میری ڈائری کا ایک ورق

عبدالعزیز

اب ایسے لوگ نایاب ہوتے جارہے ہیں جو از خود فرمائش کرتے ہو ں کہ انہیں قرآن کی کوئی آیت یا ایک حدیث سنائیں۔کئی روز پہلے کی بات ہے کہ صبح کی چہل قدمی کے وقت ایک دکان دار نے مجھ سے کہا کہ روز جاتے وقت مجھے ایک حدیث سنایا کیجیے۔ مجھے یہ سن کربے حد خوشی ہوئی۔ داعی تو ایسے موقع کی تلاش میں ہوتا ہے کوئی جب دنیاوی بات کرتا ہے تو اس میں میں بھی وہ موقع و محل دیکھ کر دین کی کوئی بات بتا نے کی کوشش کر تا ہے۔ سورہ یوسف پڑھئے دیکھئے حضرت یوسف علیہ السلام کے زنداں کے ساتھی جب اپنے خواب کی تعبیر پوچھتے ہیں تو حضرت یوسف علیہ السلام خواب کی تعبیر بتانے سے پہلے کس طرح توحید کی بات بیان فرماتے ہیں۔ آج جب دکان سے گزر ا تو ان کو پہلی حدیث سنائی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’میری ایک بات بھی تمہیں معلوم ہو تو دوسروں کو بتائو‘‘ پھر ان سے خاکسار نے کہا کہ اسے آپ یاد کرلیں اور اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش شروع کردیں۔ پھر میں نے ایک اور حدیث سنائی ’’ جو نرمی سے محروم ہوگیا وہ ہر خیر سے محروم ہوگیا‘‘میں نے آخرمیں بتایا مومن کی بے شمار صفتیں قرآن میں بیان کی گئی ہیں ان میں سے ایک صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ ’’مومن غصہ کو پی جاتا ہے ‘‘ دکان دار نے کہاکہ غصہ تو آتا ہے میں نے کہا کہ غصہ آتا ہے جب ہی تو غصے کو قابو میں کرنے کی بات کہی جارہی ہے۔ کل ان شا اللہ آپ کو بتا ئوں گا کہ ایک موقع پر حضرت حسن ابن علیؓ نے کس طرح اپنے غصے کو قابو میں کیا۔
دکا ندار سے کہا کہ وعدہ تھا کہ کل پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور ان شاء اللہ آپ کو بتائوں گا کہ حضرت حسن ابن علیؓ نے ایک موقع پر اپنے غصہ کو کس طرح قابو میں کیا۔ ’’ سید نا حسن بن علیؓ کا تذکرہ نگاروں نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ گھر میں مہمان آئے ہوئے تھے۔ دسترخوان بچھ چکا تھا۔ آپ نے غلام کو کھانا لانے کیلئے کہا۔ اس نے کھانا لانا شروع کیا۔ نہ جانے کیسے اس کا پائوں الجھا کہ گرم گرم شوربے کا پیالہ اس کے ہاتھ سے چھوٹا اور سیدنا حسن ؓ کی کمر پر گر پڑا۔
یقینا آپ کی کمر پر آبلے پڑے ہوں گے آپ نے تکلیف کی شدت سے بے کل ہو کر غصے سے غلام کی طرف دیکھا غلام خاندان نبوت کا پروردہ تھا حکمت دین سے واقف تھا افراد خاندان کے مزاج کو بھی جانتا تھا۔ اس نے فوراً سورہ آل عمران کی ایک آیت کا ٹکڑ ا پڑھا والکاظمین الغیظ ( متقی غصے کو پی جاتے ہیں ) آپ ؓنے فوراً نگاہیں جھکا لیں اور غصہ پی گئے۔ اس نے دیکھا موقع غنیمت ہے ہلکی سی چوٹ بھی کام کر جائے گی اس کے کاحصہ پڑ ھا والعافین عن الناس( وہ لوگوں کو معاف کر دیا کرتے ہیں ) آپ نے فرمایا جا میں نے تجھے معاف کر دیا اس نے دیکھا لوہا گرم ہے اس کے آگے کا حصہ پڑھا و اللہ یحب المحسنین ( اللہ نیکو کاروں کو پسند کرتا ہے ) حضرت حسنؓ نے فرمایا جا میں تجھے آزاد کردیا۔ آپ کو وہ غلام بہت پیار ا تھا۔ اس کی عادتیں بھی اچھی تھیں آپ اسے چھوڑ نا نہیں چاہتے تھے لیکن غلام کی حکمت عملی اور اللہ کی باتوں سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اسے ہمیشہ کے لیے آزاد کر دیا اور اپنے غصے کو پی گئے۔ دوسروں کی غلطیوں پر غصہ پی جانا اور در گزر کرنا مزید احسان بھی کرنا یہ وہ صفات ہیں جو اعلیٰ انسانی کردار کی بنیاد یں ہیں۔ اللہ ہمیں بھی غصے پر قابو پانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
()()()
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

Comments are closed.