جس کی لاٹھی اس کی بھینس !؟

ڈاکٹر عابد الرحمن ( چاندور بسوہ)
ان دنوں عدلیہ کے کچھ فیصلے ایسے آئے کہ جن سے ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کے ضمن میں ان لوگوںکے دلوں میں شکوک و شبہات کا جنم لینا واجبی ہے جو یاتو مظلوم ہیں یا سیاسی طور پر ملک مخالف سمجھے یا گردانے جاتے ہیںجن کے معاملات میں عدالتی کارروائی بھی ملک کا فرقہ وارانہ ماحول گرم کردیتی ہے یا جو پچھڑے اور غریب ہیں جنہیں انصاف بہت آسانی سے نہیں مل پاتا۔
ان میں پہلا معاملہ معزز چیف جسٹس کی سربراہی والی بینچ کا ہے جس میں انہوں نے ۲۰۰۲ میں گجرات میں ہوئے فسادات کی آزادانہ جانچ کروانے کی مانگ کو لے کر کی گئیں عرضیوں پر کی جارہی عدالتی کارروائیوں کو بند کردیا کہ اب ان میں فیصلہ سنانے والی کوئی بات نہیں رہی ۔ ان میں وہ عرضیاں بھی شامل ہیں جو قومی انسانی حقوق کمیشن نے ان فسادات کے معاملات گجرات پولس سے لے کر سی بی آئی کے سپرد کرنے کی مانگ کی تھی اسی طرح وہ عرضی بھی ان میں شامل تھی جو تیستاسیتلواد کی تنظیم نے ان فسادات کے مقدمات کی جانچ کسی عدالت کی نگرانی میں کروانے کے مطالبے کو لے کر کی تھی ۔ اس میں عزت مآب کورٹ یا محترم چیف جسٹس کی نیت یا کسی خاص مقصد پر شک تو نہیںکیا جا سکتا لیکن لوگ اس کو انسیڈنس ( coincidance)پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ چیف جسٹس کے طور پر تقرری کے فوراً بعد یہ فیصلہ آیا۔
دوسرا معاملہ بابری مسجد کا ہے کہ اس میں سپریم کورٹ کی ایک بینچ نے توہین عدالت کی کارروائی کو بند کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اس معاملہ میں درخواست گزار نے بابری مسجد کی شہادت سے پہلے اور بعد میں عدالت میں توہین عدالت کا معاملہ درج کروایا تھا لیکن درخواست گزار کا انتقال ہو چکا ہے اور کورٹ نے ان کے وکیل کی طرف سے اس معاملہ میں امیکس کیوری( کورٹ کی رہنمائی کے لئے درخواست گزار کے علاوہ کسی شخص ) کی تقرری کی درخواست کو مسترد کردیا یہ کہتے ہوئے کہ مرکزی مسئلہ سپریم کورٹ کی بڑی بینچ کے ذریعہ ۲۰۱۹ میں فیصل ہو چکا ہے اس لئے اب یہ قابل غور نہیں ہیــ‘ حالانکہ کورٹ نے یہ بھی کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ اس معاملے کی سنوائی پہلے نہیں کی گئی۔‘ لیکن سنوائی پہلے کیوں نہیں کی گئی ، اور اس کی وجہ سے عدالت کی مبینہ توہین کا جو نپٹارا نہیں ہو سکا اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے یہ سوال جوں کا توں ابھی باقی ہی ہے۔
تیسرا مسئلہ کرناٹک کے بنگلورو کی عیدگاہ گراؤنڈ کا ہے کہ صوبائی سرکار نے جہاں دو دن کے لئے گنیش فیسٹیول کے انعقاد کی اجازت دی تھی ۔ حالانکہ یہ معاملہ کرناٹک ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے جہاں پہلے اتھارٹیز کو حکم دیا گیا تھاکہ وہ اس گراؤنڈ کو یوم آزادی یوم جمہوریہ اور کھیل کود کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے استعمال نہ کریں، جبکہ مسلمانوں کو وہاں عیدین کی نمازادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی ۔ کرناٹک سرکار نے اس آرڈر کو ایک ڈیویزن بینچ کے سامنے چیلنج کیا تھا اور اس نے سرکار کو اس میدان کے ثقافتی اور مذہبی استعمال کے بارے میں مناسب فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جس میں سپریم کورٹ کی ایک بینچ نے وہاں’اسٹیٹس کو ‘ برقرار رکھتے ہوئے گنیش فیسٹیول کے انعقاد کی یہ کہتے ہوئے اجازت نہیں دی کہ جو پچھلے دوسو سالوں میں نہیں ہوا اب کیوں کیا جارہا ہے ۔ حالانکہ یہ حتمی حکم نہیں ہے معاملہ ابھی کرناٹک ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے لیکن ایک اچھی بات ضرور ہے اگر اسی طرح کا کوئی حکم اس وقت بھی دیا جاتا جب بابری مسجد کا تنازعہ کھڑا کیا جارہا تھا تو شاید آج نہ اس طرح کے معاملات میں مقدمے بازی ہوتی اور نہ عدلیہ کا بوجھ بڑھتا ۔ لیکن اس میں بھی ایک عجیب معاملہ یہ ہوا کہ بنگلورو کے اس معاملہ میں سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود کرناٹک ہائی کورٹ کی ایک بینچ نے ہبلی کے عیدگاہ گراؤنڈ میں گنیش فیسٹیول کی اجازت دے دی ۔ کورٹ نے دراصل ہبلی کے میئر کے اس حکم کو اسٹے کرنے سے انکار کردیا جس میں انہوں نے ہبلی کی عیدگاہ میں گنیش فیسٹیول کے انعقاد کی اجازت دی تھی۔ حالانکہ کہا یہ گیا کہ چونکہ یہ گراؤنڈ میونسپل کاؤنسل کی ملکیت ہے جو انجمن اسلام کو ۹۹۹ سال کی لیز پر دیا گیا ہے لیکن اس کے استعمال کے اختیارات میونسپلٹی کے پاس برقرار ہیں ۔یعنی جو پہلے نہیں ہوا اب کیوں کیا جارہا ہے کہہ کر سپریم کورٹ نے جس معاملے کو روکنے کی کوشش کی ہے ہائی کورٹ نے اسی طرح کے معاملے میں گویا جو پہلے نہیں ہوسکا اب کرلو کا حکم صادر کردیا ۔قانونی ماہرین جانیں کہ یہ اعلیٰ اور نچلی عدالتوں کا تصادم ہے یا کچھ اور؟
لیکن عدلیہ کے معاملے میں سب سے خراب بات مہارشٹر حکومت میں شیوسینا کے باغی گروپ کے چیف وہپ نے کہی کہ تیر کمان (شیو سینا کا انتخابی نشان ) ہمارا یعنی باغیوں کا ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہت سے لوگ یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ سپریم کورٹ اس معاملے کی سنوائی کرے گا شندے گروپ کے ایم ایل ایز کی رکنیت ردد کرے گا اور ہماری سرکار گر جائے گی لیکن اب اپنی شکایت آئینی بینچ کے پاس چلی گئی ہے اور اسکا فیصلہ ہونے میں تقریباً چارسے پانچ سال لگنے ہیں دریں اثناء ہم دوسرا الیکشن جیت کر دوبارہ اقتدار میں آجائیں گے۔ حالانکہ یہ کوئی خاص بات نہیں ہے کہ ہوکستا ہے یہ عدلیہ کیروایتی دھیمی کارروائی کے ضمن میں کہی گئی ہو لیکن جس طرح دعویداری کے ساتھ کہی گئی ہے اس سے یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا ان کی یا ان کی سرکار کی یا سرکار میں ان کے حلیف بی جے پی کی عدلیہ سے سانٹھ گانٹھ ہے؟
مذکورہ تمام معاملات میں بی جے پی قانونی طور پر پارٹی ہے ، گجرات فسادات اسی کے لیڈران اور وزیر اعظم مودی جی کے خلاف آزادانہ اور عدالتی تحقیقات کی مانگ کا معاملہ ہے ،بابری مسجد کی شہادت کا الزام بھی اسی کے لیڈران پر لگ چکا ہے ، اور اس معاملہ میں اترپردیش کی جس انتظامیہ کے خلاف توہین عدالت کی سنوائی ہونی تھی اس کا انصرام بھی بی جے پی ہی کے ہاتھوں میں تھا اس وقت وہی یوپی کے اقتدار میں تھی ،کرناٹک میں ا ب عیدگاہ میدانوں میں گنیش فیسٹیول کی شروعات کرنے کی جو کوششیں ہورہی ہیں اس میں بھی اہم پارٹی بی جے پی ہی ہے کہ یہی کرناٹک میں برسر اقتدار ہے اور اس کے وکلاء نے سپریم کورٹ میں اس معاملہ میں اسکی بھر پور حمایت بھی کی ہے۔اور مہاراشٹر میں بھی شیوسینا میں جو بغاوت ہوئی اس میں بھی بی جے پی کا ہاتھ ہونے کے الزامات لگ چکے ہیں اور اب ان باغیوں کے ایک رکن نے جس وثوق کے ساتھ عدلیہ کی ’ دھیمی ‘کارروائی کی بات کی اس سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کہیں بی جے پی کی یہ حکومت عدلیہ پر حاوی ہوکر ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون تو نافذ نہیں کررہی ہے؟

Comments are closed.