شاہین ادارہ جات بیدر کی غریب ہونہار طلباء کو انسانی بنیادوں پر مدد اور حوصلہ افزائی
پٹرول پمپ پر کام کرنے والے غریب کا بیٹا محمد معراج نےNEETمیں 720 میں سے 568 نمبرات حاصل کئے
از :محمد امین نواز ‘بیدر
موبائیل نمبر9731839583
دنیا میں جو بھی انسان محنت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ثمر دیتا ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ محنت کبھی بھی رائیگاں نہیں جاتی، غربت راستے میں حائل نہیں ہوتی اور گھر کی پریشانیاں بھی رکاوٹ نہیں بنتی اگر آپ کے عزائم بلند ہوں،جذبات سچے ہوں،محنت اورجدوجہد کرنے کا مزاج ہو،زندگی میں کچھ بننے کا سچا جذبہ موجود ہو تو کوئی مشکل، مشکل نہیں رہتی۔حصول علم کیلئے عزم و حوصلہ اورذوق بے حد اہم ہوتے ہیں۔ علم حاصل کرنے یا کسی بھی کام کی تکمیل کیلئے حالات کا ہمیشہ موافق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کبھی حالات ناموافق بھی ہوسکتے ہیں۔ بے شمار مسائل، دشواریاں اور رکاوٹیں بھی پیش آسکتی ہیں، لیکن عزم و حوصلہ اور لگن سے اپنے مقاصد کے حصول میں کامیابی ممکن ہے۔
کرناٹک کے یادگیر کے ایک پٹرول پمپ پر پٹرول ڈالنے کا کام کرنے والے محمد صوفی صاحب غربت اور مالی دشواریوں کے باوجود مایوس نہیں ہوئے۔ مسلسل جدوجہد کرتے رہے اور اس پُر آشوب مہنگائی کے دور میں اپنے بچوں کو تعلیم اور ترقی کے مراحل طئے کرنے کیلئے پُر عزم رہے ۔ میرا لڑکا معراج جماعت دہم میں بہتر نشانات سے کامیابی حاصل کی ‘پی یو سی کی تعلیم کیلئے میں فکر مند تھا حالات نا موافق تھے ‘ اللہ پر بھروسہ کیا ۔اسی اثنا میری صورتحال بسوا کمار پاٹل صدر کلیان کرناٹک پرتشٹھان تک پہنچی تو انھوں نے فوری طورپر مجھے ہمت دی اور کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر چیئرمین شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز ملک بھر میں غریب اور ہونہار طلباء کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ان کی تعلیم کیلئے رہنمائی و مدد کرتے ہوئے اپنے ادارے میں مع قیام و طعام مفت تعلیم دے کر سینکڑوں غریب ہونہار طلباء کے مستقبل کو درخشاں کیا ہے اور کررہے ہیں ۔پھر کیا تھا میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب سے جب ملاقات ہوئی تو انھوں نے میرے فرزند کوپی یو سی سالِ (سائنس) سالِ اول اور سالِ دوم کے ساتھ ساتھ NEETکوچنگ مع قیام و طعام مفت تعلیم کیلئے منتخب کیا ۔ انھوں نے کہا کہ ان کے تین بچے ہیں۔ ایک بیٹا شیموگہ میں ویٹرنری ڈاکٹر کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔بیٹی بیدر کے شاہین کالج میں پی یو سی کی تعلیم حاصل کر رہی ہے۔
محمد معراج نے کہا کہ جب میں جماعت دہم کا امتحان دے کر 97.12فیصد نشانات حاصل کیا تو میری کامیابی سے میرے اساتذہ اور والدین خوش ہوئے اور میرے حوصلے بلند ہوئے اور دل میں ایک اُمید تھی کہ بیدر کے شاہین پی یو کالج میں تعلیم حاصل کروں ۔میری اس اُمید کو ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب چیئرمین شاہین ادارہ جات بیدر نے مجھے اپنے کالج میں پی یو سی سالِ اول و سالِ دوم (سائنس ) اور NEETکوچنگ کیلئے مع قیام و طعام مفت تعلیم کیلئے میری مدد کرکے ایک غریب خاندان کے بچے کی رہنمائی کرتے ہوئے بھر حوصلہ افزائی کی۔
محمد معراج نے کہا کہ میں نے ایک سرکاری اسکول میں پہلی سے دسویں جماعت تک کنڑ میڈیم کی تعلیم بھی حاصل کی۔ابتدائی تعلیم میں نے جس اسکول میں حاصل کی ‘ اس اسکول میں انگریزی کے کوئی استاد نہیں تھے ۔ابتداء میں مجھے انگریزی سمجھنے میں کچھ دشواری ضرور ہوئی مگر ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب اور ان کے کالج کا مشفق اسٹاف نے میری اس دشواری دور کرنے کیلئے ہمیشہ میری رہنمائی کی ۔اس وجہ میں میرے حوصلے بلند ہوئے اور میں رات کے اوقات میں3بجے تک اپنے روم میں اسٹڈی کرتا رہا ‘ اس اُمید کہ مجھے ایک ڈاکٹر بننا ہے ۔ڈاکٹر اس لئے بننا ہے تاکہ میں انسانیت کی خدمات کرسکوں ۔یہ بات میںہمیشہ ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب سے ان کے خطاب اکثر سنتا تھا کہ ڈاکٹر بن کر انسانی ہمدردی کے جذبہ کے ساتھ انسانیت کی خدمت کریں ۔پی یو سی سالِ دوم میں میں نے 83فیصد نمبرات سے کامیابی حاصل کی ۔اور NEET میں 720 میں سے 568 نمبر ات حاصل کرنے کے بعد (آل انڈیا رینک 37,745، زمرہ رینک 16,659)، مجھے سرکاری کوٹہ کے تحت میڈیکل سیٹ ملنا تقریباً یقینی ہے۔
محمد معراج نے کہا کہ شاہین ادارہ جات کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالقدیرنے ہم جیسے سینکڑوں غریب طلباء کی رہنمائی کرتے ہوئے حصول تعلیم میں بھر پور مدد کی ہے جس کا نتیجہ یہ کہ آج بشمول میرے غریب والدین کے بیٹوں کو ڈاکٹر بننے کا موقع فراہم ہورہا ہے ۔الحمد للہ ڈاکٹر عبدالقدیر غریب ہونہار طلباء و طالبات کیلئے تعلیمی میدان میں اُمید کی کرن کی طرح سامنے آرہے ہیں ۔اللہ ان کی عمردراز فرمائے اور انھیں خوب ترقی سے نوازے ۔
ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ میرے دوست بسوا کمار پاٹل صدر کلیان کرناٹک پرتشٹھان نے محمد معراج کوجب یادگیر سے داخلہ کیلئے میرے پاس آئے‘ اور ان کی تمام صورتحال سے مجھے واقف کروایا ‘میں نے اس غریب ہونہار طالبِ علم کو اپنے کالج میں مع قیام وطعام کالج اور NEET کوچنگ مفت دے کر داخلہ دیا ۔ہر سال ہمارے کالج سے معراج جیسے سینکڑوں طلباء و طالبات اس طرح کی سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے آج ملک کی مُختلف ریاستوں میں میڈیکل کالجوں میں زیر تعلیم ہیں اور کئی طلباء و طالبات میڈیکل کورس مکمل کرکے ڈاکٹر بن چکے ہیں ۔ایسے خاندان کے بچے ڈاکٹر بنے ہیں ‘جن کے خاندان کی غربت و معاشی حالت کو دیکھ کر یہ نہیںکہا جاسکتا کہ وہ ڈاکٹر بن گئے ہیں ۔ آج ہم نے اس سوچ کو بدل دیا ہے کہ ڈاکٹر کابیٹا یا دولت مند کا بیٹا ہی ڈاکٹر بنے۔الحمد للہ آج شاہین کالج سے سینکڑوں معاشی حالت سے کمزور غریب و نہار طلباء کو ہماری تھوڑی سی مدد کے باعث وہ ڈاکٹر بن کر جذبہ ہمدردی سے سرشار ہوکر انسانیت کی ملک بھر اور وبیرون ممالک خدمات انجام دے رہے ۔آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ محمد معراج اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ قوت ارادی ہو تو کچھ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
Comments are closed.