تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں!!!

 

( بھوج شالا فیصلہ اور ہندوستانی مسلمانوں کے خدشات)

 

✍️(حافظ)افتخاراحمدقادری

iftikharahmadquadri@gmail.com

مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع تاریخی بھوج شالا اور کمال مولا مسجد سے متعلق حالیہ عدالتی فیصلہ ہندوستانی سیاست، مذہبی تنازعات، آئینی اصولوں اور اقلیتوں کے مستقبل کے حوالے سے ایک نہایت اہم موڑ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بینچ کی جانب سے پورے متنازعہ احاطے کو ہندو مندر قرار دینا اور مسلم فریق کو نماز کے حق سے محروم کرنا ایک مقامی مقدمہ نہیں بلکہ ہندوستان کے بدلتے ہوئے سیاسی و سماجی منظرنامے کی ایک گہری علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف ملک کے مسلمانوں کے اندر بے چینی پیدا کی بلکہ سیکولر آئینی ڈھانچے، مذہبی آزادی، تاریخی تنازعات اور مستقبل میں دیگر مذہبی مقامات کے بارے میں بھی کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے۔‌‌ بھوج شالا کا تنازعہ نیا نہیں برسوں سے اس مقام کے بارے میں دو الگ الگ دعوے موجود رہے ہیں۔ ہندو فریق اسے راجا بھوج کے دور کا سرسوتی مندر قرار دیتا رہا جبکہ مسلمان اسے صدیوں سے قائم کمال مولا مسجد کے طور پر دیکھتے رہے ہیں۔ طویل عرصے تک ایک متوازن انتظامی نظام کے تحت مخصوص دنوں میں دونوں فریقوں کو عبادت کی اجازت دی جاتی رہی لیکن حالیہ عدالتی فیصلے نے اس توازن کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔ عدالت نے اے ایس آئی کی رپورٹ اور تاریخی حوالوں کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس مقام کی اصل شناخت ایک ہندو عبادت گاہ کی تھی اور اسی بنیاد پر ہندو فریق کے حق میں فیصلہ سنایا گیا۔ اس فیصلے کے بعد لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ آیا ہندوستان میں مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات اب ایک نئی سمت اختیار کرنے جا رہے ہیں؟ کیونکہ اگر تاریخی حوالوں، آثارِ قدیمہ کی رپورٹس اور قدیم مذہبی دعووں کی بنیاد پر موجودہ مذہبی حیثیتوں کو تبدیل کرنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو پھر ملک میں موجود درجنوں بلکہ سینکڑوں ایسے مقامات کے بارے میں نئے تنازعات کھڑے ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ خدشہ ہے جو ہندوستانی مسلمانوں اور سیکولر حلقوں کو سب سے زیادہ پریشان کر رہا ہے جبکہ ہندوستان کا آئین مذہبی آزادی، مساوات اور تمام مذاہب کے احترام کی ضمانت دیتا ہے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں میں جس طرح مذہبی شناخت کی سیاست مضبوط ہوئی ہے اس نے اقلیتوں کے اندر یہ احساس پیدا کیا ہے کہ اب عدالتی، سیاسی اور انتظامی فیصلے محض آئینی اصولوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ اکثریتی جذبات کے دباؤ میں بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ بابری مسجد کا فیصلہ پہلے ہی ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک بہت بڑا نفسیاتی صدمہ تھا اور اب بھوج شالا کے معاملے میں آیا ہوا فیصلہ اسی سلسلے کی ایک نئی کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مسلمانوں کے اندر یہ خوف بڑھتا جا رہا ہے کہ اگر ایک ایک کر کے تاریخی مساجد یا متنازعہ مقامات کے بارے میں اسی نوعیت کے فیصلے سامنے آتے رہے تو پھر مستقبل میں مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کے تحفظ کا سوال مزید سنگین ہو جائے گا۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب مختلف شدت پسند تنظیمیں کھلے عام متعدد مساجد کے بارے میں دعوے کر رہی ہیں اور انہیں مندروں کی سابقہ جگہ قرار دے رہی ہیں ایسے عدالتی فیصلے ان مطالبات کو مزید تقویت دے سکتے ہیں۔ اس فیصلے کے سیاسی اثرات بھی نہایت گہرے ہیں۔ ہندوستان میں مذہبی مسائل ہمیشہ سے انتخابی سیاست کا ایک اہم حصہ رہے ہیں۔ بی جے پی اور ہندوتوا نظریے سے وابستہ جماعتیں طویل عرصے سے تاریخی مذہبی مقامات کو اپنی سیاسی مہمات کا حصہ بناتی رہی ہیں۔ رام مندر تحریک اس کی سب سے بڑی مثال تھی جس نے نہ صرف ہندوستانی سیاست کا رخ بدل دیا بلکہ ملک میں مذہبی تقسیم کو بھی گہرا کر دیا۔ اب بھوج شالا کا معاملہ بھی اسی طرز کی ایک نئی سیاسی علامت بن سکتا ہے۔ یہ خدشہ بھی پیدا ہو رہا ہے کہ آنے والے انتخابات میں اس فیصلے کو سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کیا جائے گا اور اکثریتی ووٹروں کے مذہبی جذبات کو مزید متحرک کیا جائے گا۔ ہندوستان کی سیاست میں مذہبی جذبات کا استعمال کوئی نئی بات نہیں لیکن گزشتہ چند برسوں میں اس رجحان میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ایسے ماحول میں اقلیتوں کے مسائل اکثر قومی مباحثے کے بجائے سیاسی نعروں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اہم پہلو یہ ہے کہ اس فیصلے نے ہندوستانی عدلیہ کے بارے میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ عدالتوں کو ہمیشہ آئین کے محافظ اور غیر جانبدار اداروں کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے لیکن جب مذہبی تنازعات میں ایک فریق خود کو مسلسل کمزور محسوس کرنے لگے تو عدالتی غیر جانبداری پر سوالات اٹھنا فطری ہو جاتا ہے۔ اگرچہ عدالت نے اپنے فیصلے کی بنیاد تاریخی شواہد اور اے ایس آئی کی رپورٹ کو قرار دیا ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں صرف آثارِ قدیمہ یا قدیم تاریخ کافی نہیں ہوتی بلکہ موجودہ سماجی توازن، مذہبی ہم آہنگی اور آئینی اصولوں کو بھی برابر اہمیت دی جانی چاہیے۔ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی ملک میں تاریخ کو بنیاد بنا کر موجودہ مذہبی ڈھانچوں کو تبدیل کرنے کا عمل نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ برصغیر کی تاریخ میں صدیوں تک مختلف سلطنتیں، مذاہب اور ثقافتیں ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرتی رہی ہیں۔ بہت سے مذہبی مقامات مختلف ادوار میں مختلف استعمالات کے تحت رہے۔ اگر ہر تاریخی دعوے کو موجودہ مذہبی حق میں تبدیل کیا جانے لگے تو اس سے نہ ختم ہونے والے تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔ بھوج شالا کے فیصلے کے بعد مسلمانوں کے اندر یہ احساس مزید گہرا ہو سکتا ہے کہ ان کی مذہبی شناخت اور تاریخی ورثہ مسلسل دباؤ میں ہے۔ یہی احساس کسی بھی معاشرے میں احساسِ محرومی کو جنم دیتا ہے اور جب ایک بڑی آبادی خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے تو اس کے اثرات صرف مذہبی نہیں بلکہ سماجی اور سیاسی بھی ہوتے ہیں۔ ہندوستان کی طاقت ہمیشہ اس کی مذہبی و ثقافتی تنوع میں رہی ہے لیکن اگر یہی تنوع عدم اعتماد اور خوف میں بدل جائے تو یہ ملک کے جمہوری ڈھانچے کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور عالمی سطح پر خود کو ایک سیکولر اور کثیر الثقافتی ملک کے طور پر پیش کرتا ہے۔ لیکن جب مذہبی اقلیتوں سے متعلق ایسے تنازعات بار بار عالمی میڈیا میں زیر بحث آتے ہیں تو اس سے ہندوستان کی بین الاقوامی شبیہ متاثر ہوتی ہے۔ خاص طور پر مسلم دنیا میں ایسے فیصلوں کو گہری تشویش کے ساتھ دیکھا جاتا ہے اور یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے مذہبی حقوق مسلسل محدود ہو رہے ہیں۔ عدالت کی جانب سے یہ کہنا کہ اگر مسلم فریق چاہے تو حکومت متبادل زمین دینے پر غور کر سکتی ہے بظاہر ایک متوازن تجویز محسوس ہوتی ہے لیکن مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کے نزدیک مسئلہ صرف زمین کا نہیں بلکہ مذہبی شناخت، تاریخی ورثے اور آئینی حقوق کا ہے۔ ان کے نزدیک اگر ایک صدیوں پرانی عبادت گاہ کی حیثیت ختم کر دی جائے اور اس کے بدلے دوسری جگہ زمین کی پیشکش کی جائے تو یہ محض ایک انتظامی حل تو ہو سکتا ہے لیکن جذباتی اور مذہبی اعتبار سے اسے مکمل انصاف نہیں کہا جا سکتا۔ اس قسم کے فیصلے سماجی ہم آہنگی کو متاثر کریں گے۔ ہندوستان پہلے ہی مذہبی پولرائزیشن کے ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ سوشل میڈیا، سیاسی بیانات اور ٹی وی مباحثوں نے مذہبی شناختوں کو پہلے سے زیادہ حساس بنا دیا ہے۔ ایسے میں اگر عدالتی فیصلے بھی ایک فریق کی مکمل فتح اور دوسرے کی مکمل شکست کے طور پر پیش کیے جائیں تو معاشرتی تقسیم مزید گہری ہو سکتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستانی ریاست، عدلیہ اور سیاسی قیادت ایسے حساس معاملات میں محض قانونی فیصلوں پر اکتفا نہ کرے بلکہ سماجی اعتماد کی بحالی کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات کرے۔ کسی بھی ملک میں صرف قانونی فتح کافی نہیں ہوتی، اصل کامیابی وہ ہوتی ہے جس میں مختلف طبقات خود کو محفوظ اور باعزت محسوس کریں۔ اگر ایک بڑا طبقہ مسلسل خوف، بے اعتمادی اور عدم تحفظ کا شکار ہو جائے تو جمہوریت کی روح کمزور ہونے لگتی ہے۔ بھوج شالا کا فیصلہ صرف ایک عدالتی مقدمے کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئی بحث کا آغاز ہے۔ یہ بحث صرف تاریخ یا مذہب کی نہیں بلکہ ہندوستان کے مستقبل، اس کے سیکولر تشخص، آئینی وعدوں اور سماجی ہم آہنگی کی بھی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ ہندوستانی ریاست اس حساس مسئلے کو کس طرح سنبھالتی ہے، کیونکہ یہی طرزِ عمل طے کرے گا کہ ملک مذہبی تنوع کے ساتھ آگے بڑھتا ہے یا مسلسل بڑھتی ہوئی مذہبی تقسیم کی طرف۔

*کریم گنج،پورن پور، پیلی بھیت یوپی

(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)

iftikharahmadquadri@gmail.com

 

Comments are closed.