کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت

محمد ابوبکر عابدی قاسمی ندوی
موبائل نمبر : 8271507626
آج امت اسلامیہ جس نازک دور سے گزر رہی ہے وہ اس امت کی تاریخ میں بہت اہم اور تشویشناک مرحلہ ہے، مسلمان جہاں بھی پائے جاتے ہیں خواہ وہ عالمِ اسلام ہو یا غیر اسلامی ممالک، ہر جگہ وہ کمزور، مظلوم، مقہور اور زخم خوردہ ہیں، شمال سے جنوب اور مشرق مغرب تک جہاں چاہیں مسلمانوں کی مظلومیت کی داستانِ ناتمام پڑھ لیں؛ اگرچہ بعض مسلم ممالک ایسے بھی ہیں جہاں مسلمان بظاہر خوش حال اور طاقت ور ہیں؛ لیکن اندرونی طور پر وہ بھی ذہنی غلامی اور احساس کمتری میں مبتلا ہیں، وہ باطنی حیثیت سے بالکل شکست خوردہ اور مرعوب ہیں ان پر دوسری ترقی یافتہ قوموں کے افکار و نظریات کا ایسا غلبہ ہے کہ وہ زبان حال سے اسلام کو ایک بوسیدہ مذہب ،ایک رجعت پسندانہ نظریہ، اور ایک کرم خوردہ نظام تصور کرتے ہیں ۔
یہ وہ صورت حال ہے جو مسلمانوں کے لئے نہ صرف تشویشناک بل کہ ملت کے شیرازہ کو بالکل منتشر اور امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کردینے کے لئے کافی ہے، اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے اگرچہ بہت سے غمگسارانِ ملت اور ہمدردانِ امت اپنی اپنی حیثیت کے مطابق کام کررہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس امت کی تاریخ کا وہ نازک ترین مرحلہ ہے جس سے گزرنے کے لئے ہماری یہ تمام کوششیں اس وقت بار آور ہوسکتی ہیں جب ہم کمتری، مظلومیت اور مغلوبیت کا احساس ختم کرکے اپنے آپ کو اس منصب امامت و قیادت کا اہل بنا لیں جو ہمارے اور صرف ہمارے لئے مخصوص ہے؛ لیکن افسوس کہ آج اس ترقی یافتہ دنیا میں ہم نے اپنا مقام سب سے پیچھے کر رکھا ہے، ہم مادہ پرست قوموں کے غلام بن کر زندگی گزارنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں جو کہ انتہائی شرم کی بات ہے ۔
تعلیم یافتہ مسلمانوں کا ایک طبقہ وہ بھی ہے جو اپنے مذہب کی غیرت اور اس کا احترام اپنے دل میں رکھتے ہوئے موجودہ دور میں اسلامی نظام حیات کو ناکافی اور اس کی تمام تر تعلیمات کو ناقابلِ عمل تصور کرتا ہے، اس کا خیال ہے کہ اسلامی نظام کو برپا کرنے کے لیے ہمیں بہت پیچھے لوٹنا چاہئے اور اس معاشرہ کو بروئے کار لانا چاہئے جو اس نظام کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، وہ کہتے ہیں کہ اس ترقی کے دور میں صرف اتنا کرلینا کافی کہ نظریاتی طور پر آپ مذہب کو مانیں اور اس کی قابلِ عمل تعلیمات پر عمل کرلیں، ان کے نزدیک نماز روزہ اور دیگر فرائض کا پورا کرلینا ہی بہت بڑا دینی کام ہے بل کہ عصر حاضر کا سب سے بڑا جہاد ہے، یہی وہ شکست خوردہ ذہنیت ہے جو مغرب کی تہذیب، اس کی ترقیوں اور اس کی مادی پیش قدمیوں سے مرعوب ۔
دوسرا طبقہ وہ جس نے حالات کے سامنے سپر ڈال دی ہے، اس کا خیال ہے کہ موجودہ دور میں مادیت، الحاد اور تمام شیطانی طاقتیں اس قدر طاقتور ہوچکی ہیں کہ ان کے سامنے مذہب ایک ضعیف اور مغلوب الحال نظریہ بن کر رہ گیا ہے، اور جس کے لئے مسجد کے گوشوں، یا اذان کے مناروں یا خطبہء جمعہ کے منبروں یا بعض مذہبی رسمی تقریبات سے آگے نکلنے کی اجازت نہیں ہے، وہ مذہب کو زندگی کے لئے لازم، اس کی تعلیمات کو انسانیت کا نجات دہندہ، اور اس کی برتری و افضلیت کا اعتراف کرتے ہوئے حالات کے سامنے اپنے آپ کو مجبور تصور کرتا ہے، اور اپنی ذاتی زندگی تک اسلام کے محدود رکھنے کو بہت کافی سمجھتا ہے ۔
لیکن اس بگڑی ہوئی دنیا اور ترقی کے آخری نقطہ تک پہنچی ہوئی اس تہذیب کے دھاروں میں ایک طبقہ وہ بھی موجود ہے جو ہر حال میں اسلامی نظام کو قابلِ عمل اور اسی کو انسانیت کے سارے دکھ درد کا علاج تصور کرتا ہے، وہ حالات سے نبردآزما ہونے کے لئے ان تمام تدبیروں اور وسائل کو بروئے کار لاتا ہے جن کی اسلام اجازت دیتا ہے اور اس کے لئے ہمت افزائی کرتا ہے ۔
یہ ان داعیوں اور داعیانہ جذبہ رکھنے والے افراد کا طبقہ ہے جو اسلام کی صحیح فہم اوراس کے صحیح منشا و مراد سے واقف ہے، وہ یقین رکھتا ہے کہ دنیا کا سارا بگاڑ، ساری خرابیاں اور ہر طرح کی برائیوں، اور فسادات کا سرچشمہ مذہب سے بے تعلقی ہے اور اس خدا بے زار تہذیب کا نتیجہ ہے جو آج ساری دنیا پر مسلط ہے ۔
یہی وہ طبقہ ہے جو مادہ پرست حکومتوں، اور ان کے پیچھے چلنے والی تمام حکومتوں کی نظر میں انتہائی مبغوض اور گردن زدنی ہیں، اس طبقہ کا وجود آج کی ہر حکومت اور ہر اقتدار کی راہ میں رکاوٹ ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کو کچلنے اور آوازہءحق کو خاموش کردینے کے لئے تمام حکومتیں متحد ہیں خواہ وہ مسلم ممالک کی حکومتیں ہوں یا غیر اسلامی ملکوں کی حکومتیں، حد تو یہ ہے کہ اس طبقہ کو پسپا کرنے کے لئے ان حکومتوں نے صرف آتش و آہن کی مدد پر اکتفا نہیں کیا؛ بل کہ اپنے رعایا کے تمام مسلمان افراد کو ان کی مخالفت کرنے اور ان کا خاتمہ کرنے پر آمادہ کیا ۔
گویا اسلام کو مسلمانوں ہی کے ہاتھوں کمزور کرنے اور اس کے تناور درخت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے انہیں کے افراد کا استعمال کیا گیا اور دین کی مخالفت نام نہاد دین سے، اسلام کی مخالفت مصنوعی اسلام سے اور اسلامی قدروں کی مخالفت مصنوعی مذہبی قدروں سے کی جانے لگی ۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان بھائی کو، ایک جماعت دوسری جماعت کو، ایک شخص دوسرے بزرگ کو نقصان پہنچانے کے لیے اس طرح آمادہ ہوگیا کہ گویا وہ کوئی بہت مقدس اور کوئی بہت عظیم اسلامی مہم انجام دے رہا ہے جس سے غفلت برتنے پر آخرت میں اس کو جواب دہ ہونا ہوگا!.
یہ ہے وہ تلخ حقیقت، جو آج مسلمانوں کے معاشرےہ میں ہر جگہ موجود ہے، کہیں بڑے پیمانے پر، کہیں حکومتوں کی سرپرستی میں اور کہیں جماعتوں کی سرپرستی میں، کہیں ذاتی بغض و عناد کے جذبات کام کررہے ہیں تو کہیں جاہ و منصب کی حرص اپنی کمندیں پھیلا رہی ہے ۔
چنانچہ اسی طرز عمل کا انجام ہے کہ مسلمان اپنی مذہبی تعلیمات و شعائر، اور اس کی روح سے بالکل کٹ چکا ہے، اور اس نے وہ کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے جو وقت کی سب سے ذلیل، کمزور اور پست ہمت قوم ادا کرتی ہے اور جو قوم قیادت و امامت کا خداداد منصب لے کر آئی تھی وہی آج اپنے زمانہ کی پیرو اور مقلد ہے ۔
اقبالؒ نے پہلے ہی کہا تھا :
کرسکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو

Comments are closed.