امرت مہوتسو کے موقع پر مسلمان مجاہدین آزادی کو نظر انداز کیا گیاہے

ڈاکٹر سراج الدین ندویؔ
چیرمین ملت اکیڈمی ،بجنور
9897334419
ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے ملک نے آزادی کے پچھتر سال پورے کرلیے ہیں اور ہمیں آزادی کا امرت مہوتسومنانے کا موقع میسر آیاہے۔ہماری دعا ہے کہ ہمارا ملک کبھی کسی کا غلام نہ ہو۔ہمیں اور ہمارے ہم وطنوں کو اپنی پسند کی زندگی گزارنے کی آزادی میسر رہے ،اہل ملک اپنی پسند سے کھائیں ،پئیں،اپنی پسند کا کاروبار کریں،اپنی مرضی سے اپنا شریک حیات منتخب کریں اور اپنی پسند کے دین و مذہب پر عمل پیرا ہوں۔اس لیے کہ آزادی کا اصل مفہوم یہی ہے ۔اس موقع پر اہل حکومت کو اس امر کا جائزہ لینا چاہئے کہ وہ اپنے ملک کی پالیسیاں بنانے میں کس قدر آزاد ہیں۔ان پر کسی ترقی یافتہ ملک ،ورلڈ بینک ،آئی ایم ایف،ڈبلیو ایچ او وغیرہ بین الاقوامی ایجنسیوں کا دبائو تو نہیں ہے ۔اس لیے کہ اب غلامی کا قدیم انداز نہیں رہا ہے کہ کسی غیر ملک کے لوگ کسی دوسرے ملک پر قبضہ کرلیں ،اب دماغوں پر قبضہ کیا جاتا ہے ،پہلے جسموں کو بیڑیاں پہنائی جاتی تھیں ،اب ضمیر قید کیے جاتے ہیں ۔اسی کے ساتھ شہریوں کو بھی جائزہ لینا چاہئے کہ انھوں گزشتہ 75سال میں کیا کھویا کیا پایا ۔جس مقصد سے ملک آزاد ہوا تھا وہ کہاں تک پورے ہورہے ہیں۔؟
آزادی کے امرت مہوتسو کو اہل ملک نے جس جوش و خروش سے منایا وہ قابل دید تھا۔گھر گھر ترنگالہرایا گیا ،ہر شہر اورگائوں میں ریلیاں منعقد کی گئیں،کوی سمیلن و مشاعرے اورسپموزیم و سیمناروں کا اہتمام کیا گیا۔لال قلعہ کی فصیل سے وزیر اعظم نے خطابت کے بہترین جوہر دکھائے ،نئی صدر جمہوریہ محترمہ مورمونے بھی آزادی کے ہیروز کو یاد کیا ۔پورے مہوتسو میں مسلمان شانہ بشانہ رہے ،مدارس و جامعات میں مکمل عزت و احترام کے ساتھ آزادی کے گیت گائے گئے۔علماء کرام نے قومی ترنگے کو سلامی دی۔اس کے باوجود حکمران وقت کی زبانوں پر مسلم مجاہدین آزادی کا نام شاذ و نادر ہی آیا۔البتہ اردو اخبارات میں مسلسل مسلم مجاہدین آزادی پر مضامین شائع ہوتے رہے ۔
جشن آزادی کے موقع پرصرف 15اگست 1947کی ہی اہمیت نہیں ہے ۔بلکہ اس جدجہد کی اہمیت ہے جس کے نتیجے میں یہ تاریخی دن دیکھنا نصیب ہوا۔لیکن بڑے دکھ اور افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ حکومت کی سطح پر وہ ساری جدجہد بھلادی گئی ہے اورمسلم مجاہدین آزادی کو بری طرح نظر انداز کیا گیا۔ لے دے کر دوچار نام ہی زباں پر آئے ۔جس قوم نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں ،جس کے لاکھوں لوگ شہید ہوئے ،دہلی سے لاہور تک کوئی درخت ایسا نہیں تھا جو مسلمان شہیدوں کا گواہ نہ ہو،جس کے علماء کو کھولتے ہوئے تیل میں ڈالا گیا ہو،جن کو زندان میں سخت ترین اذیتیں دی گئی ہوں،جن کو کالا پانی بھیجا گیا ہو،جن کی پیٹھیں لوہے کی گرم سلاخوں سے داغی گئی ہوں،اس قوم اور اس کے ہیروزکو اس طرح نظر انداز کرنا ملک کی صحت کے لئے اچھا نہیں ہے ۔مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کہتے ہیں کہ میں اور مولانا شیخ محمود الحسنؒ مالٹا کی جیل میں ساتھ ساتھ تھے ۔انگریز جلاد لوہے کی سلاخوں کو گرم کرکے لاتا ،جو دہک کر انگارہ ہورہی ہوتیں اورشیخ سے کہتا ’’انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ واپس لے لو‘‘شیخ اس کی جانب حقارت سے دیکھتے اور بلند آواز سے کہتے ’’ایسا کبھی نہیں ہوگا‘‘۔اس کے بعد وہ آپ کی پیٹھ پر گرم سلاخیں اس وقت تک رگڑتاجب تک کہ وہ جسم کی چربی سے ٹھنڈی نہ ہوجائیں۔وفات کے بعد جب ان کی لاش لائی گئی تو دیکھنے والوں نے دیکھا کہ ان کی کمر پر گوشت نہیں تھا۔انگریز حاکم علماء کو جمع کرتے ،تیل گرم کیا جاتا اور کسی ایک عالم کو اس میں ڈال دیا جاتا ،وہ اسی طرح اس میں تلا جاتا جیسے چکن فرائی کیا جاتا ہے ۔پھر وہ حاکم سب کی طرف دیکھ کر کہتا کہ انگریزوں کے خلاف جہاد کا اعلان واپس لے لو ورنہ سب کا یہی انجام ہوگا۔سارے علماء اس کے منھ پر تھوک دیتے ۔
تمہیں صرف ایک اشفاق اللہ خاں یاد ہے ۔تم نہیں جانتے کہ اشفاق اللہ کی قوم کی مائوں نے مسلمانوں کے ہر گھر میں ایک اشفاق اللہ پیدا کیا ہے ۔تمہیں مولانا فضل حق خیر آبادی کا نام یاد نہیں، جنھوں نے سب سے پہلے آزادی کا بگل بجایا۔سید احمد شہید بریلوی کی تحریک مجاہدین کو تم نے فراموش کردیا جنھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بالا کوٹ میں جام شہادت نوش کیا۔تم نے ٹیپوسلطان تک کو بھلا دیا جس کی میت تک سے انگریز خوف کھاتے تھے ۔ٹیپو کی شہادت پر انگریزوں نے سکون کا سانس لیتے ہوئے کہا تھا کہ’’ اب ہندوستان کو غلام بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔‘‘کون یاد کرے گا حسرت موہانی کو جنھوں نے گاندھی کو مہاتما کا لقب دیا ۔ہمارے معززوزیر اعظم کوقلعے کی فصیل سے خطاب کرتے وقت مولانا ابولاکلام آزادؒ کا مدفن دکھائی نہیں دیا جنھوں نے اپنا سب کچھ وطن پر نثار کردیا۔تم بہادر شاہ ظفر کو کبھی یاد نہیں کروگے کیوں کہ وہ مغل تھا۔اگرچے اس بے چارے نے اپنی آخری سانس تک ملک کی حفاظت کے لیے لگادی ۔جس کے بیٹوں کے سر کھانے کی تھال میں سجا کر پیش کیے گئے ۔تمہیں نہ سراج الدولہ یاد ہے ،نہ بیگم حضرت محل یاد ہیں،تم نے مولانا محمد علی جوہر کو بھی بھلا دیاجنھوں نے انگریزوں سے کہہ دیا تھا کہ میں مکمل آزادی لیے بغیر ہندوستان واپس نہیں جائوں گا،میں غلام ہندوستان مین دفن نہیں ہونا چاہتا۔ان کا مدفن فلسطین میں ہے ۔تمہیں ترک موالات ،تحریک خلافت اور ریشمی رومال بھی یاد نہیں؟لیکن تم انھیں کیوں یاد کروگے ؟ ان کو یاد کرنے سے تو مسلمانوں کی عزت میں اضافہ ہوجائے گا ۔ان کی شان بڑھ جائے گی ،ان کی نسلیں اپنے حق کا مطالبہ کرنے لگیں گی ۔ہندو مسلمانوں میں محبت پیدا ہوجائے گی اور یہ محبت تمہارا فاشسٹ اقتدار لے ڈوبے گی۔تمہیں مسلم تاریخ سے بقول شاعر اس کے سوا کچھ یاد نہیں:
تمہیں لے دے کے ساری داستاں میں یاد ہے اتنا
کہ عالم گیر ہندو کش تھا ظالم تھا ستمگر تھا
اس موقع پر مجھے ملی اور مذہبی تنظیموں سے بھی شکایت ہے ۔انھیں معلوم ہے کہ موجودہ حکومت مسلمانوں کا نام لینا نہیں چاہتی ،اس کو ان کے اسلاف و اجداد میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی ۔لیکن خود مسلم تنظیمیوں نے کیا کیا ؟انھوں نے ملکی سطح پر کوئی مہم کیوں نہیںچلائی ؟کوئی قومی سطح کا سمینار کیوں نہیںکیا؟ان کی یونٹیں اور ان کے نمائندے پورے ملک میں موجود ہیں۔ انھوں نے ہر شہر میں مسلم مجاہدین آزادی کی یاد میں ریلیاں اور جھانکیاں کیوں نہیں نکالیں؟اس موقع پرکوئی ڈاکیومنٹری فلم بھی بنائی جاسکتی تھی ۔جس میں تحریک آزادی کی حقیقی تصویر دکھائی جاتی ۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہم اپنے ہم وطنوں کو یاد نہ کریں ۔لیکن ہم پر اپنے اسلاف کا حق ہے اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم دنیا کے سامنے ان کی قربانیوں کو پیش کریں؟ہمیں فخر ہونا چاہئے کہ ہم انگریزوں سے معافی مانگنے والوں کے نہیں بلکہ ان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے والوں کے جانشین ہیں۔
ملک کی آزادی کوئی معمولی چیز نہیں ہے ۔یہ بڑی قربانیوں کے بعد میسر آئی ہے ۔اس کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ایک ایسے وقت میں جب حکومت کی سطح پر مسلمانوں کو کنارے لگایا جارہا ہے ۔ان کے نشانات مٹائے جارہے ہیں ۔ان کے دین و مذہب اور ان کے شعائر کو ہدف ملامت بنایا جارہا ہے۔یہ ہمارے علماء ،دانشوروں اور تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ اس ملک کے لیے پیش کی گئیں مسلمانوں کی قربانیوں کو منظر عام پر لائیں۔اتنے بڑے ملک میں ایک دو مقام پر کسی چھوٹے سے ہال میں چند سو لوگوں کے درمیان مذاکرہ منعقد کرنے یا اردو اخبارات میں مضامین لکھ دینے سے کام نہیں بنے گا ۔میری رائے ہے کہ علاقائی زبانوں میں ایسا لٹریچر لایا جائے ،جو مستند تاریخی حوالوں سے اخذکیا گیا ہواور جس میں اختصار کے ساتھ مسلم مجاہدین آزادی کا تعارف کرایا گیاہو اور تحریک جہاد کی حقیقت بیان کی گئی ہو۔علاقائی زبانوں میں ہی ڈاکیومنٹری فلمیں بنائی جائیں اور انھیں بڑے پیمانے پر عام کیا جائے ۔ اس طرح کے تاریخی سیریل بنائے جائیں جیسے کہ ترکی نے ارطغرل غازی بنایا ہے اورانھیں ٹی وی چینلز نیز یوٹیوب کے ذریعے عوام تک پہنچایا جائے۔اگر یہ کام نہیں کیا گیا تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آج تو صرف حکومت اورغیر مسلم ہی مسلمان بادشاہوں اور مسلم مجاہدین آزادی کو برا سمجھ رہے ہیں اور فراموش کررہے ہیں کل خود مسلمان انھیں بھول جائیں گے اورجو قوم اپنی تاریخ بھول جاتی ہے غلامی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
مضمون نگار ماہنامہ اچھا ساتھی کے ایڈیٹر اور سینکروں کتابوں کے مصنف ہیں۔

 

 

 

 

Comments are closed.