پہلے حکومتیں اپنے بیجا مصارف پر قابو پائیں

عارف عزیز(بھوپال)
ہمارے ملک کی آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ غربت ومفلسی میں گزر بسر کررہا ہے ۔ مختلف قدرتی آفات، گرانی اور وسائل کی کمی کے باعث کئی ریاستوں میںتو صورتِ حال اس قدر تشویشناک ہے کہ لوگ بھکمری سے دم توڑرہے ہیں لہذا آج ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کو جو معاشی وسائل فراہم ہیں اُن کا پوری ذمہ داری اور بہتر ڈھنگ سے استعمال کیا جائے تاکہ عوام کے دکھ درد میںہی کمی نہ آئے ان کی اقتصادی حالت بھی بہتر ہوسکے اس سلسلے کا ایک اہم کا م یہ ہے کہ کیا عوام اور کیا حکومت سب اپنی فضول خرچی پر قابو پائیں، اپنے غیر ضروری مصارف کو محدود کریں۔ مہیا وسائل کو زیادہ سے زیادہ ترقیاتی منصوبوں پر صرف کیا جائے ورنہ وہی ہوگا جو آج تک ہوتا رہا ہے کہ آزادی کے بعد کی چھ دہائیوں میں نہ ہماری قومی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا نہ مرکزی اور ریاستی سرکاروں کی آمدنی بڑھ سکی بلکہ جو کچھ وسائل ہیں ان کا ۷۵ فیصد انتظامیہ کے اخراجات پر خرچ ہورہا ہے لہذا ترقیاتی امور کے لئے درکار سرمایہ ناکافی ہونے سے اکثر پروجیکٹوں کو مکمل کرنے میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے، اس میں سب سے زیادہ غلطی اگر کسی کی ہے تو وہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کی فضول خرچی کی ہے جس کے نتیجہ میں سالہا سال سے سرکاریں خسارہ کی بجٹ سازی میں مصروف ہیں اور عام لوگوں کی دشواریاں دن بدن بڑھتی جارہی ہیں گذشتہ سال کے لئے مرکزی حکومت اور ریاستی سرکاروں کے جو بجٹ مرتب ہوئے تھے ان سے بھی اگر کچھ واضح ہوتا ہے تو وہ یہی ہے کہ حکومتیں ذرائع اور وسائل کی کمی سے دوچار ہیں۔
آزادی کی جدوجہد کے دوران مہاتماگاندھی اور دیگر کانگریسی رہنمائوں نے بیرون ملک میں تیار مصنوعات کے بائیکاٹ کی تحریک چلائی تھی اس کا مقصد یہی تھا کہ جدوجہد آزادی کے لئے جہاں عوامی جوش وولولہ کو ایک سمت دی جائے وہیںجاگیر دارانہ سماج میں پائی جانے والی مسرفانہ معاشرت کی روح سے بھی گلو خلاصی حاصل کرلی جائے۔
اس وقت مذکورہ تحریک کے نہایت دور رس نتائج برآمد ہوئے اور سماجی، اقتصادی، اخلاقی بلکہ سیاسی سطح پر بھی اس تحریک نے پوری قوم کو متاثر کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسی نسل تیار ہوگئی، جو سادگی ، جفاکشی، وطن پرستی اور قومیت کے جذبات سے سرشار تھی۔
اس نسل کے بڑے حصے نے سادگی کے بطور کھدر پوشی کو اپنا کر بدیسی مصنوعات پر ملکی ساز وسامان کو ترجیح دینے کا جو حوصلہ دکھایا آج وہ ختم ہوچکا ہے سب سے زیادہ تعجب وافسوس کا مقام یہ ہے کہ آزادی کے بعد ایک طرف تو قوم نے سوشلزم کو اپنا مقصدِ زندگی بنایا دوسری طرف دیسی مصنوعات کا استعمال کرکے سادگی اور معیارِ زندگی میں مساوات کے بجائے ہر سطح پر نام ونمود اور اعلیٰ معیارِ زندگی کی لالچ نے یہاں کے عوام کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔
لہذا جسے دیکھو آج رئیسانہ طرزِ زندگی اور مسرفانہ معاشرت کا خواہشمند نظر آتا ہے اور اسی وجہ سے سماج میں جہیز جیسی بری رسومات خوب برگ وبار لارہی ہیں اور زیادہ سے زیادہ مالی منفعت حاصل کرنے کا وہ چکر چل پڑا ہے جو کسی بھی معاشرہ کو کھوکھلا کرکے رکھ دیتا ہے اس لئے ضرورت اس بات کی ہے موجودہ حکومت جہاں سماج کی اصلاح کے لئے مہم چلائے وہیں اپنے بے جامصارف پر بھی قابو پائے تاکہ حرص وہوس کی اس دوڑ پر کسی حد تک روک لگ سکے۔
wwww.arifaziz.com
E-mail:arifazizbpl@rediffmail.com
Mob.09425673760

 

Comments are closed.