرت فرمائے۔آمین
و آخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین
Comments are closed.