مکافاتِ عمل

فہیم اختر
لندن۔برطانیہ
بچپن میں اکثر بڑی بوڑھیاں جب اپنے رشتہ داروں یا پڑوسیوں سے عاجز اوربیزار ہوتیںیا کسی سے ناراض ہوتیں توغصے میں اس شخص کو کہتی کہ ،”اللہ نے چاہا تو تیرا حشر بہت براہوگا ،یا جیسا تونے میرے ساتھ کیا اللہ بھی تجھے ویسا ہی کرے گا، یااللہ تجھے غارت کرے گا”،وغیرہ وغیرہ۔تاہم، ہم مارے خوف کے ان باتوں کو سن کر افسوس کرتے کہ آخر بڑی بی کو ایسا کہنے کی کیا ضرورت تھی۔لیکن اُن دنوں بیچارے مجبور لوگوں کا کوئی سننے والا کون ہوتا تھا۔ یہ بیچارے لوگ ظلم سہتے اور اپنے آنسو بہا بہاکر گھٹ گھٹ کر جیتے رہتے۔معاشرے میں بدنامی کی وجہ سے نہ وہ تھانے جا کر رپورٹ لکھوا تے اور نہ ان کو کوئی انصاف دلانا والا ہوتا تھا۔ ایسی صورت میں وہ بس چلّا چلّا کر اپنی زندگی میں ہوئے زیا دتیوں پر آنسو بہاتے اور بددعا دیتے اور اللہ سے انصاف کی امید لگائے ایسی باتوں کو کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتے۔

کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ مکافاتِ عمل کیا ہے؟ مکافاتِ عمل کا مطلب عمل کا بدلہ، وہ عمل جو ہم کرتے ہیں اور بدلہ جو ہمیں ملتا ہے۔اس دنیا میں انسان جو کچھ کرتا ہے اس کا بدلہ ضرور اسے ملتا ہے۔چاہے وہ اچھا ہو یا برا ہو۔ جس طرح اچھائی کی جزا ملتی ہے اسی طرح برائی کی سزا بھی ملتی ہے۔لیکن آج ہم اپنے نفس کے غلام ہو چکے ہیں اور صرف اپنے مفاد کے لیے ہی ہر کام کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے ہمیں کچھ بھی کرنے سے پہلے ایک بار مکافاتِ عمل کے بارے میں ضرور سوچ لینا چاہئیے۔ تبھی تو کہتے ہیں کہ اللہ ہمارے دلوں کے حال کو جانتا ہے۔

اگر ہم اپنے ارد گرد نطر ڈالے تو بے شمار ایسے کام اور باتیں ہم کر جاتے جس سے یا تو ہم واقف یا نا واقف ہوتے ہیں ۔کبھی کبھی ہم دوستوں کی صحبت یا اپنی عادت کی بنا پر ایسی حرکتوں کو زندگی میں لطف لینے کا سامان بنا لیتے ہیں۔مثلاً کسی کا خوامخواہ دل دکھانا یا اپنی دولت پر فخر کرتے ہوئے اس کا بے جا استعمال کرنایا اپنی طاقت کا استعمال کرکے ظلم کرنا یا اپنی پوزیشن پر ناز کرتے ہوئے بے ایمانی کرنا یا لالچ میں آکر رشوت لینا یا کسی کی سادگی یا ایمانداری کا مذاق اڑانا وغیرہ ایسی باتیں ہیں جس سے ہم اور آپ اپنے معاشرے میں آئے دن دوچار ہوتے رہتے ہیں۔

دنیا بھر میں مہنگائی اور بے روزگاری سے لوگ پریشان ،مایوس اور بیزار ہیں۔جس کی ایک وجہ کورونا کے بعد کا اثر، معاشی بدحالی اور روس اور یوکرین کی جنگ ہے۔اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ روس اور یوکرین کی جنگ سے ضروری اشیاء کی سپلائی پر خاصا اثر پڑا ہے اور اب تو برطانیہ کے سُپر اسٹور سے کھانے پینے کی چیزیں بھی سیلف سے غائب ہوگئی ہیں۔ خبروں میں اس کی وجہ کبھی جنگ تو کبھی برطانیہ کا یورپ سے نکلنا تو کبھی بدلتے موسم جیسی وجہ بتائی جارہی ہے۔ عام انسان کی زندگی بری طرح متاثر ہے اور سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ اس کاحل کیا ہے۔کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک میں جو گھریلو مسائل ہورہے ہیں اس کی ایک وجہ ان ممالک کی دوسروں پرزور وظلم ہے جس کی وجہ سے کافی بے گناہ لوگوں کی جان چلی گئی، بے شمار بچے یتیم ہوگئے اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ خیموں میں اب بھی پناہ گزین ہیں۔ جن کا کوئی پرسان ِ حال نہیں ہے۔

کچھ سال قبل لندن کی ایک مسجد میں ایک واقعہ ہوا تھا جسے میں آپ کے ساتھ شئیر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ ہوا یہ کہ ایک شخص مقامی مسجد میںروزانہ نماز پڑھنے جاتا تھا ۔ وہ حسبِ معمول نماز پڑھتا اور گھر آجاتا۔ لیکن کبھی کبھار کسی کی مدد کے غرض سے وہ مسجد میں رک جاتا تاکہ اسے صلاح و مشورہ دے۔ مسجد کے لوگ اس کی خاموش خدمتِ خلق سے کافی خوش تھے اور اس کو مانتے بھی تھے۔ لیکن مسجد کی انتظامیہ کو اس شخص پر شک ہوااور وہ اس شخص پر نظر رکھنے لگے۔ ایک دن وہ شخص ایک ضعیف نمازی کی کہانی سننے کے لیے مسجد سے باہر کھڑا اس سے باتیں کر رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں مسجد کے انتظامیہ کا سر پھرا ممبر اس شخص کے قریب آیا اور اس سے وہاں سے چلے جانے کو کہا۔اس شخص نے مسجد کے انتظامیہ کے ممبر سے وجہ جاننی چاہی تو اس کے عوض میں اس سر پھرے ممبر نے اس سے بحث کرنا شروع کیا اور اس پر غلط الزام لگا کر اسے ذلیل کیا۔اس سر پھرے نے مسجد انتظامیہ میں اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر دوسرے دن اُس شخص کے خلاف ایک خط جاری کرادیا ،جس میں اس شخص پراس کے رویے کے خلاف الزام لگا کر مسجد میں نماز پڑھنے پر پابندی لگا دی گئی۔ اـس شخص نے کئی لوگوں سے گزارش کی کہ اس کا کوئی قصور نہیں ہے لیکن کوئی بھی اس کی مدد کو آگے نہیں آیا۔

اب آپ اس واقعہ پر نظر ڈالیں اور اس مسجد کے ممبر کی جھوٹ جارحانہ رویے پر، جس نے اس بے قصور شخص کو نماز پڑھنے پر پابندی عائد کروادی۔یہاں صاف پتہ چلتا ہے کہ مسجد کے عہدیدران نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس شخص کے ساتھ زیادتی کی ۔لیکن کہتے ہیں کہ اللہ کو ہر بات کا علم ہے۔ آج اس مسجد میں امام سے لے کر مسجد کے سر پھرے مغرور ممبران اور وہ تمام لوگ جو حق اور باطل کو بھول کر اس شخص کے نماز کی پابندی پر اپنا منھ بند رکھا ، انہیںایک کے بعد ایک مسجد سے متعدد وجوہات کی بنا پر اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔اسے ہی مکافات عمل کہتے ہیں یعنی جیسی کرنی ویسی بھرنی۔اللہ اکبر۔سچ ،اللہ عظیم ہے اور اسے ہماری تمام باتوں کا علم ہے۔وہ ہماری دلوں کا حال جانتا ہے۔

ایک اور دلچسپ واقعہ مجھے یاد آرہا جس سے مجھے مکافاتِ عمل کا احساس ہوا ۔یعنی کہ جب کوئی آپ سے حسداور جلن کرتے ہوئے آپ کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے یاکوئی افواہ یا پرپگنڈہ کرے تاکہ آپ بدنام ہوں۔ تواس کو بھی سزا مل ہی جاتی ہے ۔حال ہی میں کلکتہ میں جشن اردو منایا گیا جس میں ، میں نے بھی شرکت کی تھی۔پروگرام سے قبل ہم نے اپنے تمام ممبران سے گزارش کی کہ وہ اس بات کا خاص خیال رکھے کہ ہمارے پروگرام کی تاریخ سے کسی اور تنظیم کے پروگرام کی تاریخ نہ ٹکرائے ۔اور اگر ٹکراتی ہے توہم اپنا پروگرام کسی اور تاریخ کو منعقد کر لیں گے۔ تاہم ہمارے پروگرام کے اعلان کے کئی مہینے بعد کچھ شرارتی لوگوں نے اچانک مل بیٹھ کر ایک نئی تنظیم بناڈالی اور ہمارے پروگرام کے دوران ہی ایک مشاعرے کا اعلان بھی کر ڈالا۔ لیکن ہوا یہ کہ اس مشاعرے میں صرف پندرہ لوگوں نے شرکت کی جو کہ ایک نہات افسوس ناک بات تھی۔ یعنی کسی اور کے پروگرام کو ناکام بنانے کے چکر میں انہیںخود منہ کی کھانی پڑی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کا سہارا بنیں نہ کہ کسی دوسرے کا راستہ روک کر آگے نکلے۔اسے ہی تو مکافاتِ عمل کہتے ہیں۔

رمضان کے اس مبارک مہینے میں جہاں ہم سب اجتماعی طور پر عبادت کر کے اپنی گناہوں کی معافی مانگ رہے ہیں تو وہیں اپنے روزے اور نماز کی ادائیگی سے اللہ سے امیدبھی رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم انسانوں نے جس قدر مظلوموں پر ظلم، غریبوں پر تنگی، لوگوںکو گمراہ کرنا، زمینوں کو ہڑپ کرنا، کاروبار میں بدنیتی، جھوٹی شہرت، حق اور باطل پر خاموش، ہر چیز درست، ناجائز کو جائز ماننا، حرام اور حلال میں کوئی فرق نہیں، مکاری ، جلن ، حسداور ایسی کئی باتیں جو ہمارے اور آپ کی آنکھوں کے سامنے روز ہورہی ہیں اور ہم ایک تماشائی کی طرح بے حس بنے ہوئے ہیں۔ جس سے ہماری پریشانیاں دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔اور یہ تمام پریشانیاں اور مایوسی ہمیں کسی نہ کسی معاملے میں الجھائے رکھتی ہیں جس سے ہم غافل ہوتے ہیں۔ اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ ہماری کرتوتوں سے ہمیں اس عذاب میں ڈال کر ہمارا امتحان لے رہا ہے۔

fahimakhteruk@yahoo.co.uk
www.fahimakhter.com

Comments are closed.