عزت و افتخار کا واحد راستہ بہترین تعلیم و اعلیٰ تربیت: ڈاکٹر عبدالقدیر

مسلمانان ہند اپنے بچوں کے مستقبل کے تئیں بیدار ہوں : مفتی محمد قمر عالم قاسمی
خادم التدریس والافتاء مدرسہ حسینہ کڈرو و قاضی شہر رانچی جھارکھنڈ سرکار
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہےبسیراکر پہاڑوں کی چٹانوں میں
جنوبی ہند کرناٹک کے مشہور و معروف ادارہ شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشن کے چیئرمین عالی وقار جناب عبدالقدیر صاحب، وہاں کے اساتذہ، منتظمین اور طلبہ کی حد درجہ مستعدی، بہترین نظم و ضبط، اعلی تعلیم و تربیت، چاق و چوبند ڈسپلن، مہمانوں کی خاطر و مدارات، حسن اخلاق، اخوت و ہمدردی معاملات کی درستگی و صداقت، نصرت و اعانت باعث رشک اور قابل دید ہے۔
ہوا یوں کہ جولائی 2022 کے آخری ہفتے میں شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشن کے چیئرمین جناب ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کا سفر شہر آہن جمشیدپور ہوا، واپسی میں دو گھنٹہ انہیں رانچی میں ٹھہرنا تھا ان کی خواہش ہوئی کہ شہر رانچی کے چنندہ لوگوں کی نشست تعلیم کے موضوع پر ہو جائے۔ چنانچہ قصواء فاؤنڈیشن و فرینڈس آف ویکر سوسائٹی جامعہ نگر کے ذمہ داران نے آنافانا جامعہ نگر میں عصر تا مغرب ایک مختصر سی میٹنگ رکھی جس میں احقر راقم السطور محمد قمر عالم قاسمی خادم التدریس مدرسہ حسینیہ کڈرو و قاضی شہر (ضلع رانچی) جھارکھنڈ سرکار بھی شریک ہوا ڈاکٹر صاحب نے مجھے اپنے عزیز حافظ عبداللہ کے ساتھ بیدر کرناٹک کے سفر کی دعوت دی، ان ہی کی دعوت پر تین اگست2022 کو اپنے چھوٹے بیٹے عزیزم حافظ عبداللہ کے ہمراہ شاہین گروپ آپ انسٹی ٹیوشن بیدر کرناٹک پہنچا۔ کالج کے سارے انتظامات جیسا کہ میں نے معائنہ کیا اعلیٰ، جدید ترین سہولیات سے لیس و مزین اور انوکھے تھے۔ ہندوستان کے تمام صوبے ہی نہیں بلکہ تقریبا تمام اضلاع سے لوگ اپنے اپنے بچے اور بچیوں کو لے کر جوق در جوق شاہین بیدر میں داخلہ کے لیے پہنچ رہے تھے، داخلہ کی کاروائی نہایت ہی برق رفتاری، خندہ پیشانی، خوش مزاجی، دلجمعی، بلند حوصلگی، منصوبہ بندی، دانش مندی اور خوش اسلوبی کے ساتھ وہاں کے اسٹاف انجام دے رہے تھے، نہ تواجنبیت کا احساس اور نہ ہی اکیلا پن اور احساس کمتری کا شکوہ، ہر ملنے والا ایک دوسرے کے لئے معاون و مددگار، ہر ایک کی زبان پر شاہین شاہین شاہین گویا ہر آنے والا اپنے بچے اور بچیوں کو شاہین کی طرح پرواز میں بلندیوں پر دیکھنے کا متمنی۔
بہرحال !عزیزم حافظ عبداللہ کے داخلے کی کاروائی مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹر صاحب کے دسترخوان پر کھانے کی دعوت ملی، کھانے کے بعد جناب عبد الرحمن اعظمی صاحب نے چند شعبہ جات کا معائنہ کرایا ،رات کا قیام کالج کے ہوسٹل میں ہوا، صبح کا ناشتہ ہوسٹل ہی میں کالج کی طرف سے پہنچایا گیا، دوسرے دن کالج کے پرنسپل جناب خواجہ پٹیل صاحب سے ملاقات ہوئی، ملاقات میں انہوں نے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے چیمبر میں کرسی سے اٹھ کر گلے لگایا،علیک سلیک کے بعد ڈاکٹر صاحب سے دوبارہ ملاقات ہوئی، انہوں نے حیدرآباد تک ساتھ چلنے کو کہا اس دوران اسٹوڈیو پہنچ کر دو منٹ کا تاثر پیش کیا، عصر کی نماز کے بعد پانچ بجے شام ہم لوگ (مولانا عبد الرب صاحب مظاہری مظفرپور، ممتازبھائی، یوسف بھائی صاحبان جمشید پور) حیدر آباد کے لیے روانہ ہوئے، راستے میں میں نے ڈاکٹر صاحب سے کالج سے متعلق کچھ بات چیت کی جو سوال و جواب کی شکل میں ذیل میں موجود ہیں۔
سوال: کیا آپ کے اسکول اور کالج میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات صرف مسلم ہیں؟
جواب: نہیں ہمارے انسٹی ٹیوشن میں مسلم، غیر مسلم دونوں طرح کے طلبہ و طالبات ہیں اور دونوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔
سوال: پورے ہندوستان میں کل کتنے برانچ ہیں؟
جواب: کل چھپن برانچ ہیں
سوال: اتنے بڑے نظام اور سسٹم کو آپ کس طرح سنبھالتے ہیں؟
جواب: گیارہ سو کے لگ بھگ اساتذہ، ملازمین اور عملے اس پورے نظام کو سنبھال رہے ہیں اس میں میرا کوئی کمال نہیں ہے میں ان کا شکر گزار ہوں۔
سوال: آپ میڈیکل، ڈگری اور ڈپلومہ وغیرہ کالجز کیوں نہیں کھولتے؟
جواب: 9 تا 12 ویں اقامتی اسکول کی زیادہ ضرورت ہے خواہ بچوں کے اسکول ہوں یا بچیوں کے تاکہ ان کی بنیاد مضبوط ہو کیونکہ اس عمر میں بگڑنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
سوال: آپ چونکہ یہ ادارہ کرناٹک میں چلا رہے ہیں حکومت کی طرف سے کوئی رکاوٹ؟
جواب: نہیں حکومت کرناٹک کا بھرپور تعاون حاصل ہے اور کرناٹک سرکار کی طرف سے سب سے بڑا شہری سویلین ایوارڈ شاہین انسٹی ٹیوشن کو ملا ہے۔
سوال: تعلیمی میدان کے علاوہ آپ کی خدمات؟
جواب: سماجی، قومی یکجہتی، آپسی بھائی چارہ کے قیام اور غریبوں کے مدد کی ضرورت ہوتی ہے وہاں میں اپنی خدمات سرانجام دیتا ہوں الحمدللہ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ رمضان میں میں نے مسجدوں میں اعلان کرایا کہ آپ کے استعمال کے لائق جو کپڑے نہیں ہیں وہ ہمیں دے دیں الحمدللہ ایک اعلان پر آٹھ ہزار کپڑے رمضان میں جمع ہوئے میں نے مشین سے دھلوا کر شہر اور مضافات بیدر میں تقسیم کر آیا جس سے ہندو، مسلم، کرسچر، آدیواسی سب مستفید ہوئے۔
سوال: فی الوقت بیدر کے لوگوں کا آپ کے ساتھ رویہ؟
جواب: الحمدللہ اللہ کا فضل ہے وہ اب مجھ سے بے حد محبت کرتے ہیں ان کا بھرپور تعاون ہندو مسلم سکھ عیسائی ہر ایک کا ہمارے ساتھ ہے۔ اب اہل بیدر خوش ہیں وہ اس وجہ سے کہ علاقے کا تعارف شاہین کے ذریعے ہو رہا ہے۔
سوال: اگلا ٹارگیٹ پورے ملک میں آپ کا کیا ہو سکتا ہے؟
جواب: ہر ضلع میں اس انداز کے اسکول کی اس وقت اہم ضرورت سمجھتا ہوں جہاں پر نسل کی تعلیم و تربیت کے لئے اور بہترین طرز زندگی کے لئے اعلی تعلیم کا انتظام ہو۔
سوال: شاہین کے طرز پر آپ کتنے کالج کھولنا چاہتے ہیں؟
جواب: شاہین انسٹی ٹیوشن بیدر کی طرح 500انسٹی ٹیوشن کی اس ملک کو ضرورت ہے وہ قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی جو اپنی اولاد کی تعلیم سے زیادہ اس کی شادی بیاہ پر خرچ کرے، نیز وہ قوم بھی کبھی ترقی نہیں کرسکتی جو اپنی نسل کے تہذیب کی حفاظت نہیں کر سکتی۔

Comments are closed.