ایک نئی سوچ اور نئی پہل کی ضرورت

ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین
سابق وائس چیئرمین، بہار انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کونسل

ایک طویل عرصے سے ہندوستانی مسلمان حالات کے جس دلدل میں دھکیل دیے گئے ہیں، اس سے نکلنے کی کوشش کررہے ہیں مگر وہ مزید دھنستے چلے جارہے ہیں۔ کبھی کبھی سیکولر سیاسی پارٹیوں کی ظاہری زبانی ہمدردی سے کچھ حوصلہ ملتا ہے، مگر وہ بھی ایک کچی ڈال کی طرح ٹوٹ کر گرجاتی ہے اور وہ مایوس اور نامراد ہوکر حالات کے رحم و کرم پر جینے کو مجبو رہوتے ہیں۔ ایک مسلمہ اصول ہے جو اپنی مدد آپ نہیںکرتا، اسے دوسرے بھی مدد نہیں کرتے۔
یہ بات کہنی شاید اچھی نہ لگے کہ ہم نے اب تک جو سوچا ہے اور جو کوشش کی ہے اس میں کچھ کمی رہی ہے، جس کی وجہ سے ہم نہ حالا ت اور معاملات کو سمجھ پا رہے ہیں او رنہ اس کے لیے صحیح زبان او رمحاورات کا استعمال کرپارہے ہیں اور نہ صحیح سمت میں کوشش کرپارہے ہیں۔ 15؍اگست 1947کو جس بھارت کا ظہور ہوا وہ نہ قدیم بھارت تھا، نہ عہدِ وسطیٰ کا بھارت تھا اور نہ انگریزی عہد کا بھارت تھا۔ یہ نہ ہندو بھارت تھا نہ مسلم بھارت تھا اور نہ سکھ اور دلت یا آدی باسی کا بھارت تھا۔ یہ بھارت تمام بھارت میں بسنے والے ناگرکوں کا بھارت تھا چاہے ان کا کوئی دھرم، جاتی، ورگ، بھاشا اور رنگ و جنس ہو۔ یہ دھرم نرپیکچھ اور پنتھ نرپیکچھ بھارت تھا جو سبھی شہریوں کی برابری، بھائی چارہ، انصاف او رمواقع کی یکسانی پر یقین رکھتا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ سماج میں بھید بھاؤ نہیںتھا، اونچ نیچ نہیں تھی، چھوا چھوت نہیں تھا، ہنسا اور انیائے نہیں تھا۔ مگر یہ امید کی گئی کہ جیسے جیسے بھارت غلامی کے سائے سے باہر آئے گا۔ سمویدھان کی بھاونا عام ہوگی اور بھارت میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوں گی، جمہوری ادارے مضبوط ہوں گے ہماری سیاست اور سماج کی جو کمیاں ہیں وہ دور ہوں گی اور ایک نئے بھارت کا ظہور ہوگا۔
لیکن افسوس ہے آزادی کے پچھترسالوں کے بعد بھی ہم اگرچہ آزادی کا امرت مہوتسو منا رہے ہیں مگر اپنے آئینی آئیڈیل سے کوسوں دور ہیں۔
کسی بھی کامیاب ڈیموکریسی کی پہچان یہ ہے کہ اس ڈیموکریسی میں جو رہنے والے غریب، کمزور، اقلیت اور محروم طبقات کے لوگ ہیں وہ کتنے محفوظ، سرکشچھت، سکھی اور مطمئن ہیں۔ اس پیمانے پر ہم ناکام ریاستوں کی فہرست میں گنے جاتے ہیں۔
جمہوریت صرف الیکشن جیتنے اور ہارنے کا نام نہیں ہے اور نہ وقت پر انتخاب کرالینے کا نام ہے۔ جمہوریت نام ہے لوگوں کی حفاظت کا، انصاف کا، خوشی اور خوشحالی کا اور لوگوں کی حصہ داری کا۔ اگر آپ سماج کے ایک ورگ کو چھوڑ کر آگے بڑھیں گے تو نہ سبھوں کی حصہ داری ہوگی اور نہ سبھوں کا وکاس ہوگا۔ اس وقت جو ہمارے اربابِ اقتدار ہیں انہیں اپنی پالیسی اور طرزِ عمل پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
جہاں تک مسلمانوں کا سوال ہے، وہ اس ملک کی ایک اٹوٹ اکائی ہیں۔ یہ بات مسلمانوں کو بھی اچھی طرح سمجھنا چاہیے اور دیش کے تمام کرن دھاروں اور عام لوگوں کو بھی پرامن بقائے باہم واحد راستہ ہے جو ملک میں شانتی اور خوشحالی لاسکتا ہے۔ اس کے لیے امن، انصاف اور حصہ داری ضروری ہے۔ حصہ داری کے لیے صرف مطالبہ نہیں اہلیت بھی پیدا کرنا چاہیے۔ اس کے لیے تمام دباؤ کے باوجود اپنی نئی نسل کو اچھی تعلیم و تربیت، صحت و اخلاق کی درستگی کے ساتھ ملک کے دستور کے مطابق ایک اچھا ناگرک بنانے کی کوشش پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔ پورا ہندوستان ہمارا گھر ہے اور پورے ہندوستانی ہمارے بھائی بند۔ ہم سب ایک دیش ایک سماج کے لوگ ہیں، ا س لیے چھوٹی موٹی باتوں پر آپسی اختلاف کو چھوڑ کر ہم لوگو ںکو آپسی بھائی چارہ کو مضبوط کرنے کی ایماندارانہ کوشش کرنی چاہیے۔

Website: abuzarkamaluddin.com
کالم نگار اردو کی بیسٹ سیلر بک’اکیسویں صدی کا چیلنج اور ہندوستانی مسلمان- بند گلی سے آگے کی راہ‘ کے مصنف ہیں۔

 

Comments are closed.