”رحمانی 30“ ملک میں تعلیمی انقلاب کا علمبردار
ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی
چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ”آب حیات“ بھوپال
رابطہ: 9826268925
رحمانی 30 مسلم طلبہ وطالبات کے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ ہے۔ ملک میں اس وقت رحمانی 30 کا شمار اعلیٰ ترین اورکامیاب ترین کوچنگ سینٹرز میں کیا جاتا ہے، جہاں ماہر فن اساتذہ اور باصلاحیت افراد کی زیر نگرانی مکمل دینی و اسلامی ماحول میں طلبہ کو تیار کرایا جاتا ہے، اعلیٰ تعلیم کا سہانا خواب جسے آزاد ہندوستان میں مسلمان برسوں سے دیکھ رہے تھے، الحمد للہ اب وہ بحسن وخوبی پورا ہورہاہے۔
حالیہ نیٹ امتحان میں رحمانی 30 کے تمام سینٹرز سے آئی آئی ٹی ایڈوانس میں حصہ لینے والے 146 میں سے 57 طلبہ کامیاب ہوئے، جب کہ جے ای ای مینس میں 193 میں سے 173یعنی تقریباً 90 فیصد طلبہ و طالبات کامیاب ہوئے ہیں۔ خوشی کے اس موقع پر احقر دل کی گہرائیوں سے رحمانی تھرٹی کی پوری ٹیم کو خصوصاً ہمت و استقلال کے پہاڑ بھائی حامد فہد رحمانی صاحب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی نیک نیتی کا ثمرہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اتنی قلیل مدت میں رحمانی 30 کو کامیابی وکامرانی سے نوازا ہے۔
رحمانی 30 ایک ایسا کامیاب ادارہ ہے جس نے ملک کے مسلم طلباء میں امید کی ایک نئی کرن پیدا کر دی ہے۔ مسلم طلبہ جن کورسیز کو اپنا خواب سمجھتے تھے اب وہ حقیقت کا روپ دھار کر ان کے سامنے موجود ہے۔
امیر شریعت (بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ) حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم نے جدید تعلیم کے میدان میں جب بیرون ملک میں انقلاب برپا کیا تو اس وقت حضرت امیر شریعت سابع رحمۃ اللہ علیہ نے آپ سے اس ملک میں امریکہ کی طرح تعلیم کے میدان میں خدمات سرانجام دینے کو کہا تو آپ نے رحمانی 30 کا فارمولہ پیش فرمایا۔ چنانچہ امیر شریعت سابع مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ نے 2008ء میں بہار کے سابق ڈی جی پی جناب ابھیانند کے ساتھ مل کر رحمانی فاؤنڈیشن کے تحت رحمانی 30 قائم فرمایا، جس کا مقصد مسلم طلباء وطالبات کو قومی مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرانا اور اعلیٰ اداروں میں پہنچانا ہے۔ الحمدللہ رحمانی 30 کے بینر تلے مسلم طلبہ و طالبات نے عالمی سطح کے اعلیٰ مقابلہ جاتی امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر انجینئرنگ، میڈیکل، چارٹر اکاؤنٹنٹ اور اولمپیاڈ جیسے اعلیٰ مقابلہ جاتی امتحانات میں ایک مضبوط اور مستحکم پلاننگ کے ساتھ حصہ لیں تو کامیابی یقیناً قدم چومتی ہے۔
امیر شریعت مولانا محمد احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے لائق وفائق چھوٹے بھائی انجنیئر محمد حامد فہد رحمانی اس ادارے کے ”سی ای او“ (چیف ایگزیکٹو آفیسر) ہیں اور آپ کی قیادت میں یہ ادارہ آسمان چھو رہا ہے۔ رحمانی 30 کامیابی کی شرح میں سوپر 30 سے بھی بہتر ہے۔
رحمانی پروگرام آف اکسیلینس (Excelence) ملک کے کئی شہروں میں کام کر رہا ہے جیسے پٹنہ، جہان آباد، (بہار) اورنگ آباد، خلدآباد (مہاراشٹر) حیدرآباد اور بنگلور میں متعدد میڈیکل انجینئرنگ سینٹرز پوری محنت کے ساتھ مسلم مائنوریٹی طلبہ و طالبات کے مستقبل کو سنوارنے میں لگے ہوئے ہیں، ان سینٹرز میں ملک کے مختلف صوبوں کے علاوہ بیرون ملک کے این آر آئی طلباءوطالبات بھی مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری رحمانی پروگرام آف ایکسیلینس کی نگرانی میں کر رہے ہیں۔
رحمانی 30 کے طلبہ کی نمایاں کامیابی یہ بتاتی ہے کہ وسائل کی کمی اور مخالف حالات میں بھی اگر حوصلہ اور ہمت سے کام لیا جائے اور اللہ پر بھروسہ کرکے محنت کی جائے تو بڑی کامیابی ٹھوکروں میں ملتی ہے، خلوصِ نیت اور نہج صحیح کے ساتھ کام کیا جائے تو آلات و حالات کی دشواری کامیابی میں رکاوٹ نہیں بنا کرتی۔
اس کی مثال یہاں بتانا موزوں سمجھتا ہوں کہ لاک ڈاؤن کے دوران احقر نے بھائی انجنئیر فہد رحمانی صاحب سے فون کرکے کہا کہ زکوٰۃ کی رقم سے میرے ایک ڈاکٹر دوست رحمانی 30 کو تعاون کرنا چاہتے ہیں اس پر آپ نے کہاکہ ہم لوگ اس ادارے میں زکوٰۃ کی رقم استعمال نہیں کرتے اگر مدد کرنا چاہتے ہیں تو جامعہ رحمانی میں دیجیے وہاں زکوٰۃ کا مصرف ہے۔ یقینا ایسے لوگ انگلیوں پر شمار کیے جاسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے والد (مولانا محمد ولی رحمانی) کی طرح فراست وشجاعت سے نوازا ہے۔
دعاہے کہ اللہ تعالیٰ رحمانی 30 کو مزید نافع بنائے اور آپ اپنے سلف کے سچے امین ثابت ہوں اور آپ اس تعلیمی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید استحکام بخشیں؛ کیوں کہ تعلیم کی راہوں سے گزر کر ہی انسان ترقی کی شاہ راہ پر گامزن ہوتا ہے۔
Comments are closed.