ایک سال اور گھٹ گیا
تحریر: محمد حنیف ٹنکاروی
فانی زندگی کا ایک اور سال گزر گیا، سلسلہِ روز و شب کا ایک اور برس بیت گیا۔
کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیا
جیون کا اک اور سنہرا سال گزر گیا
دنیا کی دوسری قومیں سال کے اختتام اور نیا سال شروع ہونے پر خوشیاں مناتی ہیں اور ایک دوسرے کو مبارک بادی پیش کرتی ہیں، مومن اس طرح کی خوشی نہیں مناتا ہے، خوشی تو وہ منائے جن کو ماضی کے بارے میں نیک عملی کا یقین ہو، لیکن کون ایسی غلط فہمی میں مبتلاء ہو سکتا ہے، ہمیں تو ماضی کے بارے میں بھی افسوس ہے اور آئندہ کا اندیشہ ہے۔
ہاں سال کی تکمیل، تجدیدِ عہد کا موقع ہے، ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حضور یہ درخواست کرے کہ اے اللہ! یہ سال کیسا بھی گزرا، گزر گیا کوتاہیوں کو معاف فرما کر آنے والے سال کو عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت ہر اعتبار سے بہتر بنادے۔
مومن کے لئے خوشی کا دن تو وہ ہے کہ موت قریب آ رہی ہو، منھ پر کلمہ جاری ہو، قبر و حشر کے مراحل بھی آسان ہو تو وہ خوشی کی گھڑیاں اور دن ہوگا۔
کیونکہ اس چند روزہ حیاتِ مستعار کا سب سے حسین تحفہ ہی حسن خاتمہ ہے، جس کے لئے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلی ہوئی یہ دعا کتنی خوبصورت ہے، اسے اپنی معمول کی دعاؤں میں شامل کر لینا چاہیے:
اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ
اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو حسن خاتمہ کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ آمین
Comments are closed.