اللہ کی اذاں اور ہے ملا کی اذاں اور
وہ دین جوصحابہ کرام کو مصطفیٰ ؐسے ملا تھا نہ جانے کہاں گم ہوگیا ہے
عبدالغفار صدیقی
چیرمین راشدہ ایجوکیشنل اینڈ سوشل ٹرسٹ
9897565066
اس وقت بھارتی مسلمان جن پریشانیوں سے دوچار ہیں ان میں جہاں سیاسی قائدین کے بعض غلط فیصلے ہیں ،جہاں عام مسلمانوں کی بہت سی کمزوریاں ہیں وہیں علماء دین کی فروگزاشتیں بھی کچھ کم نہیں ہیں ۔دین اور عبادت کے نام پر مسلم سماج میں آج اتنی بدعات اور رسوم رواج پاگئی ہیں کہ اصل اسلام کو پہچاننا مشکل ہوگیا ہے۔وہ اسلام جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے ملا تھا ۔جس پر صحابہ کرام نے عمل کرکے دنیا فتح کی تھی ،جس کو تابعین اور تبع تابعین نے اپنا کر شہرت و دوام حاصل کیا تھا ،وہ دین آج نہ جانے کہاں گم ہوگیا ہے ۔دین اسلام کے مخالفین میں ایک گروہ تو وہ ہے جو جان بوجھ کر ،سوچ سمجھ کر اسلام کی مخالفت کررہا ہے ،اس کو مٹانے کی سازشیں اور اس کے مقابل باطل نظام زندگی رائج کرنے کے لیے تگ و دو کررہا ہے ،لیکن ایک گروہ ایسا بھی ہے جو غیر شعوری طور پر امت مسلمہ کا کردار دیکھ کربد گمان ہوگیا ہے ۔پہلے گروہ کی تعداد اگر پورے سماج میں دس فیصد ہے تو دوسرے گروہ کی تعداد ساٹھ فیصد ہے ۔اس طرح یہ کل تعداد آج ستر فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔
اللہ کا دین کچھ اور کہتا ہے اور ملاکا مذہب کچھ اور کہتا ہے ۔اللہ کے دین میں پیدائش کے بعد کوئی رسم نہیں ہے سوائے اس کے کہ نومولود کے کان میں اذان دی جائے،ساتویں دن اس کا عقیقہ کیا جائے،اسی دن سر منڈوایا جائے ،اچھا سا نام رکھا جائے ،لیکن ہم نے ساتویں دن کے بجائے چھٹے دن چھٹی کی رسم برادران وطن سے ادھار لے کر عقیقہ کی سنت فراموش کردی،اگر کسی یہ توفیق ملی بھی تو اس نے عقیقے کو اس قدر مشکل کردیا کہ کسی غریب کی ہمت ہوئی ،چھٹی کے دن دیور ہاتھ پکڑ کر زچہ بھابھی کو اٹھائے گا،دعوت کا اہتمام کیا جائے گا۔بچہ پیدا ہونے کے بعد نانہال اور ددھیال میں بہت سی رسمیں انجام دی جاتی ہیں ۔دادیہال میں اگر چھٹی ہے تو نانہال سے بھیلی کے جواب میں چھچھک آتا ہے ۔اچھے نام رکھنے پر بھی بہت کم لوگ غور کرتے ہیں،اسی لیے آج کل مسلمانوں میں عجیب عجیب نام ہوگئے ہیں۔اس کے بعد آپ شادی کی رسموں کو دیکھ لیں ۔واللہ شادی سے پہلے اور شادی کے بعد اس قدر رسمیں ہیں کہ میں شمار نہیں کرسکتا ،پہلے تو زیارت ازواج کے نام پر ،پھر رشتہ پکا کرنے کے نام پر ،پھر ڈلیہ ،تیوہاری،لال خط،تاریخ بند کرنے کے نام پررسمیں ہیں ،بھات نیوتنے کی رسم ، ہلدی کی رسم اس میں زوجین کی کلائیوں پر ہلدی وغیرہ کسی رومال سے باندھ دی جاتی ہے ،جسے شب عروسی میں کھولاجاتا ہے،مایوں بیٹھانے کی رسم ،ابٹن ملنے کی رسم ،پھر نکاح سے ایک دن پہلے منڈھے کی رسم،بارات خود ایک بدعت اور اس پر سے نوشہ سازی کی رسمیں،دولہا کو گود اٹھانے ،گاڑی میں بیٹھانے اور اتارنے کی رسوم ،نکاح کے بعد سلامی کے نام پر خرافاتیں،پان کھلائی اورجوتا چرائی وغیرہ ،اس کے بعد دلہن گھر آجائے تو درجن بھر کی رسمیں۔دسیاری،چوتھی ،گونا رونا الگ رہا۔ایک مقام پر میں نے دیکھا کہ جب دلہن کار میں بیٹھ گئی تو ا س کے بھائیوں نے کار روک لی اور دولہا بھائی سے پیسے مانگنے لگے ،معلوم ہوا یہ اس علاقے کی رسم ہے ۔شادی کے بعد ولیمہ سنت ہے ،مگر اب تیسرے دن بعض لوگ رسیپشن کے نام پر بھی ایک تقریب کا اہتمام کرنے لگے ہیں۔
مرنے کے بعد بھی بہت سی رسمیں ہیں۔بعض مسالک میں دوسرے دن قرآن خوانی ہوتی ہے ،بعض لوگ سوئم کی فاتحہ کے قائل ہیں ۔اس کے بعد دسویں ،چالیسویں اور برسی پر فاتحہ ہوگی ۔فاتحہ میں جہاں قرآن مجید کی مختلف سورتیں اور آیتیں تلاوت کی جائیں گی وہیں مرحوم کے پسندیدہ کھانے بنائے جائیں گے ،تمام کھانوں میںسے ایک ایک پلیٹ کھانامقام فاتحہ پر رکھا جائے گا،تصور یہ ہوگا کہ مرحوم کی روح ان کھانوں کو آکر کھائے گی۔فاتحہ خواں کھانوں پر پھونک مارے گا۔اس موقع پر میلاد شریف بھی ہوگا۔کہیں فاتحہ خوانی میںسوا لاکھ چنے پڑھے جائیں گے،تو کسی مسلک میں املی کے بیجوں کویہ عزت ملے گی ،مرنے کے بعد مرحوم کے گھر کی پہلی عید پر بھی کچھ رسوم انجام دی جائیں گی ۔ایک علاقہ میں چالیسویں کی رسم دیکھنے کا موقع ملا ،وہاں دیکھا کہ بیوہ کی عدت چار مہینے دس دن کے بجائے چالیس دن میں مکمل کرادی اور اسے باہر نکال دیا ۔یعنی ایک طرف قرآن کے صریح حکم کی خلاف ورزی اور دوسری طرف فاتحہ اور چالیسویں کے نام پر بدعات،یہی ہیں دوہرے عذاب کے مستحق۔جو لوگ اللہ کے سچے دین پر عمل کرتے ہیں ،ان کے بارے میں کہا جاتا ہے ’’مرگئے مردود ،نہ فاتحہ ،نہ درود‘‘۔
وہ لوگ جوسوئم کی فاتحہ نہیں کرتے انھوں نے دوسرے دن کا معمول بنالیا ہے۔ تبلیغ دین کے نام پر ’’نیا دین ‘‘گھڑ لیا ہے ۔نیا دین کا لفظ میں اس لیے استعمال کررہا ہوں کیوں کہ وہ یہ سب کچھ دین کے نام پر کرتے ہیں۔بعد فجر شیخ کی کتاب کی خواندگی،بعد عصر دین کی تعلیم کے نام پر اسی کتاب کا ورد،بعد مغرب دین کی بات ،بعد عشاء دین کا مشورہ ۔ہفتہ میں ایک گشت اپنی مسجد کا اور ایک گشت پڑوس کی مسجد کا ،مہینہ میں جوڑ وغیرہ وغیرہ ،ہاتھ میں موتیوں کی ملا ،جیب میں ایک عدد مسواک (جسے برش دان میں ہونا چاہئے)کیوں کہ بقول ان کے مسلمانوں نے ایک جنگ مسواک سے جیت لی تھی ۔گزشتہ پچاس سال سے ایک ہی کتاب کی ورق گردانی اور ہر تقریر میں وہی چند باتیں ۔اب تو ماشاء اللہ خواتین کی بھی جماعتیں نکل رہی ہیں۔نئی نسل اسی کو دین سمجھ بیٹھی ہے ۔کیوں کہ علماء دیوبند کی تائید اس کو حاصل ہے ۔نئی نسل کو قرآن سے اور حدیث کی صحیح کتابوں سے دور کا واسطہ بھی نہیں رہا۔کہاں حضرت الیاس رحمۃ اللہ علیہ کا ویژن اور کہاں ان کا عمل ۔ان میں سے بیشتر لوگ اپنے بچوں کی تعلیم سے غافل،ان کی فیس ادا نہیں کرتے ،عصری علوم کی تعلیم کو گمراہی خیال کرترے ہیں،اپنی خواتین کو معاشی طور پر تنگ کرتے ہیں ۔بیڑی،سگریٹ اور تمباکو مسجد کی سیڑھیوں پر استعمال کرتے ہیں۔مغربی اترپردیش جہاں میں رہتا ہوں کوئی مسجد ہی باقی ہوگی جہاں یہ نیا دین نہ ہو۔
اللہ اور اس کے رسول نے دو تیوہار دیے تھے ،ہم نے اس میں اضافہ کرلیا ہے ۔رجب کے کونڈے بھرے جائیں گے ۔شب برأت کو قبرستان سجائے جائیں گے ۔ماہ محرم میں کہیں علم ،کہیں مجلسیں ،کہیں ماتم ،کہیں تعزیے نکالے جائیں گے۔کوئی مجھے بتائے کہ ان تیوہاروں کا دین سے کیا واسطہ ؟وہ تمام رسمیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے اس میں علماء شریک ہوتے ہیں ۔بعض رسموں کی تو حوصلہ افزائی اور رہنمائی تک کرتے ہیں ۔مثال کے طور پر فاتحہ خوانی کی تمام رسمیں وہ ہیں جو ائمہ اور علماء کے بغیر انجام تک نہیں پہنچ سکتیں۔اس لیے میں نے اسے ’’ملا کے دین‘‘ سے تعبیر کیا ہے ۔اس کے علاوہ مزارات پر گل پوشی و چادر پوشی ،عرس و قل،گیارہویں شریف اور بارہویں شریف ،بڑے پیر کی نیاز کی رسمیں ہیں ۔ایک فرقہ نماز کے بعد مسجد ہی میں قبلہ بدل کر شیخ عبدالقادر جیلانی پر درود پڑھنے کو نماز کا لازمی حصہ سمجھتا ہے ،بعض مساجد میں بغیر لمبی داڑھی والا اذان اور تکبیرتک نہیں پڑھ سکتا۔جب کہ اللہ کے دین میں وہ امامت بھی کرسکتا ہے ۔یہ فہرست جو میں نے پیش کی ہے ،بہت مختصر ہے۔آپ میں سے ہر ایک اپنے علاقے کی رسموں کی فہرست بنائے اور یہ دیکھے کہ ان رسموں میں سے کونسی رسمیں ایسی ہیں جنھیں اللہ ،رسول اور صحابہ کی تائید حاصل ہے ۔
اللہ کا دین جو بہت سیدھا اور سچا تھا۔جس پر عمل کرنا آسان تھا ۔جس کو قبول کرنے والے سلامتی اور سکون پاتے تھے ،جو فقیروں کو غنی کردیتاتھا،جو بے سہاروں کو مومنین کی جماعت کی شکل میں بھائی عطاکرکے ایک نہیں ہزاروں سہارے عطا کرتا تھا،جو بے جا رسوم پر فضول خرچی کرنے کے بجائے انسانوں کے پیٹ بھرنے ،مریضوں کے علاج کرانے ،سماج سے جہالت دور کرنے کی ترغیب دیتا تھا ،جو سماج میں خوش حالی کی ضمانت تھا۔ آج وہی دین خوف و دہشت کا سمبل اور چوں چوں کا مربہ بناکر رکھ دیا گیا ہے ۔
آپ میری باتوں پر چیں بہ جبیں نہ ہوئیے ،بلکہ سنجیدگی سے غور کیجیے ،اپنے پیٹ کی خاطر عوام کا الو مت بنائیے۔انھیں وہی دین دے دیجیے جو ان کے لیے اللہ نے اپنے رسول کو دیا تھا۔قرآن اور نبی اکرم ﷺ کی سنت والا دین۔اسی دین پر چلنے والوں کے لیے یہ خوش خبری ہے ’’تم ہی سربلند رہوگے اگر تم مومن ہو‘‘۔
Comments are closed.