بابری مسجد پر عدالتی فیصلہ قبول کرنے کا نتیجہ
عادل فراز
adilfarazlko@gmail.com
کمال مولیٰ مسجد بھی بابری مسجد کی طرح ہاتھ سے چلی گئی۔ عدالت نے ثبوتوں، دستاویزوں اور تاریخی شواہد کو نظر انداز کرتے ہوئے بھوج شالہ مسجد کو سرسوتی مندر قرار دے دیا۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے بھی بابری فیصلے کی طرح ہندوؤں کی آستھا کو بنیاد بنایا۔ یہ فیصلہ غیر متوقع نہیں تھا۔ مسلمانوں کو اب ایسے فیصلوں کی عادت ہو چکی ہے، مگر آئندہ کے لیے مزید ذہنی تیاری درکار ہے۔ بابری مسجد کے وقت مسلم قیادت نے کہا تھا: ’ہمیں عدالتی نظام پر اعتماد ہے، فیصلہ جو بھی ہو قبول ہوگا‘۔ مگر فیصلہ شواہد پر نہیں، آستھا پر آیا۔ مسلمان حقیقت جانتے تھے مگر قیادت کی خودسپردگی کے سبب خاموش رہے۔مسلم قیادت سنگھ اور سرکار کے دباؤ میں تھی۔ فیصلے سے پہلے انہیں طلب کرکے ساز باز کر لی گئی تھی۔ فیصلے کے بعد کا طے شدہ لائحۂ عمل سونپ دیا گیا تھا۔ دہلی میں سنگھ نے سب کی منہ بھرائی کر دی تھی۔ لہٰذا سب کے سب عدالت کے فیصلے پر آمنا و صدقنا کہتے رہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر بن گیا، اور مسجد کے نام پر کیے گئے وعدے بھی جھوٹے ثابت ہوئے۔ وقف بورڈ اور اس کے ذمہ داروں سے امید عبث ہے، کیونکہ یہ سرکاری مصلحتوں کے پابند ہیں۔کہتے ہیں اجتماعی حافظہ کمزور ہوتا ہے، اور حقیقت بھی یہی ہے۔ اب نہ بابری مسجد کے غیر منصفانہ فیصلے پر سنجیدہ گفتگو ہوتی ہے، نہ مسجد کے لیے دی گئی زمین پر مسجد کی تعمیر کا مؤثر مطالبہ کیاجاتاہے۔ہماری غفلت اور بے حسی کا فائدہ مفاد پرستوں نے اٹھایااور آئندہ بھی اٹھاتے رہیں گے ۔
بابری مسجد کا فیصلہ 9 نومبر 2019ء میں آیا تھا۔ اس فیصلے نے ہندوستان میں مسجدوں پر مندر کے دعوے اور ان کے انہدام کے دروازے کھول دیے تھے۔ 2023ء میں بنارس کی گیان واپی مسجد کے سروے کا حکم دے کر عدالت نے مسلمانوں کی تمام قدیم عبادت گاہوں کے سروے کی راہیں ہموار کر دیں، جب کہ یہ تمام فیصلے عبادت گاہ ایکٹ 1991ء کے خلاف تھے۔ اس کے باوجود کسی نے عدالتی نظام پر انگشت نمائی نہیں کی۔ 1991ء ورشپ ایکٹ کے مطابق 15 اگست 1947ء کو جس عبادت گاہ (مندر، مسجد، کلیسا، گردوارہ وغیرہ) کی جو مذہبی حیثیت تھی، اسے برقرار رکھے جانے کی بات کہی گئی تھی، اور قانونی طور پر اس حیثیت کو تبدیل کرنے کے دعوؤں پر قدغن لگانا مقصد تھا، مگر عدلیہ نے اس قانون کو پامال کر دیا، اور سب سے پہلے بابری مسجد کا فیصلہ ہندوؤں کی ’آستھا‘ کی بنیاد پر سنا کر مسلمانوں کی مسجد سے ’عقیدت‘ کو نظر انداز کر دیا گیا۔ اگر عدلیہ خود یہ قبول کر لے کہ مندر توڑ کر مسجد تعمیر کرنے کے شواہد موجود نہیں ہیں، تو پھر آستھا کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے؟ جس بنیاد پر یہ مقدمہ لڑا جا رہا تھا، اسی بنیاد کو شواہد نے ختم کر دیا تھا، مگر عدلیہ نے ’آستھا‘ کے ستون کے ذریعہ اس گرتی ہوئی عمارت کو بچا لیا۔ بابری مسجد کے فیصلے اور مسجدوں کے سروے کا حکم دے کر عدلیہ نے ہندوستان میں مذہبی منافرت اور عبادت گاہوں کی مسماری کی نئی تاریخ رقم کر دی۔ مسلمان چونکہ اپنی مظلومیت کا نوحہ پڑھنے کے عادی ہو چکے ہیں، لہٰذا وہ نوحہ پڑھتے رہے۔ ان کی قیادت نے انہیں فریب دیا۔ ’ہمیں عدالت کا ہر فیصلہ قبول ہے‘، ’ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں‘ جیسے بیانات نے انہیں دیوار سے لگا دیا۔ عدلیہ کا احترام اپنی جگہ، مگر غیر آئینی فیصلوں کو کیسے قبول کیا جا سکتا ہے؟ اگر ذیلی عدالتوں کے فیصلوں کو عدالت عظمیٰ بدلنے کا اختیار رکھتی ہے اور ان پر تنقید کر سکتی ہے، تو پھر عدالت عظمیٰ تنقید کے دائرے سے باہر کیسے ہو سکتی ہے؟ مسلم قیادت نے جس طرح عدلیہ کے فیصلوں کے سامنے خودسپردگی کی، اس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی۔ یہ خودسپردگی امن، قانون اور عدلیہ کے احترام کے نام پر کی گئی۔ اس صورت حال پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے۔
بابری مسجد کے فیصلے کے بعد ہندوستان کے حالات تبدیل ہو گئے۔ ہندوؤں کو یہ محسوس ہوا کہ مسلمان خوف زدہ ہیں۔ ان کا وقار پامال ہو چکا ہے۔ اب انہیں دبانا اور کچلنا آسان ہو گیا ہے۔ جس طرح 1857ء میں بغاوت کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں کے وقار کو پامال کرنے کے لیے منصوبہ سازی کی، ٹھیک اُسی طرح فرقہ وارانہ تنظیموں اور بی جے پی سرکار نے مسلمانوں کو کچلنے کے لیے لائحۂ عمل تیار کیا۔ فاشسٹ طاقتوں کو حکومت اور انتظامیہ کی پشت پناہی حاصل تھی، لہٰذا انہوں نے ہر منصوبے کو بے خوف و خطر عملی جامہ پہنایا۔ اس دوران مزارات کو غیر قانونی بتا کر توڑا گیا۔ مسجدوں کو مندر ثابت کرکے انہیں مسمار کر دیا گیا۔ جہاں قانونی مشکلات تھیں، وہاں عدالتوں میں درخواستیں دائر کر دی گئیں۔ عدالتوں سے یک طرفہ فیصلے آنے لگے۔ عدلیہ کا رویہ سماعت کے دوران کچھ اور اور فیصلے کے وقت کچھ اور دیکھا گیا۔ شواہد کو نظر انداز کر دیا گیا۔ تاریخی حقائق پس پشت ڈال دیے گئے۔ سنگھ نے جو کہا، اس پر عمل نہیں کیا۔ دانشوروں کو فریب دے کر قریب بلایا گیا اور پھر دانش بھی لاچار نظر آئی۔ بعض اپنے مفاد کے لیے خاموش ہو گئے تو بعض مسلمانوں کو اکثریتی طبقے کی بیعت کی دعوت دینے لگے۔ چھوٹے چھوٹے فائدوں کے لیے ملت کے مفاد کا سودا کیا جانے لگا۔ صورت حال بد سے بدتر ہوتی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی شہریت زیر سوال آ گئی۔ ان کے تشخص پر حملے ہونے لگے۔ قرآن مجید میں تبدیلی کا مطالبہ سر اٹھانے لگا۔ پرسنل لاء کو بدلنے کی کوششیں ہونے لگیں۔ حجاب پر انگلیاں اٹھنے لگیں۔ سیاسی اور سماجی اعتکاف کے مشورے دیے جانے لگے۔ فلموں اور ڈراموں میں مسلمانوں کو غدار اور وحشی دکھلایا جانے لگا۔ دہشت گردی کے فرضی مقدمے تو پہلے بھی تھوپے جاتے تھے، اب پاکستان بھیجنے کی دھمکیاں دی جانے لگیں۔ اقتصادی بائیکاٹ کی اپیلیں جاری کی گئیں۔ ’دیش کے غداروں کو، گولی مارو سالوں کو‘ جیسے نعرے لگائے جانے لگے۔ آئینی عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں نے آئین کو ہی ٹھینگا دکھانا شروع کر دیا۔ ’علی اور بجرنگ بلی‘ اور ’شمشان اور قبرستان‘ کی سیاست سر اٹھانے لگی۔ وزیر اعظم فسادیوں کو ان کے کپڑوں سے پہچاننے لگے۔ ایسے بدتر حالات میں قیادت خواب خرگوش کے مزے لیتی رہی۔ تعلیم اور اقتصاد پر توجہ کے بجائے مدرسوں پر بے تحاشہ قومی سرمایہ خرچ ہوا۔ اس کے بعد بھی وہ قومی نہ ہو کر موروثی ہی رہے۔ عالیشان مسجدیں بنائی گئیں۔ جب مدرسوں پر سرکاری عتاب نازل ہوا تو ’نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن‘ کے مصداق بن گئے۔ اگر صورت حال یہی رہی تو آئندہ مزید بدتر حالات کے لیے تیار ہو جائیے۔ شتر مرغ کی طرح ریت میں سر ڈال کر شکاری کا انتظار کرنا بے وقوفی ہے۔حالات کی تبدیلی کے لئے مزاحمت ناگزیر ہے۔ مزاحمت کے لئے اپنی صفوں میں قیادت تلاش کرنی ہوگی۔ جب تک ہماری لگام دوسروں کے ہاتھ میں رہے گی، مسائل حل نہیں ہوں گے۔ قوم کو اپنی آواز خود بننا ہوگا۔
مدھیہ پردیش کے اس واقعے کے بعد بھی اگر مسلمان غفلت میں رہے تو اس کا خمیازہ نسلیں بھگتیں گی۔ مسلمانوں کو قانونی سیل پر کام کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے اپنے درمیان باصلاحیت اور لائق وکیلوں کو تلاش کیجیے۔ آخر کب تک ہمارے مقدمے دوسرے لڑیں گے؟ اگر ہمارے درمیان اچھے اور لائق وکیل موجود نہیں ہیں تو اس کی وجہ پر غور کرنا ہوگا۔ ایسے قومی کالجوں کے ہونے کا فائدہ کیا ہے جہاں وکالت کی بے فیض ڈگریاں دی جاتی ہیں، ان کا منیجمنٹ بدلنے کی ضرورت ہے۔ اوقاف کی زمینوں پر کتنے ناجائز مندر بن گئے مگر کسی وکیل نے ان کے خلاف آج تک پی آئی ایل داخل نہیں کی۔ لکھنؤ میں حسین آباد ٹرسٹ کی زمینوں پر دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں مندر بن گئے، مگر کوئی وکیل ان کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے کے لیے کھڑا نہیں ہوا۔ جب تک اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دیا جائے گا، مسائل حل نہیں ہوں گے۔ مندروں کی قانونی حیثیت کے خلاف عدالتوں میں جانا پڑے گا۔ جب تک ان کی عبادت گاہیں زیر سوال نہیں آئیں گی، وہ ہماری عبادت گاہوں کے نیچے مندر تلاش کرتے رہیں گے۔
ہندوستان کے اکثریتی طبقے اور حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے ملک کی ترقی اور بقا اس کے سیکولر کردار میں مضمر ہے۔ آخر کب تک ہر مسجد کے نیچے مندر ڈھونڈھتے رہیں گے؟ اس روش سے نہ ملک کی ترقی ممکن ہے نہ قوم کی فلاح۔ ہندوستان ’ہندو راشٹر‘ بن کر عالمی طاقت نہیں بن سکتا۔ عالمی قوت بننے کے لیے اس کا سیکولر رہنا ناگزیر ہے۔ اگر ہم ’قدیم تہذیب‘ اور ’مذہبی بالادستی‘ کے گرداب میں الجھ کر دنیا کے شانہ بہ شانہ نہیں چلیں گے تو عالمی تنہائی، داخلی انتشار اور سیاسی پسماندگی کا شکار ہو کر رہ جائیں گے۔صرف مسلمانوں کو کمزور کرنا، ملک کی ترقی کی ضمانت نہیں۔
Comments are closed.