مرشدالامت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رفیق اعلیٰ سے جا ملے
از: ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی
حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی (١/اکتوبر ١٩٢٩آج شام 13/ اپریل 2023 مطابق ٢١( رمضان المبارک ١٤٤٤ھ ہم سب کو روتا بلکتا چھوڑکر اپنے رفیق اعلیٰ سے جا ملے۔انا للہ وانا الیہ راجعون
اللہ تعالیٰ حضرت کی بال بال مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے،خدمات قبول فرمائے، امت مسلمہ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے آمین۔
حضرت مولانا عربی اور اردو زبانوں میں تقریباً تیس کتابوں کے مصنف، انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر، دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ناظم،اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا کے صدر، عالمی رابطہ ادب اسلامی، ریاض کے نائب صدر اور رابطہ عالم اسلامی کے رکن تاسیسی تھے۔
شاہ اجمل فاروق ندوی آپ کے بارے میں رقمطراز ہیں
"علامہ حلیم عطا کے ایک صاحب زادے مولانا شاہ شبیر عطا سلونوی ندوی تھے۔ وہ بھی پوری طرح اپنے والدِ گرامی کی ڈگر پر تھے۔ کتب خانے کے کتب خانے پی گئے تھے۔ تقریباً چار دہائیوں تک رمضان کے آخری عشرے میں ندوے کی مسجد میں اعتکاف فرماتے رہے۔ جب تک وہ باحیات رہے، میرا معمول تھا کہ رمضان میں تکیہ کلاں، رائے بریلی حاضری کے ساتھ ایک دن ندوے میں بھی ٹھہرتا اور شاہ صاحب سے مستفید ہوتا۔ ایک مرتبہ دہلی سے لکھنؤ پہنچا اور صبح سے شام تک شاہ صاحب کے پاس رہا۔ دورانِ گفتگو انھوں نے فرمایا: ’’اطلاع ملی ہے کہ حضرت مولانا رابع صاحب کے چوٹ لگ گئی ہے۔ تم رائے بریلی جا رہے تو میرا سلام
کہنا اور دہلی واپس ہوتے ہوئے یہاں آؤ تو آکر مجھے حضرت کی خیریت بتا دینا۔‘‘ میں نے حکم کی تعمیل کی اور واپسی میں حاضر خدمت ہو کر بتایا کہ الحمد للہ اب حضرت والا خیریت سے ہیں۔ شاہ صاحب نے فرمایا: ’’وہ اللہ کے چہیتے بندے ہیں۔ گناہ وناہ تو اُن سے ہوتے نہیں۔ جو کچھ معمولی خطائیں ہوجاتی ہوں گی، اللہ تعالیٰ انھیں اسی طرح کی تکالیف سے صاف کر دیتا ہے۔‘‘ مجھے اکثر شاہ صاحب کی یہ بات یاد آتی ہے۔ آج کل کچھ زیادہ ہی۔
ماشاء اللہ مرشد الامت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کی عمر مبارک نوے سال ہوچکی ہے۔ اس میں سے ستر سال سے زائد عرصہ تعلیم و تعلم، تصنیف و تالیف، انتظام و انصرام، وعظ و تلقین، اصلاح و ارشاد اور قیادت و سیادت میں گزرا ہے۔ ۱۹۹۹م میں مفکر اسلام کی رحلت کے بعد شوریٰ کے متفقہ فیصلے سے ندوے کی کمان سنبھالی۔ ۲۰۰۲م میں فقیہ الامت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی وفات کے بعد اپنی غیر موجودگی کے باوجود آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر عالی مرتبت بنائے گئے۔ اس کے بعد بار بار صدر منتخب ہوتے رہے۔ رابطۂ عالم اسلامی، عالمی رابطہ ادب اسلامی، آکسفورڈ یونی ورسٹی اسلامک سینٹر، دارالعلوم دیوبند، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ، دارالمصنّفین اعظم گڑھ، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا، آل انڈیا ملی کونسل، دینی تعلیمی کونسل، کل ہند تحریک پیامِ انسانیت اور نہ جانے کتنے اداروں سے مختلف حیثیتوں سے وابستگی رہی ہے۔ آج بھی سب کی رہ نمائی اور سرپرستی فرماتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک آدھ سال پہلے تک اپنی پیرانہ سالی اور مستقل انتظامی و علمی مصروفیات کے ساتھ کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک دعوتی اسفار بھی فرماتے رہے۔ غرض یہ کہ سات دہائیوں کا طویل عرصہ پوری سرگرمی کے ساتھ گزارنے کے باوجود آج تک اُن کے مبارک دامن پر بد دیانتی، بے ایمانی، مالی خرد برد، ڈانٹ ڈپٹ، چیخ پکار، جوڑ توڑ اور کھینچ تان کا کوئی ایک داغ بھی نہیں ملتا۔
مہاراشٹر کے ایک بڑے عالم نے مجھے بتایا کہ وہ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی سے بیعت تھے۔ اس کے بعد کسی کے مرید نہ ہوئے۔ ایک مرتبہ
مرشد الامت کی بمبئی تشریف آوری کے موقعے پر ایک سیٹھ صاحب نے ندوے کے لیے بڑی رقم پیش کی۔ حضرت نے اسے خود لینے سے انکار فرما دیا اور اپنے رفقاء سے فرمایا کہ ترسیلِ زر کا طریقہ کار بتا دیں۔ آج کے دور میں ایسی احتیاط دیکھ کر وہ محترم عالمِ دین سخت متاثر ہوئے اور حلقہ ارادت میں داخل ہوگئے۔
مفکر اسلام کی وفات کے بعد رابطۂ عالم اسلامی کی دعوت پر مرشد الامت مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ پانچ ستارہ ہوٹل کی ایک منزل پر کویت کے عظیم تاجر شیخ عبداللہ علی مطوع اور مرشد الامت کے ٹھہرنے کا نظم تھا۔ سرکاری مہمانی میں پانچ ستارہ ہوٹل میں قیام اور وہ بھی شیخ مطوع کے ساتھ۔ کوئی اور ہوتا تو کیا کیا نہ کر ڈالتا۔ مرشد الامت نے میزبانوں سے معذرت کی اور اپنے رفیقِ دیرینہ مولانا ڈاکٹر عبداللہ عباس ندوی کے گھر پر قیام کو ترجیح دی۔
تمل ناڈو کے ایک سفر میں جہاں مرشد الامت کا پروگرام ہونا تھا، وہاں ایک غیر مسلم کی دادا گیری چلتی تھی۔ وہ پروگرام نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔ جیسے تیسے پروگرام شروع ہوا۔ اِدھر مرشدِ پاک مائک پر تشریف لائے اور اُدھر وہ غیر مسلم جلسہ گاہ میں داخل ہوا۔ منتظمین کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ وہ شخص اسٹیج سے کافی قریب پہنچا اور خطیب کو دیکھ کر رُک گیا۔ بس پھر کیا تھا؟ نگاہِ مردِ مومن اپنا کام کرچکی تھی۔ وہ شخص بیٹھا حضرت کا چہرہ تکتا رہا۔ بعد میں کئی لوگوں سے کہا کہ ایسا نورانی چہرہ کسی انسان کا نہیں ہوسکتا۔ یہ مہاپرش تو دیوتا لگتے ہیں۔
۔حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ نےاپنے حسن عمل اور ادائے دلنوازی سے اپنے دونوں خاندانوں کو باہمی جدال اور آپس میں دست و گریباں ہونے سے بچائےرکھا۔اسی طرح مرکز نظام الدین کے حوالے سے آپ کے غیر جا نبدار رویہ آپ کی طبعیت کی نیکی اور شریفانہ زندگی کی حیثیت کو متعین کرنے کے لیے کافی ہے۔
آپ کی حرف و خیال سے شناسائی جس دینی ماحول اور جس خوشگوار فضاء میں ہوئی وہاں نور وسرور کی بارشیں تھیں ۔کیف و مستی اور جذب و فنائیت تھی۔ہمدردی۔طبعی شرافت نیکی ایثار ۔بےنیازی اسلامی غیرت وحمیت خود داری تھی۔شہرہ آفاق اور جہاں دیدہ شخصیات تھیں۔بلند پایہ مفسر و محدث ۔سیرت و سوانح نگار ۔ ممتاز مصنف ۔ مورخ ۔ محقق ادیب۔ انشاء پرداز داعی مبلغ ۔اور صبر و ضبط۔استقامت اور عزیمت کے پیکر مفکرین اور مصلحین کی ایک بڑی جماعت تھی۔ان سب کے ہم آغوش رہ کر آپ کو اپنی ظاہری اور باطنی صلاحیتوں کو صیقل کرنے کا مناسب ماحول میسر آیا۔
لاریب آپ کی شخصیت اپنے خاندان کی تمام علمی فکری روحانی ادبی تصنیفی درخشاں موتیوں کا عنوان اور نشان ہے۔اگر کسی کو حسنی خاندان کا ذوق جمال۔ فکر وخیال۔علم و عرفان ۔ادبی۔ تصنیفی اور دعوتی مزاج ۔امت کے تئیں فکر مندی اور دل سوزی ۔صبر و تحمل ۔احترام آدمیت اور مذہبی رواداری جیسے حسین۔ نکہت ریز اور دلکش نظاروں کا مشاہدہ کرنا ہے تو آپ کی پیشانی پر یہ تمام عنوانات تاروں کے کہکشاں کی طرح جھلمل ہیں۔بلاشبہ ان تمام محاسن اور صفات کی قوس قزح نے آپ کے وجود کو فرد سے جماعت۔ شخص سے شخصیت بلکہ انجمن سے ادارہ کا پیکر عطاء کردیا ۔
آپ نے دنیائے اسلام کی علمی۔ روحانی فکری مذہبی ادبی تحقیقی شخصیات سے بھرپور کسب نور کر نے کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھا ۔ اپنی خاندانی وسعت ۔فکر و خیال اور نظر کے تنوع کے ساتھ اپنے دینی مشن کا آغاز کیا۔یعنی جس طرح آپ کے خاندانی مشائخ نے اپنی ذات کو کسی ایک دائرہ عمل تک محدود نہیں رکھا بلکہ آفاقی بصیرت کے ساتھ معمار جہاں کا کردار ادا کیا۔انہوں نے ہر میدان میں اسلام کی حفاظت کا فریضہ بھر پور جرأت سے انجام دی
Comments are closed.