بلقیس بانوکیس: کس نے کیاکہا؟؟؟
زبان خلق کو نقارہ خداسمجھو
پانچ ماہ کی حاملہ بلقیس بانو کے ساتھ عصمت دری کرنے والوں اور ان کی تین سالہ بچی سمیت خاندان کے سات لوگوں کو بےرحمی سے قتل کرنے والے درندوں کی غیردستوری و غیرقانونی رہائی پر ملک کی سیاسی، سماجی و قانونی شخصیات کا ردعمل۔
جمع و ترتیب: توصیف صدیقی(بیوروچیف: بصیرت آن لائن، ایم پی)
”15 اگست 2022 کو گزشتہ 20 سال کا صدمہ مجھ پر پھر سے لوٹ آیا۔ جب میں نے سنا کہ 11 سزا یافتہ افراد آزاد ہوگئے جنہوں نے میرے خاندان اور میری زندگی کو تباہ کیا، اور مجھ سے میری 3 سالہ بیٹی چھین لی، میں کچھ کہنے سے قاصر اور ابھی تک بے حس ہوں۔
آج میں صرف اتنا کہہ سکتی ہوں کہ کسی بھی عورت کے لیے انصاف کیسے ختم ہو سکتا ہے؟ میں نےاپنے ملک کی اعلیٰ ترین عدالتوں پر بھروسہ کیا۔مجھے سسٹم پر بھروسہ تھا، اور میں اپنے صدمے کے ساتھ آہستہ آہستہ جینا سیکھ رہی تھی۔ ان مجرموں کی رہائی نے مجھ سے میرا سکون چھین لیاہےاور انصاف پر میرا یقین متزلزل کر دیا ہے۔ میرا دکھ اور میرا ڈگمگاتا یقین میرے لیے ہی نہیں بلکہ ہر اس عورت کے لیے ہے جو عدالتوں میں انصاف کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔
اتنا بڑا اور غیر منصفانہ فیصلہ لینے سے پہلے کسی نے میری حفاظت اور خیریت کے بارے میں نہیں پوچھا۔
میں گجرات حکومت سے اپیل کرتی ہوں کہ براہ کرم اس نقصان کو ختم کریں۔ مجھے بلا خوف اور امن سے جینے کا میرا حق واپس دو۔ براہِ کرم اس بات کو یقینی بنائیں کہ میری فیملی اور مجھے محفوظ رکھا جائے۔“
بلقیس بانو (متاثرہ فریادی)
”ملک کو فیصلہ کرنا ہے کہ بلقیس بانو ایک عورت ہے یا مسلمان؟
اب بی جے پی بلقیس کا ریپ کرنے والوں کا استقبال کرنے والے دستے کو گجرات سے راجستھان بھیجے، جہاں وہ اس نئے ہیرو کو ہار پہنائے گا جو 5 لوگوں کو مارنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔“
مہوا موئترا( ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ)
’’ہم بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری کیس اور اس کے خاندان کے سات افراد کے قتل کے مجرموں اور عمر قید کی سزا پانے والوں کی رہائی کو یقینی بنانے میں گجرات حکومت کے کردار سے مایوس ہیں۔ ایسے فیصلے جن کا مقصد کسی مخصوص حلقے کو خوش کرنے کے لیے سیاسی منافع حاصل کرنا ہے، انتہائی قابل اعتراض ہیں۔ ہم اس فیصلے کی مذمت کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ اس معاملے میں مداخلت کرے گی تاکہ سرکاری حکومتی پالیسی کی آڑ میں کی جانے والی اس سنگین ناانصافی کو ختم کیا جا سکے۔‘‘
پروفیسر محمد سلیم انجینئر
قومی نائب امیر جماعتِ اسلامی ہند
”یہ پی ایم مودی کا ’ناری شکتی‘ ایجنڈا ہے۔ ریپ اور بچوں کا قتل ’اچھے سنسکار‘ ہیں۔ ریپ کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا بی جے پی کی پالیسی ہے، چاہے وہ گجرات ہو یا کٹھوعہ۔ بی جے پی ذات پات کی بنیاد پر ’جیل سے باہر نکلنے کے مفت پاس‘ دے رہی ہے۔ ہمیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ کم از کم ’گوڈسے‘ کو مجرم ٹھہرایا گیا اور پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔
بلقیس بانو کیس میں خواتین اینکر خاموش کیوں ہیں؟ تمام خواتین اینکرز کو بلقیس بانو کے معاملے پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ بلقیس بانو کیس انصاف کا مسئلہ ہے۔“
بیرسٹر اسدالدین اویسی
رکن پارلیمنٹ و قومی صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین
’’پانچ مہینے کی حاملہ خاتون کی عصمت دری اور اس کی 3 سالہ بچی کو قتل کرنے والوں کو ’آزادی کے امرت مہوتسو‘ کے دوران رہا کیا گیا۔ نسوانی طاقت کی بات کرنے والے ملک کی خواتین کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ وزیراعظم صاحب! پورا ملک آپ کے قول و فعل میں فرق دیکھ رہا ہے۔‘‘
راہل گاندھی( کانگریسی لیڈر و رکنِ پارلیمنٹ)
”وزیر اعظم نریندر مودی کی لوگوں سے خواتین کا احترام کرنے کی اپیل محض ایک قول ہے۔ جب کہ گجرات حکومت کا فیصلہ ’فعل‘ ہے، جو گینگ ریپ کے مجرموں کی باقی سزا معاف کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ’قول‘ کو ’فعل‘ کے ساتھ منسلک کر دیں گے۔ وزیر اعظم کی لوگوں سے خواتین کا احترام کرنے کی اپیل کے چند گھنٹے بعد ان کی منتخب شدہ گجرات حکومت گینگ ریپ کے مجرموں کی باقی ماندہ سزا معاف کر دیتی ہے۔‘‘
قانون کہتا ہے کہ جس کیس کی استغاثہ ایجنسی سی بی آئی ہو، ریاستی حکومت پر سزا معاف کرنے سے قبل مرکزی حکومت سے مشاورت کرنا لازمی ہے۔
کیا حکومت گجرات نے مرکزی حکومت سے مشاورت کی؟ اور دوسرا، مرکزی حکومت کی رائے کیا تھی؟یہ ناقابل تصور ہے کہ گجرات حکومت نے مرکزی حکومت کی رائے کی خلاف ورزی کی۔
وزیراعظم اور وزیر داخلہ ان سوالات کا جواب دیں۔ وہ گجرات ماڈل کے نیچے خاموشی کی دیوار کے پیچھے نہیں چھپ سکتے۔ ناری شکتی کو وناش شکتی نے شکست دے دی۔“
پی چدمبرم(سابق وزیر داخلہ و کانگریسی لیڈر)
”آزادی کے امرت مہوتسو کے دن گجرات حکومت نے بلقیس بانو کیس کے 11 ملزمان نہیں، بلکہ قصورواروں کو جیل سے رہا کر دیا۔ اگر ہم اس کیس اور اس فیصلے کو علاحدہ کر کے نہ دیکھیں تو یہ ایک نمونہ نظر آتا ہے، بی جے پی کی ذہنیت نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کٹھوعہ اور اناؤ، یہ دو سنگ میل ہیں جو سیاست میں موجود لوگوں اور ملک کی تاریخ کو شرمندہ کرتے رہیں گے۔ کچھ لوگ اب بھی وزیر اعظم کے منہ سے نکلنے والی بات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ گزشتہ روز وزیر اعظم نے لال قلعہ کی فصیل سے بڑی بڑی باتیں کیں یعنی خواتین کی حفاظت، خواتین کی عزت، خواتین کی طاقت، اچھے الفاظ استعمال کیے گئے۔ چند گھنٹوں کے بعد گجرات حکومت نے ایک ایسا فیصلہ لیا جو غیر متوقع تھا اور جیسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ عصمت دری کے قصورواروں کو رہا کر دیا گیا۔ پھر آج ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جن کو رہا کیا گیا ہے، ان کی آرتی اتاری جا رہی ہے، ان کا تلک کیا جا رہا ہے۔“
پون کھیڑا( ترجمان کانگریس پارٹی)
”کیرالہ میں حاملہ ہتھنی کی موت پر آواز اٹھانے والا سماج ایک حاملہ خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کرنے والوں کی رہائی پر ہونٹ سلے ہوئے بیٹھا ہے۔“
عمران پرتاپ گڑھی( رکن پارلیمنٹ راجیہ سبھا)
”بلقیس بانو کے مجرموں کی رہائی کے بعد میرا سر شرم سے جھک گیا ہے اور جو جیل سے رہا کیے گئے ہیں وہ عصمت دری اور قتل کے مقدمات کے مجرم ہیں۔یہ تاریخ کی بدترین مجرمانہ کارروائیوں میں سے ایک تھا۔ کوئی بھی حکومت مجرموں کو اتنی نرمی کیسے دے سکتی ہے؟
گجرات حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینا چاہیے اور اس کیس میں قصورواروں کو پھانسی دینا چاہیے۔ ان مجرموں کو دی گئی چھوٹ کو واپس لینے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی تک پہنچوں گا۔ میں حیران ہوں کہ اتنے گھناؤنے جرائم کے باوجود انہیں پھانسی کیوں نہیں دی گئی۔ اب مجھے یہ جان کر اور بھی حیرت ہوئی ہے کہ گجرات حکومت نے ایک خصوصی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے انہیں آزاد کر دیا ہے۔ یہ شرمناک ہے کہ آزادی کے 75 سال مکمل ہونے کے باوجود خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔“
شانتا کمار
بی جے پی رہنما و سابق وزیر اعلیٰ ہماچل پردیش
”وہ (بلقیس بانو کے گناہگار) برہمن اور سنسکاری تھے؛ اس لیے انہیں رہا کیا گیا۔“
سی کے راؤل(بی جے پی رکنِ اسمبلی گودھرا)
”اگر یہ برہمن سنسکاری تھے تو 5 ماہ کی حاملہ کی عصمت دری کیوں کی؟ انہیں پھانسی دی جانی چاہیے۔
بلقیس بانو کا ریپ کرنے والوں کا پھولوں کے ہاروں سے ایسے استقبال کیا گیا جیسے وہ سب سرحد کی جنگ جیت کر آئے ہوں۔“
نربھیا کی ماں
”بلقیس بانو جیتے جی ایک نہیں دو بار مرگئی۔ لیکن اس کے مجرموں کی رہائی صرف بلقیس کی ہی دوسری موت نہیں ہے، یہ تو ہندوستانی سماج، ہندوستانی تہذیب، اور ہندوستانی سیاست کی بھی موت ہے۔ جب کوئی سماج عصمت دری کے مجرموں کی رہائی پر خوشیاں منائے اور مٹھائی تقسیم کرے تو سمجھ لیجیے کہ وہ سماج تباہی کے غار میں جا چکا ہے۔ ایسے معاشرے کو کب ہوش آئے گا یہ کہنا مشکل ہے۔ ہاں، یہ ضرور کہا جا سکتا کہ گجرات میں بلقیس کے مجرموں کی رہائی سے ہندوستانی تہذیب و تمدن ضرور شرمسار ہوا ہے۔ خدا کرے کہ عام ہندوستانیوں کی آنکھیں جلد ہی کھل جائیں۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر تو بس اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔“
ظفر آغا( چیف ایڈیٹر قومی آواز)
”مجرموں کی سزا معافی کا فیصلہ ریپ کے قانون کا ریپ ہونے جیسا ہے۔ یہ فیصلہ بدنیتی سے دیا گیا ہے، یہ ایک جانبدارانہ فیصلہ ہے۔“
بشیر احمد خان
سابق چیف جسٹس: جموں و کشمیر ہائی کورٹ
”یہ فیصلہ بالکل من مانا ہے اور صاف ہے کہ اس میں دماغ کا استعمال نہیں کیا گیا ہے، انہیں اپنا دماغ لگانا چاہیے تھا۔ جب ایک پالیسی ہے کہ زانیوں کی سزا معاف نہیں کی جاتی ہے، پھر بھی انہوں نے زنا کے مجرموں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چودہ سال جیل میں بتانے سے آپ کو صرف سزا معافی کے لئے درخواست دینے کا حق ملتا ہے، یہ آپ کو رہائی پانے کا حق نہیں دیتا۔ سزا معافی من مانے طریقے سے نہیں ہوسکتی۔ اس حساب سے تو کیا زنا کے تمام مجرم رہائی کے حقدار ہیں؟ اگر انصاف کو ٹھیک سے نافذ نہیں کیا جا سکتا ہے تو یہ انصاف کا مذاق ہے۔“
جسٹس آر ایس سوڑھی( سابق جج دہلی ہائی کورٹ)
”جب سزا معافی پر غور کیا جاتا ہے تو موجودہ وقت میں نافذ قانون کے مطابق فیصلہ دیا جاتا ہے۔ سزا معافی کے وقت جو پالیسی لاگو ہے آپ وہی دیکھیں گے نا؟ جو پالیسی جرم ہونے کے وقت لاگو تھی اسے نہیں دیکھا جاتا۔“
جسٹس ایس این ڈھینگرا
ریٹائرڈ جج دہلی ہائی کورٹ
’’میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ اگر بلقیس کی جگہ آپ کی کوئی بہن ہوتی اور اس کا گینگ ریپ ہوتا، آپ کے سامنے آپ کی بہن اور ماں کا ریپ ہوتا، آپ کے تین سالہ بچے کو پٹخ کر ماردیا جاتا تو کیا تب بھی ان مجرموں کی رہائی کی حمایت کرتے اور ہار پہنا کر ان کا استقبال کرتے؟‘‘
پوجا بیدی( اداکارہ)
”عصمت دری کے 11 مجرموں کی رہائی پر نیوز چینلز کی ٹی وی بحث دیکھنے سے محروم رہی یا نیوز چینلز نے جان بوجھ کر خاموشی اختیار کی؟ مجھے امید ہے کہ پرائم ٹائم خواتین اینکرز کچھ ہمت دکھائیں گی اور بات کریں گی۔ شرم کی بات ہوگی اگر وہ بھی وزیر برائے خواتین و اطفال کی طرح خاموش رہیں۔“
پرینکا چترویدی(رکن پارلیمنٹ شیوسینا)
”جن جن لوگوں نے پانچ ماہ کی حاملہ خاتون کی عصمت دری کی اور اس کی تین سالہ بیٹی سمیت خاندان کے سات افراد کو قتل کیا، انہیں جیل سے رہا کردیا گیا، انہیں مٹھائی کھلائی گئی اور پھولوں کے ہار پہنائے گئے، اس پر سوچیے کہ ہمارے معاشرے میں کچھ تو سنگین طور پر غلط ہو رہا ہے۔“
جاویداختر( شاعر و مصنف)
”بلقیس بانو کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر اگر ہم خاموش ہیں تو ہم انسان نہیں ہیں۔ ہماری انسانیت مر چکی ہے۔ انصاف پر اعتماد کھو دینا محض ایک جملہ نہیں ہے۔ استحصال زدہ اور محروم عوام صرف آئین کے قائم کردہ انصاف کے نظام کے بھروسے ہی زندہ ہیں۔“
چندر شیکھر آزاد
(بانی و سرپرست: بھیم آرمی و قومی صدر: آزاد سماج پارٹی)
”بلقیس بانو 2002 میں گجرات کے مسلم مخالف فسادات کا چہرہ تھیں، وہ پانچ مہینے کی حاملہ تھیں، جب ان کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کی گئی تھی، ان کی تین سال کی بیٹی کو بےرحمی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کے مجرموں کو رہا کرکے بھارت سرکار نے بھارت کے مسلمانوں کو ایک خاموش پیغام دیا ہے۔“
رعنا ایوب (صحافی و مصنفہ: گجرات فائلس)
”بلقیس بانو کو کھلی ہوا میں سانس لینے سے روک کر بھارت خود کو آزاد ملک نہیں کہہ سکتا۔ بطور خاتون اور نوکرشاہ میں اس طرح کی رہائی کے فیصلے پر یقین نہیں کر پا رہی ہوں۔“
سمیتا سبھروال(آئی اے ایس آفیسر)
”گجرات حکومت کا یہ اقدام تمام خواتین کے لیے شرمناک ہے اور معاشرے کے لیے بھی انتہائی ناانصافی ہے کہ زانی اور سات افراد کے قاتل جیل سے باہر آکر آزاد گھومتے پھریں گے۔ گجرات حکومت کا یہ اقدام معاشرے میں انتقام کا اشارہ دیتا ہے اور عدم تحفظ و شرمندگی کا ماحول پیدا کرتا ہے۔“
الیاس تھمبے(قومی جنرل سکریٹری ایس ڈی پی آئی)
”آج ہی (15 اگست کو) وزیراعظم مودی نے خواتین کے احترام کی بات کی، آج ہی گجرات حکومت نے بلقیس بانو کے ریپ کے 11 مجرموں کو رہا کردیا۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ بھی اس پر خاموش رہیں گے۔“
رویش کمار(سینئرصحافی این ڈی ٹی وی)
”اب ثابت ہوا کہ ایک ریاست اور ایک پارٹی عصمت دری کرنے والوں سے محبت کرتی ہے۔“
پرشانت بھوشن( سینئروکیل سپریم کورٹ)
”مجرموں کا جس طرح پھولوں کے ہاروں سے استقبال کیا گیا اسے کسی بھی سطح پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مجرم ایک مجرم ہے اور اس کے فعل کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔“
دیویندر فڑنویس
نائب وزیر اعلیٰ مہاراشٹر و بی جے پی لیڈر
”بلقیس بانو کے مجرموں کو رہا کرنا اجتماعی زیادتی سے بھی بدتر ہے۔“
جسٹس یو ڈی سالوی
”شاہ بانو کیس میں استعفیٰ دینے والے عارف محمد خان بلقیس بانو کیس پر ایک لفظ بھی نہیں بول رہے، تب کانگریس کا دور تھا، اب بی جے پی کا دور ہے، اسے کہتے ہیں سیاسی بزدلی۔“
عارفہ خانم شیروانی(سینئر صحافی دی وائر)
”میں بلقیس بانو سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ پنجاب آئیں، ہم سردار (سِکھ) آپ کی حفاظت کریں گے۔ آپ کا درد ہمارا درد ہے۔“
ربی شیرگل( گلوکار)
”عصمت دری کرنے والوں کا استقبال کرنا انصاف کی عصمت دری ہے۔“
اکھلیش یادو( سابق وزیراعلی یوپی و صدرسماج وادی پارٹی)
”اگر میں آج بلقیس کے ساتھ نہ کھڑی ہوئی تو میں ایک عورت اور ایک ماں کے طور پر ناکام ہو جاؤں گی۔
بیٹی بچاؤ کا نعرہ دینے والے پی ایم مودی خاموش کیوں ہیں؟ ایک عورت جس کی عصمت دری کی گئی، ہراساں کیا گیا ہے اور وہ بہت خوفزدہ ہے، اسے انصاف ملنا چاہیے۔ اس کیس میں ملوث کسی کو رہا نہ کیا جائے۔
اگر کسی مجرم کو اس طرح رہا کیا جاتا ہے تو یہ انسانیت کو شرمندہ کرنے والا فیصلہ ہے۔ یہ خواتین کی عزت پر سمجھوتا ہے۔ بلقیس بانو ہو یا کوئی اور عورت، اسے سیاست اور نظریے سے بالاتر ہو کر انصاف ملنا چاہیے۔“
خوشبو سندر(ممبر قومی مجلس عاملہ بی جے پی)
”مجرموں کو رہا کرنا گجرات حکومت کا فیصلہ ہے، اس لیے اسے سیاسی زاویہ نہ دیا جائے۔ حکومت کو دیے گئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مجرموں کو رہا کیا گیا ہے۔ خواتین کے خلاف جرائم کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ اس نقطہ نظر سے کوئی بھی مختلف نہیں ہے۔“
وناتی سری نواسن(قومی صدر: بی جے پی مہیلا مورچہ)
”بلقیس کے مجرموں کو من مانی طور پر رہا کرنا قانون کی حکمرانی کو مجروح کرتا ہے۔“
سجاتا منوہر( سابق جج سپریم کورٹ)
’’جو لوگ تین طلاق پر مسلم خواتین کے ساتھ ہمدردی کرتے تھے۔ وہ آج بلقیس بانو پر خاموش ہیں۔‘‘
ساکشی جوشی( صحافی)
”پی ایم مودی جس وقت لال قلعہ سے خواتین کی عزت کا سبق پڑھارہےتھے۔ گجرات میں بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرنے والے زانیوں کو رہا کر دیا گیا۔ بی جے پی عصمت دری کرنے والوں، قاتلوں، فسادیوں کے ساتھ کھڑے ہوکر آزادی کا مذاق اڑا رہی ہے۔“
سنیل سنگھ یادو(لیڈر سماج وادی پارٹی)
”بلقیس بانو کے مجرموں کو رہا ہوئے آج اتنے دن ہو گئے ہیں۔ کتنے چینلوں نے اس معاملے پر حکومت سے سوالات کیے؟ سسٹم کے بارے میں کوئی سوال پوچھا ہے؟ کتنے چینلوں نے پوچھا ہے کہ رہائی کے لیے ایسی کمیٹی کیوں بنائی گئی جس میں بی جے پی کے پانچ ارکان تھے۔ سنسکاری برہمنوں کو کیسے رہا کیا گیا؟“
اجیت انجم( آزاد صحافی)
’’بلقیس بانوکے مجرمین کی رہائی اوراس کاپھول مالاپہناکراستقبال کرنایہی بی جے پی کلچرہے اوریہی ہے مودی ۔امیت شاہ کانیابھارت۔‘‘
غفران ساجدقاسمی(چیف ایڈیٹربصیرت آن لائن)
’’جس دن بلقیس بانوکے مجرموں کوسنسکاری بتایا گیااس دن میراسرشرم سے جھک گیا‘‘۔
کنہیاکمار(کانگریس لیڈر)
Comments are closed.