مولانا نسیم اختر شاہ قیصر مرحوم

ڈاکٹر عبید اقبال عاصم علی گڑھ

مسلم یونیورسٹی علی گڑھ

مولانا سید نسیم اختر شاہ کا انتقال پر ملال کی اچانک ملنے والی اطلاع سے جو صدمہ پہنچا اسکو ظاہر کرنا میرے بس سے باہر ھے ۔ علمی دینی مذہبی وقلمی حلقوں میں ان کی کمی کو شدت سے محسوس کیا جائے گا لیکن ان سب سے ہٹ کر ان کی وفات میرے لئے ایک ذاتی صدمہ ھے وہ میرے ہم عمر بھی تھے ہمعصر بھی اور ایک دو سال ہم درس میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ رہے ۔ اس پر مستزاد ہم دونوں کا "شوق لوح و قلم_ جس نے ہم دونوں کو ہمیشہ ایک دوسرے سے قریپ کئے رکھا ۔بس فرق تھا تو یہ کہ انہوں نے پرورش لوح و قلم کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا کر "غم ذات” کا درجہ دیدیا اور ھم جیسے لا ابالی شخص نے اسے اپنے موڈ کے ماتحت رکھا جسکی وجہ سے کبھی ان کی برابری نہیں کر سکا اسکے باوجود مرحوم کے "ذوق حوصلہ افزائی” سے ہمیشہ تقویت ملتی رہی اور میدان تحریر و تصنیف میں تہی دامنی کے احساس کے با وجود مولانا کے نقش قدم پر چلتا رہا ۔ میں جب بھی دیوبند جاتا تو نسیم اختر سے ملاقات ضرور ہوتی کیونکہ وہ روزانہ شام کو دیوبند نیوز کے دفتر آتے جو میرے گھر سے متصل تھا رضوان سلمانی عارف عثمانی اطہر عثمانی مولوی راشد کبھی کبھی فہیم اختر صدیقی عمر الہی اور دیوبند کے دوسرے بہت سے ادبی وصحافتی اور مجلسی ذوق کے حامل افراد اس محفل کا حصہ ہوتے ۔ شاہ صاحب سے ملک وملت کے سنجیدہ مسائل پر گفتگو بھی ہوتی’ خوش گپیاں بھی ہوتیں’ فلک شگاف قہقہے بھی ہوتے_ لطیفے بھی ہوتے غرضیکہ ہر قسم کی "ویج نان ویج گفتگو” ہوتی. دار الکتاب میں مولانا ندیم الواجدی صاحب و ڈاکٹر نعمان دانش کے ساتھ اسی انداز کی بیٹھک جمتی۔ کبھی بھی کسی بھی ادا سے یہ محسوس نہ ہوتا کہ اس طرح ہنسنے ہنسانے والا زندہ دل شخص بالکل اچانک دنیا سے مونہہ موڑ کر اپنے مردہ ہونے کا اعلان کرادے گا اور حلقہء احباب کو رونے پر مجبور کر دےگا۔

مولانا گذشتہ دو تین ماہ سے کمر کی تکلیف میں مبتلا تھے گذشتہ کچھ دنوں پہلے جب انہیں یہ عارضہ لاحق ہوا تھا جسکو وہ زیادہ خاطر میں بھی نہ لاتے لیکن مرض کی شدت نے جب انہیں بستر بر دراز ہونے پر مجبور کر دیا تو مولانا کو طوعاً و کرہاً "گوشہء عافیت” میں جانا پڑا چونکہ وہ کبھی یکسوئی عادی نہیں رہے تھے اس لئے میرے خیال میں اس کے اثرات بھی ان کی زندگی پر مرتب ہوتے رہے ہمیشہ مجلس کے درمیان رہنے والے شخص کو "قید تنہائی” میں محصور کر دینا ایسی بڑی سزا ہوتی ھے جو "دل پہ تو گذرتی ھے” لیکن وہ اسے "رقم” نہیں کر پاتا اس دوران میں جب بھی دیوبند جاتا تو مرحوم سے مل کر آتا۔

ابھی دو یوم قبل عزیز ترین دوست انجینیر خورشید انوار صدیقی (مقیم حال مدینہ منورہ) کی چار روزہ دیوبند آمد کے موقع پر ہم دونوں ١٠/ستمبر کی صبح فجر کے بعد ( مولانا کے انتقال سے ایک یوم قبل) نسیم اختر سے ملنے کے لئے شاہ منزل گۓ حسب معمول وہی بے تکلف بات چیت’ نہ تکلیف کا شکوہ’ نہ احساس رنج وغم ۔ بلکہ شکر خداوندی ادا کرتے ہوئے یہی کہا کہ "الحمدللہ ستر فیصد بہتری معلوم ہو رہی ھے”۔تھوڑی دیر کی یہ نشست مرحوم کے ساتھ "آخری نشست” شمار ہوگی اس کی تو توقع بھی نہیں کی جا سکتی تھی ۔خورشید میاں کی ١١/ ستمبر کی صبح فلائٹ تھی پرانے دوستوں کی منڈلی میں سے دہلی سے عدنان قاسمی اور مظفر نگر سے عمر فاروق بھی خورشید سے ملنے دیوبند آگۓ تھے ۔ رات میں ھم سب نے ایک ساتھ ہی "رخت سفر” باندھا راستہ میں بھی نسیم شاہ کا ذکر رہا۔ ابھی میں ١١/ ستمبر کی شام کو دہلی سے علی گڑھ کی جانب روانہ ہی ہوا تھا کہ برادرم فہیم اختر صدیقی کے فون نے دل ودماغ میں ہلچل مچادی۔ خبر سن کر جو کیفیت طاری ہوئ اسے الفاظ میں سمویا نہیں جا سکتا۔ "استرجاع” و "استغفار” کے علاوہ بولنے اور سوچنے کے لئے کچھ بھی نہیں بچا تھا سفر کے "نہ جانے ر فتن ونہ پاۓ ماند” کے مرحلہ میں ہونے کے باعث اپنے اس دیرینہ رفیق کی آخری رسومات کی شرکت کی خواہش کو بیچارگی کے عالم میں "خواہشات” کے "شہر خموشاں” میں دفن کۓ رہا ۔ اور راستہ بھر "ذخیرہء آخرت” بر بورے یقین کے ساتھ ایصال ثواب کرتا رہا اور یہی دعا کرتا رہا کہ "اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے مولانا نسیم اختر شاہ قیصر کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے انکی سیآت کو حسنات سے تبدیل فرماکر ان کو اجر عظیم اور جزاۓ جزیل عطا فرمائے۔ انکی دینی’ فکری’ ملی’ شخصی ومذہبی تحریر وں کو قبولیت سے نواز کر انکے لئے ذخیرہ ء آخرت بناۓ. پسماندگان کو صبر جمیل اور ملت اسلامیہ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے آمین ۔

مولانا کا نام نامی "نسیم اختر شاہ قیصر” تھا جسکی بہت سی خصوصیات ان کی ذات میں سمائ ہوئ تھیں وہ اپنے آپ میں صرف "شاہ” نہیں بلکہ "شاہان شاہ” یعنی "شہنشاہ” تھے اسکا ثبوت اس سے فراہم ہوتا ہے کہ اگر مولانا کو "نسیم اختر شہنشاہ” کہا جاۓ تو اس سے ان کے سن وفات (٢٠٢٢)کی تخریج ہوتی ہے ۔ جہاں تک ہجری مادہ (١٤٤٤) کی با ت ھے تو کہا جا سکتا ہیکہ "اصلا وہ پرورش لوح و قلم کرنے والا چلا گیا”(بین الواوین جملے کے اعدا شمار کۓ جائیں تو ان کا مجموعہ ١٤٤٤ہوتا ھے جو مولانا کی وفات کا ہجری سن ھے ) عبید اقبال عاصم .علی گڑھ ۔١٤/ صفر المظفر ١٤٤٤ھ مطابق.١٢/ستمبر ٢٠٢٢ع

Comments are closed.