وزیر اعظم پر تنقید بھی جرم،یہ ماحول اچھا نہیں:سابق جج سپریم کورٹ کو تشویش
نئی دہلی۔ ۴؍ستمبر: دہلی سپریم کورٹ کے سابق جسٹس بی این سری کرشنا اور مرکزی وزیر قانون کرن رجیجو کے درمیان پی ایم مودی پر تنقید کو لے کر جھگڑا ہوگیا۔ رجیجو جسٹس سری کرشنا کے ایک بیان پر اتنے برہم ہوئے کہ انہیں ایمرجنسی کی یاد دلاتے ہوئے انہوں نے ایسے لوگوں پر طنز کیا جو پی ایم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہیں۔، جسٹس سری کرشنا نے جمہوریت کے موجودہ حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پبلک چوک پر کھڑے ہو کر پی ایم مودی پر تنقید نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ کہتے ہیں کہ انہیں وزیراعظم کا چہرہ پسند نہیں تو پتہ نہیں کس جرم میں پکڑ کر جیل میں ڈال دیں گے۔ کوئی انہیں یہ بھی نہیں بتائے گا کہ ان کا قصور کیا تھا۔دی ہندو اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے جسٹس سری کرشنا نے ملک کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جو بھی ماحول دکھائی دے رہا ہے اسے درست نہیں کہا جا سکتا۔ جمہوریت میں حکومت پر تنقید فطری ہے۔اس کے لیے کسی پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ یہ عوام کا بنیادی حق ہے اور حکومت اسے کسی صورت دبا نہیں سکتی۔رجیجو نے جوابی وار کیا اور انہیں ایمرجنسی کی یاد دلائی۔ انہوں نے کہا کہ مقبول پی ایم مودی پر تنقید کرنے والوں کو شاید ایمرجنسی یاد نہیں ہے۔ کس طرح کانگریس نے جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا تھا ان لوگوں کو یاد نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کسی علاقائی پارٹی کے وزیراعلیٰ کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہتے۔اسے دیکھنے کے بعد حقیقت کا پتہ چل جائے گا۔جسٹس سری کرشنا نے کہا کہ وہ سرکاری ملازم کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ تلنگانہ کے آئی اے ایس افسر کا حوالہ دے رہے تھے جنہوں نے بلقیس بانو کیس میں گجرات حکومت پر تنقید کی تھی۔ جسٹس سری کرشنا نے کہا کہ ان کی تشویش قانون اور اس کے سرکاری استعمال کے بارے میں ہے۔
Comments are closed.