مولانا محمود حسن حسنی ندوی

خوشبو ان کی یادوں کی
مولانا رضوان احمد ندوی ، سب ایڈیٹر ہفتہ وار نقیب پٹنہ
۱۲؍اگست ۲۰۲۲ء؁ کی تاریخ تھی، جمعہ کا مبارک دن تھا، نماز سے فارغ ہوکر مسجد سے قیام گاہ لوٹا، کھانے کے دسترخوان سجائے جارہے تھے ، ادھر میں اپنے موبائل کے واٹس ایپ پر مواصلاتی پیغامات پر نظر جمائے بیٹھا ہوا تھا، اچانک ایک غمناک خبر پر نگاہ ٹھہر گئی، ’’مولانا محمود حسن حسنی ندوی‘‘ اللہ کے پیارے ہوگئے ہیں، اس کے معاً بعد دوسری خبر اس کی تردید کی بھی آگئی، اسی رد وقدح میں تسلسل سے خبریں آتی رہیں میری تشویش بڑھتی جارہی تھی، میںنے صحیح صورتحال تک پہونچنے کے لئے شاہد بھائی کو لکھنو فون کیا، انہوں نے غمناک لہجہ میں اس سانحہ کی تصدیق کی اور یہی جواب دیا کہ’’ہاں بھائی‘‘ آج صبح ۹؍بجے مولانا کا وصال ہوگیا ہے، اب دل پر سکتہ کا عالم طاری ہوگیا اور زبان پر انا للہ وانا الیہ راجعون کا ورد جاری ہوگیا، یہ خبر غیر متوقع نہ تھی، مگر پھر بھی ایسا لگا جیسے افق سے ایک تابناک ستارہ ٹوٹا اور فضا میں ہرطرف اندھیرا چھا گیا۔ع
آدمی نشہ غفلت میں بھلا دیتا ہے ورنہ جو سانس ہے پیغام فنا دیتا ہے
اس سانحہ کے بعد مولانا کی شرافت وسنجیدگی، تواضع وانکساری، حلم وبردباری اور وضعداری کے نقوش ذہن ودماغ کے پردے پر ایک ایک کرکے ابھرنے لگے، عرصہ تین دہائیوں سے ان سے دوستانہ بلکہ بے تکلفانہ مراسم تھے، دہلی، لکھنو، پٹنہ اور نہ جانے کہاں کہاں ملاقاتیں ہوتی رہیں، سمیناروں اور کانفرنسوں کے موقعہ پر دوستوں کی مجلسیں سجتیں، خوش گپیاں ہوتیں، مولانا سے علمی مذاکرے ہوتے، نئی مطبوعات پر تبصرے اور تجزیے ہوا کرتے پھر مجلس برخواست ہوجاتی، ابھی مارچ کے اواخر میں آخری ملاقات ہوئی، بورڈ کی مجلس عاملہ میں شرکت کے لئے لکھنو گیا ہوا تھا، معلوم ہوا کہ مولانا ان دنوں سخت علیل ہیں اور اپنی قیام گاہ خاتون منزل میں آرام فرما ہیں، ان کی عیادت ومزاج پرسی کے لئے قیام گاہ پر حاضر ہوا، ان سے دیر تک مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی، البتہ ان کے چہرہ وبشرہ سے نقاہت وضعف ظاہر ہو رہا تھا، دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ان کا ایک گردہ کام کرنا بند کردیا ہے، جس کی دوائیں مسلسل چل رہی ہیں، اس میں اتار چڑھاؤ ہے، میں انہیں وقفہ وقفہ سے تسلی کے کلمات کہتا رہا، مگر ان کے شکن آلود جبیں سے مایوسی عیاں تھی، ان کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ اپنا وقت قریب دیکھ رہے ہیں، میں دعائیہ کلمات کے بعد اٹھ کھڑا ہوا کہ اب اجازت دیجئے، انہوں نے میرا ہاتھ تھام لیا کہ ٹھہریئے، آپ کو جانے کی ایسی کیا جلدی ہے، آپ کے آنے سے طبیعت میں نشاط پیدا ہوگیا۔
چاہا بھی اگر ہم نے تیری بزم سے اٹھنا محسوس ہوا پاؤں میں زنجیر پڑی ہے
بہرحال، تھوڑی دیر کی گفتگو کے بعد لوٹ آیا، مگر میں بھی یہ محسوس کرتا رہا کہ یہ مسافر منزل سے بہت قریب ہوچکا ہے، آخر وہ وقت آہی گیا جس سے کسی کو مفر نہیں، اللہ کی مشیت میں کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں، وہ حاکم بھی ہیں، حکیم بھی، ان کا ہر فیصلہ حکمت کے عین مطابق ہے، ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے،لیکن ہم کوتاہ بینوں کے لئے تو بظاہر ایک عظیم نقصان ہے، ابھی ان سے بہت سی توقعات وابستہ تھیں، مگر یہ ساری باتیں کوتاہ بینی کی ہیں، حکمت کا تقاضہ یقینا وہی تھا جو مشیت باری کے تحت عمل میں آیا، اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات کو بلند کرے۔ع
روئے گل سیر نہ دیدیم بہار آخر شد
محمود بھائی ۲۲؍جولائی ۱۹۷۱ء؁ کو لکھنو میں پیدا ہوئے، ان کے دادا سید محمد مسلم حسنی اور والد ماجد سید حسن حسنی بڑے صاحب تقویٰ لوگوں میں تھے، ان کی والدہ بھی خدا رسیدہ خاتون تھیں، اس طرح ان کا پورا گھرانہ علم وتہذیب کا گہوارہ تھا، اسی علمی ماحول میں ان کی تعلیم وتربیت ہوئی، انہوں نے ابتدائی عربی درجات کی تعلیم مدرسہ ضیاء العلوم رائے بریلی میں حاصل کی، اس کے بعد ثانویہ اور عالمیت کی تکمیل دارالعلوم ندوۃ العلماء سے کی، حدیث شریف کا دو سالہ کورس ۹۲ء؁ میں کیا، پھر المعہد العالی للدعوۃ والفکر الاسلامی کا یک سالہ کورس کیا، تعلیم مکمل کرنے کے بعد مدرسہ ضیاء العلوم سے تدریس کا آغاز کیا اور دار عرفات میں تصنیف وتحقیق سے وابستہ ہوگئے، ۲۰۰۱ء؁ میں پندرہ روزہ تعمیر حیات لکھنو کی مجلس ادارت سنبھالی، پیام عرفات اور ماہنامہ رضوان کے بھی کالم نویس رہے، ابتدا ہی سے انہیں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ اور حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی مد ظلہ کی توجہات اور دعائیں حاصل رہیں، ان بزرگوں کے سایہ شفقت اور رفاقت سے ان کے فکر وفن میں پختگی اور عمل وکردار میں نورانیت پیدا ہوئی، میں نے محسوس کیا کہ مولانا کے علم وتحقیق اور تصنیف وتالیف پر ان کے اپنے خاندانی بزرگوں کا رنگ وہم ہنگ غالب تھا، محمود بھائی گرچہ مجھ سے عمر میں تقریباً پانچ سال چھوٹے تھے، تاہم فضل وکمال، ذہانت وفطانت اور مرتبہ ومقام میں مجھ سے بدرجہا فائق تھے، ان کا مطالعہ بھی بہت وسیع تھا اور فکر ونظر میں بھی بڑی وسعت تھی، انہوں نے درجن بھر دینی وعلمی کتابیں تصنیف کیں، بنیادی طورپر سیرت نگاری میں انہیں کمال درجہ کا درک حاصل تھا، متعدد بزرگان دین اور اولیاء کرام کے شخصی احوال وکوائف پر گرانقدر کتابیں لکھیں، تاریخ اسلام کے مختلف ادوار کی مرکزی شخصیتوں پر ’’تاریخ اصلاح وتربیت‘‘ کے نام سے ایک جامع کتاب مرتب کی، اس کے علاوہ سوانح حضرت مولانا ابرار الحق ہردوئی، عائشہ بی (ہمشیرہ مولانا علی میاں ندوی) تذکرۂ حضرت مولانا زبیر الحسن کاندھلوی، سیرت داعی اسلام حضرت مولانا عبد اللہ حسنی ندوی اور سفرنامہ دیار حرم وغیرہ کتابوں نے بڑی مقبولیت وشہرت حاصل کی۔ ع
وہ ادائے دلبری ہوکہ نوائے عاشقانہ جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتح زمانہ
اس ہمہ گیر قابلیت کے باوجود طبیعت میں بڑا انکسار تھا،جس کسی شخص سے کوئی تعلق قائم ہوگیا اسے آخر وقت تک نبھایا، انہوں نے نہ کبھی اپنی بڑائی جتائی اور نہ اپنے علم وفضل کا مظاہرہ کیا، میں نے ان کی زبان سے کبھی کسی پر طنز وتعریض نہیں سنی ان کی زبان وقلم سے کسی شخص کو دکھ نہیں پہونچا، ان کے ملنے جلنے کا انداز بھی بڑا نرالا تھا، چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ کھیلتی رہتی، بڑی بشاشت اور خندہ پیشانی سے ملتے اور بغل گیر ہوجاتے، اس حقیر پر بے پناہ شفقتیں فرماتے تھے، مگر افسوس کہ اب وہ اس دنیا میںنہیں رہے، بس ان کی یادوں کی خوشبو رہ گئی۔ع
ڈھونڈیں ہم اب نقوش سبک رفتگاں کہاں اب گرد کارواں بھی نہیں کارواں کہاں
دعاء کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ قبر سے لے کر روز جزا تک ہر مرحلہ کو ان کے لئے آسان بنائے ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔

 

Comments are closed.