ایک ملاقات ڈاکٹر عبد القدیر کے ساتھ

مفتی محمد قمر عالم قاسمی
شہر قاضی ضلع رانچی جھارکھنڈ سرکار
25 ذوالحجۃ1443ھ مطابق 25 جولائی 2022 دوشنبہ بعد نماز عصر تا قبل مغرب”قصوی انڈیا فاؤنڈیشن و فرینڈس آف ویکر سوسائٹی جامعہ نگر رانچی جھارکھنڈ کے زیر اہتمام سرسید عالیہ ولا(Villa 4 B) جامعہ نگر رانچی کے چنندہ علماء کرام،ڈاکٹرس،دانشوران ، سماجی و ملی خدمتگار اور صحافیوں پر مشتمل ایک ڈیلی گیٹس میٹنگ رکھی گئی جس میں شاہین گروپ کے بانی و چیئرمین جناب ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کی اہمیت و ضرورت پر خصوصی توجہ دلائی انہوں نے کہا کہ اپنی تہذیب و نسل کی حفاظت کرنے والی قومیں ہی زندہ رہتی ہیں ہماری تمام تر جیحات اپنے اور اپنی قوم و ملت کے بچے اور بچیوں کی تعلیم و تربیت ہونی چاہیے وہ قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی جو تعلیم سے زیادہ رسم منگنی، شادی بیاہ، عقیقہ، برتھ ڈے، گھر اور فلیٹ کے ڈیکوریشن پر خرچ کرے ہم اپنی شادی بیاہ اور گھر کے ڈیکوریشن پر اتنی فضول خرچی کرتے ہیں کہ اس سے بہت کم میں ہماری قوم کا غریب بچہ سرکاری میڈیکل کالجوں میں کامیاب ماہر ڈاکٹر اور آئی آئی ٹی میں بہترین باکمال انجینئر بن کر قوم اور ملک و ملت کی خدمت کر سکتا ہے مزید انہوں نے مشورہ دیا کہ آج ہم یہاں سے عہد کر کے اٹھیں کہ فضول خرچی والی شادی بیاہ کی محفل میں شریک نہیں ہوں گے- شاہین گروپ کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے 33 سال پہلے صرف 17 بچوں سے شاہین انسٹیٹیوشن جنوبی ہند کی ریاست کرناٹک کے تاریخی شہر بیدر میں ایک چھوٹے سے کمرے سے شروع کیا تھا جس کی زمین کچی تھی مگر خواب پختہ تھا اور دیواریں پلاسٹر سے خالی تھیں لیکن دماغ میں مختلف قسم کے قوم و ملت کے تئیں جذبات بھرے ہوئے تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ میں حافظ قرآن کو ڈاکٹر انجینئر بناؤں، دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم سے ہمکنار کروں الحمدللہ: اللہ نے ہمیں بہت حد تک اس میں کامیابی سے نوازا ہے۔
’’ شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشن بیدر کرناٹک‘‘نے دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کا ایک انوکھا اور منفرد تجربہ کیا ہے جس کے تحت حافظ قرآن کے منتخب طلبہ کو محض تین سال کے عرصے میں اس قابل بنا دیا جاتا ہے کہ وہ میڈیکل، انجینئرنگ اور مینجمنٹ جیسے دیگر پروفیشنل کورسز میں داخلہ لے سکیں نیز ریاستی اور مرکزی سطح کے سول سروسز کورسوں کے مسابقاتی امتحانات میں حصہ لے سکیں،- بہت سارے حفاظ یہاں سے ڈاکٹر اور انجینئر بن کر جا چکے ہیں اور بہت سارے حفاظ ابھی نیٹ (Neet) اور آئی آئی ٹی کی تیاری کر رہے ہیں مزید انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں حفاظ کے لئے اخراجات میں 50 فیصد کی رعایت ہے، انہوں نے کہا کہ جو بچہ اللہ کی کتاب قرآن کریم حفظ کر سکتا ہے وہ بہترین امام کے ساتھ ساتھ با اخلاق ڈاکٹر، انجینئر، آئی ایس، آئی پی ایس بھی بن سکتا ہے کیونکہ حفاظ کرام غیر معمولی طور پر ذہین ہوتے ہیں ہیں جو جلد ہی عصری علوم میں دسترس حاصل کر لیتے ہیں انہوں نے رضاکار تنظیموں اور اصحاب خیر افراد سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے مقامات پر اچھے حفاظ کی تلاش میں ان کی مدد کریں-جمشیدپور اور پٹنہ میں پچھلے دو سالوں سے شاہین گروپ کا برانچ چل رہا ہے اور رانچی میں بھی بہت جلد شاہین گروپ کا برانچ کھلنے جارہا ہے ان شاء اللہ آپ حضرات دعاء فرمائیں، مزید انہوں نے کہا کہ ہر شخص برادرانِ وطن سے اچھے تعلقات قائم کرے غلط فہمی دور کرے اور نفرت کا جواب پیار ومحبت سے دے جو اسلام کا پیغام ہے ہندو مسلم شاہین گروپ کے ہی نہیں بلکہ اس ملک کے دو بازو ہیں۔

Comments are closed.