مسلمانو! اٹھو، مدارسِ اسلامیہ کے تحفظ کے لئے تیار ہوجاؤ

 

تحریر: ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی

(مدیر اعلی: ہفت روزہ ”آبِ حیات“ بھوپال)

رابطہ: 9826268925

       ہمارا وجود وترقی دینی تعلیم سے باقی ہے۔ مدارس اسلامیہ قوم کی شہ رگ ہیں اس لیے یہ مدارس دینیہ فرقہ پرستوں کی آنکھوں میں کانٹیں بن کر چبھ رہی ہیں۔ حالاں کہ مدارس اسلامیہ کی روشن تاریخ رہی ہے، جہاں کردار سازی اور اخلاقی تربیت کا چوبیس گھنٹہ اہتمام کیا جاتا ہے۔ مدارس کی تعلیم انسانیت کے احترام کا درس دیتی ہے۔

 آج برصغیر اور بہت سے ایشیائی و یورپی ممالک میں جو اسلام کی اشاعت ہو رہی ہے اور جس حد تک مسلمان اپنے تشخص کے ساتھ روئے زمین پر موجود ہیں اس میں مدارس اسلامیہ کا بڑا کردار رہا ہے ورنہ  گزشتہ چند صدیوں کے دوران یہود و نصارٰی کی جانب سے اسلام کو ختم کرنے اور مسلمانوں کے تشخص کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کی جو کوششیں ہورہی ہیں اگر یہ دینی مدارس و مکاتب نہ ہوتے تو عہد جدید میں اسلام کی اتنے بڑے پیمانہ پر اشاعت سامنے نہ آتی۔

مدارس اسلامیہ کا وجود ملک کی مخالفت کے لیے نہیں اس کی تعمیر و ترقی کے لئے ہے، مدارس کا ڈیڑھ سوسالہ کردار اس کا گواہ ہے۔

ان مدرسوں میں خالص مذہبی تعلیم دی جاتی ہے اور اس کا اختیار ہمیں ملک کے آئین نے دیا ہے، آئین میں ہمیں اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور انہیں چلانے کا مکمل حق دیا ہے۔

 آج دنیا کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔وقت ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے کہ مسلمانو! جاگو، جو آج خود نہیں جاگے گا تو کفر اسے پاؤں کی ٹھوکروں سے پامال کرے گا۔ دشمن کے قدم ہماری دہلیز تک پہنچ چکے ہوں گے۔پھر ہمارے خون کو پانی کی طرح بہاکر چنگیز خان کی یادیں تازہ کی جائیں گی۔

ملک بھرمیں پچھلے کچھ برسوں کے دوران فرقہ پرست طاقتوں نے جس طرح نفرت کا ماحول قائم کردیا ہے اور اس سلسلہ میں حکومت کا جو کردار رہا ہے اس کے پیش نظر مسلمان یہ یقین کرنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ اس وقت ہر پالیسی اس کے وجود کو تباہ وبرباد کرنے کے لئے سامنے آرہی ہے ورنہ اگر سرکار کی نیت درست ہوتی تو دینی مدارس کے ساتھ دوسرے غیر منظور شدہ اداروں کا بھی سروے کرتی

اترپردیش کی یوگی حکومت کی جانب سے صرف مسلم اداروں کا ہی سروے کرنا صاف واضح کرتا ہے کہ مدارس اسلامیہ فرقہ پرستوں کا بطور خاص نشانہ ہے۔ اس لیے وہ مدارس کی تہذیبی اقدار کومٹانےاور اس کے وقار کو مجروح کرنے کے لئے یہ عمل کرارہی ہے۔ 

ہندوستان کی مرکزی و ریاستی حکومتوں نے ازیں قبل بھی دینی درسگاہوں اور اقلیتی تعلیمی اداروں کے نظم و نسق کو درہم برہم کرنے اور اس کے تعلیمی و تربیتی نظام کو بگاڑنے کے لئے کچھ کم حربے استعمال نہیں کیے ہیں۔حال میں آسام میں کئی مدارس کو یہ کہہ کر منہدم کردیا گیا کہ یہاں دہشت گرد اور جرائم پیشہ لوگ پرورش پا رہے ہیں۔حالانکہ پورے ملک میں چھوٹے بڑے جتنے مدارس و مکاتب قائم ہیں ان سب کا بنیادی مقصد اسلامی شریعت وتہذیب کی حفاظت کرنا اور دینی تعلیم کے ذریعہ صالح معاشرہ کی تعمیر و تشکیل کرنا ہے اور الحمد اللہ یہ مدارس اپنے اس مقصد میں کامیاب ہیں۔ مدارس پر دہشت گردی کا الزام آج کا نہیں بلکہ بہت پرانا ہے؛ لیکن زمینی حقائق اس الزام کی نفی کرتے ہیں۔

تاریخ اسلام میں ایسے ادوار آئیں ہیں جو فتنوں کے ادوار تھے، جہاں کتب خانے جل گئے،  علم کے ذخیرے ختم ہوگئے اور بظاہر حفاظت کے جو اسباب ہمارے ہاں ہوتے ہیں وہ اسباب بھی معدوم ہوگئے، آج بھی وقت اور حالات ایسے ہیں کہ ہر طرف سے باطل ہمارے ملی و اسلامی وجود کو چیلنج کر رہا ہے اور اسے نیست و نابود کرنے کی ہر طرف سے کوششیں کی جارہی ہیں، لیکن اسلام کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی پیشن گوئی ہے کہ روئے زمین پر کوئی اینٹ پتھر اور کپڑے کا مکان (خیمہ ڈیرہ ایسا باقی نہ رہے گا کہ اللہ اسلام کا کلمہ اس میں داخل نہ کردے، خواہ برغبت یابہ مجبوری) اسلام آیا ہی ہے بلند اور باقی رہنے کے لئے۔

 اس ملک میں انگریزوں نے اسلام کو مٹانے کے لیے قتل و غارت گری کا زبردست بازار گرم کیا تاکہ اسلام اور مسلمانوں کا خاتمہ ہو جائے اور یہ کام مسلسل ایک دو دن نہیں بلکہ کہ آٹھ سال تک کیا  لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کا قتل کیا۔ 55 ہزار کی تعداد تو مؤرخین نے علماء کرام کی لکھی ہے اور عوام کا تو کوئی حساب نہیں،  منشا صرف  یہ تھا کہ ملت پر یہ قتل و غارت گری قائم رکھنے کے بعد ان کے دلوں سے احساس بیداری اور احساس عظمت نکل جائے، لیکن اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک رکھی ہے کہ جتنا اسے دبایا جاتا ہے اتنا ہی یہ زندہ و تابندہ ہوتاہے، لہذا جتنا ظلم بڑھا اتنا ہی اس کے اندر طاقت و قوت پیدا ہوئی۔ انگریزوں نے سوچا کہ یہ ظلم و زیادتی اگر کسی اور قوم پر ہوتی تو وہ اب تک تہ و بالا ہو کر ختم ہو جاتی، لیکن یہ مسلمان ختم نہیں ہو رہے ہیں۔ لہذا انہوں نے نہایت غوروفکر کے بعد اس حقیقت کو پالیا کہ اس قوم کو ہمت و حوصلہ، قوت و تربیت اور وجود و بقا کی اسپرٹ اور اکسیری صلاحیت مدارس اسلامیہ سے مل رہی ہے۔ اس وقت اس ملک میں ہزاروں کی تعداد میں دینی مدارس اپنے فرائض انجام دے رہے تھے، صرف دہلی کے اندر چار ہزار مدرسے قائم تھے، جن سے امت مسلمہ کو روحانی قوت و تربیت اور وقار وجود کی تربیت مل رہی تھی، اس حقیقت کو نہایت گیرائی و گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا۔چونکہ انگریز مسلمانوں کا نہایت دانشمند دشمن تھا،اس لیے اس نے جنگ کی چال بدلی  اور امن عام کا اعلان کر دیا لیکن اس سے بڑا حملہ یہ کیا کہ اس زمانے میں مدارس اسلامیہ اوقاف پر چلتے تھے، انگریزوں نے اوقاف کو بحق سرکار ضبط کر لیا، جس وقت اوقاف ضبط کر لیے گئے وہ وقت مسلمانوں کے لئے نہایت شدت کا تھا، ایسے نازک حالات میں اللہ رب العزت نے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے قلب مبارک میں یہ بات القا فرمائی کہ مسلمانوں کی بقا کا واحد ذریعہ مدارس اسلامیہ کا قیام ہے، چنانچہ ایسے سخت ترین ماحول میں جب کہ مدارس اسلامیہ کو مٹایا جا رہا تھا، آپ نے اپنی فراست ایمانی سے نہایت متواضعانہ انداز میں ایک چھوٹی سی مسجد کے اندر ایک استاد اور ایک شاگرد سے مدرسے کا آغاز فرمایا جسے آج دنیا دارالعلوم کے نام سے جانتی ہے اور اس مدرسے کو چلانے کے لیے اصول ہشتگانہ مقرر فرمایا چنانچہ ان اصول ہشتگانہ کے تحت علماء نے پورے ملک میں دینی مدارس کا جال بچھا دیا۔

  مدارس اسلامیہ دین کے مضبوط و محفوظ قلعےہیں: 

مدارس اسلامیہ امت کی شہ رگ ہیں ان کی حفاظت اور استقامت میں دین کا استحکام مضمر ہے اور یہ ہمارے بقا و وجود کا ذریعہ ہیں۔کیوں کہ قرآن احادیث میں ہماری حفاظت کا وعدہ اللہ نے نہیں کیا ہے؛ بلکہ اسلام کی بقا کا اور قرآن کریم کی بقا کا وعدہ کیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہمیں بقا اور تحفظ چاہیے تو کتاب و سنت کا دامن تھامنا پڑے گا؛ لہذا یہ مدارس دینیہ ہمارے لئے آہنی قلعے ہیں۔

 مغرب زدہ اور دین کے دشمن طبقات کو اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کے اندر علم و عمل، مذہبی و سیاسی سوچ بوجھ کے جو دیے روشن ہیں وہ مدارس عربیہ کا صدقہ ہے، اس لیے مدارس دینیہ اس وقت ان کی آنکھوں کے کاٹے بنے ہوئے ہیں۔ اسلام دشمن ایک بار پھر منظم انداز میں اس ملک میں اسپین کی تاریخ دہرانے کی سازش میں لگے ہوئے ہیں اور اسلام دشمن طاقتیں مدارس اسلامیہ کو اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ مان رہے ہیں۔ مدارس عربیہ سے علم و عمل کے سوتوں کو دفن کرنے کے لیے منظم انداز میں سازشیں رچ  رہے ہیں اور لوگوں کو یہ باور کرانے پر تلے ہوئے ہیں کہ مدارس  دہشت گردی کے اڈے ہیں، مدارس دینیہ کے روحانی چشمے کو خشک اور فنا کرنے کے لئے مدارس دینیہ  کا ڈاٹا اکٹھا کیا جارہاہے۔ الجزائر سے لے کر انڈونیشیا تک امریکی سفرا اور ان کے ذمہ داران ہر ملک میں میں جا کراسلامی مدارس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ پھر وہاں کی حکومتوں کو اس طرف متوجہ کر رہے ہیں کہ وہ مدارس پر نظر رکھیں،ان پر مکمل کنٹرول کریں اور ان کی ایک ایک حرکت خفیہ ایجنسیوں کے راڈار پر قائم رکھیں۔چنانچہ اسی پالیسی کے تحت  حکومت ہند نے مدارس کے سروے کا کام شروع کیا ہے ورنہ صرف دینی مدارس کا سروے چہ معنیٰ دارد؟

 تاریخ میں ہم پڑھتے تھے، بزرگوں سے سنتے تھے، کہ دشمنانِ اسلام کن کن طریقوں سے اسلام کی اس شمع کو بجھانا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کے دلوں سے قرآن کریم کو نکالنے اور امت کو قرآن سے دور کرنے کے لیے کیا کیا وسائل اور کیا کیا حربے استعمال کرتے ہیں۔  آج ہم اس دور میں اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں کہ کس طرح  قرآن و حدیث کے علوم کے یہ ادارے ان کے نشانے پر ہیں اور اس دشمن حکومت کی یہی مہم جوئی ہے کہ کسی طریقے سے  ان قلعوں کو مسمار کر دیا جائے،نوجوان نسل کو بے راہ روی کی طرف لے جایا جائے، ایک مادر پدر آزاد معاشرہ  تشکیل دیا جائے اور اگر ان کی یہ خواہش  پوری نہیں ہورہی تو اس میں بنیادی کردار اس مدرسے کا ہے۔ آج اس وقت ہمیں یہ صورت حال درپیش ہے کہ تہذیبوں کا تصادم ہے۔  یاد رکھیے!  ہماری اپنی ایک اسلامی تہذیب ہے، جس تہذیب کی بنا پر اپنی زندگی کی بود و باش میں ہمیں دین کا رنگ نظر آتا ہے۔ ہمیں اپنی شناخت اپنا تشخص، اپنے کلچر اور تہذیب میں اسلام کے ساتھ ایک مناسبت نظر آتی ہے  ہمیں یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ یہ مناسبت ان دینی مدارس کی مرہون منت ہے اور اس کی پشت بانی یہ مدارس کر رہے ہیں۔  دین کی حقانیت کی سند  کوئی مہیا کر رہا ہے تو وہ ”دینی مدرسہ“ ہے اس لحاظ سے مدرسہ کا پوری امت پر احسان ہے کہ یہ پوری امت کے لیے ایک روشنی مہیا کر رہا ہے۔ 

ہندوستان میں دینی مدارس وہ قلعے ہیں جو ہمارے اسلاف کے تعمیر کردہ ہیں ان کا تعلق بذات خود صفہ اور اصحابِ صفہ سے ہے۔

 مادیت کے اس امڈتے ہوئے سیلاب میں ”قال اللہ وقال الرسول“ کی صدائیں بلند ہورہی ہیں اور بڑھتی جا رہی ہیں تو یہ ان دینی مدارس اور ان میں پڑھنے، پڑھانے والوں کا ہی فیضان ہے یہ دینی مدارس اسلام کی پناہ گاہیں ہیں اور ہدایت کے سر چشمے ہیں اور یہ دین کی روشن مشعلیں ہیں کہ جن کی کرنیں ایک عالم کو منور کر رہی ہیں اور قیامت تک کرتی رہیں گی۔

دینی مدارس نے ہر دور میں تمام تر مصائب و مشکلات، پابندیوں اور مخالفتوں کے باوجود کسی نہ کسی صورت اور شکل میں اپنا وجود اور مقام برقرار رکھتے ہوئے اسلام کے تحفظ اور اس کی بقا میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ان ہی دینی مدارس اور علماء کی وجہ سے سے آج نسل نو کا ایمان محفوظ ہے۔

 ”ہم کو یہ صاف کہنا ہے کہ مدرسوں کی جتنی ضرورت آج ہے، کل جب ہندوستان کی دوسری شکل ہو گی اس سے بڑھ کر ہو گی، یہ ہندوستان میں اسلام کی بنیاد اور مرکز ہوں گے، لوگ آج کی طرح کل بھی عہدوں اور ملازمتوں کے پھیر اور ارباب اقتدار کی چاپلوسی میں لگے ہوں گے اور یہی دیوانے آج کی طرح کل بھی ہوشیار رہیں گے، اس لیے یہ مدارس جہاں بھی ہوں، جیسے بھی ہوں،ان کا سنبھالنا اور چلانا مسلمانوں کا فریضہ ہے۔“

(حضرت مولانا مناظر احسن گیلانیؒ) 

 حکیم الامت حضرت تھانویؒ ان مدارس کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اس وقت مدارس علوم دینیہ کا وجود مسلمانوں کے لیے ایسی بڑی نعمت ہے کہ اس سے بڑھ کر متصور نہیں، دنیا میں اگر اسلام کے بقا کی کوئی صورت ہے تو یہ مدارس ہیں۔“ (حقوق العلم: ٥) 

حکیم شجاع کو مشورہ دیتے ہوئے علامہ اقبال نے فرمایا تھا: ان مکتبوں اور مدرسوں کو اسی حالت میں رہنے دو، غریب مسلمان کے بچوں کو انہیں مدرسوں میں پڑھنے دو، اگر یہ ملا درویش نہ رہے توجانتے ہو کیا ہوگا؟ جو کچھ ہو گا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں۔ اگر ہندوستانی مسلمان ان مدرسوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح ہوگا جس طرح اندلس (اسپین)میں مسلمانوں کی 800 برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء کے نشانات کے سوا اسلام کے پیروؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا۔ ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دہلی کے لال قلعہ وغیرہ کے سوا مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا۔“ پھر انہوں نے نہایت سوز و گداز کے عالم میں اپنے آنسوؤں پر قابو پاتے ہوئے یہ اشعار پڑھے:

 

کل ایک شوریدہ خواب گاہِ نبیؐ پہ رو رو کے کہہ رہا تھا

کہ مصر و ہندوستاں کے مسلم بِنائے ملّت مِٹا رہے ہیں

یہ زائرانِ حریمِ مغرب ہزار رہبر بنیں ہمارے

ہمیں بھلا ان سے واسطہ کیا جو تجھ سے ناآشنا رہے ہیں

غضب ہیں یہ ’مُرشدانِ خود بیں، خُدا تری قوم کو بچائے!

بگاڑ کر تیرے مسلموں کو یہ اپنی عزّت بنا رہے ہیں

سُنے گا اقبالؔ کون ان کو، یہ انجمن ہی بدل گئی ہے

نئے زمانے میں آپ ہم کو پُرانی باتیں سنا رہے ہیں!

 

        آج ہندوستان میں بھی اسپین اور سمرقند و بخارا جیسے حالات لانے کی منظم پلاننگ چل رہی ہے اور آثار بھی آہستہ آہستہ اسی کی طرف گامزن ہیں؛ لہذا اس ملک میں دینی ماحول اور دینی فضا نظر آرہی ہے اس کو برقرار رکھنے کے لئے ہمیں ان مدارس اسلامیہ کی قدر کرنی چاہیے اور ان پر کسی بھی طرح سے کوئی آنچ آئے تو بحیثیت مسلمان ہمیں تڑپ جانا چاہیے۔ کیوں کہ مدارس کا وجود بھی ضروری ہے اور ان کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ اللہ رب العزت ہمارے دینی اداروں کی حفاظت فرمائے۔

 

Comments are closed.