اسلام کو مضبوطی سے تھام کر انسانی ہم آہنگی کو فروغ دیں
جمعہ خطبہ । بابت: 16 ستمبر 2022ء
من جانب: آل انڈیا امامس کونسل
الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام علي سيد الأنبياء والمرسلين وعلی آله وأصحابه أجمعين ومن تبعهم بإحسان إلي يوم الدين – أما بعد – فأعوذبالله من الشيطان الرجيم ، بسم الله الرحمن الرحيم. أما بعد!
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءًۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا. (سورہ النساء: 1)
حاضرین گرامی!
یہ خوبصورت کائنات جس میں انسان اور کروڑوں مخلوقات سانس لے رہے ہیں، یہ دلفریب دنیا اسی اللہ نے بنائی ہے جو تمام مخلوقات کا خالق بہی ہے،اور پالنہار بہی،اور سارے انسانوں کو خواہ وہ کسی ملک، کسی رنگ ونسل کا ہو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے، چنانچہ سب کا رب بہی ایک ہے،اور سارے انسانوں کے باپ بہی ایک ہیں، اللہ نے انسانوں کو اس دنیا میں بھیج کر اس کو تنہا اور آزاد نہیں چھوڑا کہ وہ جس طرح چاہے زندگی گذارے، بلکہ صحیح ڈگر پر چلنے کے لئے اس نے انسانوں کو مختلف زمانوں میں ایک شریعت،Law اور قانون دیا، وہ قانون لانے والے اللہ کے انبیاء تھے، آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جو دین بخشا ہے وہ دین اسلام تمام انسانوں کےلیے سراپا رحمت اور انصاف ہے، اسی رحمت کی کرشمہ سازی ہے کہ عمومی عدل وانصاف کے سلسلے میں سارے انسانوں کے حقوق اس دین کی نظر میں برابر اور یکساں ہیں، کسی اعلی کو ادنی پر کوئی فوقیت اور برتری نہیں، اسی وجہ سے جہاں اس نے مسلمانوں کو اس کی تاکید کی کہ وہ سو فیصد اسلام میں داخل ہوجائیں، آدھا تیتر آدھا بٹیر کی روش چھوڑدیں۔
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱدْخُلُواْ فِى ٱلسِّلْمِ كَآفَّةً وَلَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَٰنِ ۚ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ. (سورة البقرة: 208)
اے ایمان والو پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوجاؤ، شیطان کے نقش قدم پر مت چلو ،وہ تمھارا دوست نہیں کھلا ہوا دشمن ہے۔
یہ آیت بہت واضح طور پر مسلمانوں کو جھنجھوڑ رہی ہے کہ تم اکثر جانے انجانے میں شیطان کے راستے پر چل پڑتے ہو، اس شیطان کے راستے پر جو تمھارا ازلی و پیدائشی دشمن ہے. تمہارے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے والا ہے۔ تم کیسے نادان ہو، اپنے دوست اور دشمن کو نہیں پہچانتے ہو.قرآن تمہاری رہنمائی کے لئے تمہارے درمیان ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شاندار اور پاکیزہ تعلیمات تمہارے پاس ہیں، پھر بھی تم رسول بطحا کی مشکبار تعلیمات کو نظر انداز کر کے کبھی یورپ کی متعفن اور سڑی گلی تہذیب کو اختیار کر کے شیطان کو خوش کرتے ہو، اور کبھی ظلمت کدہِ ہند کے مشرکانہ رسم ورواج کو محبوب کبریا، سرور دوعالم کے نقوش پا کے مقابلے میں ترجیح دے کر روح مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچارہے ہو، کیا یہی اسلام اور پیارے رسول سے وفاداری ہے۔
قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام محمد کا تمھیں پاس نہیں
پیارے بھائیو!
یہ دین خوبصورت اور دلکش ہے۔
اللہ قرآن میں کہہ رہا ہے کہ مسلمانوں جو دین آپ کو بخشا گیا ہے وہ دین انتہائی پیارا اور دلکش ہے۔
(حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ. (سورة الحجرات: 7)
مسلمانوں اللہ نے تمہاری نظروں میں ایمان کو محبوب بنادیا ہے، اور ایمانی جلؤوں کو تمہارے دلوں میں آراستہ کر دیا ہے، قرآن کا یہ دعویٰ کس قدر اہل ایمان کو امیدوں سے بھردینے والا ہے، کہ تمھارے رب نے تمھارے سامنے ایمان کا چراغ جلاکر رکھ دیا ہے، ایمان کےاس روشن چراغ کے بعد بھی اگر تم جادہِ حق سے بھٹک کر شیطان کا شکار ہوتے ہو ،تو پھر اللہ کی سخت پکڑ سے بچنا مشکل ہے۔
میرے بھائیو!
اسلام تنہا عبادات کا نام نہیں ہے، بلکہ عبادات کے ساتھ سماجی رشتوں کو برتنے،اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی سے اسلام کے مطالبے اور تقاضے پورے ہوتے ہیں، اور وہ سماجی ہم آہنگی وجود میں آتی ہے جو اس روے زمین پر اسلام قائم کرنا چاھتا ہے، حقوق کی ادائیگی کے بغیر سماجی ارتباط اور ہم آہنگی کے بجائے ظلم و ناانصافی کے شعلے دہکیں گے، جیسا کہ آج ہمارے چاروں طرف کا ماحول ہے، جب تک گھر سے لے کر سماج کے آخری سرے پر رہنے والے فرد کے حقوق ادا نہیں ہوں گے، خواہ وہ انسان کسی بہی دھرم کا ماننے والا ہو اس وقت تک ملکی وسماجی حالات ومشکلات کے الجھے ہوئے گیسو سنور نہیں سکتے، قانون چاہے جتنے اچھے بنالیے جائیں؛ لیکن سماجی ہم آہنگی کا قصر عظیم قوانین سے نہیں بلکہ منصفانہ رویوں کی اینٹوں سے تعمیر ہوتا ہے۔
ایک مسلمان کے لئے سب سے بنیادی چیز اللہ تعالیٰ اور رسول مقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے اور اسی اطاعت کے زمرے میں والدین، بال و بچے، پڑوسی وغیرہ کے ساتھ حسن سلوک داخل ہے۔
اسی طرح ہر نوع کی سماجی برائیوں سے اجتناب بھی لازم ہے۔
شراب سے پاک، نشہ آور دوائیوں سے پاک، سود سے پاک، جوے سے پاک، وزن اور ناپ تول میں ہیرا پھیری سے پاک، ملاوٹ سے پاک، رشوت سے پاک دین ہے۔ ظلم سے پاک ، تشدد سے پاک، ناانصافی سے پاک، جانب داری سے پاک، جھوٹ مکاری سے پاک دین ہے۔
مظلوم اور ستائے ہوؤں کو ان کا حق اور ان کی شان و شوکت واپس دلانا بھی دین ہے۔
مساوات، برابری، اتحاد اور ہم آہنگی کو بر قرار رکھنے، اور انصاف کے قیام، وظلم کے خاتمے کے لۓ جد وجہد کرنا دین کا اہم ترین حصہ ہے۔
سامعین کرام!
شہادتِ حق:
بحیثیت مسلمان اس ارض گیتی پر حق کی گواہی دینا ہماری ذمے داری ہے تاکہ لوگ اللہ کے آخری دین اسلام کو زندگی کے تمام شعبوں میں قبول کرکے دیکھ سکیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ. (سورہ البقرۃ: 143)
اے مسلمانوں ہم نے تم کو امت وسط (درمیانی امت) بنایا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے شہادت حق کی ذمے داری نبھاسکو۔
ہمیں زندگی کی گواہی کو کبھی نہیں چھپانا چاہیے۔ کالج میں، دوستی میں، سفر میں، تفریح میں، دفتر میں، کام کی جگہ میں، بازار میں، سیاست میں، تقریبات میں ہمیں اسلام کے تمام محاسن، خوبیوں، اور اعلی انسانی قدروں کو فخر سے بلند کرنا چاہیے۔
حق کو چھپانا اور لوگوں کے درمیان اسلام کی گواہی دینے کے بجائے لوگوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کفر و نفاق کی گواہی دینا بہت بڑا جرم ہے۔
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَتَمَ شَهَادَةً عِندَهُ مِنَ اللَّهِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ. (سورہ البقرۃ۔140)
اللہ تعالیٰ نے بچھلی کتابوں میں بھی ان لوگوں کو خبردار کیا ہے جو حق و باطل کے ساتھ ملاوٹ کرکے انصاف کا گلاگھوٹتے تھے۔ اللہ تعالی فرمایا:
وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ. (سورہ البقرۃ: 42)
انسانی ہم آہنگی پیدا کریں:
سماج میں چھوٹی سطح و بنیاد سے وسیع پیمانے پر انسانی ہم آہنگی پیدا کی جانی چاہیے۔ ابھی ہم جس ماحول میں جی رہے ہیں اس میں نسلی طاقتیں مذہب کا افیون چٹاکر، اور ذات پات کے نام پر نفرت، دراڑ اور خلا پیدا کرنے اور ایک دوسرے کے جذبات کو بھڑکا کر انسانی رشتوں کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس صورت حال میں ہمیں انسانی تعلقات کو ہر ممکن حد تک گرم جوشی سے قائم کرنے، ٹوٹے ہوئے رشتوں کو دوبارہ جوڑنے اور دوستی کے حلقوں کو وسیع کرنے کے لئے دامے، درمے، قدمے، سخنے ہرسطح پر مسلسل جد وجہد کرنی ہوگی، اور سماج دشمن عناصر سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہوگا۔
ہما ری یہ ذمے داری ہے
کیوں کہ جہاں قرآن نے اللہ تعالیٰ کو ”رب الناس“ کے طور پر متعارف کروایا ہے،وہیں ہمارا تعارف
”أخرجت للناس“ انسانوں کے لیے نکالی گئی قوم کے طور پر کروایا ہے ،اس سے قبل خیر کا تاج سر پر رکھ کر ذمے داری کاندھوں پر ڈالی گئی ہے، کنتم خیر أمۃ۔
سورۃ الفاتحہ میں، جسے ہم دن میں کئی بار پڑھتے ہیں، اس میں اللہ تعالیٰ ”رب العالمین اور الرحمن“ کے طور پر اپنا تعارف کراتا ہے۔ رب العالمین کا مطلب ہے تمام جہانوں، تمام مخلوقات اور انسانوں کا رب۔
الرحمٰن سے مراد وہ ہے جو بغیر کسی شرط کے رحم کرتا ہے جیسا کہ اس کی انسانوں کی تخلیق کا عمل ہے، چاہے وہ اللہ کی اطاعت کرے یا نہ کرے۔
اللہ ہی ہے جو ہوا، پانی، خوراک، روشنی، صحت، رہائش، اولاد، دولت، شفا عطاکرتا ہے۔
یہ وہ شفقت ومحبت سے بھرا ہوا سلوک ہے جو اللہ کا اپنے بندوں کے ساتھ ہے چنانچہ اللہ پر ایمان رکھنے والوں کو ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ یہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
قرآن میں ہے کہ حضرت ابراہیم (ع) نے اپنے گھر والوں کو خانہ کعبہ کے پاس ٹھہرا کر اس طرح سے دعا کی:
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُم بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ قَالَ وَمَن كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَىٰ عَذَابِ النَّارِ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ. البقرہ: 126)
جب ابراہیم نے کہا، اے پروردگار! تو اس جگہ کو امن واﻻ شہر بنا اور یہاں کے باشندوں کو جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہوں، پھلوں کی روزیاں دے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں کافروں کو بھی تھوڑا فائده دوں گا، پھر انہیں آگ کے عذاب کی طرف بےبس کردوں گا، یہ پہنچنے کی جگہ بری ہے۔
انسانی زندگی مقدس ہے:
مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًاۚ.
(سورہ المائدہ: 32)
جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وه کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے واﻻ ہو، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا، اور جو شخص کسی ایک کی جان بچا لے، اس نے گویا تمام لوگوں کو زنده کردیا
انسانی جان ومال عزت نفس وغیرہ کو اسلام نے پاک و مقدس قرار دیا ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: ”الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ“ (ترمذی: 2627)
مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں مومن وہ ہے جس کو لوگ اپنی جان ومال کا مسیحا سمجھیں ۔
غیر مسلموں سے تعلقات:
قرآن واحادیث میں غیر مسلموں کے ساتھ اچھے برتاؤ اور ان کے ساتھ انصاف کرنے کی تاکید آئی ہے؛ أن تبروهم وتقسطوا إليهم إن الله يحب المقسطين. (سورة الممتحنة)
سارے غیر مسلم یکساں نہیں ہیں، ایک بڑی تعداد اس ملک کے اندر ایسے برادران وطن کی ہے جو مسلمانوں سے نفرت نہیں کرتی، بلکہ ایسا بار بار دیکھا اور مشاہدہ کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے مسائل کے تعلق سے آواز اٹھانے والے ہمارے بہت سے غیر مسلم بھائی ہوتے ہیں، اور انہوں نے خیر کے کاموں میں تعاون کیا ہے یہ تاریخ نئی نہیں ہے، بلکہ
غیر مسلم خاندانوں اور اچھے لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعاون کیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکے میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف تھے۔
شعب ابوطالب میں تین سالوں تک محاصرے کے دوران قبیلہ بنو ہاشم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔
یہاں تک ان میں سے بعض نے کعبے پر لٹکے ہوئے عدم تعاون کے معاہدے کو پھاڑ دیا۔
بہت سے غیر مسلموں نے ہجرت کے دوران اور دیگر جگہوں پر عدل و انصاف کے کام میں تعاون اور مدد کی ہے۔ تاریخ میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگوں کا مال جو بطور امانت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رکھا تھا ہجرت کے دوران رسول اللہ ﷺ نے علی رضی اللہ تعالیٰ کے عنہ کے حوالے کرکے اس مال کو ان کے مالکوں تک پہنچانے کی ہدایت دی ۔
ظالموں کےساتھ کھڑے ہونے میں عزت نہیں ہے،اسی طرح وسیع دوستانہ سوچ دشمن کے خوف کی وجہ سے نہیں ہونی چاہیے۔ یہ سوچ کر دھوکے میں نہ آئیں کہ آپ اپنے دشمنوں کو دوست بنا کر عزت سے جی سکتے ہیں۔ جیسا کہ ابھی بہت سے مسلمانوں کے رویے سے اس کا اظہار بڑے پیمانے پر ہورہا ہے۔
الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَۚ أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا سَبِيلًا. (سورہ النساء: 139)
جن کی یہ حالت ہے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے پھرتے ہیں، کیا ان کے پاس عزت کی تلاش میں جاتے ہیں؟ (تو یاد رکھیں کہ) عزت تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے
اللہ ہمیں نظریات اور عقائد کی دیانت اور فضیلت کو سمجھنے، زندگی میں ایک مضبوط موقف اختیار کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین
Comments are closed.