کربلا سے پہلے اور اس کے بعد!مسلمانوں کے احوال کا سرسری جائزہ

از: ڈاکٹر آصف لئیق ندوی
عربی لیکچرار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد
8801589585

کربلا کا دردناک واقعہ انسانی تاریخ کا وہ بڑا المیہ اور سانحہ ہے،جس پر ہنوز ایک طرف ماتم و نوحہ جاری ہے، تو دوسری طرف اسکے پیغام و روح کو زندہ کرنے اور اسکے مطابق جینے مرنے اور قربانیاں پیش کرنے کے مطالبے ہورہے ہیں، شہادت حسینؓ کے اس عظیم واقعہ کو پڑھ کر اور سن کر ہمارے بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اسلام کے تئیں انکی جرأت و جوانمردی اور صالح احساسات وجذبات کو ہزاروں سلام پیش کرنا پڑتا ہے کیونکہ اس معرکے کا تعلق نواسہئ رسول حضرت حسینؓ،ان کے اعزہ و اقارب اور آل واولاد کی شہادت کے ان دلخراش مناظر و واقعات سے ہے، جس پر ہمارے نبی نے بھی آنسو بہایا، جبرئیل امین نے جب اس واقعے کی سب سے پہلے اطلاع دی، اسی طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا جب اس میدان کربلاسے کبھی گزر ہوا تو وہ بھی وہاں ٹھہر کر اتنا روئے اور آنسو بہائے کہ زمین تر ہوگئی، وہی وہ میدان کربلا ہے، جہاں کی لال مٹی بھی حضور کو سونگھائی اوردکھائی گئی، اسی مقام پر مسلمانوں نے اپنے ہی محسن قائد اور حضور اکرم کے چہیتے نواسہ کو نہ صرف شہید کیا بلکہ سر تن سے جدا کر کے نیزوں پر بلند کیا، مادیت کی لالچ میں آکر خانوادہئ نبوت اور انکے چشم و چراغ کی عزت نفس کا پاس ولحاظ بھی ملحوظ نہیں رکھا اور اپنے ہاتھوں سے اسے ہمیشہ کیلئے گل کردیا، اگر انکے درد نہاں، حکمت وفراست کی باتیں اور قیادت و سیادت کے اصول وضوابط کو تسلیم کرلیا جاتا، تو یہ اندوہناک واقعہ وقوع پذیر نہ ہوتا!! مگر مسلمانوں بالخصوص ارباب اقتدار کے بگڑتے احوال نے اہل حق کوجب بہت فکرمند بنا دیا، کہ کیسے انسانی قافلوں کی صحیح رہنمائی کی جائے، انکی دینی، علمی اور روحانی تربیت کیساتھ ساتھ معاشی واقتصادی میدان میں بھی خاطر خواہ تعمیر و ترقی کے منازل طے کئے جائیں، حق تلفی اور ظلم وزیادتی کی نحوست سے قوم وملک کو کیسے بچایا جائے، عدل وانصاف، اخوت ومودت اور یکجہتی ومساوات کی تعلیم کوکیسے رواج دیا جائے، انکے لیے خیر کے ہزاروں دروازے کیسے کھولے جائیں، جن چیزوں کا یزیدی اقتدار میں خاتمہ ہورہا تھا، مادیت کا غلبہ سوار ہورہا تھا اور روحانیت کا خاصا فقدان ہورہا تھا، امت کو انہی خامیوں اور کمزوریوں سے نکالنے کیلئے حضرت حسین اور انکے رفقائے کار نے پختہ عزم و ارادہ کیا،بیعت کے واسطے کوفیوں کے سینکڑوں خطوط آئے اورآپ نے وہاں کا رخت سفر باندھا، مگر مصیبت وپریشانی کے عالم میں ان لوگوں نے ساتھ دینے کے بجائے بے وفائی کی داستان رقم کی، ظالم حکمراں کے اشاروں پرانکے لشکروں نے نبی کے گھرانوں کو پانی پانی کے لیے ترسا دیا اور حسینی بغض وعناد کی وہ مثال پیش کی کہ جس سے فرمان رسول کی صریح خلاف ورزی ہوئی، حضرت ام فضل فرماتی ہیں کہ ایک روز میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں برس رہی تھیں۔ میں نے پوچھا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کیوں گریہ فرما رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: کہ میرے پاس جبرئیل آئے تھے اور مجھے بتایا کہ میری امت میرے اس بیٹے (حسین) کو قتل کردے گی۔ جبرئیل اس جگہ کی سرخ مٹی بھی میرے پاس لائے تھے، جہاں انہیں قتل کیا جائے گا۔(مشکوٰۃ، بیہقی فی دلائل النبوۃ)

سوچئے!جس حسین سے نبی اکرم نے اتنی محبت کی کہ کبھی بغلگیر ہوئے، کبھی گودوں میں کھلایا تو کبھی گھروں اور گلیوں میں خود انکے ساتھ کھیلے، سروں کا سینکڑوں دفعہ بوسہ لیا اور کبھی بوسہ لیتے وقت یوں فرمایا کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، جو حسین سے محبت کرے، اللہ اس سے محبت کرے۔ اور جس نے ان سے بغض کیا، گویا کہ اس نے ہم سے بغض کیا، حسین میری نسلوں میں سے ایک نسل ہے۔ (مستدرک حاکم جلد ۳ ص۱۵۹)

بالآخر خون کے ان پیاسوں نے فرمان رسول کی بالکل خلاف ورزی کی، جنت میں نوجوانوں کے سردار اور نبی کے لاڈلے کو نہ صرف میدان کربلا میں بھوکا پیاسا تڑپایا، تلواروں سے انکا ہاتھ کاٹا، نیزوں کو جسم اطہر کے آر پار کیا، ذبح کرتے ہوئے انہیں شہید کیا، سر کو تن سے جدا کیا پھر شہداء کے سروں، لاشوں اور خیموں کیساتھ جیسا بہیمانہ برتاؤ اور ظالمانہ سلوک کیا گیا کہ سن کر کلیجہ منہ کو آجاتا ہے اور بہت تعجب بھی ہوتا ہے کہ نبوت کے زمانے سے قریب رہ کر بھی اتنی بڑی جہالت و شقاوت کا کالا کارنامہ مسلم حکمرانوں کے اشاروں پر مسلم فوجیوں کے ہاتھوں کیسے سرزد ہوا؟ دشمنان اسلام سے تو اسکی توقع ممکن تھی، مگر امت اور مسلم ارباب اقتدار سے اسکی امید ہرگز نہیں تھی مگر شہادت کا یہ واقعہ یزید کے دور اقتدار میں انجام دیاگیا اور ابن زیاد کے آڈر پر یزیدی لشکروں نے اس گھناؤنا جرم کا عاشوراء کے مبارک دن میں ارتکاب کیا، جس دن کی فضیلت یہ ہے کہ موسیؑ اور انکی قوم کو فرعون کے ظلم واستبدادسے اللہ نے نجات دی، فرعون اور اسکے لشکروں کو غرق آب کیا، مگر اس دن حضرت حسین اور انکے 72 ساتھیوں کو شہید کرکے ان لوگوں نے اپنا مجرمانہ چہرہ بے نقاب کردیا، یزیدی قوت اور کوفیوں کے منافقانہ رویہ پر یہ واقعہ انکے ماتھے پرایک بدنما داغ اور دھبہ ہے جسے کبھی دھلا نہیں جاسکتا، اس گھناؤنے کردار کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ بہت کم ہے! اس حادثے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حکومت کیلئے بالکل نااہل تھے، نااہلوں نے اپنی نااہلی کیساتھ ساتھ اخلاقی محرومی کی داستان بھی اپنے نام رقم کروالی۔۔۔ قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے۔۔۔ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

تاریخ انسانی میں شہادت حسینؓ کے واقعے نے جو مرتبہ حاصل کیا ہے کہ آج تیرہ سو تیراسی سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی اس کے درد والم کا احساس ہمارے سینوں میں ویسے ہی تازہ اور اسکا زخم ہرا بھرا ہے! کیونکہ یہ معرکہ حق و باطل کے درمیان اپنی ایک امتیازی شان اور پہچان رکھتا ہے۔۔ دکھلا دیا حسینؓ نے اپنا بہا کے خوں!! کرتے ہیں دیکھ سینہئ باطل کو چاک یوں۔

اسی طرح اس معرکہ میں اہل حق کا قافلہ تعداد میں قلیل ہونے کے باوجود بھی لشکر جرار کے سامنے عزائم و ارادے میں مضبوط چٹان اور اخلاق و کردار میں نمایاں شان کی سچی تصویر پیش کرتا ہے، ایک طرف دینی اور اخلاقی پستی و انحطاط کی منہ بولتی تصویر ہے اور موروثی ملوکیت کے زر خرید غلاموں کا ایک جم غفیر ہے جو اپنے غاصبانہ بل بوتے پر حق کے علمبرداروں کا محاصرہ کیے ہوئے ہے اور باطل و مردہ ضمیر حاکم سے بیعت کر لینے کا ہرممکن دباؤ ڈال رہا ہے، تاکہ حسینی جان بھی بچ جائے اور باطل حکومت کا استحکام بھی ہو جائے، مگر وسائل و اسباب اور ترغیبات کے جھانسے میں آکر اہل حق نے اپنے ایمان ویقین اور اعتماد و بھروسے کو متزلزل نہیں ہونے دیا، انہوں نے سستا اور گھٹیا سودا کرنے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ اس پر لعنت و ملامت بھی بھیجی اور اپنی خود داری و بے نیازی کا وہ بین ثبوت فراہم کیا کہ قیامت تک کے انسانوں کیلیے وہ حق کے علمبردار اور اسکی شناخت بن گئے۔۔۔دے کے سر شبیر نے اسلام زندہ کردیا!!! کربلا کو جس کے سجدے نے معلی کردیا

اور مخالف طاقتیں باطل کی طرفدار، یزیدی فتنوں کا شکار بن کر اپنی بزدلی و محرومی کی علامت بن گئیں!! ہے لہو کا قافلہ اَب تک رواں۔۔ اور قاتل، کربلا میں رہ گئے!!

حسینی کردار کی پرورش و پرداخت نبی کی رہنمائی، نبوی تعلیم و تربیت کے بہترین سانچے، قرآن کریم کے اصول ومبادی، صحابہ کی نیک صحبت اور والدین کی صالح دعاؤں کے نتیجے میں تکمیل پاکر انسانِ کامل کی معراج حاصل کرتی ہے اور اسلامی کردار سے متصف ہوکر ان بلندیوں پر پہونچ جاتی ہے جہاں سے قلب کو طاقت وقوت اور روح کو گرمی وتازگی حاصل ہوتی ہے، خواہشاتِ نفس پر کنٹرول، رضائے الٰہی کی سچی طلب اور اسکی راہ میں اپنے آپ کو مٹادینے کا شوق وجذبہ پیدا ہوتا ہے، اسی طرح جب طبیعت کو جنت سے عشق، علم کی حرص، دین کی سمجھ اور احتساب کائنات کی فکر دامن گیر ہوتی ہے اور انسانی قافلوں کی رہنمائی کیلئے وہ مضطرب و بے قرار ہوتی ہے، تو حسینی کردار کا برملا ظہور ہوتا ہے، حضرت حسینؓ کا 72 مجاہدوں پر مشتمل یہ قافلہ انہی قائدانہ اوصاف و خصوصیات سے متصف تھا اور اسلامی تصورات و توقعات کی بہترین مثال بھی پیش کررہا تھا، جس کے اندر کسی بھی صورت میں ایمانی کمزوری اور نفسانی خواہشات کا کوئی غلبہ، اندرونی انتشار و خلفشار کا کوئی خدشہ اور اخلاقی بدنظمی کا کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا تھا، اسی لیے انہوں نے اپنے قائد حضرت حسین کو تنہا چھوڑ کر اپنی جان کی امان کے پروانے کو ٹھکرادیا اور اسے دھتکارتے ہوئے حق کی راہ میں لڑتے لڑتے قربان ہوگئے اور غلامی و دین بیزاری کے ماحول میں گھٹ گھٹ کر جینے سے حق کی خاطر فنا ہوجانے کو بخوشی گوارہ تو کیا اور ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمین کا بہترین نمونہ پیش کرکے اسلام کا جھنڈا فخر سے اونچا کردیا۔ مگر باطل کے سامنے سر جھکانے کو اپنے لئے توہین اور اسلام کیلیے باعث ذلت وعار سمجھا۔

مگر ہم مسلمانوں نے بھی حسینی کردار کو کما حقہ نہیں سمجھا،اسی لئے آج تک اسمیں صریح غلطیاں کرتے آرہے ہیں اور اسکے مطالبوں کو بروئے کار لانے اور اسکے تقاضوں کو پورا کرنے کے بجائے ہم بھی وقت کے یزیدیوں سے کوئی کم نہیں ہیں بلکہ ہرممکن انکا ساتھ دے رہے ہیں اور بدعات وخرافات کے چکر میں آکر ہم حسینی قربانیوں کے مغز سے یا تو بالکل ناواقف ہیں یا جان بوجھ کر گمراہی کے دلدل میں پھنستے جارہے ہیں اور امت کو ان پستیوں اور ذلتوں کے غار سے نکالنے کے بجائے اس میں دھکیلنے کے اسباب وذرائع بن رہے ہیں، جن سے نجات دلانے کیلئے حضرت حسینؓ اور انکے رفقائے قافلہ نے جان کی قربانیاں تک پیش کردیں!! اور کسی بھی صورت میں باطل سے ہاتھ نہ ملانے کابہترین نمونہ پیش کرکے زندہ وجاوید بن گئے۔ مگر۔۔۔ گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی۔۔۔ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

بالآخر غاصب حکومت سے حضرت حسینؓ کے وہ تمام خدشات درست ثابت ہوئے، جو انہوں نے اپنی دوررس نگاہوں سے دیکھ لیا تھا، اخلاقی انحطاط اور خواہشات کی اتباع نے رفتہ رفتہ بنی امیہ کی حکومت کو بھی زوال کا شکار بنا کر چھوڑا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ کا خوبصورت زمانہ چھوڑ کر دیگر تمام حکمرانوں کے رویوں نے بالآخر وہ دن دکھا ہی دیا ہی جب عباسیوں نے انکی تانا شاہی کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی اور جیسی کرنی ویسی بھرنی کا وہ منظر نامہ بھی تاریخ انسانی نے دیکھ لیا، خطے میں بنی امیہ کا کوئی ایک فرد بھی باقی نہیں بچا، جن کو قتل نہ کردیا گیا ہو! سوائے ان لوگوں جو بچ بچا کر مغرب میں واقع اندلس بھاگ نکلے تھے۔ اور وہاں جاکر اپنی نئی حکومت قائم کی تھی۔اللہ کا فرمان بالکل درست ثابت ہوا کہ۔ وتلک الایام نداولھا بین الناس۔۔۔

صدافسوس تو موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے رویوں پر بھی ہے کہ ہم کربلا کے پیغام کو سمجھنے سے اب تک نابلد بنے ہوئے ہیں اور حسینی کردار اور ان کے ترکیبی عناصر میں ڈھلنے کے بجائے ہم ماہ محرم کو غم کا مہینہ تصور کربیٹھے ہیں! پتہ نہیں کیوں اپنی ہر خوشی کو شہادت حسین کے عظیم واقعے پر قربان کردیتے ہیں۔ نہ اس ماہ میں شادیوں کی محفلیں منعقد کرتے ہیں اور نہ کسی خوشی ومسرت کی محفلوں میں خود کو شریک کرتے ہیں۔ سراپا سیاہ لباس تن کرکے اپنی بدبختی کا ثبوت فراہم کررہے ہیں، ماتم و مرثیہ خوانی کی مجلسیں منعقد کرکے اپنی ہی بزدلی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں۔۔مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

بدعات وخرافات کے اس دلدل میں پھنس کر ہم نے حسینی کردار کے تقاضوں کو پورا کرنے کے بجائے اسکا کھلونا بنالیاہے، اسکا تعزیہ بنا کر نوحہ گری کرتے ہیں، صرف اسی موقع سے پانی اور شربتوں کی سبیلیں لگاکر، کھچڑا بناکر، شیرینی تقسیم کرواکر ہم بھی شہادت حسین پر خارجیوں کے سرورو جشن کا نمونہ پیش کر رہے ہیں، اس ماہ میں مچھلی کھانے کو معیوب سمجھ کر ہم اپنے دین میں نئے نئے طریقے ایجاد کررہے ہیں، سینہ کوبی کرنا، چاقو، تلوار اور خنجر کا نچانا، مردوزن کا ناجائز اختلاط کروانا، صرف یا حسین! یا حسین! کے فلک شگاف نعرے بلند کرکے انکے کردار سے چشم پوشی کرلینا نہ تو ہمارے دین وشریعت کا کوئی حصہ ہے اور نہ حسینی مزاج اشخاص کا رویہ! بلکہ یہ تو بدترین بدعات وخرافات کی شکل ہے جسے ہم نے شہادت حسین کے بعد خود سے ایجاد کرلیا ہے۔ جو ہمارے دین کا ہرگز کوئی جزء نہیں!کیا ہی بہتر ہوتا کہ ہم نیک گفتار، نیک کردار اور نیک عمل سے اپنے آپ کو مزین کرتے اور حسینی کردار کو اپنی زندگی کا لب لباب بناتے، جو ہماری عین دینداری اور خودداری ہوتی۔مگر۔۔تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی۔۔کہ تُو گُفتار وہ کردار، تُو ثابت وہ سیّارا

آخر ہم کیسے مسلمان ہیں کہ اپنے نئے اسلامی سال کا آغاز اپنی نحوست بھرے اعمال سے کرتے ہیں اور اچھے کردار و عمل کا نمونہ پیش کرنے سے باقی ایام کتراتے رہتے ہیں، یہ کیسے مسلمان ہیں! جو متعدد صحابہ کرام پر کیچڑ اچھالتے ہیں اور انکی سیرت و سوانح میں ڈھلنے سے اعراض کرتے ہیں۔۔۔حالانکہ شہادت تو ایک عظیم فریضہ اور عالیشان مرتبہ ہے، جس پر رونے اور ماتم کرنے سے اس فریضے اور مرتبے کی توہین ہوتی ہے۔۔۔ اغیار کے ذہن ودماغ میں اسلام ومسلمان کے خلاف غلط رجحان وتصویر پیدا ہوتی ہے۔ بقول شاعر اقبال احمد سہیل اعظمی کہ۔روئیں وہ جو منکر ہیں شہادت حسین کے۔۔ہم زندہ وجاوید کا ماتم نہیں کرتے!!

شہادت کوئی ایسی مصیبت نہیں کہ اس پر طویل رنج و غم کا اظہار کیا جائے!ڈھول تماشے اور ڈی جے بجا کر اسکو سر عام رسوا کیا جائے! اسکا ماتم کیا جائے اور بلاوجہ انگاروں پر رقص بسمل کیا جائے، حضرت خالد بن ولید رض اکثر لشکر کفار سے مخاطب ہوکر کہا کرتے تھے کہ ظالمو! تمہیں شراب اتنی محبوب نہیں! جتنی ہمیں اللہ کے راستے میں موت محبوب ہے۔۔۔ پھر بھی شہادت حسین پر ہمارا رونا اور کردار حسینی سے کوسوں دور رہنا چہ معنی دارد!؟حسینی اوصاف کے پیکر بنئے اور یزیدیوں کے افکار سے مکمل اجتناب کیجئے۔۔۔ یہی ہمارا آج کی تحریر سے پیغام ہے۔۔کیونکہ۔۔ حسین آج بھی قائم ہے اپنی صورت پر۔۔۔ یزید چہرے بدلتا ہے ہر زمانے میں!!!!

Comments are closed.