دروپدی مرمو کے صدر جمہوریہ بننے سے کانوڑ مسافرین پر پھول برسانے تک

ہفتہ واری تبصرہ
از: آفتاب اظہرؔ صدیقی
قارئین کرام! اسی ہفتے دروپدی مرمو کو 15ویں صدر جمہوریہ کے طور پر حلف دلایا گیا ہے۔ اُنہیں پارلیمنٹ کے مرکزی ہال میں، بھارت کے چیف جسٹس این وی رمنا نے عہدے کا حلف دلایا۔اِس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا کہ یہ بھارتی جمہوریت کی خوبصورتی ہے کہ دور دراز علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک غریب خاتون، صدر جمہوریہ بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی عہدے پر پہنچنا اُن کی کوئی ذاتی حصولیابی نہیں ہے، بلکہ یہ بھارت میں ہر غریب شخص کی حصولیابی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اُن کی نامزدگی اِس بات کی گواہ ہے کہ بھارت میں غریب انسان نہ صرف خواب دیکھ سکتا ہے، بلکہ اِن خوابوں کو پورا بھی کر سکتا ہے۔
محترمہ مرمو نے ملک کی، سب کی شمولیت والی ترقی کے لئے پسماندہ طبقے کو اوپر اٹھانے اور خواتین و نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی جانب کام کرنے کے اپنے عزم کو دوہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے انہیں ایسے وقت منتخب کیا ہے، جب وہ آزادی کے 75 سال کا جشن منا رہا ہے۔ انہوں نے ’’کرگل‘‘ وجے دیوس کے موقع پر یہ کہتے ہوئے ملک کو مبارکباد دی کہ یہ دن ملک کی فوجوں کے حوصلے کی علامت ہے۔
قارئین!دروپدی مرمو اڑیسہ سے تعلق رکھنے والی ایک اقلیتی آدی واسی سماج سے تعلق رکھنے والی خاتون ہیں، جنہوں نے یشونت سنہا کو مات دے کر صدر جمہوریہ کا انتخاب جیتا ہے۔ موجودہ حکومت نے دروپدی مرمو کو صدر جمہوریہ بنانے کے لیے اپنی مکمل توانائی صرف کردی تھی، اس جیت کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے دہلی ہیڈ کوارٹر سے روڈ شو نکالا، مٹھائیاں تقسیم کی گئیں، نگاڑے بجائے گئے، استقبالیہ کا انتظام کیا گیا۔ اس ملک میں صدریہ جمہوریہ کوئی بھی بن جائے اختیارات حکومت کے پاس ہی ہوتے ہیں۔ صدر جمہوریہ کے اختیارات کے سلسلے میں ویکی پیڈیا کی یہ جانکاری بھی اہم ہے: ویکی پیڈیا لکھتا ہے:
”صدر جمہوریہ کا عہدہ جمہوریہ کے طور پر قائم ممالک میں صدر مملکت کا درجہ رکھتا ہے۔ صدارتی نظامِ حکومت والے ممالک جیسے امریکا میں صدر کافی وسیع الاختیار ہوتا ہے اور اپنے طور پر فیصلے لینے کا مجاز ہوتا ہے۔ تاہم پارلیمانی نظامِ حکومت جیسے کہ بھارت میں صدر رسمی طور پرصدر مملکت ہو کر بھی وزیراعظم اور کابینہ کے فیصلوں کے تابع ہوتا ہے اور رعمومًا از خود اہم فیصلے نہیں کرتا۔ ایسے میں آدی واسی سماج کے لوگ جس طرح سے مرمو کے صدر جمہوریہ منتخب ہونے پر سڑکوںپر نکل کر جشن منارہے ہیں اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انہیں اپنے سماج کی صدر جمہوریہ سے کافی امیدیں ہیں، ہم بھی امیدکرتے ہیں کہ موجودہ صدر جمہوریہ اپنے دورِ صدارت میں تمام آدی واسی سماج کے لوگوں کو اپنا خود کاگھر دلانے،ان کی ہر بستی تک بجلی اور صاف پانی پہنچانے، ان کی بستیوں تک جانے والی تمام سڑکوں کی حالت بہتر بنانے اور کم از کم ہر آدی واسی کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے آدی واسی اسکول، آدی واسی کالج اور آدی واسی یونیورسٹیوں کا ضرور انتظام کروادیں گی۔
قارئین کرام!وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ‘ہر گھر ترنگا مہم’ کا آغاز کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے لوگوں سے ‘ہر گھر ترنگا’ تحریک میں بڑی تعداد میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔ اس دوران پی ایم مودی نے ان لوگوں کی ہمت اور کوششوں کو بھی یاد کیا جنہوں نے آزاد ہندوستان میں ملک کی آزادی اور ترنگا لہرانے کا خواب دیکھا تھا۔ پی ایم مودی نے ’ہر گھر ترنگا‘ تحریک کے تحت 13 سے 15 اگست تک ترنگا لہرانے کی اپیل کی ہے۔ ایسے میں یہ بات بھی سبھی کو یاد رکھنی چاہیے کہ پرائم منسٹر نریندر مودی اسی آر ایس ایس کے ایک تربیت یافتہ معتمد فرد ہیں جس آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر ناگپور میں آزادی کے بعد سے لے کر 2002ء؁ تک کبھی ترنگا نہیں لہرایا گیا، خواہ وہ یوم آزادی کا موقع رہا ہو یا یوم جمہوریہ کا، آر ایس ایس کے دفتر پر ترنگا کے بجائے بھگوا جھنڈا ہی نظر آتا تھا۔ جبکہ آر ایس ایس پر سے پابندی اسی شرط پر ہٹائی گئی تھی کہ وہ بھارت کے ترنگے اور آئین پر یقین رکھیں گے۔اب اگر اسی تنظیم سے آنے والا ایک وزیر اعظم ہر گھر ترنگا لہرانے کی بات کر رہا ہے تو ہم اس کا استقبال کرتے ہیں؛ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہنا چاہیں گے کہ مودی جی! ہر گھر ترنگا بہت اچھی بات ہے، ہم بڑی شان سے ترنگا لہراتے آئے ہیں، ہر گھر ترنگا کے ساتھ ساتھ اگر ہر گھر راشن ہوجائے تو کیا ہی اچھا رہے گا، ہر گھر میں جی ایس ٹی کی مار کم ہوجائے، ہر گھر میں گیس سلینڈر سستے میں پہنچ جائے، ہر گھر کے ٹی وی چینلوں پر ہندو مسلم ڈبیٹ بند ہوجائے، ہر گھرروزگار ہوجائے تو کیا ہی اچھا ہوگا، ذرا اس کے لیے بھی کوئی مہم چلائیے۔
قارئین کرام! آج پورا دیش آزادی کے 75سال پورے ہونے پر ’’آزادی کا امرت مہتسو‘‘منارہا ہے۔لیکن بھارتی فوج کی شاندار روایت کی بے حد مضبوط کڑیوں میں ایک برگیڈئیر محمد عثمان کا 3؍ جولائی کو یوم شہادت خاموشی کے ساتھ گذر گیا۔ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ ان کی قربانیوں کو دیش اب لگ بھگ بھول چکا ہے۔ اترپردیش کے اعظم گڑھ ( موجودہ مئو) کے بی بی پور میں پیدا ہوئے عثمان بھارتی فوج افسران کے اس شروعاتی بیچ میں شامل تھے، جن کی ٹریننگ برطانیہ میں ہوئی۔ دوسری عالمی جنگ میں اپنی قیادت کے لیے قابل تعریف کارکردگی انجام دینے اور کئی بار ترقی حاصل کرنے والے برگیڈیئر محمدعثمان 1947ء؁ میں بھارت- پاک جنگ کے وقت اس پچاس پیرا بریگیڈ کے کمانڈر تھے، جنہوں نے ’’نوشیرا‘‘ میں تاریخی جیت حاصل کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں’’نوشیرا کا شیر‘‘کہا جاتا ہے۔
بریگیڈیئر محمد عثمان کے بارے میں فوجی مؤرخین کہتے ہیں کہ اگر وہ زندہ رہتے توبھارت کے پہلے مسلم آرمی چیف بھی بن سکتے تھے۔ حکومت ِ پاکستان نے بھی انہیں ملکی فوج کا سربراہ بننے کی پیش کش کی تھی لیکن انہوں نے اپنی جان مادرِ وطن بھارت پر ہی نچھاور کرنے کو ترجیح دی تھی۔
بریگیڈیئر محمد عثمان 1948ء؁ کی ہند-پاک جنگ کے دوران شہید ہوئے۔محمد عثمان اس وقت بھارتی فوج کے اعلیٰ ترین افسر تھے۔
قارئین کرام ! جہاں ہم آزادی کا 75؍ واں جشن منانے جارہے ہیں، وہیں ملک کے مختلف حصوں میں کچھ لوگ آج بھی ذہنی غلامی میں مبتلا ہیں، ان کے مطابق اس ملک میں کھانے پینے، پہننے اوڑھنے اور چلنے پھرنے کی آزادی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ وہ جس طرح چاہیں لوگ اس طرح پہنیں، وہ جیسے چاہیں لوگ اس طرح کھائیں اور وہ جس طرح چاہیں لوگ اس طرح کا معاملہ کریں، حتی کہ اگر انہیں آپ کا گائے پالنا پسند نہیں ہے تو اسی بات پر وہ آپ پر حملہ کر سکتے ہیں، ماناجاتا ہے کہ ان لوگوں کو انگریز ہی اس ملک میں چھوڑ گئے تھے کہ چونکہ تم لوگ ہمارے تربیت یافتہ ہو تو جب تک تم اس ملک میں رہوگے، یہاں کے بسنے والے عوام کبھی بھی کھل کر آزادی کا احساس نہیں کر پائیں گے۔ قارئین! میں ایسا اس لیے لکھ رہا ہوں کہ’’ دی وائر‘‘ کی رپورٹ کے مطابق کرناٹک کے شہر منگلورو میں ہندتوا وادی تنظیم ’’بجرنگ دل‘‘ کے ارکان کے حملے میں زخمی ہونے والا 18 سالہ مسلم نوجوان ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا کو الوداع کہہ کر چل بسا۔ ’’دی وائر‘‘ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ کرناٹک کے منگلورو میں 19؍ جولائی کو مبینہ طور پر ’’وشو ہندو پریشد- بجرنگ دل‘‘ کے کچھ لوگوں نے ایک مسلم نوجوان پر حملہ کردیا تھاہندوتوا وادی گروپ کے ایک فرد کو مسلم نوجوان کے گائے پالنے پر اعتراض تھا، حملے کے بعد نوجوان کو زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا، جہاں اس نے دو دن بعد دم توڑ دیا۔
قارئین کرام! ’’دی للن ٹاپ‘‘ کی ایک خبر کے مطابق حال ہی میں اتر پردیش کے کاس گنج سے مبینہ لو جہاد اور عصمت دری کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں تک کہ معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔ لیکن، وہاں کیس نے ایک مختلف موڑ لے لیا۔ عصمت دری کا الزام لگانے والی لڑکی ہی عدالت میں اپنے بیان سے مکر گئی، لڑکی نے عدالت میں بتایا کہ اسے ایک مسلمان لڑکے کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کے لیے کرایے پر رکھا گیا تھا۔ اس معاملے کا الزام اس نے بی جے پی یووا مورچہ کے ضلع نائب صدر امن چوہان پر لگایا ہے۔
’’آج تک‘‘ کے آریندر سنگھ کی رپورٹ کے مطابق لڑکی کے بیان کی بنیاد پر پولیس نے بی جے پی لیڈر امن چوہان اور دو دیگر نوجوانوں کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا ہے۔یعنی ’’لو جہاد‘‘ جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، جس کو خواہ مخواہ مسلم نوجوانوں کو ہراساں کرنے اور جس ’’لو جہاد‘‘ کے ٹیگ کو مسلم نوجوانوں پر بے جا الزامات لگاکر ان کے خلاف سازشی ماحول پیدا کرنے کے لیے گھڑا گیا تھا، اس ٹیگ کے ذریعے کتنے ہی بے قصور مسلم نوجوانوں پر مظالم ڈھائے گئے، لیکن کاس گنج کا یہ معاملہ اس سے بھی آگے کا ہے کہ ایک بی جے پی کا ذمہ دار پہلے ایک لڑکی کو ہائر کرتا ہے، پھر اس کے ذریعے ایک مسلم نوجوان پر ’’لو جہاد‘‘ کا الزام لگواتا ہے۔ آپ سوچیے کہ یہ سوچ کہاں سے پروان چڑھتی ہے، کہاں سے آتے ہیں یہ لوگ، کون ان کو ایسی چال چلنے کا سبق پڑھاتا ہے، کونسا گروپ ہے ان کے پیچھے جو انہیں اس طرح کی ٹریننگ دے رہا ہے، یہ تو اچھا ہوا کہ اس لڑکی نے عدالت میں سچ بول دیا، ورنہ ’’لوجہاد‘‘ کے نام پر پھر ایک بے قصور کی زندگی برباد ہونے والی تھی۔
قارئین کرام! کچھ دنوں سے کانوڑ یاتریوں کو مسلمانوں اور جمعیۃ علماء کے کار کنوں کے ذریعے پانی پلانے، دوا دینے اور ان پر پھول برسانے کی تصویریں وائرل ہورہی ہیں، اس پر دو طرح کے تبصرے دیکھنے کو مل رہے ہیں، جو نہایت آزاد خیال سمجھے جاتے ہیں اور جن کے نزدیک سیکولرزم کا مطلب مذہب کو پس پشت ڈال کر آگے نکل جاناہے وہ تو اس کی بہت تعریف کر رہے ہیں؛ لیکن دوسری طرف اسلام نواز علمائے کرام اور ایمان و توحید کے متوالے اس پر طنز و تنقید کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں، اس بارے میں میری رائے یہ ہے کہ صرف پانی پلانا، کھانا کھلانا، شربت پیش کرنا کانوڑ یاتریوں کے ساتھ انصاف نہیں ہے؛ بلکہ ان کی خدمت کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ان کی دنیوی پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ ان کی آخرت کی پیاس کی فکر کی جائے، آپ اپنے سینے میں ایمان کی دولت چھپاکر اگر انہیں صرف پانی کا ایک گھونٹ پلا رہے ہیں تو یہ ان کے ساتھ سراسر ظلم ہے، آپ پانی کی سبیلیں لگائیے؛ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے سامنے اسلام کا تعارف بھی پیش کیجیے، اسلام کی حقانیت پر مشتمل ہندی کی کتابیں انہیں دیجیے، انہیں دعوتی لٹریچر پیش کیجیے، ہندی میں آخری نبی محمدﷺ کی سیرت پر مشتمل کتاب ان کو ہدیہ کیجیے تبھی جاکر آپ کا دیا ہوا پانی ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا اور اگر آپ ایسا نہیں کرتے اور صرف اپنی تنظیم کا بینر لگاکراپنی ناموری کے ذریعے گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے کی امید رکھتے ہیں تو شاید اب آپ کی ایسی امید کا زمانہ ختم ہوچکا ہے، اب تو اس کا بدلہ اگر آپ گنگنا جمنی تہذیب کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کی سب سے بہتر شکل یہی ہے جو ایک فس بک یوژر ’’ابھی ڈانڈیا ‘‘ کے نام سے وائرل ہورہے اس پیغام میں بتائی گئی ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ ’’کانوڑ یاترا میں جانے والوں کو ہمارے مسلم بھائی شربت پلا رہے ہیںاب بھارت کے ہندؤں کا بھی فرض بنتا ہے کہ گنگنا جمنی تہذیب کو بچانے کے لیے جب وہ تبلیغ میں جائیں تو انہیں گو موترپلائیں۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
28؍ جولائی 2022ء؁

Comments are closed.