دوروزہ تفہیمِ شریعت ورک شاپ کا اختتام،مساجد کو تفہیمِ شریعت کا مرکز بنائیے: مولانا بلال عبدالحی حسنی ندوی
لکھنؤ:20 مئی (محمد نفیس خان ندوی)دو روزہ تفہیمِ شریعت ورک شاپ کی تیسری نشست آج صبح ۹ بجے منعقد ہوئی۔ اس نشست کی صدارت مولانا مفتی عتیق احمد بستوی نے انجام دی، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا اصطفاء الحسن کاندھلوی ندوی نے انجام دیے۔
اس نشست میں تین محاضرے پیش کیے گئے۔ پہلا محاضرہ مفتی رحمت اللہ ندوی کا تھا، جس کا موضوع ’’اسلام کا نظامِ میراث‘‘ تھا۔ محاضر نے اسلامی نظامِ میراث پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جس طرح دیگر عبادات فرض ہیں، اسی طرح میراث کے احکام بھی فرض ہیں، اسی لیے اس علم کو ’’علم الفرائض‘‘ کہا جاتا ہے۔موصوف نے مزید کہا کہ میراث کا تعلق نہ مرنے والے کی مرضی سے ہے اور نہ وارثین کی خواہش سے، بلکہ اس کا پورا نظام اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے احکام کو قرآن و سنت میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے۔
دوسرے محاضرے کا عنوان ’’یتیم پوتے کی میراث‘‘ تھا۔ یہ محاضرہ مولانا مفتی ظفر عالم ندوی صاحب نے پیش کیا۔ انہوں نے یتیم پوتے کی میراث کے سلسلے میں شریعت کے اصولوں کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ میراث کی تقسیم کا معیار انسان کی ضرورت و حاجت، خدمت یا لیاقت نہیں ہے، بلکہ یہ شریعت کے تین بنیادی اصولوں پر قائم ہے۔پہلا اصول قرابت کا ہے، یعنی وراثت کے لیے قرابت کا پایا جانا ضروری ہے۔ دوسرا اصول قرابت میں اقرب و ابعد کا ہے، یعنی قرابت میں جو جتنا زیادہ قریب ہوگا، وراثت کا وہی زیادہ حق دار ہوگا۔ یہ ممکن نہیں کہ اقرب کو چھوڑ کر ابعد کو وراثت دے دی جائے۔تیسرا اصول یہ ہے کہ کوئی بھی شخص کسی زندہ انسان کا وارث نہیں ہوسکتا، اور ترکے میں حقِ وراثت صرف زندہ وارثوں ہی کا ہوتا ہے۔ اس لیے مورث سے پہلے وفات پاجانے والے وارث کو وراثت کا حق دار شمار نہیں کیا جائے گا۔موصوف نے اپنے موضوع کی وضاحت کے لیے مختلف نظریات کا تنقیدی جائزہ بھی پیش کیا۔
تیسرے محاضرے کا عنوان تھا ’’اسلام کا نظامِ طلاق اور مرد کو حقِ طلاق کیوں؟‘‘۔ یہ محاضرہ مولانا منور سلطان ندوی نے پیش کیا۔موصوف نے عقلی دلائل کی روشنی میں یہ ثابت کیا کہ طلاق انسانی معاشرے کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ جس طرح نکاح کسی رشتے میں داخل ہونے کا ذریعہ ہے، اسی طرح اس سے نکلنے کا دروازہ بھی موجود ہونا ناگزیر ہے۔ نکاح ایک معاشرتی معاہدہ ہے، لہٰذا جب اسے قائم کرنے کا نظام موجود ہے تو اسے ختم کرنے کا بھی ایک منظم طریقہ ہونا چاہیے۔ جہاں یہ نظام موجود نہیں ہے، وہاں کا خاندانی نظام بڑی حد تک بکھر چکا ہے۔موصوف نے کہا کہ طلاق کا تعلق ’’فریڈم آف چوائس‘‘ سے ہے، یعنی اگر مرد یا عورت میں سے کسی پر ظلم ہورہا ہو تو اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے طلاق ایک ذریعہ ہے۔ البتہ اسلام نے اس آخری حل سے پہلے مفاہمت اور اصلاح کی مختلف صورتیں بھی رکھی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک میں طلاق کا اختیار صرف عدالتوں کے پاس ہے یا اس سلسلے میں بے جا سختیاں پائی جاتی ہیں، وہاں میاں بیوی ایک دوسرے سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے مختلف جرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں۔ دنیا نے نا چاہتے ہوئے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ طلاق ایک ناگزیر ضرورت ہے، اور اس کا بہترین اور متوازن نظام اسلام نے پیش کیا ہے۔
ہر محاضرہ سے قبل ناظم اجلاس نے نہ صرف موضوع کا تعارف کرایا، بلکہ اس کے اہم نکات کی جانب بھی محاضرین کو متوجہ کیا تاکہ دورانِ محاضرہ ان پہلوؤں کی رعایت رکھی جاسکے۔ اسی طرح ہر محاضر کے بعد موصوف نے چند جملوں میں محاضرہ کا خلاصہ بھی پیش کیا، جس سے موضوع کا نچوڑ سامعین کے سامنے واضح انداز میں آگیا۔
ان محاضرات کے بعد کنونیر تفہیم شریعت حضرت مولانا بلال عبدالحی حسنی ندوی کا خصوصی خطاب ہوا جس میں آپ نے کہا :’’تفہیمِ شریعت کے سلسلے میں مختلف محاذوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ہمیں خود شریعت کا صحیح فہم حاصل کرنا ہوگا، پھر اسے اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا ہوگا، اور اس کے بعد مختلف سطحوں پر اس کی تفہیم کی کوشش کرنی ہوگی۔یہ کوششیں تین سطحوں پر ضروری ہیں۔ پہلی یہ کہ جو انٹلیکچول طبقہ ہے، اس کے ساتھ نشستیں کی جائیں، خصوصاً وکلا اور جج صاحبان کے سامنے شریعت کے احکام کو واضح کیا جائے اور انہیں صحیح معلومات فراہم کی جائیں۔ اس کے بعد عوام میں تفہیمِ شریعت کے لیے مختلف اجتماعات منعقد کیے جائیں، نیز مساجد کو اس کا مؤثر ذریعہ بنایا جائے۔ خاص طور پر جمعہ کے خطبات میں اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔تیسری سطح برادرانِ وطن سے ملاقاتوں کی ہے۔ ان کے سامنے براہِ راست تفہیمِ شریعت کی گفتگو کرنے کے بجائے اسلام کی وہ تعلیمات پیش کی جائیں جو پوری انسانیت کی بھلائی اور فلاح سے متعلق ہیں۔ اس مقصد کے لیے کارنر میٹنگوں کا سلسلہ مفید ثابت ہوگا۔ اسے ہم ’’پیامِ انسانیت‘‘کا عنوان سے بھی کرسکتے ہیں۔‘‘
اس خصوصی خطاب کے بعد حضرت مولانا محمد فضل الرحیم مجددی (جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ ہمیں تفہیمِ شریعت کو ایک مستقل مشن کے طور پر اختیار کرنا ہوگا، تاکہ ہم عوام تک اسلام کی صحیح اور مستند تعلیمات پہنچا سکیں۔ لیکن اس سے پہلے اس کام کی اہمیت، اس کے تقاضوں اور اس کے صحیح طریقۂ کار کو سمجھنا ضروری ہے، کیوں کہ محض جذباتی انداز یا سطحی معلومات کے ذریعے شریعت کی مؤثر ترجمانی نہیں کی جاسکتی۔
محاضرات و خطابات کے بعد تقریباً ایک گھنٹے تک سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا۔ مندوبین کی جانب سے مختلف سوالات کیے گئے، جن کے تشفی بخش جوابات صدرِ مجلس مولانا مفتی عتیق احمد بستوی نے دیے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تفہیمِ شریعت کا اصل مفہوم یہی ہے کہ جو غلط فہمیاں پیدا ہوچکی ہیں یا پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، انہیں دور کیا جائے۔ خاص طور پر مسلمانوں کو اس بات کا پابند بنانے کی کوشش کی جائے کہ وہ اپنے مسائل کا حل شریعت کی روشنی میں تلاش کریں اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی فکر کریں۔
اس نشست کے بعد چوتھی اور آخری نشست منعقد ہوئی، جس کی صدارت حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا محمد اسعد ندوی نے انجام دیے۔
اس نشست میں مولانا تبریز عالم صاحب نے ’’تقسیم حلقہ جات برائے تفہیمِ شریعت‘‘ کے موضوع پر اپنا محاضرہ پیش کیا اور تفہیمِ شریعت کے بینر تلے انجام دی جانے والی سرگرمیوں کو نہایت عمدگی کے ساتھ پیش کیا۔انہوں نے طریقۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اصل مقصد غلط فہمیوں کو دور کرنا اور مختلف سطحوں پر پیدا ہونے والے نئے مسائل، یا پیدا کیے جانے والے شبہات، کا بروقت نوٹس لے کر ان کا مناسب حل پیش کرنا ہے۔ اس سلسلے میں مسلم اور غیر مسلم وکلا کے ساتھ ملاقاتوں اور افہام و تفہیم کا سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان ذہنوں میں جو اشکالات پیدا ہوتے ہیں، انہیں دور کرنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے، اور عصری و تازہ موضوعات پر مختلف پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت بورڈ کی جانب سے آن لائن کلاسز کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا تھا، جس سے بڑی تعداد میں لوگوں نے استفادہ کیا۔موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ہر سطح پر افرادِ کار کی ضرورت ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ حضرات اپنے اپنے علاقوں میں تفہیمِ شریعت کے اس اہم فریضے کو انجام دیں گے۔ اس سلسلے میں ہر طرح کے تعاون، رہنمائی اور علمی معاونت کے لیے ہم ہمیشہ تیار ہیں۔
صدرِ مجلس حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے تفہیمِ شریعت کی ضرورت، اہمیت اور اس کے مؤثر طریقۂ کار پر تفصیلی گفتگو فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ ذراٖیر مسلم معاشرے کا جائزہ لے کر دیکھیے کہ وہاں خودکشی کے واقعات کس قدر کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ حالاں کہ ان کے پاس ہم سے زیادہ تعلیم، زیادہ ملازمتیں اور زیادہ مادی وسائل موجود ہیں، لیکن ان کے پاس ہمارے جیسا مضبوط عائلی نظام نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں خاندانی انتشار اور ذہنی بے سکونی کے باعث خودکشی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔مولانا نے فرمایا کہ ہمارے یہاں طلاق کا جو متوازن اور منظم نظام ہے، وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی ایک رحمت ہے۔ بلاشبہ طلاق سے وقتی طور پر تکلیف اور رنج پیدا ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات یہ مستقل اذیت اور ناقابلِ برداشت تعلق سے نجات کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے۔ اسلام نے نکاح کے ساتھ ساتھ علیحدگی کے بھی مہذب اور منصفانہ اصول مقرر کیے ہیں، تاکہ زندگی بے اعتدالی اور ظلم کا شکار نہ ہو۔مولانا نے مزید فرمایا کہ موجودہ دور میں سب سے زیادہ مسلم لڑکیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کے ذہنوں میں اسلام اور شریعت کے تعلق سے مختلف شکوک و شبہات پیدا کیے جارہے ہیں۔ اس لیے خاص طور پر خواتین اور بچیوں کے درمیان مؤثر انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی حدود و آداب کی پابندی کے ساتھ انہیں تفہیمِ شریعت کی دعوت دی جائے اور یہ بتایا جائے کہ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق عطا کیے ہیں، وہ ان کی فطرت، عزت اور تحفظ کے عین مطابق ہیں۔انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت فرمائی کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام کا بنیادی مقصد ہی مسلمانوں، خصوصاً خواتین کے دینی و عائلی حقوق کا تحفظ تھا، جب کہ دیگر مذاہب کے پرسنل لا کے نظام میں اس طرح کے جامع اور منظم تحفظ کا تصور بہت کم پایا جاتا ہے۔آخر میں مولانا نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ ورک شاپ شرکا کے اندر تفہیمِ شریعت کے جذبے کو مزید مضبوط کرے گی اور وہ اپنے اپنے علاقوں میں اس پیغام کو عام کرنے میں فعال کردار ادا کریں گے۔
آخر میں حضرت مولانا حکیم عمار عبدالعلی حسنی ندوی (ناظرِ عام ندوۃ العلماء) نے اس دو روزہ ورک شاپ کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اس موضوع کی انفرادیت اور اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس دو روزہ اجلاس میں نہایت قیمتی مقالات اور مؤثر خطابات پیش کیے گئے، نیز نئے اور سلگتے ہوئے مسائل پر سنجیدہ تبادلۂ خیال کیا گیا۔مولانا نے فرمایا کہ یقیناً ہماری ذمہ داری ہے کہ ان تمام مسائل کو خود بھی صحیح طور پر سمجھیں اور عوام تک بھی صحیح انداز میں پہنچائیں۔ اس مقصد کے لیے جدید وسائلِ ابلاغ اور عصری ذرائع کو بھی مؤثر طریقے سے استعمال کرنا چاہیے، خواہ مسائل عبادات سے متعلق ہوں، معاملات سے، یا پرسنل لا سے وابستہ ہوں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کے دور میں تفہیمِ شریعت کا کام محض علمی ضرورت نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری بن چکا ہے، جس کے لیے حکمت، بصیرت اور حسنِ اسلوب کے ساتھ میدان میں آنے کی ضرورت ہے۔آخر میں مولانا نے تمام مہمانوں، محاضرین، اساتذہ، طلبہ اور اجلاس میں شریک تمام اراکین و معاونین کا شکریہ ادا کیا اور دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اس کوشش کو امت کے لیے نافع اور مفید بنائے۔
صدر مجلس کی دعا پر یہ دو روزہ تفہیم شریعت ورک شاپ بحسن وخوبی اپنے اختتام کو پہنچا
Comments are closed.