بی جے پی لیڈر سیتا رام یادو کی افطار پارٹی اور پوپری کے مسلمان
مظاہر حسین عماد قاسمی (1)
پرسوں بروز پیر بتاریخ 18/ رمضان المبارک 1444ہجری مطابق 10/ اپریل 2023 کو بی جے پی کے لیڈر سیتا رام یادو کی طرف سے افطار پارٹی تھی جس میں کافی تعداد میں پوپری اور اس کے اطراف کے مسلمان شریک ہوئے ،
پوپری ضلع سیتا مڑھی بہار کا ایک مشہور قصبہ ہے اور اس قصبہ سے متصل مُسلمانوں کی آبادی پر مشتمل کئی اہم بستیاں ہیں، جن میں سے گاڑھا ،جوگیا ،رامپور، بچھار پور، مولانگر اور آواپور خاص طور پر قابل ذکر ہے ،جہاں کی تقریبا 80 فی صد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے جبکہ گاڑھا پنچایت میں نوے فیصد مسلمان ہیں ،
پہلے گاڑھا اور پوپری کے درمیان تقریبا ایک کلومیٹر کا فاصلہ تھا مگر گذشتہ بیس پچیس سالوں میں یہ فاصلہ مٹ گیا ہے ، اور اب موضع گاڑھا کا تقریبا ایک تہائی حصہ پوپری میونسپلٹی میں سرکاری طور پر شامل ہوگیا ہے ۔
*افطار پارٹی کا مقصد کیا ہے ؟؟*
سیتا رام یادو نے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی غرض سےافطار پارٹی کرکے مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے اپنا سیاسی جال پھینکا ہے ۔ اور مسلمانوں کی کمزوریوں سے واقف سیتا رام یادو کو یہ امید ہے کہ ان کا یہ حربہ کامیاب ثابت ہوگا ۔ کیونکہ اس سے پہلے بھی ضمیر فروش اور نا عاقبت اندیش مسلمانوں کا ایک طبقہ جو صرف روپئے کا بھکاری ہے ،اس پارٹی کے بعض لوگوں کے ہاتھوں بک چکا تھا ، اس لئے انہیں اب بھی امید ہے کہ ان کی یہ مطلب پرست افطار پارٹی ان کے ہدف کے حصول میں موثر ثابت ہوگی ۔
اور بعید نہیں ہے کہ آئندہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ خود اپنے پاؤں پر کلہاڑا مارنے کیلئے ان کے دام فریب میں آجائے ۔ اور خود اپنی اور اپنے سماج کے لوگوں کی جان ،مال ،عزت وآبرو ،اور دین وایمان کا سودا کرنے کیلئے تیار ہو جائے۔
لیکن بحیثیت مسلمان ہر فرد کو ان امور پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ
کیا پوپری کے مسلمان اتنے بے حس اور لالچی ہوگئے ہیں جو بی جے پی لیڈر سیتا رام یادو کی افطار پارٹی میں شریک ہوکر اس بات کی دعوت دے رہے ہیں کہ چند ذلیل ٹکوں اور سکوں کے بدلے دوسروں کےہاتھوں بکنے کیلئے تیار ہیں ؟ ۔
یہ بھی قابل غور ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہمیشہ سےافطار پارٹی کی مخالفت کرتی رہی ہے ، اس کا پیغام محبت کا نہیں، نفرت بانٹنے کا رہا ہے اور اب بھی ہے ۔وہ برابر افطار پارٹی کو مسلمانوں کی تشٹی کرن کہتی رہی ہے ، اس کے لیڈران حج سبسڈی پر ہنگامہ کرتے رہے ہیں اور مودی سرکار آنے کے بعد حج سبسڈی ختم کی جاچکی ہے ،
گذشتہ نو سالوں میں وزیر اعظم مودی جی نے کبھی کوئی افطار پارٹی نہیں کی ، پھر ان کی پارٹی کے ایک نیتا افطار پارٹی کیوں کر رہے ہیں؟، وہ کون سی خوبصورت چاہت ہے جو سیتا رام یادو جی کو افطار پارٹی کرنے پر آمادہ کر رہی ہے ؟
*سیتا رام یادو کی سیاست*
خود سیتا رام یادو کس ذہنیت کے نیتا رہے ہیں وہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔ یہ کون نہیں جانتا کہ وہ کس قدر موقع پرست اور مسلم دشمن لیڈر ہیں ، اس پر دل کی آنکھ کھول کر غور کرلینا چاہئے ۔
جب انیس سو اٹھانوے میں سیتا رام یادو ممبر اسمبلی ہوتے ہوئے سیتا مڑھی لوک سبھا سے منتخب ہوئے تھے اور ان کی خالی کی ہوئی پوپری اسمبلی نشست پر ہوئے ضمنی انتخاب میں راشٹریہ جنتا دل نے شاہد علی خاں کو امیدوار بنایا تھا ، تب ان کے کمپیننگ کے لیے وزیر اعلی لالو پرساد دو مرتبہ پوپری آئے تھے ، مگر سیتا رام یادو، لالو پرساد یادو کی موجودگی والے دونوں انتخابی جلسوں سے غائب تھے ، ان کی غیر موجودگی سے یادؤوں میں یہ پیغام گیا کہ شاہد علی خان کو ووٹ نہیں دینا ہے ،
*اس زمانے میں یادؤوں میں ایک نعرہ مشہور ہوا تھا ،*
*جس طرح بیٹی دیتے ہو ہم ذات کو ، اسی طرح ووٹ بھی دو ہم ذات کو*
نتیجہ یہ ہوا کہ وزیر اعلی لالو پرساد یادو کی کوششوں کے باوجود شاہد علی خاں ہار گئے اور جنتادل کے نول کشور رائے کامیاب ہوگئے ،
لالو پرساد یادو سیتا رام یادو کی اس حرکت سے کافی ناراض ہوئے اور شاید اسی لیے انہوں نے انیس سو ننانوے کے لوک سبھا انتخابات میں سیتا رام یادو کو ٹکٹ نہیں دیا ،
سیتا رام یادو نے انیس سو پچاسی ( 1985ء )میں پوپری اسمبلی سے لوک دل پارٹی کے ٹکٹ پر پہلا الیکشن لڑا تھا ، اور وہ دوسرے نمبر پر آئے تھے ،
انیس سو نوے (1990)اور انیس سو پچانوے ( 1995) میں جنتادل کے ٹکٹ پر پوپری حلقے سے الیکشن لڑے اور ممبر اسمبلی منتخب ہوئے ،
سن دو ہزار (2000) میں بھی پوپری حلقے سے راشٹریہ جنتا دل کے ٹکٹ پر صرف ایک ہزار اناسی ( 1079) ووٹوں کے فرق سے ممبر اسمبلی منتخب ہوئے تھے ، اور صوبائی وزیر مقرر ہوئے ،
سن دو ہزار کے پوپری اسمبلی انتخاب میں دوسرے نمبر پر سابق ممبر اسمبلی جناب حبیب احمد براری صاحب تھے ، راشٹریہ جنتا دل کے امیدوار سیتا رام یادو کو 55907 ووٹ اور جناب حبیب احمد براری مرحوم کو 54828 ووٹ ملے تھے ، اگر اس وقت مسلمان راشٹریہ جنتا دل کی محبت سے بے نیاز ہوکر اور متحد ہوکر ووٹ دیتے تو حبیب احمد براری مرحوم ضرور کامیاب ہو جاتے ،
سن انیس سو اٹھانوے( 1998ء) اور دو ہزار چار (2004 ء ) میں سیتا رام یادو سیتا مڑھی لوک سبھا حلقے سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے ،
دو ہزار نو (2009) اور دو ہزار چودہ (2014 ء )میں بھی راشٹریہ جنتا دل نے انہیں ٹکٹ دیا ، مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے ،
دو ہزار انیس ( 2019ء ) میں راشٹریہ جنتا دل نے انہیں ٹکٹ نہیں دیا اور اب وہ دو ہزار بیس ( 2020ء) سے بھارتیہ جنتا پارٹی میں ہیں ،
شاید انہیں یہ امید ہو کہ بھارتیہ جنتا پارٹی دو ہزار چوبیس ( 2024ء ) میں سیتا مڑھی یا شیوہر لوک سبھا حلقے سے انہیں ٹکٹ دے دے گی ، یا راجیہ سبھا کا ممبر بنادے گی ،
پچھتر سالہ سیتا رام یادو دو ہزار نو (2009ء) سے نہ ممبر اسمبلی ہیں اور نہ ممبر پارلیمنٹ ،
مسلمان خود کو پہچانیں اور غور کریں
مذکورہ بالا تفصیلات پر ایک نظر ڈال لینے کے بعد مسلمانوں کو غور کرنا چاہئے کہ
جس بی جے پی نے طلاق بل کو پاس کرکے ہماری شریعت میں دخل اندازی کی ، جب کہ اس بل کی مخالفت مسلمانوں کے تمام طبقات نے کی تھی ، اور وہ زخم ابھی بھی تازہ ہے ، اس بل کے خلاف مسلم پرسنل لا بورڈ کئی بڑی بڑی ریلیاں کیں ، بہت سارے جلسے کیے جن میں مجموعی طور پر کروڑوں مسلمانوں نے شرکت کی مسلم پرسنل لاء نے چار کروڑ مسلم خواتین سے دستخط کروائے تھے ، اور حکومتی عہدے داروں کو پیش کیے تھے ، لیکن مسلم مخالف بی جے پی کی حکومت نے ایک نہیں سنا ،اور اپنے ناپاک ارادوں کو بالآخر پورا کر کے دم لیا ۔ آج اگر کوئی مسلمان اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو وہ پولس کی نظر میں مجرم ہے ، اس کو تین سال کی سزا ہوگی اور طلاق بھی واقع نہیں ہوگی ،
عجب قانون ہے ؟؟؟
جس بی جے پی نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گگوئی کو ڈرا دھمکا کر اور لالچ دے کر بابری مسجد کے حق میں تمام ثبوتوں کے باوجود بابری مسجد کی زمین ہندوؤں کو رام مندر بنانے کے لیے دے دی ،
یہ بھی دنیا کا نرالا اور عجب فیصلہ تھا ، تمام ثبوت بابری مسجد کے حق میں تھے ، مگر بابری مسجد کی زمین رام مندر کو دے دی گئی ،
جس بی جے پی کی حمایت سے مسلسل یہ پیغام جاری ہے کہ ہندو لڑکے مسلم لڑکیوں کو محبت کا جھانسہ دیکر اپنے جال میں پھنسائیں اور اور ان کے ایمان عزت وعصمت کا ایسا سودا کریں کہ وہ پھر اپنے گھر جانے کے قابل نہ رہیں ۔
جس بی جے پی نے اسلام دشمنی میں کئی اہم مدارس اور مساجد پر بلڈوزر چلوادیا ،
اور مسلم دشمنی میں مسلمانوں کے بڑے بڑے مسلم قائدین پر غلط مقدمات میں پھنساکر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیا ، اور انہیں الیکشن لڑنے سے روک دیا ،بعض کے گھروں پر بلڈوزر بھی چلایا۔
جس نے بے شمار مسلمانوں کی مآب لنچنگ کروائی ،
جس بی جے پی کے نیتاووں نے ملک کے مختلف حصوں میں مخلتف انداز سے آذان پر پابندی لگوائی۔
جس بی جے پی کی معاون تنظیموں کے غنڈوں نے ابھی حال ہی میں بہار شریف کے سوا سو سالہ پرانے مدرسے کو جلا کر راکھ کر دیا ، جس کی لائبریری میں ساڑھے چار ہزار سے زیادہ کتابیں تھیں ، ان کتابوں میں بہت ساری ایسی نایاب کتابیں بھی تھیں جو دوسری لائبریریوں میں موجود نہیں ہیں ،
جس بی جے پی کو مسلم بادشاہوں کی تاریخ اسکولوں اور کالجوں میں پڑھوانا پسند نہیں ہے ، ابھی حال ہی میں مسلم بادشاہوں کی چھ سو سالہ تاریخ کو اسکولوں کی نصابی کتابوں سے نکال دیا گیا ہے ،
جس بے جے پی کی انتھک کوشش ہند میں مسلمانوں کی تاریخ ،کارناموں، اور یادگاروں کے مٹانے یا مسخ کرنے کی جاری ہے ۔
جس بی جے پی کی حکومت اسلام مخالف نصاب مرتب کرکے مسلمان بچوں کے ذہن سے اسلامی تعلیمات کو مٹا نے کی بھر پور محنت کر رہی ہے، اور دیو مالائی ذہنیت پیدا کرنے کی سعی بلیغ کر رہی ہے اور اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑ ی ہے ۔ تاکہ ائندہ مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہونے والے بچے مسلمان نہ رہ سکیں۔وغیرہ
ایسے نہ جانے کتنے معاملات ہیں جو مسلم مخالف اور اسلام دشمنی پر شاہد ہیں ۔
*ذرا ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ اس بی جے پی کے ایک لیڈر کے پیسے سے افطار کرنا کتنی بڑی بے حسی کی بات ہے۔*
*اور ایک گونہ اپنے مذہب اور اپنی ملت سے بغاوت اور بیزاری کا اظہار ہے ، جو اہل ایمان کیلئے بڑے خطرے کی علامت ہے ،*
*جس ملت کو اپنے مذہبی سود وزیاں ،ایمانی نفع و نقصان اور ملی مسائل کی پروا نہ ہو تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ملت کے وہ افراد تباہی کے کیسے اندھے کنویں کے مکین ہیں ،*
*مُسلمانوں کو اس بات پر بہت پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کا ایک غلط قدم پوری ملت کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے ۔*
اور
ع ۔ *لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی ۔*
کا مصداق ہو سکتا ہے ۔
*اللہ تعالٰی ہمارے مسلمان بھائیوں، مسلم نیتاووں، سماجی ورکروں ،اور مسلمان کارندوں کو حالات کی نزاکتوں کے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔*
_____________________________
(1) مضمون نگار حافظ ، قاری اور فاضل دیوبند ہیں ، ترپل ایم اے ہیں ، عربی ، اردو اور تاریخ سے ایم اے ہیں ،
پوپری حلقے کے پہلے سند یافتہ ڈاکٹر اور پہلے ممبر اسمبلی، مجاہد آزادی ڈاکٹر حبیب الرحمن صاحب مرحوم (1901-1981) کے نواسے اور استاذ العلماء حضرت مولانا عین الحق قاسمی صاحب رح ( 1876- 1977) کے پوتے ہیں ،
علوم شرعیہ کے ساتھ ساتھ سماجیات ، سیاسیات اور تاریخ پر گہری نظر رکھتے ہیں ،
Comments are closed.