ای ڈی؛ اک اشارہ سمجھنے والوں کو!

ڈاکٹر عابد الرحمٰن (چاندور بسوہ)
آجکل ای ڈی بہت چرچا میں ہے،آئےدن کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی لیڈریامنسٹرکوای ڈی کے نوٹس یاسمن،چھاپے،کئی کئی گھنٹوںاوردنوں تک پوچھتاچھ اورگرفتاریوںکی خبرمیڈیاکی زینت بن رہی ہے- ای ڈی نےاچھےاچھےاوربڑےلیڈروںکوملزمین کےکٹگھرے میں لاکھڑاکردیاہے-پچھلےدنوںمنی لانڈرنگ کی روک تھام کے جس قانون کےتحت ای ڈی کام  کرتی ہےاسکویعنی ای ڈی کےاختیارات کوسپریم کورٹ میں چیلنج کیاگیاتھا- سپریم کورٹ نےاسےخارج کرتےہوئےای ڈی کےاختیارات کوبرقراررکھا یعنی جوکچھ ای ڈی کررہی ہےآئین وقانون کی روسےغلط نہیں ہے ۔

ای ڈی یعنی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ایک کثیرالشعبہ تنظیم ہےجواقتصادی جرائم اورغیرملکی زرمبادلہ کےقوانین کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کےلیےقائم کی گئی ہے۔  اسے یکم مئی 1956 کوقائم کیاگیاتھا، 1960 میں اس ڈائریکٹوریٹ کاانتظامی کنٹرول وزارت اقتصادی امورسےمحکمہ محصولات کومنتقل کردیاگیا۔  فی الحال ،ڈائریکٹوریٹ محکمہ محصولات،وزارت خزانہ،حکومت ہندکےانتظامی کنٹرول میں ہے ۔یہی بات ای ڈی کومرکزی حکومت کی دوسریت فتیشی ایجنسیوں سے ممتازکرتی ہےجیسےسی بی آئی جوکہ جرائم کی جانچ کرنےوالی مرکزی ایجنسی ہےاس میں اور ای ڈی میں فرق یہ ہےکہ مرکزی حکومت ریاستوں کےمعاملات ریاستوںکی اجازت کےبغیرسی بی آئی کو نہیں سونپ سکتی،جبکہ ای ڈی پوری طرح مرکزکےزیراثرہےاس کی کسی جانچ کےلئی ریاستی سرکاروںسےاجازت کی ضرورت نہیں ہوتی اورپچھلےکچھ سالوں میں اسکی کارروائیوں میں کئی گنااضافہ دیکھنے میں آیاہےشائد اسی لئےاسکےاختیارات کوسپریم کورٹ میں چیلینج کیا گیا تھا –

کہاجارہاہےکہ ای ڈی کی کارروائیوں میں یہ اضافہ دراصل حکومت کےمنی لانڈرنگ کوروکنےکےعزم کی عکاسی کرتاہے۔ پرانے مقدما ت کی تحقیقات اورمنی لانڈرنگ کےپیچیدہ مقدمات کی تحقیقات جن میں متعددملزمان شامل ہیں جن کےلیےمتعددتلاشی کی ضرورت ہوتی ہے،تلاشیوں کی تعداد میں اضافے کی کچھ وجوہات ہیں۔ لیکن  ایک حقیقت یہ بھی ہےکہ ای ڈی نے  تلاشیوں چھاپوں گرفتاریوں اورمیڈیا میں ہوئے شور کے ساتھ اب تک جتنے بھی مقدمات قائم کئے عدالتوں میں انکی کثیر تعداد کو ثابت نہیں کر پائی –

اسی لئے ای ڈی پر مسلسل الزام لگایا جارہا ہے کہ یہ حکمراں جماعت کے ذریعہ مخالف پارٹیوں کے ممبران کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے یا خودکی پارٹی سےبغاوت کر کےاپنی پارٹی کی حمایت پرمجبور کرکے حکومت سازی میں مدد کرنے کے لئے چلائے جارہے آپریشن کے لئے ہی اتنی زیادہ تیز اور سخت کارروائیاں کررہی ہے – اورایسا دیکھنے میں بھی آرہا ہے کہ اپوزیشن کی جس ریاست میں ای ڈی کی کارروائیاں ہوتی ہیں کچھ دنوں میں وہاں برسراقتدار پارٹی میں بغاوت ہوتی ہےاورحکومت گرا دی جاتی ہے – کہا تو یہی جاتا ہے کہ یہ سب معمول کی کارروائیاں ہیں حکومت کےڈکٹیشن یا دباؤ کا یا حکومت مخالف پارٹیوں کی سرکاریں گرانےیا ان میں بغاوت کروانے کے الزامات غلط اور بےبنیاد ہیں لیکن کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ معمول کی یہ کارروائیاں اپوزیشن کےکسی وزیر یالیڈر کے علاوہ حکمراںجماعت یااسکی کسی حلیف جماعت کےکسی لیڈر کے خلاف ہوئی ہوں  -اگر یہ مان لیا جائے کہ اپوزیشن پارٹیوں کے قائدین جن کے خلاف ای ڈی نےکارروائی کی ہے وہ سب ھی بدعنوانی میں ملوث رہے ہیں اور ان سے معاشی جرائم کے قابل تصدیق ثبوت ملے ہیں ۔  توبھی اس طرح کی کارروائیاں ان لیڈران  کےخلاف بھی نہیں ہوئیں کہ وہ جب اپوزیشن میں تھے ان کے خلاف کرپشن کے الزامات لگائے گئے تھے لیکن جب وہ حکمراں جماعت میں آگئے تو ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی جیسے یہاں آتے ہی ان کی  کرپشن کی گندگی صاف ہو گئی  – ایسےبھی معاملات ہیں کہ جن میں ای ڈی کی کارروائی کےبعدجب کوئی لیڈر حکمراں جماعت میں شامل ہوا تو اس کے  خلاف ہونے والی کارروائی اتنی ڈھیلی پڑگئی کہ جیسے بند ہو گئی ہو –

لوگ کہتے ہیں کہ سیاسی فائدے اورنقصان کےلیےتفتیشی ایجنسیوں کا غلط استعمال ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے لیکن گزشتہ آٹھ برسوں میں جس طرح یہ رجحان ایک ایجنڈے کے طور پر پروان چڑھا ہے ،وہ تشویشناک ہے ،ساتھ ہی تفتیشی اداروںکی ساکھ اور جمہوریت کی تنزلی کا اشارہ بھی۔

ای ڈی کی کارروائیوں سے یہ نتیجہ نکالا جا رہا ہے کہ حکومت کے جن پر زور و پر شور مخالفین کے خلاف کارروائی نہیں ہو رہی ہے اصل میں وہ حکومت مخالف نہیں بلکہ اس کے حلیف ہیں یا تو وہ دانستہ اور براہ راست حکومت کے لئے کام کر رہے ہیں یا اگر ایسا نہیں بھی ہے تو حکومت کو ان سے کسی نہ کسی طرح کوئی نہ کوئی فائدہ ضرور پہنچ رہا ہے ۔ یعنی ای ڈی کی کاروائیاں ایک اشارہ ہے یہ سمجھنے کا کہ  کسے حکومت اپنے لئے خطرہ سمجھتی ہے ،کون حکومت اس کی پالسیوں اور اس کے نظریہ کی مخالفت میں سچا ہے، اور کون  اس کی مخالفت کے نام  دانستہ یا نا دانستہ دراصل اسی  کو تقویت پہنچا رہا ہے۔     

dr.abidurrehman@gmail.com

 

Comments are closed.