شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور اردو شاعری
از: سلمان ندیم قاسمی
نہیں خیال میں لاتے وہ سلطنت جم کی
غرور ہے جنہیں در کی تیری گدائی کا
یہ شعر ہے اس شخص کا جسے ہند و پاک کے اربابِ تحقیق ”مسند الہند“ کہتے ہیں، جی ہاں!! چونکیے مت! شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ہی کا شعر ہے۔
شاہ صاحب عالمِ اسلام کی وہ نابغۃ الدہر شخصیت ہیں جن کے علمی، فکری، اصلاحی اور تجدیدی کارنامے آسمان علم و تحقیق پر تاقیامت چکمتے رہیں، امام ربانی کے بعد ان کے پائے کا کوئی مجدد نظر نہیں آتا، شاہ صاحب بیک وقت مجدد، مصلح، مفسر، محدث، فقیہ، مجتہد فی المذہب، صاحب مشاہدہ و حامل ولایت، نقاد، ماہر اسرار شریعت و طریقت، عربی شاعر و نثر نگار، مدرس و محقق، مفکر و فلسفی تھے، آپ کی مشہور و معروف معرکۃ الآرا کتاب ”حجۃ اللہ البالغہ“ جس کے بارے میں مفکر اسلام حضرت علی میاںؒ فرماتے ہیں: ”شاہ صاحب ؒ کی یہ مایہ ناز تصنیف آنحضرتﷺ کے اُن معجزات ہی سے ہے جو آپﷺ کے وصال کے بعد آپ کے اُمتیوں کے ہاتھ ظاہر ہوئے اور جن سے اپنے وقت ہی رسول اللہﷺ کا اعجاز نمایاں اور اللہ کی حجت تمام ہوئی۔“
اب آئیے اصل موضوع کی طرف! شاہ صاحب جہاں عربی اور فارسی کے کہنہ مشق شاعر ہیں وہیں اردو میں بھی آپ کا کلام موجود ہے بلکہ جس شخص نے سب سے پہلے آپ کو بطور شاعر متعارف کروایا۔ مرزا علی لطف (صاحب تذکرہ گلشن ہند) نے تو یہ بھی لکھا کہ: ”کمتر شعر فارسی و بیشتر شعر ہندی می گفت“ معلوم ہوا زیادہ تر اشعار اردو میں کہتے تھے فارسی میں تو سمجھ میں آتا ہے مگر اس وقت اردو میں شاعری کرنا اور وہ بھی ”بیشتر“ یہ بھی بعید نہیں؛ کیوں کہ یہی زمانہ اردو کے مایہ ناز شعرا کا ہے، اُسی دلی میں اُسی زمانے میں بڑے بڑے استاد شعرا موجود ہیں۔ میر و سودا کے استاد شاہ حاتم، خواجہ میر درد، شاہ آبرو، اور سب بڑھ کر مجددی خاندان کے بزرگ اور اردو کے مستند شاعر میاں مظہر جانِ جاناں اور اسوقت کے شاعر ویسے شاعر تو تھے نہیں! جیسے آج کل کے آوارہ، دین بیزار اور فاسق المزاج شعرا ہوتے ہیں، الا ماشاء اللہ! بلکہ صاحب دل اور خانقاہوں سے جڑے ہوئے حتی کہ بعض تو مسند خانقاہ پر جلوہ افروز ہستیاں بھی ہوتی تھیں چنانچہ خواجہ میر دردؒ جو اردو شاعری میں مستند ترین سمجھے جاتے ہیں سلسلہ نقشبندیہ کے پیر تھے!، غوث گوالیاریؒ کی اولادوں میں سے شاہ نجم الدین آبرو!، میاں مظہر جانِ جاناںؒ قاضی پانی پتی کے استاد و مرشد سے کون ناواقف ہے؟ اور جانِ جاناںؒ کا شاہ صاحب سے قرابتی رشتہ بھی متصوفانہ مزاج میں ہم آہنگی بھی تو پھر شاعرانہ مزاج میں ہم آہنگی کیوں نہ ہوتی؟؟
آج دوپہر کو کسی اور چیز کے سلسلے میں پرانی کتابوں کو کھنگال رہا تھا، تذکرہ گلشن ہند بس یونہی دیکھنے لگا یہ کتاب مرزا لطف علی کی لکھی ہے اور تذکرہ گلزار ابراہیم کا ترجمہ ہے اضافوں کے ساتھ، یہ اردو شعرا کے حالات پر معتبر ترین کتاب ہے؛ اچانک باب الالف میں ”اشتیاق شاہ ولی اللہ“ نام دیکھا، چونک پڑا! صفحات الٹے تو حیرت میں ڈوبتا چلا گیا مگر بہت افسوس ہواکہ ”بیشتر“ لکھنے والے نے صرف ایک غزل اور چند اشعار بطور ثبوت پیش کیے؛جو ناظرین کی خدمت میں حاضر کرتا ہوں
خیال دل کو ہے اس گل سے آشنائی کا
نہیں صبا کو ہے دعوی جہاں رسائی کا
کہیں وہ کثرت عشاق سے گھمنڈ میں آ
ڈروں ہوں میں کہ نہ دعوی کرے خدائی کا
مجھے تو ڈھوکے کا تھا زاہد پر اک نگاہ سے آج
غرور کیا ہوا وہ تیری پارسائی کا
جہاں میں دل نہ لگانے کا لیوے پھر کوئی نام
بیاں کروں میں اگر تیری. بے وفائی کا
نہ چھوڑا مار بھی کھاکر گزر گلی کا تری
رقیب کو مرے دعوی ہے بے حیائی کا
نہیں خیال میں لاتے وہ سلطنت جم کی
غرور ہے جنہیں در کی تیری گدائی کا
جفائے یار سے مت اشتیاق پھیر کے منہ
خیال کیجو کہیں اور جبہ سائی کا
چند اشعار
لڑکوں کے پتھروں سے لگے کیونکر اس کو چوٹ
ہر ایک گردباد ہےمجنوں کو دھول کوٹ
چھوڑ کر تجھ کو ہمیں غیر سے جو لاگ لگی
نہیں مہندی یہ ترے تلووں سے آگ لگی
دوبالا ہوکے مخموری عبث آنکھوں کو ملتا ہے
پیالہ اور بھی پی پی سجن یہ دور چلتا ہے
شاہ صاحب کے بارے میں یہ وہ باتیں تھیں جنہیں میں نے کہیں نہیں پڑھا! اور اب جب پڑھا تو یہ آرزو پیدا ہوگئی کہ پڑھتا ہی چلا جاؤں مگر ”بیشتر“ لکھنے والے نے اسی ”کمتر“ پر اکتفا کیا، کاش کہیں اور سے اس پر کچھ مواد مل جاتا تو شاہ صاحب کی سیرت کا ایک اور باب روشن ہوجاتا۔
Comments are closed.