میری ڈائری کا ایک ورق

عبدالعزیز
انگریزی داں طبقہ جو عصری تعلیم حاصل کرلیتا ہے دین یا اسلام سے واقفیت نہیں ہوتی بیس تیس سال پہلے کی بات ہے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ہوم میں یونورسٹی کے دوجواں سال پروفیسر بیٹھے تھے غالباً ایک فیزکس کے پروفیسر تھے دو سرے کیمسٹری کے لکچرر یا پروفیسر تھے کچھ دوچار طالب علم بھی تھے خاکسار بھی شریک مجلس تھا دین اسلام کی گفتگو ہورہی تھی کہ سیاست کی بات ہو نے لگی۔ فزکس کے پروفیسر نے جنہوں نے سرسید احمد اور مولانا ابوالکلام آزاد پر ایک عدد کتاب بھی لکھی ہے جس میں موصوف مولانا آزاد پر سرسید کی برتری ثابت کرنے کی طالبانی کوشش کی ہے دوران گفتگو فرمایا کہ اسلام میں حکومت او ر سیاست کا تصور کہاں ہے تو اس پہلے میں لب کشا ئی کرتا ان کے ساتھی پروفیسر نے انہیں خلافت کے نظام کی طرف توجہ دلائی میں نے سورہ یوسف کی ایک آیت ان ا لحکم لا للہ( فرمانروائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کیلئے نہیں ہے ) پھر میں نے کہا کہ علامہ اقبال نے اللہ کی اس بات کو اپنے انداز میں کہا ہے:
سروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آزری
موصوف کو علامہ اقبال کا اور شعر سنایا جوایک کتاب کے برابر ہے۔
جلا ل پاد شاہی ہو کہ جمہوری تماشا
جداہو دیں سے سیاست تو رہ جاتی ہے چنگیزی
پروفیسر صاحب خاموش ہوگئے انہیں میں نے مولانا ابوالکلام آزاد خاص طور سے علامہ اقبال اور مولانا مودودی کی کتابیں مطالعہ کرنے کی استدعا کی۔انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ ضرور مطالعہ کریں گے دین کے متعلق ان کا علم ناقص ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی کہا ہے ایک دوسرے کے تعلقات کو درست رکھنے کی ہدایت کی ہے اس کے بعد یہ بتایا گیا ہے اگر کسی وقت مسلمانوں کے دو گروہوں میں لڑائی ہوجائے اس صورت میں مسلمانوں کو کیا طرز عمل اختیار کر نا چاہئے۔پہلے صلح کرانے کی بات کہی گئی ہے پھر کہا گیا ہے اگر ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے سب مل کر لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے پھر عدل کے ساتھ دونوں کے درمیان صلح کرائو۔
کلکتہ کی مسجد ناخدا کامسئلہ جب درپیش ہوا تو عاجز نے تجویز کی تین ملک گیر جماعتوں کے ذمہ دار فریقین کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کریں اور اگر کوئی تصفیہ سے رو گردانی کرے تو اس کے بارے میں ایسا جمہوری فیصلہ کیا جائے کہ وہ ماننے پر مجبور ہو۔ ایک تعلیم یافتہ شخص نے سوال کیا ہے تین جماعتوں کو صلح کرنے اور فیصلہ کرنے کا حق کس نے دیا اگروہ صاحب قرآن کو گہرائی مطالعہ کریں تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ مومن کو یہ حق اللہ تعالیٰ نے دیا ہے کہ وہ اپنے بھائی کی مدد کرے خواہ وہ ظالم ہویا مظلوم۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ سے دریافت کیا گیا کہ مظلوم کی مدد تو سمجھ میں آتی ہے ظالم کی مدد کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا اسے ظلم کرنے سے روک دو( یہ ظالم کی مدد ہوگی)
عالم انسانیت کے لیے رحمت:
ا للہ تعالیٰ نے بھلائی اور برائی کے دو راستے کھول دیئے ہیں ایک راستہ وہ جو ا خلاق کی پستیوں کی طرف لے جاتا ہے دوسرا راستہ اخلاق کی بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے دوسرے راستے کو اللہ نے بلندیوں پرلے جانے کا دشوار گزار گھاٹی کہا ہے۔ کیونکہ اس سے گزرتا پڑ تاہے وہ گھاٹی کیا ہے جس سے گزر کر بلندیوں کی طرف انسان جا سکتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ریا، فخر اور نمائش کے خرچ کو چھوڑ کر آدمی اپنا مال یتیموں ، مسکین، ضرورتمندوں، کمزوری اور غریبوں کی مدد پر خرچ کرے۔ یہ اسے دن بہ دن بلندی تک لے جائے گی اور وہ اللہ کے مقرب بندوں میں اس کا شمار ہونے لگے گا۔
اللہ نے اپنی راہ میں جدوجہد کی غیرمعمولی فضیلت بیان کی ہی جس کی بنا پر تمام انسانی اعمال میں ایمان باللہ کے بعد سب سے بڑا درجہ دیا گیا ہے دیکھا جائے تو درحقیقت یہی چیز تمام فضا ئل و مکارم اخلاق کی رو ح ہے۔ انسان کی یہ اسپرٹ کہ وہ بدی کو کسی حال میں برداشت نہ کرے اسے دفع کرنے کیلئے ہرقسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہوجا ئے انسانی شرافت کی سب سے اعلیٰ اسپرٹ ہے اور عملی زندگی کی کامیابی اسی اسپرٹ میں مضمر ہے۔ جوشخص دوسرے کی بدی کو برداشت کرتا ہے اس کی اخلاقی کمزوری سے بالاخر اس پر بھی اسے آمادہ کر دیتی ہے کہ وہ خود اپنے لئے بدی کو برداشت کرنے لگے اور جب ا س میں برداشت کا یہ مادہ پیدا ہو جاتا ہے تو اس پر ذلت کا وہ درجہ آتا ہے جسے خدا نے اپنے غضب سے تعبیر کیا ہے اس درجہ آدمی پہنچ کر آدمی کے اندر شرافت اور انسانیت کا کوئی احساس باقی نہیں رہتا۔ وہ جسمانی و مادی غلامی ہی نہیں بلکہ وہ ذہنی اور روحانی غلامی میں بھی مبتلا ہوجاتا ہے اور کمینگی کے ایسے گڑھے میں گر جاتا ہے جہاں سے اس کا نکلنا محال ہوجاتا ہے اس کے برعکس جس شخص میں اخلاقی قوت موجود ہو وہ بدی کو محض بدی ہونے کے باعث برا سمجھے اور انسانی برادری کو اس سے نجات دلانے کیلئے ان تھک جدوجہد کرتا رہے وہ ایک سجا اور اعلی درجے کا انسان ہوتا ہے اس کا وجود عالم انسانیت کیلئے رحمت ہوتاہے۔
()()()
موبائل: 9831439068 azizabdul03@gmail.com

Comments are closed.