توہین رسالتﷺ سے نمٹنے کا طریقہ!
شکیل رشید
توہینِ رسالت ﷺ کے معاملات سے نمٹنے کابہتر طریقہ ’ قانونی ‘ اور ’ جوابی ‘ ہے ۔
قانونی سے مراد ، مذہب اور مذہبی شخصیات کی توہین کرنے والوں کے خلاف مقدمات کروانا ، اور جوابی سے مراد توہین اور گستاخیوں کا مدلل تحریری جواب دینا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ، ہم سڑکوں پر اتر کر پُرامن احتجاج اور مظاہرے کر سکتے ہیں ، اپنے احتجاجات درج کروا سکتے ہیں ، حکمراں ٹولے تک اپنی مذمتی قراردادیں پہنچا سکتے ہیں اور پولیس تھانوں میں جاکر معاملات درج کروا سکتے ہیں ۔ یہ سب طریقے ایک جمہوری ملک میں شہریوں کو ملنے والے آئینی حقوق کا حصہ ہیں ۔ لیکن بات اُس وقت بگڑ جاتی ہے جب حکمراں ٹولہ ان حقوق کو پامال کرتا ہے ، اور جن کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں ، انہیں پُر امن احتجاج اور مظاہرے کی اجازت نہیں دیتا ہے ۔ معاملہ اُس وقت بھی بگڑ جاتا ہے جب سیاست دانوں کے دباؤ میں آکر ، یا ذاتی تعصب کی بنا پر ، پولیس یکطرفہ کارروائی کرتی ہے ۔ اور وہ ، جن کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں اور حقوق چھینے جاتے ہیں ، جب انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا جا رہا ہے ، عدلیہ ان کی بات نہیں سن رہی ہے ، تب وہ خود کو سماج اور مین اسٹریم سے کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں ، اور یہ احساس خود اُن کے اپنے لیے بھی مضر ثابت ہوتا ہے ، اور ملک کے لیے بھی ۔ اِن دنوں یہی ہو رہا ہے ۔ اور کبھی کبھار یوں ہوتا ہے کہ احتجاج اور مظاہرے پُرتشدد ہوجاتے ہیں ، جیسے کہ رانچی میں ہوا ، اور دو نوعمر پولیس کی گولیوں کی بھینٹ چڑھ گئے ۔ یقیناً رانچی میں تشدد کرایا گیا تھا ، مسلمانوں کو فرقہ پرستوں نے نشانہ بنایا تھا ، سارا تشدد منصوبہ بند تھا ۔ فرقہ پرست عناصر کی طرف سے ہمیشہ ایسے تشدد کا خطرہ بنا رہے گا ۔ لہٰذا اگر سڑک پر اتر کر احتجاج اور مظاہرہ کرنا بھی ہے ، تو اس کے لیے بہت زیادہ منصوبہ بندی کی اور سخت احتیاط کی ضرورت ہوگی ۔ مگر شاید ہم منصوبہ بندی کو پسند نہیں کرتے ہیں ، اور نہ ہی احتیاط برتنے کے قائل ہیں ، اگر قائل ہوتے تو رانچی میں انہیں ، جو اجنبی اور مشکوک تھے ضرور گھیر لیتے ۔ اس لیے اگر احتجاج اور مظاہرہ کرنا لازمی ہی ہے تو اس کے لیے منصوبہ بندی شرط ہے ، نوجوانوں کو قابو میں رکھنا شرط ہے ، ورنہ سڑکوں پر اتر کر احتجاج نہ کیا جائے ۔ قانون پر ختم ہوتے ہوئے اعتماد کے باوجود قانونی طریقہ بہتر ہے کیونکہ جب کوئی معاملہ عدألت میں جاتا ہے تو اس کا کوئی نہ کوئی فیصلہ ہوتا ہے ، اور معاملہ کسی نہ کسی انجام تک پہنچتا ہے ۔ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر ’ قانونی نظام ‘ بنایا جائے ، تنظیمیں ، جماعتیں اور این جی اوز ایک دوسرے سے منسلک ہوں اور بہترسے بہتر وکلا کی خدمات حاصل ہوں ۔ مسلم وکلا اس میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ،لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ مسلم وکلا( میں تمام مسلم وکلا کی بات نہیں کر رہا ہوں ) ملّی معاملات میں اپنی ’ فیس ‘ بڑھا دیتے ہیں ، اور اس وقت تک عدالت میں بحث کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے جب تک کہ ہرے ہرے نوٹ نہ دیکھ لیں ۔ دوسرا ہے جوابی طریقہ ۔ ایک مثال ممبئی کے مولانا ابراہیم آسی کی لے لیں جنہوں نے بڑی محنت سے ’ تحفظِ ناموسِ رسالت بورڈ ، ممبئی ‘ کے لیے ، مرتد وسیم تیاگی کی ناپاک کتاب کے جواب میں ایک کتاب ’’ عظیم محمدﷺ ‘‘ تحریر کی ہے ۔ اس کتاب میں مرتد وسیم تیاگی کے کذب وافترا کا مدلل جواب حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے کہ کہاں کہاں اُس نے جھوٹ لکھا اور بہتان لگایا ہے ۔ اور کیسے احادیث اور قرآن پاک کے مندرجات کو توڑا اور مروڑا ہے ، اور کیسے بغیر حوالوں کے جھوٹ گڑھے ہیں ۔ ایسی کتابیں ضروری ہیں ، اردو میں ہی نہیں ہر زبان میں بالخصوص ہندی ،مراٹھی اور انگریزی میں ۔
Comments are closed.