واویلاکیوں؟

سمیع اللہ ملک
اب یہ بہانہ کارگرنہیں رہاکہ سا ری خرابیاں ورثے میں ملی ہیں۔کیایہ ساری خرابیاں پہلے نظرنہیں آتی تھیں،پھراس سارے ورثے کیلئے اتنی بھا گ دوڑکیوں کی تھی۔سارے کہ سارے اپنے آپ کواتنے گھاگ سیاستدان کہتے ہیں توایسے ہی تواقتدارکیلئے اودھم نہیں مچایاہوگا،کچھ دیکھ کرہی گرے ہوں گے۔اگریہ کہاجائے کہ خرابیوں کاعلم نہیں تھاتوپھر سیاست کرنے کابھی کوئی حق نہیں۔ چلئے،مان لیتے ہیں کہ ہربات کاعلم تھاتواب واویلاکیوں؟شایدیادہوان خرابیوں کودورکرنے کادعویٰ لیکراس انتخاب کے میدان میں اترے تھے۔ہرسیاسی جماعت یہی کہتی ہے لیکن جواچھی جماعت ہوتی ہے ان کے پاس اپنے عہدکونبھانے کیلئے ضرورکوئی متبا دل پروگرام ہوتاہے۔
عجب اس دورمیں اک معجزہ دیکھاکہ پہلوسے
یدبیضانکلناتھامگرکاسہ نکل آیا
حکمران کہہ رہے ہیں کہ ساڑھے تین سال کے مسائل اورمعاشی بربادی کواتنی جلدحل نہیں کیاجاسکتا۔پتا نہیں یہ بہانہ اورایک دوسرے پرملک کواس نہج پرپہنچانے کے الزامات لگا کراپنی سیاست اورناکامیوں،لوٹ کھسوٹ اورکرپشن کاکہاں تک دفاع کر سکیں گیکہ یعنی اگرانہوں نے بھی مسائل پیدا کئے تھے،اگرمسائل حل نہیں کرسکتے توپھریہ ساراڈرامہ کس کیلئے؟صرف اقتدار کے مزے لوٹنے آئے ہواوراپنے خلاف کرپشن کے تمام مقدمات غتربودکرنے کیلئے؟ا لبتہ ایک کام توضرورکیاہے کہ کہ تم سب حکمرانوں نے چندسالوں میں ،قوم کومہنگے ترین قرضوں میں ضرورڈبودیاہے۔
آج وہ بہت یادآرہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیاکہنے،کیابات تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔منہ سے پھول جھڑتے تھے۔خوشبوکی برسات تھی اورمحبتوں کی بارش۔میں خوب شرابورہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔لطف،کرم اور عنائت ۔ہاں انسان تھے،کبھی کبھارلہجہ بدل جاتاتھا،چہرہ سرخ ہوجاتااوربات کرتے کرتے آوازرندھ جاتی،آنکھیں برسنے لگتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت دیرتک سب روتے اورپھرسکینت اترتی اورسکون چھاجاتا۔ایسے تھے وہ،محبت کاپیکر،جسے چھولیامحبت بن گیا۔چہارسو مسکراہٹ،امید کاجھونکا،نسیم صبح۔ہرحال میں دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہنستے ہوئے بھی،روتے ہوئے بھی، گاتے ہوئے بھی،بے خودناچتے ہوئے بھی۔اذان کی آوازآتے ہی ان کی آوازگونجتی’’چلوجی بلاواآیا،تیری آوازمکے مدینے،ہاں ہاں آرہاہوں،تیری محفل سے گیاہی کب تھا کہ بلارہاہے!صدقے جاؤں،قربان جاؤں،چلوجی بلاواآ گیا۔‘‘
بارش کاموسم ہمیشہ میرے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلئے چھوڑئیے۔کالی گھٹاچھاجاتی اورآسمان کی آنکھیں برسنے لگتیں،تب میں پکارتا،،بہت بھر گیاہے ناں وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب خالی ہوگااورہمیں بھرے گا۔اب ہم کہاں جائیں گے برسنے کیلئے،خالی ہونے کیلئے!پہلے بہت ہنستے اورپھر میراہاتھ پکڑکرکہتے چل!میں پوچھتا،کہاں؟وہ کہتے’’رب کی شان دیکھیں گے،پودے
دیکھیں گے،درخت دیکھیں گے،رنگ برنگ پھول دیکھیں گے‘‘۔ہم قریبی باغ کی راہ لیتے۔راستے بھرمیں گنگناتے جاتے’’پیلوپکیاں نے،پکیاں نیں وے،آچنوں رل یار‘‘یہ توبتائیںبرسات رک جاتی ہے لیکن یہ درخت اتنی دیرتک کیوں برستے رہتے ہیں؟’’کیاہوگیاہے تجھے؟‘‘’’یہ تومیرے سوال کاجواب نہیں ہے‘‘توفرماتے’’وہ دیکھ سارے درخت دھل کرکیسے نکھرگئے ہیں‘‘’’جی ہاں،ایک دن میں نے پوچھا تھا’’درخت تونکھرگئے ہیں مگرہم کب نکھریں گے؟’’بہت دیرروئے لیکن جواب بالکل نہ دیااورمجھے بھی اصرار کی ہمت نہ ہوئی۔
میں کہیں اورنکل رہاہوں،مجھے آپ سے کوئی اوربات کرنی تھی اورنجا نے میں کیاکیاکہہ رہاہوں۔بس میرے پاس باتیں ہی با تیں ہیں اورآپ کودیکھ کربیشمارسوالات جمع ہوجاتے ہیں۔تھوڑے سے وقت میں بہت سے سوالات کاجواب لینے کی آرزومیں ڈھنگ کاتسلسل بھی قائم نہیں رہتا۔بے ربط گفتگوسے بھی خوف آتاہے کہ وقت کاضیاع ان کوبالکل پسند نہیں۔ایک دن کہنے لگے’’اللہ جی جیسادوست،محبت کرنے والا،شفقت کرنے والاتوکوئی ہے ہی نہیں‘‘۔’’اچھاجی وہ کیسے؟میں نے پوچھا‘‘پھردریابہنے لگا:’’دیکھ وہ پکارتاہے آ ناں میرے گھر،توکہاں جارہاہے؟میں تجھے بلارہاہوں پیارسے،آناں میرے گھر۔کوئی اس طرح پیارسے بلائے اورمیں نہ جاؤں اس کے گھر،تووہ کتنارنجیدہ ہوتاہے!اورجب بلابلاکرتھک جائے توکہتاہے:چل تیری مرضی،مت آ۔تھک جا تاہے،مایوس ہوجاتاہے،گھرنہیں بلاتا،رابطہ ختم ۔۔۔۔۔۔۔۔’’یہ توبتائیںبرسات رک جاتی ہے لیکن یہ درخت اتنی دیر تک کیوں برستے رہتے ہیں؟‘‘’’لیکن اللہ نہیں چھوڑتابلانا۔دن میں پانچ بارآوازدیتاہے۔آناں،آ ناں میرے گھر ۔۔۔۔۔۔۔۔اور جب بندہ نہیں جاتا اس کے پاس تووہ کہتاہے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ چل تونہیں آرہا ،تجھے فرصت نہیں،تجھے بہت کام ہیں،توچل مجھے بلا لے اپنے گھر ۔۔۔۔۔۔۔۔اورپھربھی ہم نہیں سنتے،تب وہ کہتاہے:تومجھے چھوڑبیٹھاہے،بھول بیٹھاہے،توہے ہی ایسا،لیکن میں نے تجھے پیداکیاہے،میں توتجھے کبھی نہیں چھوڑسکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔تووہ پھراس کے ساتھ ساتھ رہتاہے،خاموش۔ہم نجانے کہاں کہاں منہ مارتے پھرتے ہیں،نجا نے کس کس جگہ اپناسرجھکاتے ہیں،خوشامدکرتے ہیں،سفارش کرتے ہیں،جائزوناجائزکرتے ہیں،حق تلفی کرتے ہیں، خیانت کرتے ہیں،منافقت کرتے ہیں،جھوٹ بولتے ہیں،کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں۔مکاری اورریاکاری کرتے ہیں،دھوکادیتے ہیں،اعتبارتوڑتے ہیں،معصومیت سے کھیلتے ہیں،لوگوں کوزندہ درگورکردیتے ہیں،ان کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں، محبت کے نام پرہوس میں مبتلاہیں،دوسروں کے مال پرنظررکھتے ہیں،اسے ہتھیانے کے ڈھونگ رچاتے ہیں۔دن رات جھوٹی قسمیں کھاکردوسروں کامال غصب کرتے ہیں،اپنی مجالس میں اجتماعی طورپرغیبت اورچغلی مشغلہ کے طورپراختیارکئے ہوئے ہیں،لوگوں کے دلوں کوجوڑنے کی بجائے توڑنے میں فخرمحسوس کرتے ہیں۔
نجا نے کیاکیاکرتے ہم،اوراتنابھی نہیں جانتے کہ وہ جسے ہم بھلابیٹھے ہیں،ہما رے ساتھ ساتھ ہے،سب کچھ دیکھ رہاہے،سب کچھ سن رہاہے اورہمارے دلوں کے بھیدوں سے بھی باخبرہے۔ہماری ہرمنافقت سے آگاہ ہے،لیکن ہم بازہی نہیں آتے چاہے کچھ کرلو !
کہیں نہیں چھپ سکتے اس سے،چھپ ہی نہیں سکتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ہم بہت بے شرم ہیں۔جناب خواجہ اجمیرنے کیاخوب کہا’’رب سے اتنی حیاتوکرجتنی تواپنے پڑوسی سے کرتاہے‘‘لیکن نہیں،ہمیں توکچھ سمجھ ہی نہیں آتی،تب آتی ہے جب مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے، بلا نے والااپناقاصدبھیج دیتاہے کہ چل ختم ہوئی کہانی ۔۔۔۔۔۔۔۔بس بس،بہت جمع کرلیاسامان،اب اسے چھوڑناہے،ساتھ توکوئی بھی لے کرنہیں گیا۔بہت ہلکان ہوگیاتھاناں،اسے جمع کرتے کرتے!توچل اب یہی ہے انجام۔دوگزکفن کاٹکڑالے اورچل۔بہت پسندکرتاتھااپنے
لئے کپڑے،خوشبوکوچھوڑکافورمیں بس،اورچل۔مجھے کب سمجھ آئے گی،مجھے کب سمجھ آئیگی۔بہت دیرہوگئی ناں ۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں میںنے انہیں ہرحال میں دیکھاہے،ہنستے ہوئے بھی اورروتے ہوئے بھی،گاتے ہوئے بھی اورنا چتے ہوئے بھی،ان سب نے میرے لئے راستے آسان کئے،ہرفلسفہ پانی کردیا،وہ سب میرے اندرمیرے ساتھ رہتے ہیں، میرے یاربیلی،جن سے میں آج بھی ہربات پوچھ لیتاہوں اورمسکراتے ہوئے جواب پاتاہوں۔
جاناہے،چلے جاناہے،کسی کوبقانہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں ایک ہی رازہے،اس کے بن جاؤ،وہ تمہیں امرکردے گا۔اسی کوسجدہ کرو،ہزار سجدوں سے نجات دلادے گا،اسی کاخوف دل میں رکھو،اغیارکے تمام خوف سے تمہیں آزادکردے گا۔اس کے سا منے جھکنا سیکھوجوساری دنیاکوتمہارے لئے مسخرکردے گا۔بے گناہ اوربے قصورافرادکورہائی دلاوہ تمہیں حزن وملال سے رہاکردے گا۔جن کے گھروں کواغیارکیلئے بربادکیاہے ان گھروں کوآبادکرووہ تمہیں دنیااورآخرت میں آبادکرے گا۔جن کوفاسفورس کے بموں سے خاکسترکردیاہے اس گناہ عظیم کی برملامعافی مانگواوراتنی دیرتک اس عمل کوجاری رکھوجب تک ان کے اقربامعاف نہ کر دیں۔مہلت کاوقت ختم ہورہاہے۔اگراب بھی خالق کائنات کی طرف رجوع نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔توپھرعبرتناک اورشرمناک انجام کیلئے تیارہو جاؤ!

Comments are closed.