گلشنِ میر

 

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

 

ویشالی ضلع کے ام المدارس مدرسہ احمدیہ ابابکرپور، ویشالی سے متعلق معلومات، احوال و واقعات، رجال کار اور تاریخ پر مشتمل پہلی کتاب ”گلشنِ میر“ مطبوعہ شکل میں آگئی ہے، مدرسہ احمدیہ میں، ایک سال میں نے پڑھا ہے، حفظِ قرآن یہیں شروع کیا تھا، دارالعلوم سے فراغت کے بعد بیس سال یہاں پڑھایا ہے، اس طرح دیکھیں تو یہ میری مادرِ علمی بھی ہے اور میرا میدانِ عمل بھی، 1984ء میں اس مدرسہ کی تاریخ لکھنے کا خیال میرے دل میں آیا تھا، خطہ (سن آفسس ) بھی تیار کر لیا تھا، لیکن دوسری مشغولیات‌ اور مقتضیات نے اس قدر دبوچا کہ یہ کام نہ ہوسکا، دیر سے ہی سہی مولانا محمد شمیم احمد شمسی بن مولانا عبدالوہاب شمسی موجودہ پرنسپل مدرسہ احمدیہ ابابکر پور نے اس کام کو مکمل کیا، دیکھ کر خوشی ہوئی، دوسو چھبیس صفحات کی اس کتاب کو احمدیہ لائبریری ابابکر پور ویشالی نے شائع کیا ہے، کمپوزنگ تو قیر احمد کی ہے، کاغذ، طباعت اور کارڈ بورڈ ، ٹائٹل جس پر مدرسہ احمدیہ کی مرکزی عمارت اور آخری صفحہ جس پر مدرسہ کے باغ کی تصویر ہے، نے ٹائٹل کو جاندار اور شاندار بنا دیا ہے، کتاب کا انتساب بانی و معاونین بانی، صدر و سکریٹری ممبران، سابق و حال اساتذہ کرام و طلبہ کے خلوص وایثار کے نام ہے، حمد ، نعت، تاثرات بیاد گار قطبِ زمانہ حضرت شاہ احمد میر، دینی مدارس نورِ ہدایت وعلم کا سر چشمہ ، ترانہ مدرسہ، پیش لفظ اور نقوشِ پارینہ پر اکیس صفحات صرف ہوئے ہیں، ترانہ مدرسہ سابق استاذ مدرسہ احمدیہ ابابکرپور، مولانا رئیس اعظم سلفی، تاثرات مولانا سید ابوالخیر جبریل، حمد ماخوذ یاد حرم اور نعت مولانا عبدالوہاب شمسی کے از ابناء قدیم مدرسہ ہذا کا ہے، میرے علم میں یہ بات تھی کہ مولانا عبدالوہاب شمسی بڑے عالم، اپنی پنچایت کے مکھیا، مومن کانفرنس کے ذمہ دار، جناب عبدالاحد نور کے دست و بازو تھے، میرا آنا جانا ان کے یہاں کثرت سے تھا، اس لیے کہ میرے مدرسہ آمد و رفت کا راستہ ان کے دروازہ پر ہوکر گزرتا تھا، اتنے تعلق کے باوجود میرے علم میں کبھی یہ بات نہیں آئی کہ ان کو شاعری کا بھی ذوق تھا یا وہ شاعری کیا کرتے تھے، میرے لیے یہ انکشاف کے درجہ کی چیز ہے۔

کتاب کے مشمولات چھ ابواب پر منقسم ہیں، گو باب کی سرخی نہیں لگائی گئی ہے، ان چھ ابواب میں (۱) بانی مدرسہ واولین صدر مجلسِ منتظمہ (۲) سکریٹری ، (۳) صدر المدرسین (۴) مدرسین علوم دینیہ (۵) سابق مدرسین علوم عصریہ (۶) متفرقات ( مضامین) اور آخر میں خطبۂ استقبالیہ اور کلیدی خطبہ بموقع سیمینار، امتحانات میں کامیاب طلبہ اور سال کا اندراج کیا گیا ہے، ہم جیسے لوگ بھی مختلف قلم کاروں کی جنبشِ قلم سے ” متفرقات“ میں سما گئے ہیں، اردو میں ’وغیرہ‘ کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے، سمجھنا چاہیے کہ متفرقات اسی قبیل کی چیز ہے، گو نقوشِ پارینہ میں جو تفصیلات دی گئی ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم لوگوں کا مقام ’ وغیرہ‘ سے اوپر ہے، چونکہ یہ مضامین الگ الگ لوگوں کے تیار کردہ ہیں، اس لیے مرتب کے ذہن میں اس کا کوئی مناسب عنوان نہیں آیا تو متفرقات سے کام چلا لیا۔

یہ پوری کتاب اصلاً مدرسہ احمدیہ سے وابستہ افراد و اشخاص کے ذکر سے عبارت ہے، تاریخ کا پہلو اس کتاب میں بہت کم ہے، اس کی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ مرتب کی اصل ماخذ تک رسائی نہیں ہوسکی، مدرسہ کی تاریخ کا سب سے اہم ماخذ وہ ” لاگ بک” ہے، جو پرنسپل کی الماری میں میرے وقت میں رہا کرتا تھا، حضرت مولانا سید محمد شمس الحق صاحب جب تک صدر مدرس تھے، بہت پابندی سے مدرسہ، ملک اور ریاست سے متعلق اہم معلومات اس میں درج کرتے تھے، مولانا عبدالمجید رحمانی کے وقت میں بھی اندراج ہوتا تھا، لیکن پہلے سے کم، مولانا مظاہر عالم صاحب کے وقت تک وہ رجسٹر ہم لوگوں کا دیکھا ہوا ہے، اس میں مدرسہ کی پہلی میٹنگ ، قیام میں تعاون کرنے والے لوگ اور ان کے عطیات، زلزلہ اور اس سے ہونے والے نقصانات مولانا مبارک اور جناب صفات احمد صاحب کی جائزہ رپورٹ سبھی کچھ درج تھا، جلسوں کی تفصیلات، آنے والے علماء کا ذکر بھی اس میں محفوظ تھا، مجھے نہیں معلوم کہ پرنسپل صاحب کو ان کی الماری میں یہ رجسٹر کیوں نہیں ملا، لگتا ہے کسی نے اسے غائب کر دیا، دوسرا ماخذ وہ معائنہ رجسٹر ہے، جس میں مشاہیر نے اپنی آمد کے موقع سے معائنہ لکھا، تیسرا ماخذ وہ روداد ہے جو بہت پابندی سے پہلے شائع ہوتا تھا، اگر کچھ نہ کیا جائے صرف لاگ بک، معائنہ رجسٹر اور روداد میں رقم دہندگان کی تفصیل چھوڑ کر اسے شائع کر دیا جائے تو وہ مکمل تاریخ ہوگی ، مولانا محمد شمیم احمد شمسی کو شاید یہ سب ترکہ میں منتقل نہیں ہو سکا، اس لیے کتاب میں تاریخ کا پہلو تشنہ ہے اور تشنگی دور کرنے کے لیے آگے بھی کام جاری رکھنا چاہیے۔

مولانا محمد شمیم احمد شمسی نے مدرسہ احمدیہ ابابکرپور کے حوالہ سے اپنی معلومات اور رجال کار کی تفصیلات کو بہترین انداز میں جمع کر دیا ہے، جو نقشِ اول بناتا ہے اس کو بڑی جان کاہی کرنی پڑتی ہے، اسے چیونٹی کے منہ سے دانہ دانہ جمع کرنا ہوتا ہے، بعد میں جو لوگ کام کرتے ہیں ان کے سامنے ایک نمونہ بھی ہوتا ہے اور مواد بھی، اس لیے کام کو آگے بڑھانا نسبتاً آسان ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ہمالیہ کے لیے زینہ بنانے والا کا زینہ بناتے بناتے اس کی کتابِ زندگی کا ورق الٹ جاتا ہے، لیکن اس کے آگے کام کرنے والے کو ایک اونچائی تک بنا ہوا زینہ ملتا ہے، اس لیے نقشِ اول کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، اس نقطۂ نظر سے مولانا کی یہ کوشش قابلِ قدر بھی ہے اور لائقِ تحسین بھی۔

اگر اس کتاب میں تاریخ کی تفصیل بھی ہوتی تو معلوم ہوتا کہ بانی مدرسہ کے بعد 1984ء تک تعمیری اعتبار سے ایک اینٹ کا اضافہ نہیں ہوا تھا، 1984ء میں جب مدرسہ میں میری آمد ہوئی تو نئی عمارتوں، بیت الخلا وغیرہ کا اضافہ ہوا، پانی ٹنکی اور جنریٹر کا صرفہ میں نے تنہا اکٹھا کیا تھا، امارت کانفرنس کے انعقاد اور دارالقضاء کا قیام صرف میری بھاگ دوڑ سے وجود میں آیا تھا، آل بہار مشاعرہ، مصلح الطلبہ کا نعتیہ مشاعرہ، ڈائمنڈ جوبلی پروگرام میں مدرسہ کے ذمہ داروں نے مجھ پر اعتماد کیا تھا اور اس کے خاکے میں نے بنائے تھے اور رنگ بھرنے کے لیے اساتذہ کے ساتھ دن رات ایک کر دیا تھا، ان میں سے کچھ کا تذکرہ جناب انوار الحسن وسطوی کے مضمون ویشالی میں امارت شرعیہ اور دیگر تفصیلات میرے ایک تفصیلی مضمون ” مدرسہ احمدیہ ابابکرپور کچھ یاد رہا، کچھ بھول گیا” میں دیکھا جا سکتا ہے، انوار الحسن صاحب کا مضمون اسی زمانہ میں مختلف اخبارات میں چھپا تھا اور میرا مضمون ” حرفِ تازہ پٹنہ ” کے فروری 2026ء کے شمارے میں اشاعت پذیر ہوا ہے، یہ چند باتیں اس لیے لکھ دی گئیں، تاکہ تاریخ کے کچھ اوراق محفوظ ہو جائیں اور آئندہ کوئی قلم اٹھائے تو اس کو درست مواد مل جائے، آج کی تحریری مستقبل کے لیے حوالہ جات کے کام آتی ہے۔

میں مولانا محمد شمیم احمد شمسی صاحب کو اس اہم کتاب کی تالیف پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنے والد کی حیات و خدمات پر بھی ایک مجموعہ مرتب کریں، تاکہ ان کی حقیقی خدمات سے لوگ روشناس ہوسکیں۔

Comments are closed.