حجاب، سیاست اور تاخیر سے جاگی ہوئی حکومت، کیا یہ آئینی انصاف ہے، سیاسی مجبوری یا انتخابی شطرنج کی نئی چال؟
از: عبدالحلیم منصور
ہزارخوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
کرناٹک حکومت نے بالآخر وہ متنازعہ حکمنامہ واپس لے لیا ہے جس نے گزشتہ چار برسوں کے دوران ریاست کی سیاست، تعلیمی اداروں، عدالتوں، میڈیا مباحثوں اور سماجی تعلقات کو مسلسل متاثر کیا۔ 5 فروری 2022 کو اُس وقت کی بی جے پی حکومت نے تعلیمی اداروں میں “یونیفارم ڈسپلن” کے نام پر جو سرکلر جاری کیا تھا، اُس کی بنیاد پر باحجاب مسلم طالبات کو کلاس رومز اور امتحانی مراکز سے روکا گیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک تعلیمی مسئلہ پورے ملک میں سیاسی، سماجی اور نظریاتی تصادم کی علامت بن گیا۔ اب 13 مئی 2026 کو کانگریس حکومت نے وہی حکمنامہ منسوخ کرتے ہوئے یونیفارم کے ساتھ “محدود مذہبی علامات” استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس میں حجاب، جنیو، پگڑی، رودراکش اور دیگر مذہبی شناختیں شامل ہیں۔
یہ محض ایک سرکاری فیصلہ نہیں، بلکہ ریاست کی بدلتی ہوئی سیاست، مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے سیاسی شعور، اور اقتدار و اصول کے درمیان جاری کشمکش کی ایک اہم داستان بھی ہے۔سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر حجاب پر پابندی غلط تھی تو اسے ختم کرنے میں تقریباً تین سال کیوں لگے؟ اور اگر کانگریس واقعی اس فیصلے کے خلاف تھی تو اقتدار میں آنے کے فوراً بعد کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ آخر ایسا کیا بدل گیا کہ اچانک حکومت کو وہی مسئلہ یاد آگیا جو ہزاروں مسلم طالبات کیلئے گزشتہ برسوں میں ذہنی اذیت، تعلیمی رکاوٹ اور سماجی عدم تحفظ کی علامت بن چکا تھا؟
یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس پورے معاملے کو محض “مذہبی آزادی” کے محدود دائرے میں دیکھنا شاید حقیقت کا ادھورا مطالعہ ہوگا۔ اس کے پس منظر میں سیاست، ووٹ بینک، انتخابی دباؤ، سماجی ردِعمل، برہمن طبقے کی ناراضگی، مسلم ووٹروں کی بےچینی، اور آنے والے بلدیاتی و جی بی اے انتخابات کی گونج سب کچھ شامل دکھائی دیتا ہے۔
یہ حقیقت فراموش نہیں کی جاسکتی کہ حجاب تنازعہ نے صرف عدالتوں اور اسمبلیوں میں بحث پیدا نہیں کی بلکہ ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کیا۔ کئی طالبات کو کالج کے دروازوں سے واپس لوٹایا گیا، بعض نے تعلیم ادھوری چھوڑ دی، کچھ نے فاصلاتی تعلیم اختیار کی، اور متعدد ایسی بچیاں بھی تھیں جن کے تعلیمی خواب خاموشی کے ساتھ ختم ہوگئے۔
اس پورے عرصے میں مسلم طالبات کو صرف انتظامی پابندی کا سامنا نہیں تھا بلکہ انہیں ایک ایسی نفسیاتی کیفیت سے بھی گزرنا پڑا جہاں اُن کی مذہبی شناخت کو مسلسل سیاسی بحث کا موضوع بنایا گیا۔ ٹیلی ویژن اسٹوڈیوز میں حجاب کو “خطرہ” بناکر پیش کیا گیا، کالجوں کے باہر نعرے بازی ہوئی، اور بعض حلقوں نے اس معاملے کو اکثریتی و اقلیتی صف بندی کیلئے ایک مؤثر سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
اُس وقت بی جے پی حکومت نے اس فیصلے کو “یکساں یونیفارم” اور “سیکولر ماحول” سے جوڑا تھا۔ لیکن ابتدا ہی سے یہ سوال اٹھتا رہا کہ اگر مقصد واقعی صرف یونیفارم تھا تو پھر مختلف مذہبی علامات کے ساتھ الگ الگ رویہ کیوں اختیار کیا گیا؟ سکھ طلبہ کی پگڑی یا دیگر مذہبی علامات پر وہ سختی کیوں نظر نہیں آئی جو صرف حجاب کے معاملے میں دکھائی گئی؟ یہی وہ سوال تھا جس نے اس پورے تنازعے کی نیت پر شکوک کو مضبوط کیا۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کی ایک بڑی تعداد اُس وقت بھی یہ مانتی تھی کہ حجاب کا مسئلہ صرف تعلیمی ضابطے تک محدود نہیں بلکہ انتخابی پولرائزیشن کی ایک منظم کوشش تھی۔ 2023 کے اسمبلی انتخابات نے کسی حد تک اس تاثر کو مضبوط بھی کیا، کیونکہ اس پورے تنازعے کے بعد مسلمانوں کی بڑی تعداد ایک سیاسی سمت میں سمٹتی ہوئی نظر آئی۔
لیکن اقتدار میں آنے کے بعد کانگریس حکومت نے بھی فوری طور پر پابندی واپس نہیں لی۔ یہی خاموشی آج سب سے زیادہ سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ اگر یہ واقعی آئینی آزادی اور بنیادی حقوق کا مسئلہ تھا تو پھر تین سال کی تاخیر کیوں؟ اگر یہ انصاف کا معاملہ تھا تو پھر متاثرہ طالبات کو اتنا طویل انتظار کیوں کروایا گیا؟
یہاں داونگیرے جنوبی ضمنی انتخاب نے پورے سیاسی منظرنامے کو نئی سمت دی۔ کانگریس کی جانب سے مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہ دیے جانے پر مسلم حلقوں میں ناراضگی کھل کر سامنے آئی۔ پہلی بار بڑے پیمانے پر یہ بحث شروع ہوئی کہ کیا مسلمانوں کے ووٹ کو مستقل طور پر “خوف کی سیاست” کے ذریعے ایک ہی سمت میں رکھا جاسکتا ہے؟ کیا صرف بی جے پی کو روکنے کے نام پر ہر فیصلہ قبول کرلیا جائے؟
اسی دوران مختلف مختلف مسلم تنظیموں کی سرگرمیاں، تنظیمی اجتماعات اور سیاسی مباحثوں میں نمائندگی، ریزرویشن، تحفظ، بجٹ اور سرکاری ملازمتوں جیسے مسائل زیادہ شدت سے اٹھنے لگے۔ متبادل سیاسی آوازوں کی بحث سے سیاسی حلقوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ مسلم ووٹر اب صرف وعدوں یا جذباتی نعروں سے مطمئن ہونے کیلئے تیار نہیں بلکہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتا ہے۔ یہی وہ ماحول تھا جس نے کانگریس حکومت پر دباؤ بڑھایا۔
سیاسی مبصرین یہ بھی مانتے ہیں کہ وزیراعلیٰ سدارامیا اس وقت اپنی روایتی “اہندا” سیاست کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کرناٹک کی سیاست میں “اہندا” یعنی اقلیتوں، پسماندہ طبقات اور دلتوں کا اتحاد سدارامیا کی سیاسی طاقت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حالیہ مہینوں میں دلت ریزرویشن، قبائلی طبقات کے مسائل، گارنٹی اسکیموں کیلئے فنڈز کے استعمال، اور سرکاری ملازمتوں میں بھرتیوں کی سست رفتاری پر مختلف طبقات میں ناراضگی پیدا ہوئی۔ ایسے میں حجاب معاملے پر فیصلہ صرف مذہبی آزادی کا مسئلہ نہیں بلکہ اپنے بنیادی ووٹ بینک کو دوبارہ متحد رکھنے کی سیاسی کوشش بھی سمجھا جارہا ہے۔
اسی لیے حکومت نے اس بار براہِ راست “حجاب پابندی ختم” کرنے کے بجائے “تمام محدود مذہبی علامات” کی اجازت دی۔ جنیو، رودرکش اور دیگر ہندو مذہبی علامات کو شامل کرکے حکومت نے واضح طور پر ایک سیاسی توازن قائم کرنے کی کوشش کی تاکہ فیصلہ صرف مسلمانوں کیلئے مخصوص نہ لگے۔
اسی دوران سی ای ٹی امتحانات کے موقع پر برہمن طلبہ کے “جنیو” سے متعلق پیش آیا واقعہ پورے منظرنامے کو بدل دینے والا ثابت ہوا۔ چند طلبہ کو امتحانی مرکز میں مقدس دھاگہ ہٹانے کیلئے کہنے پر ایسا شدید ردِعمل سامنے آیا کہ پوری ریاستی مشینری حرکت میں آگئی۔ وزراء متحرک ہوگئے، پولیس انتظامیہ حرکت میں آئی، ایف آئی آر درج ہوئی، کالج کے خلاف کارروائی ہوئی، تحقیقاتی کمیٹی بنی، اور سیاسی قیادت نے فوری مداخلت کی۔
یہیں سے عام لوگوں کے ذہن میں ایک فطری سوال پیدا ہوا کہ جب ہزاروں مسلم طالبات برسوں تک ذہنی اذیت، تعلیمی رکاوٹ اور سماجی تحقیر کا سامنا کررہی تھیں، تب اتنی تیزی اور حساسیت کیوں دکھائی نہیں دی؟ اگر مذہبی شناخت کا احترام ضروری تھا تو پھر یہ اصول سب کیلئے پہلے دن سے یکساں کیوں نہیں تھا؟
یہ سوال صرف جذباتی نہیں بلکہ سیاسی اور آئینی اعتبار سے بھی انتہائی اہم ہے۔
دوسری طرف بی جے پی اب اس فیصلے کی مخالفت کررہی ہے اور اسے “ خوشامد کی سیاست” قرار دے رہی ہے۔ لیکن سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ اگر مذہبی علامات واقعی تعلیمی ماحول کیلئے خطرہ تھیں تو پھر جنیو کے معاملے پر اتنی شدید سیاسی حساسیت کیوں دیکھی گئی؟
ادھر کانگریس اور اس کے حامی حلقے اس فیصلے کو سیکولر اقدار اور آئینی آزادی کی جیت قرار دے رہے ہیں۔ مگر دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ اب اس فیصلے کا کریڈٹ لینے کی ایک خاموش مگر شدید دوڑ بھی شروع ہوچکی ہے۔ مختلف مسلم سیاسی قائدین، مسلم تنظیمیں، سماجی کارکن، وکلا، مذہبی حلقے اور مقامی گروہ اس فیصلے کو اپنی جدوجہد کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ کوئی اسے قانونی لڑائی کی کامیابی کہہ رہا ہے، کوئی داونگیرے کے باشعور مسلم ووٹروں کا سیاسی پیغام، کوئی مسلم کنونشنوں کے دباؤ کا اثر، اور کوئی اسے سدارامیا کی “سیکولر سیاست” کا ثبوت قرار دے رہا ہے۔
حقیقت شاید یہ ہے کہ یہ فیصلہ کسی ایک فرد، ایک جماعت یا ایک تنظیم کی کامیابی نہیں بلکہ سیاسی دباؤ، عوامی بےچینی، مسلم ووٹروں کے بدلتے ہوئے سیاسی شعور، اور حکومت کی انتخابی ضرورتوں کے مجموعی اثرات کا نتیجہ ہے۔
اس پورے معاملے میں کانگریس حکومت کے بعض اقدامات نے مزید سوالات بھی پیدا کیے ہیں۔ خاص طور پر اُس پرنسپل کو “بہترین ٹیچر” کا اعزاز دیے جانے پر شدید تنقید ہوئی، جنہوں نے حجاب تنازعے کے دوران باحجاب طالبات کو کالج میں داخل ہونے سے روکا تھا۔ اگر حکومت واقعی سابقہ پالیسی کو ناانصافی سمجھتی ہے تو پھر ایسے افراد کی سرکاری سطح پر ستائش کس پیغام کی عکاسی کرتی ہے؟
اسی طرح انتخابی منشور کے دیگر وعدے بھی اب دوبارہ زیرِ بحث آچکے ہیں۔ 2B ریزرویشن کی بحالی، انسدادِ گاؤ کشی قانون کی سخت دفعات میں ترمیم، اقلیتوں کے احساسِ تحفظ، فرقہ پرست عناصر کے خلاف کارروائی، بہتر نمائندگی، بجٹ میں حصہ داری اور تعلیمی مواقع جیسے وعدے اب بھی مکمل طور پر عملی شکل اختیار نہیں کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ باشعور حلقے اب یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا حکومت نے داونگیرے کے سیاسی پیغام سے صرف “حجاب” والا سبق سیکھا یا باقی وعدے بھی یاد رکھے جائیں گے؟
یہ تنازعہ ایک اور بنیادی حقیقت بھی واضح کرتا ہے۔ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی معاشرے میں مذہبی شناختوں کو سیاسی ہتھیار بنانا وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے، مگر اس کے سماجی اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔ ایک عام انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ حجاب جیسے معاملات کو سیاسی تنازعہ بنانے سے کس طرح ووٹوں کی صف بندی، خوف کی سیاست، اور انتخابی پولرائزیشن پیدا ہوتی ہے۔
لیکن تمام سیاسی بحثوں کے باوجود بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر ایک باحجاب طالبہ سے اتنی بےچینی کیوں؟ اگر ایک لڑکی اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق لباس پہن کر تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس سے دوسروں کو کیا تکلیف ہوسکتی ہے اور ان کی تعلیم کیسے متاثر ہوسکتی ہے؟ اگر تعلیمی ادارے مختلف شناختوں کو برداشت نہیں کرسکتے تو پھر مسئلہ لباس میں نہیں بلکہ سوچ میں ہے۔
کرناٹک کی حالیہ پیش رفت نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ سیاسی جماعتیں اکثر اصولوں سے زیادہ حالات کی اسیر ہوتی ہیں۔ عوامی دباؤ، انتخابی نتائج، اور زمینی ردِعمل جب شدت اختیار کرتے ہیں، تبھی فیصلے بدلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب مسلمان بھی پہلے کی طرح خاموش یا جذباتی ووٹر نہیں رہے۔ وہ سوال پوچھ رہے ہیں، حساب مانگ رہے ہیں، اور وعدوں کو یاد دلا رہے ہیں۔ اور یہی شاید جمہوریت کی اصل روح بھی ہے۔
صرف ہنگامہ کھڑا کرنا مرا مقصد نہیں
میری کوشش ہے کہ یہ صورت بدلنی چاہیے
haleemmansoor@gmail.com
Comments are closed.