Baseerat Online News Portal

مغربی بنگال:کشمیر سے متعلق متنازعہ سوالنامے پر ہنگامہ

نئی دہلی(ایجنسی) مغربی بنگال میں اسکول کے ایک ماڈل سوالنامے کی تصویر آج کل سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہو رہی ہے۔ اس سوال نامے میں طلبا کو ایک نقشہ پیش کرتے ہوئے ’’آزاد کشمیر‘‘ کا خطہ نشان زد کرنے کو کہا گیا تھا۔
اس سوالنامے کی وجہ سے ریاست میں دسویں جماعت کے بورڈ کے امتحانات سے قبل ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے زیر بحث اسکول کا نام ’رام کرشنا مشن وویکانند‘ ہے، جو ضلع مالدہ میں واقع ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اپنے زیر انتظام کشمیر کو ’آزاد کشمیر‘ کا نام دیتا ہے اور اس کے علاوہ بہت سی دیگر آزاد ادارے بھی اسے آزاد کشمیر کہتے ہیں۔ بھارت اوراس کے ادارے اس خطے کو مقبوضہ علاقہ قرار دیتے ہیں اور تنازعہ اسی بات کا ہے کہ آخر اسکول نے اسے ’آزاد کشمیر‘ کیوں لکھا؟
واضح رہے کہ ہر برس مختلف اسکول اور اساتذہ کی انجمن، نیز مغربی بنگال بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن، بورڈ کے امتحانات دینے والوں کی تیاریوں میں مدد کے لیے ماڈل سوالنامے جاری کرتے ہیں۔ یہ کتابی شکل میں شائع کیے جاتے ہیں اور بنگال بورڈ کے طلبہ اپنی تیاری کے لیے ان ماڈل پرچوں کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مودی حکومت میں شامل ایک سینئر وزیر سبھاش سرکار نے اس معاملے کی ریاستی سطح پر انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ وزارت تعلیم کو اس ٹیسٹ پیپر کی فروخت روک کر معاملے کی تحقیقات کرنی چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ریاستی حکومت کو، ’’یہ معلوم کرنا چاہیے کہ پیپر کس نے مرتب کیا۔ یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ کس نے اسے شائع کیا اور ضروری کارروائی کرنی چاہیے۔۔۔۔ ان کی ذہنیت ملک دشمن ہے، اور پیپر سیٹ کرنے والا دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتا ہے۔‘‘
مغربی بنگال بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے صدر رامانوج گنگولی کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مناسب کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم اس کی تفصیل جاننے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اصل میں کیا ہوا۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا، ’’جن لوگوں نے سوال تیار کیا ہے اور سوال کو ایڈٹ کیا، ہم ان سے پوچھ گچھ کریں گے اور پھر ماڈل ایکٹ اور اس کی شقوں کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے۔‘‘ انہوں نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ ’’ہم اپنے فیصلے کو اپنی ویب سائٹ پر شائع بھی کریں گے۔‘‘
یہ مذکورہ ٹیسٹ پیپر پہلے ہی پوری ریاست میں تقسیم کیا جا چکا ہے اور بورڈ کے صدر کا کہنا ہے کہ اسے واپس لینا اب ممکن نہیں ہے۔
مرکزی وزیر سبھاش سرکار کا کہنا ہے کہ اگر یہ درست ہے، تو پھر اسے ریاست کی ترنمول حکومت کی، ’’خوشامد کی سیاست کا نام دیاجا سکتا ہے، جس نے امتحانی پرچے میں ملک دشمنی پر مبنی سوال شائع کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔‘‘
تقسیم ہند کے بعد سے خطہ کشمیر کے ایک بڑے حصے پر بھارت کا کنٹرول ہے جبکہ ایک حصہ پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ دونوں ہی ملک گزشتہ تقریبا 75 برسوں سے اس پر اپنا اپنا دعویٰ پیش کرتے ہیں اور اس حوالے سے دونوں میں شدید کشیدگی برقرار ہے۔
تاہم بیشتر کشمیری دونوں ملکوں سے الگ ایک علیحدہ آزاد ریاست چاہتے ہیں اور اس کے لیے بعض گروپ مسلح جدو جہد بھی کر رہے ہیں، جنہیں بھارت دہشت گرد کہتا ہے جبکہ پاکستان ان کی حمایت کرتا ہے۔

Comments are closed.