ہندوستانی سیاست میں مسلمان: ووٹ بینک سے بے وقعت قوم تک
اقتدار کے ایوانوں میں خاموشی، انتخابی میدان میں استعمال — آخر مسلمان جائیں تو کہاں جائیں؟
جاوید جمال الدین
ہندوستانی جمہوریت کا سب سے بڑا المیہ شاید یہی ہے کہ یہاں سب سے زیادہ سیاسی طور پر استعمال ہونے والی قوم، سب سے زیادہ سیاسی طور پر بے وزن بھی بنتی جارہی ہے۔ آج ملک کے کروڑوں مسلمان ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ان کے ووٹ تو قیمتی ہیں، مگر ان کی نمائندگی بے معنی ہوچکی ہے؛ ان کی تعداد اہم ہے، مگر ان کی سیاسی حیثیت مشکوک؛ ان کے مسائل حقیقی ہیں، مگر ان کی آواز غیر ضروری سمجھی جانے لگی ہے۔
پانچ ریاستوں کے حالیہ اسمبلی انتخابات نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کردیا ہے کہ ہندوستانی سیاست میں مسلمان اب محض ایک “ووٹ ڈالنے والی مشین” بن کر رہ گئے ہیں۔ کیرالہ میں اگرچہ مسلمانوں نے تقریباً 22 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، مغربی بنگال، آسام اور تمل ناڈو میں بھی چند مسلمان چہرے اسمبلی تک پہنچے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ نمائندگی ہندوستان کے 20 کروڑ مسلمانوں کے سیاسی وجود کی ترجمانی کرتی ہے؟ کیا چند نشستوں کی کامیابی پر جشن منانا اس اجتماعی سیاسی زوال کو چھپا سکتا ہے جس کا سامنا پوری قوم کررہی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کی حیثیت مسلسل سکڑتی جارہی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب مسلمانوں کے 15 سے 20 فیصد ووٹ حکومتیں بنانے اور گرانے کی طاقت رکھتے تھے۔ سیاسی جماعتیں مسلمانوں کے دروازوں پر دستک دیتی تھیں، ان کے مسائل پر بات ہوتی تھی، ان کے مذہبی، تعلیمی اور سماجی حقوق کا ذکر کیا جاتا تھا۔ لیکن آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ مسلمانوں کے ووٹ تو لیے جاتے ہیں، مگر انہیں اقتدار میں شریک کرنا سیاسی “خطرہ” سمجھا جاتا ہے۔
یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں مسلمان 70 سے 80 فیصد ووٹ دے کر بھی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں محض 2 یا 3 فیصد نمائندگی پاتے ہیں؟ یہ کیسا سیکولرزم ہے جہاں مسلمانوں کے نام پر سیاست تو ہوتی ہے، مگر مسلمانوں کو سیاست میں جگہ دینے سے سیاسی جماعتوں کے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی بیشتر سیاسی جماعتیں مسلمانوں کو صرف انتخابی ایندھن کے طور پر استعمال کررہی ہیں۔
آج ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کے خلاف ایک خاموش مگر منظم سیاسی بائیکاٹ جاری ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بائیکاٹ کا اعلان کھلے لفظوں میں نہیں کیا جاتا۔ سیاسی جماعتیں جانتی ہیں کہ مسلمان امیدواروں کو زیادہ ٹکٹ دینا “اکثریتی ووٹ بینک” کو ناراض کرسکتا ہے، اس لیے مسلمانوں کو علامتی نمائندگی دے کر خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چند نام، چند چہرے، چند سیٹیں… اور پھر پوری قوم سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ شکر ادا کرے۔
سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی بے وزنی پر خود مسلمان قیادت بھی سنجیدگی سے غور کرنے کے لیے تیار نہیں۔ قوم کو جذباتی نعروں، وقتی احتجاجوں اور نمائشی سیاست میں الجھا دیا گیا ہے۔ چند لوگ اسمبلی پہنچ جائیں تو قوم جشن منانے لگتی ہے، گویا سیاسی غلامی کے دور میں چند نمائندوں کی موجودگی ہی آزادی کی علامت ہو۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ نمائندے مسلمانوں کے حقیقی مسائل پر آواز اٹھا پا رہے ہیں؟ کیا پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مسلمانوں کے تعلیمی زوال، بے روزگاری، ہجومی تشدد، مذہبی امتیاز، معاشی پسماندگی اور سماجی عدم تحفظ پر سنجیدہ بحث ہورہی ہے؟ اگر نہیں، تو پھر صرف تعداد کے کھیل میں چند نشستوں کا حاصل کیا معنی رکھتا ہے؟
حقیقت تو یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمان آج سیاسی طور پر “irrelevant” بنائے جارہے ہیں۔ انہیں اس مقام پر لا کھڑا کیا گیا ہے جہاں ان کے ووٹ کے بغیر سیاست مکمل نہیں ہوتی، مگر ان کی شرکت کے بغیر اقتدار مکمل سمجھا جاتا ہے۔ یہ صورتحال محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک طویل سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ محسوس ہوتی ہے۔
ملک کا موجودہ سیاسی ماحول اکثریتی جذبات کے گرد اس طرح تعمیر کیا جاچکا ہے کہ مسلمانوں کی بات کرنا بھی کئی جماعتوں کے لیے سیاسی جرم بنتا جارہا ہے۔ سیکولر کہلانے والی جماعتیں بھی اب مسلمانوں کے حق میں کھل کر بولنے سے گھبراتی ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ اگر انہوں نے مسلمانوں کو زیادہ ٹکٹ دیے یا ان کے مسائل پر زیادہ آواز اٹھائی تو ان پر “توشہ پرستی” یا “اقلیتی سیاست” کا الزام لگادیا جائے گا۔
نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان ہر انتخاب میں سب سے زیادہ خوفزدہ، سب سے زیادہ بے چین اور سب سے زیادہ غیر محفوظ ووٹر کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ وہ ہر بار “کم برے” کو منتخب کرنے پر مجبور کیے جاتے ہیں۔ ان کے پاس انتخاب کم اور مجبوری زیادہ ہوتی ہے۔
لیکن اس پوری صورتحال کا ایک تلخ پہلو مسلمانوں کے اندر بھی موجود ہے۔ قوم آج بھی مسلکی تقسیم، علاقائی تعصبات، شخصیت پرستی اور جذباتی سیاست سے باہر نہیں نکل سکی۔ مسلمان ایک مضبوط سیاسی وژن اور متحد حکمت عملی سے محروم ہیں۔ قوم کے اندر ایسی قیادت کا فقدان ہے جو صرف تقریروں اور احتجاجوں کے بجائے عملی سیاسی تنظیم سازی کرسکے۔
بدقسمتی یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کو ہر دور میں جذباتی نعروں کے ذریعے خاموش کیا جاتا رہا۔ کبھی سیکولرازم کے نام پر، کبھی خوف کے نام پر، کبھی فرقہ پرستی کے خطرے کے نام پر۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان ووٹ تو دیتے رہے، مگر سیاسی طاقت ان کے ہاتھ سے مسلسل نکلتی گئی۔
آج ہندوستانی مسلمانوں کو سب سے پہلے اس خوش فہمی سے باہر نکلنا ہوگا کہ صرف ووٹ دینا ہی سیاسی طاقت ہے۔ دنیا کی ہر جمہوریت میں سیاسی طاقت اس قوم کو ملتی ہے جو منظم ہو، تعلیم یافتہ ہو، اقتصادی طور پر مستحکم ہو اور جس کے پاس واضح سیاسی ایجنڈا ہو۔ افسوس یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمان ابھی تک ردِعمل کی سیاست سے آگے نہیں بڑھ سکے۔
اگر قوم واقعی اپنی سیاسی وقعت بحال کرنا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے تعلیم کو اپنی سب سے بڑی سیاسی تحریک بنانا ہوگا۔ کیونکہ طاقت صرف نعروں سے نہیں، اداروں سے پیدا ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ میں آواز اسی کی سنی جاتی ہے جس کی معیشت مضبوط ہو، جس کے تعلیمی ادارے فعال ہوں، جس کے نوجوان انتظامیہ، میڈیا، عدلیہ اور سول سروس میں موجود ہوں۔
مسلمانوں کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ صرف مذہبی شناخت کی بنیاد پر سیاست انہیں مزید تنہائی کی طرف لے جاسکتی ہے۔ انہیں دلتوں، پسماندہ طبقات، آدیواسیوں اور دیگر محروم طبقات کے ساتھ مشترکہ جمہوری اتحاد قائم کرنا ہوگا۔ ہندوستان کی سیاست میں وہی طبقے مضبوط ہوئے ہیں جنہوں نے اتحاد اور تنظیم کے ذریعے طاقت حاصل کی۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی سیاست ایک منافع بخش سیاسی صنعت بن چکی ہے۔ ٹی وی مباحثوں سے لے کر انتخابی جلسوں تک، مسلمانوں کو ایک “سیاسی موضوع” بنا دیا گیا ہے۔ ان کے مذہب، لباس، عبادات اور شناخت کو مسلسل نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ اکثریتی جذبات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ ایسے ماحول میں مسلمانوں کے لیے محض خاموش رہنا یا وقتی ردِعمل دینا کافی نہیں ہوگا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستانی مسلمان اپنے سیاسی، سماجی اور تعلیمی وجود کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ انہیں یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا وہ ہمیشہ دوسروں کے رحم و کرم پر رہیں گے یا اپنی نئی سیاسی سمت خود متعین کریں گے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے حالات کا ادراک نہیں کرتیں، وقت انہیں مزید حاشیے پر دھکیل دیتا ہے۔
مسلمانوں کو جذباتی نعروں سے نکل کر حقیقت پسندانہ سیاست اپنانی ہوگی۔ انہیں اپنے ووٹ کی قیمت سمجھنی ہوگی۔ انہیں سوال کرنا ہوگا کہ جو جماعتیں ان کے ووٹ سے اقتدار حاصل کرتی ہیں، وہ انہیں اقتدار میں شریک کیوں نہیں کرتیں؟ انہیں یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ محض “خوف کی سیاست” کے تحت ووٹ دیتے رہنا کب تک ان کی تقدیر رہے گا۔
ہندوستانی جمہوریت کی اصل طاقت اس کی تکثیریت اور تنوع میں ہے۔ اگر اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت خود کو سیاسی طور پر بے وقعت محسوس کرنے لگے تو یہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہندوستانی جمہوریت کے لیے بھی ایک خطرناک اشارہ ہے۔
آج ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے: کیا وہ ہمیشہ ووٹ بینک رہیں گے؟ یا پھر ایک باشعور، منظم اور باوقار سیاسی قوت بن کر ابھریں گے؟
فیصلہ اب قوم کو خود کرنا ہے ،
کیونکہ فوقت کا تقاضا یہی ہے کہ مسلمان اپنے ووٹ کی طاقت کو محض جذباتی وابستگی کے بجائے سیاسی بصیرت کے ساتھ استعمال کریں، اپنی نئی نسل کو تعلیم اور قیادت کے لیے تیار کریں اور جمہوری نظام میں اپنی مؤثر، باوقار اور مثبت موجودگی درج کرائیں۔ کیونکہ کسی بھی قوم کی اصل وقعت صرف اس کی تعداد سے نہیں، بلکہ اس کے شعور، اتحاد اور عمل سے متعین ہوتی ہے۔
javedjamaluddin@gmail.com
9867647741
Comments are closed.